| عنوان: | مفتی وسیم اکرم مصباحی اور اساتذہ کا ادب و احترام |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی بنارسی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
ادب و احترام وہ چیز ہے جو انسان کو دنیا میں بھی کامیابی دلاتی ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی سے ہم کنار کرے گی۔ ایک طالب علم کے لیے بہت ضروری ہے کہ اپنے اساتذہ کرام کا، کتابوں کا، اور جہاں پڑھ رہا ہے، اس مقام کا ادب و احترام کرے۔ تاریخ گواہ ہے، ہزاروں علما شاہد ہیں، کتابیں اس دلیل سے مزین ہیں کہ جو طالب علم اپنے اساتذہ کا ادب و احترام کرتا ہے، اسے دنیا میں ترقیاں، عروج، شہرت اور کامیابی مل کر رہتی ہے، کامیابی ایسوں کو تلاش کرکے ان تک پہنچ جاتی ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ:
مَا وَصَلَ مَنْ وَصَلَ إِلَّا بِالْحُرْمَةِ، وَمَا سَقَطَ مَنْ سَقَطَ إِلَّا بِتَرْكِ الْحُرْمَةِ
”جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کرنے کے سبب ہی سے پایا، اور جس نے جو کچھ کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا۔“
شیخ الاسلام علامہ برہان الدین زرنوجی فرماتے ہیں: ”اے عزیز طالب علم! استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے۔“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: أَنَا عَبْدُ مَنْ عَلَّمَنِي حَرْفًا وَاحِدًا، إِنْ شَاءَ بَاعَ وَإِنْ شَاءَ أَعْتَقَ وَإِنْ شَاءَ اسْتَرَقَّ ترجمہ: ”جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں، چاہے اب وہ مجھے فروخت کر دے، چاہے تو آزاد کر دے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔“ (راہ علم، ص: ۳۵)
بحمدہ تعالیٰ فی زماننا ایسی عظیم المرتبت شخصیات موجود ہیں جو اپنے اساتذہ کے ادب و احترام کا وہ انداز اختیار کرتی ہیں، جنہیں دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہوتی ہے، اور دل میں اپنے اساتذہ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ انہی میں ایک عظیم القدر علمی و روحانی شخصیت استاذ العلما مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی (شیخ الحدیث جامعۃ المدینہ موڈاسا) بھی ہیں، جو نہ صرف طلبہ کو ادب و احترام کا درس دیتے ہیں، بلکہ خود ادب و احترام کی سراپا تصویر ہیں، چند چیزیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
اساتذہ کے سامنے بیٹھنے اور بات کرنے کا انداز
ایک مرتبہ استاذ مفتی وسیم اکرم مصباحی اور استاذ مفتی سرفراز احمد مصباحی صاحب کے ساتھ عرس حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ کے مبارک موقع پر الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور جانا ہوا، ان اساتذہ کرام کے ساتھ ان کے اپنے اساتذہ مثلاً خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی، سراج الفقہا مفتی نظام الدین رضوی دام ظلہما کے پاس حاضر ہونے کا موقع ملا۔ میں نے بغور اس چیز کو دیکھا اور نوٹ کیا کہ مفتی صاحب قبلہ کس قدر ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ اپنے اساتذہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان کے سامنے بالکل دھیمی آواز میں بات کرنا، عاجزی کے ساتھ دعاؤں کی گزارش کرنا، پھر جتنی دیر بیٹھے رہے، ادباً دوزانو ہی بیٹھے، پالتی مار کر نہیں بیٹھے。
اساتذہ سے کال پر بات کرنے میں ادب کا پہلو
استاذ مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب کا انداز ہے کہ جب اپنے اساتذہ سے بذریعہ کال بھی بات کرتے ہیں تو قبلہ رُخ ہوکر دوزانو بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ لاک ڈاؤن کے زمانے میں، میں استاذ محترم مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب سے بذریعہ ویڈیو کال بات کر رہا تھا، میں اس وقت کرسی پر بیٹھا تھا اور کرسی ہلکی ہلکی ہِل رہی تھی۔ اس وقت مجھے استاذ گرامی نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں جب بھی اپنی والدہ محترمہ اور اساتذہ کرام سے کال پر بھی بات کرتا ہوں تو قبلہ رخ ہوکر دوزانو بیٹھ جاتا ہوں۔
اسی طرح ایک شاگرد کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ جب مفتی صاحب قبلہ اپنے اساتذہ کرام سے بذریعہ کال بات کرتے ہیں تو ادب و احترام کے پیش نظر یا تو کھڑے ہوکر بات کرتے ہیں یا دوزانو بیٹھ کر。
اساتذہ کی قدم بوسی
پچھلے دنوں استاذ مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب کے ساتھ ان کے مادرِ علمی جامعہ ضیائیہ فیض الرضا (ددری، سیتا مڑھی، بہار) جانا ہوا، جیسے ہی ہماری گاڑی جامعہ کے صحن میں داخل ہوئی، قبلہ مفتی صاحب گاڑی سے اترے، سامنے ان کے استاذ گرامی مفتی راحت احسان برکاتی صاحب کھڑے تھے، بس پھر کیا تھا، مفتی وسیم صاحب نے پہلے چپل اتار دی، اور جاکر استاذ مفتی راحت احسان برکاتی صاحب کی دست بوسی کی، اور اس کے بعد مجھ سمیت جامعہ ضیائیہ کے دیگر کثیر طلبہ کی آنکھیں یہ ادب و احترام کا منظر دیکھ کر پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ مفتی صاحب اپنے استاذ صاحب کی قدم بوسی کرنے کے لیے جھکے اور اس مقصد میں کامیاب ہوئے، بس پھر مفتی راحت صاحب نے مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب کو پیار و محبت اور شفقت سے گلے لگا لیا。
یوں ہی ایک اور واقعہ پیش آیا، جب رات میں قبلہ مفتی صاحب کے ایک دوسرے استاذ مولانا شہاب الدین رضوی صاحب کار سے جامعہ آئے اور باہر نکلنا تھا کہ مفتی صاحب اپنے استاذ گرامی سے ملنے کو بصد احترام آگے بڑھے، استاذ صاحب نے خوشی سے گلے لگایا، پھر مفتی صاحب نے دست بوسی کرکے قدم بوسی کی سعادت حاصل کی۔ یہی ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے، کہ آپ اپنے اساتذہ کرام کی تعظیم و توقیر کریں۔ جو جتنا زیادہ اساتذہ کا ادب کرے گا وہ اتنا ہی آگے بڑھے گا۔
اساتذہ کے سامنے کھڑے ہونے کا انداز
ایک مرتبہ کی بات ہے کہ مفتی صاحب کے ساتھ عزیز المساجد میں حاضر تھے؛ مفتی صدر الوریٰ قادری صاحب، مفتی نسیم احمد مصباحی صاحب، اور علامہ زاہد سلامی مصباحی صاحب تشریف لائے، ان کے سامنے مفتی صاحب کا انداز یہ تھا کہ دست بستہ خاموش کھڑے ہیں، نگاہیں جھکی ہیں۔ اس وقت مفتی نسیم صاحب نے ہم لوگوں سے فرمایا تھا کہ آپ کے اساتذہ قابل ہیں، ان سے فیض حاصل کیجیے۔
مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب کا اپنے اساتذہ کے سامنے بیٹھنے کا کیا انداز تھا، ذرا مولانا قاسم عطاری مدنی (فاضل جامعۃ المدینہ موڈاسا) کی زبانی سنیں! بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں ہم دورہ حدیث شریف میں زیر تعلیم تھے، ایک مرتبہ مفتی صاحب نے بیان فرمایا کہ ہمارا اپنے اساتذہ کرام کے پاس بیٹھنے کا انداز یہ ہے کہ جب استاذ صاحب کہتے ہیں کرسی پر بیٹھ جاؤ! تو کرسی پر ٹیک لگائے بغیر، آگے کی جانب کھسک کر، دست بستہ بیٹھتے ہیں۔ جامعہ ضیائیہ میں تو میں نے یہاں تک دیکھا کہ مفتی صاحب استاذ صاحب کے سامنے کھڑے ہیں، کئی مرتبہ استاذ گرامی نے کہا تو ادباً بعینہ مولانا قاسم مدنی کے بیان کردہ طریقے پر بیٹھے。
اساتذہ کے پیچھے پیچھے
جامعہ اشرفیہ میں بھی دیکھا اور اس طرح جامعہ ضیائیہ میں نظارہ ہوا کہ مفتی وسیم صاحب اپنے اساتذہ کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔ ایک مرتبہ نماز کے لیے مسجد جا رہے تھے، آپ آگے تھے، محسوس ہوا کہ استاذ مفتی راحت احسان برکاتی صاحب آ رہے ہیں، بس پھر مفتی صاحب رکے اور استاذ کے پیچھے پیچھے مسجد کو تشریف لے گئے۔ ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شاگرد اپنے استاذ کے پیچھے پیچھے چلے۔ الا یہ کہ کوئی وجہ ہو، جیسے بعض اوقات راستے کی نشاندہی وغیرہ کے لیے آگے چلنا。
رات بھر گریہ و زاری
مولانا قاسم عطاری مدنی (فاضل جامعۃ المدینہ موڈاسا) بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کسی نے سراج الفقہا محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی صاحب سے کوئی شرعی مسئلہ پوچھا، مفتی صاحب قبلہ نے جواب دے دیا۔ وہ تحریری جواب گھومتا پھرتا مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب تک پہنچا۔ مفتی صاحب نے اس جواب میں غور کیا تو سمجھ آیا کہ اس میں فلاں قید چھوٹ گئی ہے، لہٰذا انہوں نے اس قید کا اضافہ کر دیا، جو از روئے فقہ بالکل درست تھی۔ بعدہ حضور سراج الفقہا کے پاس وہ تحریر پہنچی، تو آپ فرمانے لگے کہ جب جواب معلوم ہوتا ہے تو سوال کیوں کرتے ہیں...
مفتی وسیم صاحب کو جب علم ہوا کہ سراج الفقہا نے ایسا فرمایا ہے تو بہت افسوس ہوا، اور اس غم میں کہ کہیں میرے استاذ سراج الفقہا مجھ سے ناراض تو نہیں، ساری رات اس فکر و غم میں اشک باری کرتے رہے۔ حالانکہ سراج الفقہا کو اس بات کا علم نہ تھا کہ یہ قید انہوں نے بڑھائی ہے۔ بہر حال حضور سراج الفقہا کے پاس جب خبر پہنچی اور مفتی وسیم صاحب کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا: مجھے تو یہ علم ہی نہ تھا کہ انہوں نے قید بڑھائی ہے، نہ ہی ان کا سوال تھا۔
مزید فرمایا کہ مولانا وسیم اکرم ان لوگوں میں سے نہیں، یہ تو اساتذہ کرام کا ادب کرنے والوں میں سے ہیں۔ تب جا کر مفتی صاحب کی طبیعت بحال ہوئی۔
درست مسئلہ
جن دنوں مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب زیر تعلیم تھے۔ ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہوا کہ درجہ میں استاذ صاحب نے عبارت سمجھائی یا کوئی شرعی مسئلہ بیان کیا، جو کتاب کے موافق نہ تھا (یعنی مسئلہ درست نہیں تھا)۔ مفتی وسیم صاحب سمجھ رہے تھے کہ کچھ مسئلہ ہو رہا ہے۔ اب بجائے یہ کہنے کے کہ حضور مسئلہ غلط ہے یا ایسا ویسا، بلکہ ادب و احترام کے دائرے میں عرض گزار ہوتے: حضور! اس عبارت سے یہ مسئلہ اس طرح سمجھیں تو کیا یہ صحیح ہے...؟ یعنی عبارت کی اصلاح سوالیہ انداز میں چھپا دیتے تاکہ استاذ محترم کی توجہ بھی ہو جائے اور دیگر طلبہ سمجھ بھی نہ پائیں اور اس طرح استاذ کو شرمندگی بھی نہیں ہوگی。
سبحان اللہ الکریم! شیخ الحدیث مفتی وسیم اکرم مصباحی رضوی کی زندگی کے یہ تابندہ نقوش ہی ہیں جس کی بنا پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد آپ کی طرف نہ صرف میلانِ قلبی رکھتی ہے بلکہ خواہش کرتی ہے کہ کاش مجھے ان سے شرفِ تلمذ حاصل ہو جائے۔ رب قدیر ہمیں اساتذہ کرام کا ادب و احترام کرنے اور ان کی کفش برداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
