| عنوان: | روحی فداہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تکلم |
|---|---|
| تحریر: | حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
ضبط کروں میں کب تک آہ
چل میرے خامہ بسم اللہ
محسنِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد وہی فرماتے تھے، جو ان کے ربِ کریم کی مرضی ہوتی۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں صاف صاف ارشاد ہے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى
ترجمہ: اور وہ کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر جو وحی انہیں کی جاتی ہے۔ [سورۃ النجم، آیت: 3-4]
اس مفہوم کو شیخ الاسلام والمسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمِ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
ہزارہا ہزار جان سے ہم قربان اس اندازِ گفتگو پر جس کو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ لاکھوں لاکھ درود و سلام اس طرزِ گفتگو پر جس کو اللہ نے اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پسند فرمایا۔ اے سیرت کے جاں نثارو! محبوبِ کبریا، فخرِ موجودات، روحی فداہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ گفتگو جاننا ہو، تو قرآنِ پاک کا مطالعہ کرو۔ جس ذاتِ عالی صفات کی حمد و ثنا میں خود کلامِ ربانی ناطق ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ.
ترجمہ: اور بے شک تمہاری خو بڑی شان کی ہے۔ [سورۃ القلم، آیت: 4]
اور جس ہستی کو مخاطب کر کے ارشاد ہوا:
اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنُ.
ترجمہ: برائی کو بھلائی سے ٹال۔ [سورۃ حم السجدہ، آیت: 34]
دوسری جگہ یوں مخاطب فرمایا:
وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنُ.
ترجمہِ کنز الایمان: اور ان سے اس طریقے پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔ [سورۃ النحل، آیت: 125]
ایسی پاک اور برگزیدہ ہستی کے اندازِ گفتگو کو کیسے کما حقہ بیان کیا جا سکتا ہے؟
تکلم انسان کے علم، کردار اور مرتبے کو پوری طرح بے نقاب کر دیتا ہے۔ موضوعات اور الفاظ کا انتخاب، فقروں کی ساخت، آواز کا اتار چڑھاؤ، اسلوب اور بیان کا زور یہ ساری چیزیں واضح کر دیتی ہیں کہ متکلم کس پائے کی شخصیت کا علمبردار ہے۔
روحی فداہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو میں الفاظ اتنے ٹھہر ٹھہر کر ادا کرتے کہ سننے والا آسانی سے یاد کر لیتا؛ بلکہ الفاظ ساتھ ساتھ گنے جا سکتے تھے۔ ام معبد نے کیا خوب تعریف بیان کی کہ گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی، الفاظ نہ ضرورت سے زیادہ، نہ کم، نہ کوتاہ سخنی، نہ طویل گو، مکروہ اور فحش اور غیر حیادارانہ کلمات سے تنفر تھا۔ گفتگو میں بالعموم مسکراہٹ شامل رہتی۔
عبد اللہ ابن حارث کا بیان ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ بات کرتے ہوئے بار بار آسمان کی طرف دیکھتے۔ گفتگو کے دوران میں کسی بات پر زور دینے کے لیے ٹیک سے اُٹھ کر سیدھے ہو بیٹھتے اور خاص جملوں کو بار بار دہراتے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے محسنِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ گفتگو کو کس قدر حسین اور جامع انداز میں بیان فرمایا:
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
سچ ہے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔ اس سے انحراف ممکن نہیں۔ ایسی پاکیزہ و برگزیدہ ہستی کے اندازِ گفتگو کو کیسے کما حقہ بیان کیا جا سکتا ہے؟
حضور کا ارشادِ گرامی ہے:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ.
بے شک اخلاق کی خوبیاں پوری کرنے کے لیے میری بعثت ہوئی۔
حضور کو اللہ تعالیٰ نے جوامع الکلم کا معجزہ عنایت فرمایا تھا جو عربوں کے دعوائے فصاحت و بلاغت کا مسکت جواب تھا۔ حضور خود ارشاد فرماتے ہیں: ”أُوْتِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ“ (میں جوامع الکلم دیا گیا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر بات فرماتے یا کرتے تھے جس کے حروف کم ہوتے لیکن مفہوم اور معانی کثیر ہوا کرتے تھے۔ جو مضامین بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء طول کی وجہ سے جس کی تفہیم سے عاجز آ جاتے تھے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم چند ہی کلمات میں حل فرماتے اور آپ کا دلکش اندازِ گفتگو جاہل سے جاہل قوم اور سرکش سے سرکش انسان کے دل کی گہرائیوں میں اتر کر اپنا کام کر جاتا تھا۔ حدیثوں کے ذخیرہ سے یہاں ہم چند مثالیں بیان کرتے ہیں۔
- اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ. آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہو۔ کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ معانی پیش کرنے میں سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مثال آپ تھے اور اسے خصوصی عطیاتِ رب میں شمار کیا جاتا ہے۔
- أَسْلِمْ تَسْلَمْ. تم اسلام لاؤ تو سلامتی پاؤ گے۔ [دعوتی خط بنام ہرقل روم]
- إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ. اعمال نیتوں پر منحصر ہیں۔
- لَيْسَ لِلْعَامِلِ مِنْ عَمَلِهٖ إِلَّا مَا نَوٰى. کسی عمل کرنے والے کو اپنے عمل میں سے بجز اس کے کچھ نہیں ملتا ہے جو کچھ کہ اس نے نیت کی ہے۔
- اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ. بیٹا اس کا جس کے بستر پر (گھر میں) ولادت پائے اور زانی کے لیے پتھر۔
- اَلْحَرْبُ خَدْعَةٌ. جنگ چالوں سے لڑی جاتی ہے۔
- اَلْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ. مجالس کے لیے امانت (راز داری) لازم ہے۔
- تَرْكُ الشَّرِّ صَدَقَةٌ. برائی سے باز آنا بھی صدقہ (نیکی) ہے۔
- سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ. قوم کا سردار وہ ہے جو اس کی خدمت کرے۔
- كُلُّ ذِيْ نِعْمَةٍ مَحْسُوْدٌ. ہر نعمت پانے والے سے حسد کیا جاتا ہے۔
- اَلْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ. حسنِ گفتار بھی ایک صدقہ (نیکی) ہے۔
- مَنْ لَّا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ. جو مخلوق پر (خصوصاً انسانوں پر) رحم نہیں کرتا اس پر (خدا کی بارگاہ سے) رحم نہیں کیا جائے گا۔
احادیث اور سیرت کے ریکارڈ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اجزائے کلام ہیں وہ موتیوں سے بے شمار درجہ چمک اور اپنے اندر بے پناہ معانی رکھتے ہیں۔
شمائلِ ترمذی میں باب كَيْفَ كَانَ كَلَامُ رَسُوْلِ اللهِ کے تحت حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر۔ جو بھی خدمتِ اقدس میں بیٹھتا اس کو یاد کر لیتا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باآسانی یاد کر لیتے تھے۔ حکیمانہ غور و فکر سے بھرپور ارشادات سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتے تھے۔ اس کو قرآن میں سورہِ آلِ عمران کے اندر یوں ارشاد فرمایا گیا: ”تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہو اور اگر تند مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہو جاتے۔“ [سورۃ آلِ عمران، آیت: 159]
جو لوگ عظمت کا راز منھ بسورنے اور تیوری چڑھائے رکھنے میں سمجھتے ہیں، وہ سیرتِ پاک سے ناواقف اور درحقیقت جاہل ہوتے ہیں۔ عظمت تو یہ ہے کہ قدموں میں دنیا کی دولت ہو اور تکبر کا نام و نشاں نہ ہو۔
الحمد للہ! ماہِ ربیع الاول آ گیا، ولادتِ پاک 12 ربیع الاول دوشنبہ قبل طلوعِ آفتاب 20 اپریل 571ء موسمِ بہار آ گیا۔ 1442 سال سے یہ پیہم آ رہا ہے اور تا قیامت آتا رہے گا۔
یہ مہینہ مسلم قوم کے لیے خوشیوں کی بہار ہے۔ صرف اس لیے کہ اس مہینہ میں دنیا کی خزاںِ ضلالت ختم ہو گئی تھی اور کلمہِ حق کا موسمِ بہار ربیع الاول شروع ہوا تھا۔
انسانیت کے سرتاج آقائے دو جہاں محسنِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ہم سبھی مسلمانوں کو عمل کی سخت ضرورت ہے، تاکہ دنیا میں امن قائم ہو۔ لاکھوں درود و سلام ہوں مصطفیٰ جانِ رحمت پر۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں پر کرم فرمائے اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایک درخشاں باب یہ بھی ہے کہ ہمارے آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود تجارت، کاروبار اور اجرت پر کام کر کے اپنی امت کو یہ درس دیا ہے کہ امتِ مسلمہ کو کسبِ معاش کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ رہنا چاہیے اور فقیری و غربت کی زندگی سے اپنے آپ کو بچا کر محتاجی اور کسی دوسرے کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے حتی المقدور دور و نفور رہنا چاہیے۔
ایک وفادار امتی کا طرہِ امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال، اقوال اور رفتار و گفتار کو اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی درخشاں زندگی کے روشن نقوش کی کرنوں سے روشن و منور کرے۔ سیرتِ مبارکہ کے حسین تذکرے کے ضمن میں ہم اپنے قارئین کے سامنے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ پاک کا وہ روشن باب پیش کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ دور میں جس کی اہمیت و افادیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور وہ ہے اپنے سماج اور معاشرے سے بھیک منگوں اور غربت و افلاس کے خاتمے کی تحریک۔
آئیں اور دیکھیں کہ کسبِ معاش اور روزی کے حصول کو ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کتنی اہمیت دی ہے۔
[ماہنامہ اعلیٰ حضرت، جنوری 2027ء، ص: 22]
