Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مسیحیت اور الاسلام (قسط دوم)علامہ قمر الزمان خان اعظمی

مسیحیت اور الاسلام (قسط: دوم)
عنوان: مسیحیت اور الاسلام (قسط: دوم)
تحریر: علامہ قمر الزمان خان اعظمی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اناجیل اس قدر زیادہ ہیں کہ شمار ممکن نہیں، جس شہر میں کوئی پوپ موجود تھا، اُس نے اپنی ایک الگ اور سب سے مختلف انجیل بنا رکھی تھی، جس کی بنیاد محض اوہام و خیالات پر تھی۔ تشتت و افتراق کا یہ عالم کہ ہر مسیحی رہنما دوسرے رہنما کی انجیل کو غلط اور بے بنیاد اور کفریات کا مجموعہ قرار دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ انہوں نے ضخیم انجیل کی تلاش کے لیے ایک عالمی میٹنگ کی جو مجلسِ نیقیہ کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں دنیا کے مسیحی رہنما موجود ہوئے اور قسطنطینِ اعظم [شہنشاہِ بیت المقدس] صدارت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اناجیل پر بحث طول پکڑ گئی، یہاں تک کہ معاملہ جنگ و جدال تک پہنچ گیا۔ اور ایک دوسرے پر کفر و ارتداد اور صابی ہونے کا فتویٰ صادر کر دیا گیا۔

آخر میں صدرِ کانفرنس قسطنطینِ اعظم نے اپنے ایک مشیرِ خاص جس کو بولصِ شمشاطی کے نام سے دنیا جانتی ہے، جو پہلے یہودی تھا پھر بعض سیاسی اغراض کے تحت مسیحی ہو گیا، نے اپنی قوت و صولت استعمال کی اور بالجبر بطریقِ بیت المقدس کی خود ساختہ اناجیلِ اربعہ پر دنیا کے تمام علمائے مسیحیت سے دستخط کروا لیے۔ (نوٹ: اصل متن میں یہاں "بالجبہ" لکھا تھا جو کہ کتابت کی غلطی ہے، درست لفظ "بالجبر" ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ جن اناجیل کو اس قدر تحقیق و تدقیق کے بعد دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، جب ان کا مطالعہ کوئی ذی فہم و ہوش انسان کرتا ہے تو ان میں بعض ایسی آیتیں ملتی ہیں، جو اپنے جامعین کی موت و ولادت و دفن کا ذکر کرتی ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے جامعین کے سیکڑوں سال بعد معرضِ تحریر میں آئی ہیں اور الحاقی ہیں۔

ظاہر ہے کہ جب متی، یوحنا، مرقس اور لوقا کی زندگی ہی نہ معلوم ہو تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ انجیلیں انہوں نے ہی مرتب کی ہیں؟ جامعین کی موت و حیات و تولد کے تذکرے سے قطع نظر اگر صرف انجیل کے نصائح و مواعظ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں اس قدر تضاد، اختلاف، ٹھکراؤ، الجمع بین الضدین نظر آتا ہے کہ کوئی بھی بالغ نظر آدمی کسی بھی صورت میں اس کو کسی نبی کی جانب منسوب کرنا تو درکنار، کسی ذی ہوش مصنف یا مؤلف کی جانب بھی منسوب نہیں کر سکتا۔

گویا انجیل کی روایات قرآنِ پاک کے مقابلے میں تو کجا، کسی ضعیف تر حدیث یا کم زور ترین تاریخی واقعے کے مقابلے میں بھی پیش نہیں کی جا سکتی ہیں، بلکہ اگر اظہارِ حقیقت سے کام لیا جائے تو یہاں تک کہنا پڑتا ہے کہ ان کی حیثیت داستانِ امیر حمزہ، قصہِ قدور بندور، داستانِ بیرِ لالہ اور الف لیلیٰ اور طلسمِ ہوش رُبا کی سی ہے۔ غور فرمائیے کہ مسیحیت کا دوسرا عنصرِ عظیم کس قدر مفلوج اور ناقابلِ عمل ہے۔ سیرتِ نبی [عیسیٰ علیہ السلام] اور کتاب کی موجودہ حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد دونوں سے مرتب ہونے والا، تیسرا عنصر نظامِ اخلاق و عقائد خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔ مگر تمثیلاً چند باتیں عرض کر دوں تاکہ آئندہ بحث کا مقدمہ آپ کے سامنے آ جائے۔

عقیدۂ تثلیث اور کفارہ کی لغویت

مسیحیت کا خدا کے متعلق یہ عقیدہ پورے نظامِ مذہب کی اساس ہے۔ یعنی آب [یعنی خدا]، ابن [یعنی حضرت مسیح] اور روحِ القدس یہ تینوں ایک خدا ہیں۔ تینوں تین اور تینوں ایک، ان کو مسیحی اقانیمِ ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان کا ایک دوسرے سے جُدا ہونا محال ہے۔ اس عقیدے کے لیے مسیحی "الوحدة فی التثلیث و التثلیث فی الوحدة" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ ایسا ہے جسے انسانی عقل کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتی۔ اگر الوحدة فی التثلث و الثلث فی الوحدة کو تسلیم کر لیا جائے، تو ماننا پڑے گا کہ واقعۂ صلیب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدا بھی مصلوب ہوا۔ [العیاذ باللہ] اور انجیل کی ایک روایت [عیسیٰ علیہ السلام حاویہ میں جلائے گئے] اس عقیدے کے تحت گویا خدا بھی حاویہ میں جلتا ہے۔

نیز ان کا عقیدہ یہ ہے کہ واقعۂ صلیب اور حاویہ میں جلنا یہ قیامت تک کے لیے مسیحیوں کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ غور فرمائیے کہ گناہ بندے کریں اور جلایا جائے نبی! کتنی نا معقول بات ہے! پھر اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جزا کے طور پر جلائے گئے یا سولی دیے گئے [العیاذ باللہ من هذه العقيدة الفاسدة] تو پھر منتقمِ حقیقی کون تھا؟ جب کہ خدا خود جل رہا تھا، یا مصلوب ہو گیا [العیاذ باللہ]۔۔۔ ایک تین اور تین ایک۔۔۔ کی غیر معقولیت اور کفارہ کے عقیدۂ باطلہ کو انسانی عقل کیوں کر تسلیم کر سکتی ہے؟

مسیحی نظامِ اخلاق اور قانونِ تجرد

ایک کامل مذہب کے لیے ضروری ہے کہ وہ معیشتِ دنیویہ کے قوانین بھی پیش کرے، جسے نظامِ اخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور اس حیثیت سے نبی کی ذات اور اس کے فرامین ہر فردِ بشر کے لیے دلیلِ راہ ہوتے ہیں، مگر اس حیثیت سے جب ہم عیسیٰ علیہ السلام کی اُس حیات کا تجزیہ کرتے ہیں جسے مسیحیت پیش کرتی ہے تو ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ حیاتِ انسانی کی کامل رہ نما نہیں ہو سکتی، کیوں کہ جب ہم انسانی زندگی کے لابدی مسائل پر غور کرتے ہیں مثلاً ازدواجیت، حقوقِ العباد، بیع و شراء، قوانینِ عدل و انصاف تو ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ بلکہ کچھ ایسے کلمات ملتے ہیں جو انسان کی معاشرتی زندگی کو فنا کر دینے والے ہیں۔ مثلاً انجیل میں سختی سے فرمایا گیا ہے، وہ مسیحی نہیں ہو سکتا جو شادی کرے۔ عورت شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی بُرائی کی جڑ ہے۔ جس نے عورت سے قربت اختیار کی وہ آسمانی حکومت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

ان احکامات سے صاف صاف واضح ہوتا ہے کہ انسان ازدواجی زندگی گزارنے کے بجائے تجرد کی زندگی پر قناعت کرے۔ بفرضِ محال اگر مسیحیت سارے عالم کے لیے نظامِ حیات ہے تو ہمیں یہ کہنا پڑتا ہے کہ تجرّد کی زندگی کی تعلیم تو نظامِ موت ہے، نظامِ حیات کہاں؟ فرض کیجیے سارا عالمِ مسیحی ہو کر عورت کشی کر لے تو کیا پھر انسان کی کاشت کھیتوں میں کی جائے گی اور سبزیوں کی طرح انسان بھی زمین سے اُگے گا؟ کس قدر ناقابلِ عمل ہے یہ قانونِ تجرّد! بندوں سے تعلقات کے بارے میں مسیحیت صرف اس قدر کہتی ہے:
مَنْ ضَرَبَ عَلَى خَدِّكَ الْأَيْمَنِ فَأَدِرْ لَهُ الْأَيْسَرَ۔
”کوئی اگر تمہارے داہنے رخسار پر طمانچے مارے تو بایاں رخسار بھی پیش کر دو۔“ (نوٹ: اصل متن میں عربی عبارت میں "ناذر" لکھا تھا، جو کہ لغوی و نقلی طور پر انجیل کی عربی عبارت کے مطابق "فَأَدِرْ" ہے)۔

اس قانون کے تحت غور کیجیے کہ کیا مسیحیت کسی صورت میں بھی زمانے پر حکومت کر سکتی ہے اور کوئی ملکی نظام مرتب کر سکتی ہے؟ عدل و انصاف کے قوانین پیش کر سکتی ہے؟ ناممکن ہے، محال ہے۔
(حوالہ: مقالاتِ خطیبِ اعظم، صفحہ نمبر ۳۸ تا ۴۲)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!