Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نکاح کی فضیلت و اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

نکاح کی فضیلت و اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
عنوان: نکاح کی فضیلت و اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر: محمد عبد الرحمن قادری رضوی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِيْ تَسَاءَلُوْنَ بِهٖ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا.

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْمُصْطَفٰى وَعَلٰى اٰلِهٖ وَأَصْحَابِهِ الَّذِيْنَ قَامُوْا بِالصِّدْقِ وَالصَّفَاءِ. أَمَّا بَعْدُ!

نکاح کی فضیلت و اہمیت

مذہبِ اسلام میں نکاح کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ حضور صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان فتاویٰ شامی کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: ”نکاح اور اس کے حقوق کے ادا کرنے میں اور اولاد کی تربیت میں مشغول رہنا نوافل میں مشغولی سے بہتر ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 2، حصہ: 7، ص: 5، قادری کتاب گھر، بریلی شریف]

قرآن و احادیث میں متعدد جگہوں پر نکاح کی رغبت دلائی گئی ہے۔ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نکاح کی ترغیب میں قرآنِ مجید کی آیتوں کو ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

وَأَنْكِحُوا الْأَيَامٰى مِنْكُمْ.

ترجمہِ کنز الایمان: اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں۔ [سورۃ النور، آیت: 32]

فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ أَنْ يَّنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ.

ترجمہِ کنز الایمان: تو اے عورتوں کے والیو! انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں۔ [سورۃ البقرۃ، آیت: 232]

انبیاء کی مدح و ثنا میں فرمایا:

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً.

ترجمہِ کنز الایمان: اور بے شک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں اور بچے کیے۔ [سورۃ الرعد، آیت: 38]

اولیاء کی مدح (تعریف) بھی اسی لیے فرمائی ہے کہ وہ اولاد کی درخواست کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:

وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ إِمَامًا.

ترجمہِ کنز الایمان: اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔ [سورۃ الفرقان، آیت: 74]

ان آیاتِ بینات کو ذکر کرنے کے بعد امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انہی انبیاء کا ذکر فرمایا ہے، جو شادی شدہ تھے سوائے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے۔

ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ نے نکاح کیا تھا؛ لیکن صحبت کا اتفاق نہ ہوا اور نکاح کرنا صرف فضیلتِ نکاح کو حاصل کرنے اور سنتِ نکاح کے قائم رکھنے کے لیے تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ آنکھیں نیچی رکھنے کے لیے نکاح کیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی جب زمین پر تشریف لائیں گے تو نکاح کریں گے، ان کی اولاد بھی ہوگی۔ [احیاء العلوم مترجم، ج: 2، ص: 43، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، دہلی]

جو والدین قدرت اور طاقت کے باوجود اپنے بچوں کا نکاح وقت پر نہ کرائیں اور معاذ اللہ وہ گناہ میں مبتلا ہو جائیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان والدین کو مجرم قرار دیا ہے۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے:

مَنْ وُلِدَ لَهٗ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهٗ وَأَدَبَهٗ، فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ، فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا فَإِنَّمَا إِثْمُهٗ عَلٰى أَبِيْهِ.

ترجمہ: جس کی کوئی اولاد ہو تو چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے اور ادب سکھائے پھر جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کا نکاح کر دے اور اگر بالغ ہونے کے بعد اس کا نکاح نہ کیا جس کے سبب وہ گناہ میں مبتلا ہو گیا تو اس کا گناہ باپ پر ہو گا۔ [مشکوٰۃ شریف، ص: 269، باب الولی فی النکاح]

ایک مقام پر نکاح کی طاقت و قدرت رکھنے کے باوجود نکاح نہ کرنے والوں سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

مَنْ كَانَ مُوْسِرًا لِأَنْ يَّنْكِحَ ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنَّا.

ترجمہ: جو اتنا مال رکھتا ہے کہ نکاح کرے پھر نکاح نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ [کنز العمال، ج: 8، ص: 238، کتاب النکاح]

ایک اور مقام پر نکاح کو آدھے دین کے حصول کا ذریعہ بتاتے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّيْنِ، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِيْ.

ترجمہ: جس شخص نے نکاح کیا تو اس نے آدھا دین مکمل کر لیا تو اس کو چاہیے کہ بقیہ آدھے میں تقویٰ اختیار کرے۔ [مشکوٰۃ شریف، ص: 268، کتاب النکاح]

بخاری شریف میں ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهٗ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهٗ لَهٗ وِجَاءٌ.

ترجمہ: اے نوجوانو! جو تم میں سے شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو چاہیے کہ وہ شادی کر لے کیوں کہ یہ نگاہ کو جھکاتا اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے کہ روزہ شہوت کے لیے ڈھال ہے۔ [بخاری شریف، ج: 2، ص: 758]

اس حدیثِ پاک کے خلاصے میں امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جوشِ شہوت کے ٹالنے کی وجہ سے نکاح کرنا دین کا ایک اہم امر ہے لیکن اس کے لیے جو عاجزی اور نامردی نہ رکھتا ہو۔ اور اس کے اہم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شہوت جب غالب ہوتی ہے اور اس کے روکنے پر تقویٰ کی قوت نہیں ہے، تو بری بری باتوں میں آدمی مبتلا ہو جاتا ہے۔

نکاح کی فضیلت و اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط دوم)

اسی کی طرف حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس آیت إِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ [سورۃ الانفال، آیت: 73] سے اشارہ فرمایا کہ اگر غلبہِ شہوت میں تقویٰ کی روک بھی ہو تو اس کا انجام یہ ہو گا کہ آدمی ظاہری اعضاء کو شہوت سے روکے گا یعنی آنکھ اور شرم گاہ کو محفوظ رکھے گا مگر دل بچانا وسوسہ اور فکر سے، اس کے اختیار میں نہیں۔ اسی سے اس کا نفس ہمیشہ اس سے کش مکش رکھے گا اور جماع کا وسوسہ ڈالے گا اور شیطان بھی اکثر اوقات ایسے غلط خیالات کو دل میں ڈالنے کی کوتاہی نہ کرے گا۔

اور بعض اوقات یہ قصور نماز میں پیش آ جاتا ہے، یہاں تک کہ دل پر نماز کے معاملے ایسے گزرتے ہیں کہ کسی کے سامنے ان کو ظاہر کرنے سے شرم محسوس ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ دل کے حالات سے باخبر ہے۔ اس کا حال اس کے سامنے ایسا ہے جیسے زبان کا۔ سالک کے لیے، آخرت کے راستے کے لیے چلنے کا اصل سرمایہ دل ہے پس اس کا وسوسوں میں مبتلا رہنا نہایت برا ہے۔

ہمیشہ روزہ رکھنا بھی نکاح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا کیوں کہ اکثر لوگوں کے حق میں ہمیشہ کے روزے سے بھی وسوسہ کی جڑ نہیں کٹتی، ہاں اگر روزہ رکھتے رکھتے بدن میں کمزوری اور مزاج میں خرابی آ جائے تو وسوسہ کا دور ہونا ممکن ہے اور انہیں وجہوں سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ عابد کی عبادت نکاح سے پوری ہو جاتی ہے اور غلبہِ شہوت ایک مصیبتِ عامہ ہے کہ بہت کم لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔

اور حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ [سورۃ البقرۃ، آیت: 286] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں طاقت سے جوشِ شہوت مراد ہے، اور عکرمہ اور مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيْفًا (انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے) کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ ضعیف (کمزور) کا معنی یہ ہے کہ وہ عورتوں سے صبر نہیں کرتا اور حضرت فیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ جب آدمی کا عضوِ تناسل انتشار میں ہوتا ہے تو اس کی دو تہائی عقل جاتی رہتی ہے۔ بعض اکابر نے فرمایا اس کا تہائی دین جاتا رہتا ہے، اور نوادر التفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ [سورۃ الفلق، آیت: 3] کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے آلہِ تناسل کا انتشار میں آنا مراد ہے۔

غرض کہ یہ وہ بلا ہے کہ جب ہیجان (ابھار) میں آتی ہے تو نہ عقل اس کا مقابلہ کر سکتی ہے اور نہ دین، اور باوجود کہ اس میں لیاقت ہے کہ دو زندگیوں کا باعث ہو سکتی ہے جیسے اوپر مذکور ہوا لیکن شیطان کا آدمیوں کے بہکانے کو یہ زبردست سامان ہے، اور اسی کی طرف اشارہ ہے اس حدیثِ شریف ”مَا رَأَيْتُ مِنْ نَّاقِصَاتِ عَقْلٍ وَّدِيْنٍ أَغْلَبَ لِذِي اللُّبِّ مِنْكُنَّ.“ (میں نے تم عورتوں سے زیادہ عقل مندوں پر غالب آنے والی دین اور عقل کے اعتبار سے ناقصات کو نہ دیکھا) اور عورت کی عقل کا دور ہونا ہیجانِ شہوت (شہوت کی ابھار) کی وجہ سے ہے۔ [احیاء العلوم مترجم، ج: 2، ص: 53، مکتبہ رضویہ، دہلی]

ایک صحابیِ رسول حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے اور رات کو بھی آپ کے پاس ہی رہا کرتے کہ شاید کوئی ضرورت ہو، آپ نے فرمایا کہ تم شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! میں تو مفلس بھی ہوں لیکن آپ کی خدمت سے علیحدہ ہو جانا گوارا نہیں، آپ نے سکوت فرمایا کچھ نہیں فرمایا، پھر دوبارہ اس طرح ارشاد فرمایا انہوں نے وہی عرض کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرا فائدہ مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ جو بات میرے لیے دین و دنیا میں مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ سے قریب کرے گی، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں، اگر تیسری بار ارشاد فرمائیں گے تو میں نکاح کر لوں گا۔ آپ نے ان سے تیسری بار ارشاد فرمایا کہ تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ عرض کیا کہ آپ میرا نکاح کرا دیجیے۔ فرمایا: فلاں قبیلہ میں جاکر کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم فرماتے ہیں کہ اپنی لڑکی سے میرا نکاح کر دو۔ عرض کیا کہ حضور میرے پاس خرچہ نہیں۔ آپ نے حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے ایک گٹھلی کے برابر سونا جمع کر دو، صحابہ کرام نے جمع کیا اور اس صحابی کو قبیلہ والوں کے پاس لے گئے، انہوں نے نکاح کر دیا۔ پھر صحابہ نے ولیمہ کے لیے ایک بکری خرید کر دی۔

امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیثِ پاک میں مکرر (یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تین مرتبہ شادی کے لیے) ارشاد فرمانا دلالت کرتا ہے کہ نکاح میں بڑی فضیلت ہے۔ [ایضاً، ص: 45]

پہلی امتوں میں ایک عابد عبادت میں اپنے معاصرین پر فائق تھا۔ یعنی اپنے زمانے کے لوگوں میں عبادت میں افضل و اعلیٰ تھا۔ اس کا ذکر اس وقت کے پیغمبر کے سامنے ہوا، فرمایا کہ وہ شخص اچھا ہے اگر سنت کو نہ چھوڑتا۔ عابد نے پیغمبر کا ارشاد سنا تو رنجیدہ ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کی میں کون سی سنت کا تارک (چھوڑنے والا) ہوں؟ فرمایا: تو نکاح کا تارک ہے۔ عابد نے عرض کی کہ میں نے اسے اپنے اوپر حرام نہیں کیا ہے مگر میں مفلس ہوں بلکہ میرا خرچہ دوسروں کے سر ہے، اسی لیے کوئی بھی اپنی لڑکی مجھے نہیں دیتا، پیغمبر نے فرمایا کہ تجھے میں اپنی لڑکی دیتا ہوں، چنانچہ یہ فرما کر اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا۔ [ایضاً]

اس روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ پہلے پیغمبروں کے نزدیک بھی نکاح کی بڑی اہمیت تھی۔ الغرض مذہبِ اسلام میں نکاح کی بڑی فضیلت و اہمیت ہے، اس لیے نکاح کے احکام و مسائل کا جاننا ایک مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔

نکاح کے احکام و مسائل

نکاح کے احکام و مسائل جاننے سے پہلے اس باب میں سب سے اہم اس مسئلہ کا جاننا لازم و ضروری ہے کہ اہلِ سنت و جماعت کا نکاح صرف اہلِ سنت و جماعت ہی کے ساتھ ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ جتنے بھی فرقے اور جماعتیں ہیں مثلاً وہابی (غیر مقلد نام نہاد اہلِ حدیث) دیوبندی، رافضی، صلح کلی، قادیانی، جماعتِ اسلامی (مودودی)، شمع نیازی، نیچری، اہلِ قرآن (چکڑالوی) وغیرہ فرقہائے باطلہ کاذبہ۔

ان میں سے کسی کے ساتھ کسی بھی اہلِ سنت کا نکاح نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ سب کے سب اپنے باطل عقیدوں کی وجہ سے اور ضروریاتِ دین کے انکار کرنے کے سبب گمراہ، بد دین و بد مذہب، کافر و مرتد، اسلام سے خارج ہیں اور کافر و مرتد کے ساتھ کسی کا نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔

(مذکورہ فرقہائے باطلہ کاذبہ کی حقیقت اور ان کے کفری عقیدوں کو جاننے کے لیے ناچیز راقم الحروف (محمد عبد الرحمن قادری رضوی) کی کتاب ”حق و باطل کی پہچان“ اور ”وہابیوں دیوبندیوں سے نکاح کا شرعی حکم“ کا مطالعہ کریں۔)

مسلمانانِ اہلِ سنت پر لازم و ضروری ہے کہ وہ اپنی یا اپنے بچوں کی شادی طے کرنے سے پہلے جہاں رشتہ لگانا چاہ رہے ہیں ان کے عقیدے، دین و ایمان، مذہب و مسلک کی خوب جانچ پڑتال کر لیں، ورنہ معاذ اللہ اگر کافرِ مرتد اللہ و رسول جل وعلا و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا گستاخ ٹھہرا تو اس کے ساتھ نکاح ہرگز نہ ہوگا اور قربت و صحبت زنائے خالص ہوگی اور ان سے ہونے والی اولاد زنا کی اولاد ہوگی۔ اللہ تعالیٰ حق بات قبول کر کے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!