Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: سوم)|علامہ قمر الزماں اعظمی

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: سوم)
عنوان: رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: سوم)
تحریر: علامہ قمر الزماں اعظمی
پیش کش: ناظم اسماعیلی

ذریعے کو استعمال کریں گی۔ چنانچہ اگر کوئی مسلم ملک ایٹمی توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو دنیا بھر کے میڈیا چیخ اٹھتے ہیں کہ اسلامی بم بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے ایٹم بم کو “یہودی بم” اور کرسچین ممالک کی ایٹمی توانائیوں کو “کرسچین بم” کا نام نہیں دیا جاتا۔

مسلم ممالک میں احیائے اسلام کی تحریکوں کو بنیاد پرستی اور ملاّئیت کا نام دے کر لوگوں کے ذہنوں کو اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ماضی میں بھی مستشرقینِ یورپ کی طرف سے انتہائی ناروا حملے کیے گئے ہیں، مگر چونکہ وہ مستشرق تھے، اور ان کی اسلام دشمنی بہت نمایاں تھی، اِس لیے ان کی تحریروں پر لوگوں نے توجہ نہیں دی، مگر اب ادب، آرٹ، فن اور ثقافت کے نام پر اسلام کو رسوا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسلام کے خلاف جو باتیں مستشرقین اور عیسائی مشنریاں اور یہودی صدیوں سے کہتے آئے ہیں ان کی تردید ہر دور میں کی جاتی رہی ہے۔ اب انہی باتوں کو ناول کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اس کتاب کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو سکے اور انعام دے کر اس تحریر کا اعتبار قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چنانچہ سلمان رشدی کو اس کے پہلے ناول پر انعام دے کر عالمی شہرت دی گئی اور اب پیغمبرِ اسلام کے خلاف لکھی جانے والی کتاب کو انعام کے لیے منتخب کر کے ان اداروں نے اپنی اسلام دشمنی کو بہت زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔

حال ہی میں ادب کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز کے لیے مصر کے ایک ایسے ہی ادیب نجیب محفوظ کو منتخب کیا گیا ہے جس کے خلاف علمائے اسلام اور مسلم عوام بیس سال سے تحریک چلا رہے ہیں اور اس کی تحریروں کی اسلام دشمنی کو نمایاں کر رہے ہیں، جبکہ ادب اور علم سے معمولی سی واقفیت رکھنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ مصر میں اِس سے بڑے بڑے ادبا موجود ہیں، جو اِس انعام کا حقیقی استحقاق رکھتے ہیں، مگر چونکہ وہ اسلام دشمنی میں نمایاں نہیں ہیں اِس لیے انعام تقسیم کرنے والوں کی نگاہ میں وہ معتبر نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں سلمان رشدی نے اپنے ایک انٹرویو میں محفوظ کی بہت تعریف کی ہے اور اس کو بھی اپنی ہی طرح مسلمانوں کی “شدت پسندی” کا شکار قرار دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان اسلام دشمن قوتوں کا نہ صرف یہ کہ آپس میں رابطہ ہے، بلکہ یہ ایمان فروش ایمان کی قیمت پر قلم کا سودا کرنے والے ایک دوسرے کا دفاع بھی کرتے ہیں۔

آج سے چند سال قبل لیور پول کی ایک میڈیکل ٹیم (تنظیم) کی جانب سے ایک پوسٹر شائع کیا گیا تھا جس میں حضور سیدِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ مرگی کا مریض قرار دیا گیا تھا۔ اس پوسٹر کا عنوان تھا: ?What is Epilepsy

اس پوسٹر میں دنیا کے چند مشہور مرگی کے مریضوں میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی دیا گیا تھا؛ مقصد یہ تھا کہ ان پوسٹروں کو ڈاکٹر اپنی سرجریوں میں آویزاں کریں گے۔ اس طرح ہر روز ہزاروں انسان یہ بات ذہن نشین کرتے رہیں گے کہ پیغمبرِ اسلام معاذ اللہ مرگی کے مریض تھے۔ حالانکہ یہ بات ایک صدی قبل یوپی انڈیا کے برطانوی گورنر ڈاکٹر سر ولیم میور نے اپنی کتاب The Life of Mahomet میں کہی تھی اور اس نے وحی کی کیفیت کو مرگی سے تعبیر کیا تھا۔ اس وقت پوری دنیا کے علماء نے اس کی تردید کی تھی اور اس کے استدلال کی غلطیوں کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ اس کے عیارانہ اندازِ فکر کے تار و پود بکھیر دیے تھے۔ مگر اب سو سال بعد اسی الزام کو ایک طبی پوسٹر کے ذریعے عام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے راستے سے اس الزام کو ذہنوں میں راسخ کر دیا جائے اور بعد میں جب “وحیِ پاک” کی کیفیت کو مرگی سے تعبیر کیا جائے، تو کسی کو مجالِ انکار نہ رہے۔ اس زمانے میں “ورلڈ اسلامک مشن” اور برطانیہ کی دوسری تنظیموں نے احتجاج کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ: ہمیں تو یہی معلوم تھا۔

بشپس اور ربائی سے امداد کی اپیل

سلمان رشدی نے مسلمانوں کے احتجاج سے پریشان ہو کر اپنے آقایانِ کلیسا اور یہودیوں کے مذہبی لیڈر ربائی سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو فرو کرنے کے سلسلے میں مؤثر کردار ادا کریں اور اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ان کی مدد کریں۔ چنانچہ “سنڈے ٹائمز” میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں اس نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ بشپس اور ربائی اس صورتِ حال کو ختم کرا دیں گے۔

سلمان رشدی کا یہ یقین کہ اس صورتِ حال سے بشپس اور ربائی نمٹ لیں گے، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ:

کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں

سلمان رشدی کون ہے؟

سلمان رشدی بمبئی کے ایک مغرب زدہ گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے باپ انیس رشدی نے اس کو 11 سال کی عمر ہی میں برطانیہ کے ایک اسکول میں داخل کرا دیا۔ انیس رشدی خود ایک دولت مند شرابی تھا، جس نے اپنی آدھی عمر حصولِ دولت اور آدھی عمر عیاشیوں کی نذر کر دی۔

سلمان رشدی جب انگلینڈ آیا تو ایک نو عمر لڑکا تھا، جس نے اپنے باپ کو ہمیشہ شراب میں دھت دیکھا تھا۔ عیاشیوں اور شراب نوشیوں کے ماحول میں پروان چڑھنے والا یہ لڑکا دین اور مشرقی اقدار سے قطعاً ناواقف تھا۔ انگلینڈ آ کر اس نے اسلام کو اپنے طور پر پڑھنا شروع کیا تو اس کے سامنے مستشرقینِ یورپ کا زہر آلود لٹریچر تھا۔ چونکہ اسے کسی عالمِ دین کی رہنمائی حاصل نہیں تھی اِس لیے وہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام سے بدگمان ہوتا گیا۔ وہ انگلینڈ اِس خیال سے آیا کہ یہاں اس کی پذیرائی ہوگی مگر یہاں اس کو شدید مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے گورے چٹے رنگ کے باوجود وہ یہاں کالا ہی کہلایا۔ اس کے ساتھی اس کو حقیر نظروں سے دیکھتے تھے، کھانے کی میز پر اس کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ نتیجتاً وہ شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو گیا، جس کے ردِعمل میں اس نے اس بات کی کوشش کی کہ وہ کسی بھی انگریز سے بڑھ کر خود کو انگریز ثابت کرے۔ چنانچہ اس نے ان تمام عادات و اطوار کو اختیار کیا جو مغربی معاشرے کا طرۂ امتیاز ہیں۔ وہ شراب نوشی، حرام خوری اور عیاشیوں میں بھی نمایاں رہا لیکن یہ اس کی بدقسمتی تھی کہ متعدد مغربی عورتوں نے اس سے [مقالات خطیب اعظم، ص: 105 تا 107]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!