| عنوان: | فریبِ دنیا اور سفرِ آخرت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وہ ذات جس نے عدم کے اندھیروں سے انسان کو وجود کی روشنی عطا فرمائی، عقل و شعور کی نعمت سے نوازا، خیر و شر میں امتیاز کا ملکہ بخشا، اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کا مقدس سلسلہ قائم فرمایا، آسمانی کتابوں کے ذریعے زندگی کا مکمل دستور عطا کیا اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کر دی کہ انسان کا دنیا میں آنا نہ تو محض ایک حادثہ ہے اور نہ ہی اس کی زندگی بے مقصد ہے، بلکہ اس کی ہر سانس، ہر لمحہ اور ہر عمل ایک ایسی امانت ہے جس کا حساب ایک دن اس کے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ درود و سلام ہوں سیدِ کائنات، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر، جنہوں نے انسان کو دنیا کی چکاچوند سے نکال کر آخرت کی دائمی کامیابی کا راستہ دکھایا، زندگی کا حقیقی مفہوم سمجھایا اور یہ بتا دیا کہ عقل مند وہ نہیں جو دنیا سمیٹ لے بلکہ وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اپنی آخرت سنوار لے۔
تاریخِ انسانیت کے ہزاروں برس پر محیط سفر کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت ہر عہد، ہر تہذیب اور ہر تمدن میں یکساں نظر آتی ہے کہ دنیا نے آج تک کسی کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں نہیں رکھا۔ اقتدار کے ایوان ہوں یا فقر کی جھونپڑیاں، سلطنتوں کے تخت ہوں یا عام انسانوں کے گھر، علم کی مسندیں ہوں یا دولت کے انبار، وقت نے سب کو ایک ہی انجام سے دوچار کیا ہے۔ کل جن کے نام سے زمین لرزتی تھی، آج ان کی قبروں پر خاموشی کا راج ہے؛ کل جو اپنی دولت پر نازاں تھے، آج ان کے محلات ویرانی کی داستان سنا رہے ہیں؛ اور کل جنہیں اپنی قوت و شوکت پر گھمنڈ تھا، آج ان کے تذکرے محض تاریخ کے اوراق تک محدود ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآنِ حکیم نہایت بلیغ انداز میں انسان کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ اس عارضی دنیا کو دائمی منزل سمجھنے کی مہلک غلطی سے محفوظ رہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ [سورۃ الذاريات: 56]
یعنی “میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔” یہ آیت درحقیقت انسانی زندگی کا منشور ہے۔ اگر اس ایک آیت کو سمجھ لیا جائے تو انسان کی زندگی کے بے شمار سوالات خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی تخلیق کا مقصد مال و دولت کا انبار لگانا نہیں، بلکہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرنا، اس کی بندگی بجا لانا، اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا اور اس دنیا کو آخرت کی دائمی کامیابی کا ذریعہ بنانا ہے۔ مگر جب انسان اپنے مقصدِ تخلیق کو فراموش کر دیتا ہے تو پھر وہ دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی منزل کا احساس ہی باقی نہیں رہتا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ دنیا کی چمک دمک پر دھوکا نہ کھائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ [سورۃ الحديد: 20]
یعنی “جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، ظاہری زیب و زینت، باہمی فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے پر بڑھنے کی دوڑ کے سوا کچھ نہیں۔” یہ آیت دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں دیتی بلکہ دنیا کے صحیح مقام کو متعین کرتی ہے۔ اسلام نے دنیا سے فرار نہیں سکھایا، بلکہ دنیا کو آخرت کی کھیتی بنایا ہے۔ تجارت بھی عبادت بن سکتی ہے، ملازمت بھی عبادت بن سکتی ہے، تدریس بھی عبادت بن سکتی ہے اور سیاست بھی عبادت بن سکتی ہے، بشرطیکہ ان سب کا محور رضائے الٰہی ہو۔ لیکن جب یہی دنیا مقصد بن جائے، عبادت وسیلہ نہ رہ کر دنیا کا ذریعہ بن جائے، اور اللہ کی رضا پر نفس کی خواہشات غالب آ جائیں تو پھر وہی نعمتیں انسان کے لیے آزمائش بلکہ ہلاکت کا سبب بن جاتی ہیں۔
آج اگر امتِ مسلمہ کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو ایک دردناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارا اصل بحران صرف اقتصادی یا سیاسی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ روحانی، اخلاقی اور فکری ہے۔ ہم نے ظاہری ترقی کو کامیابی کا معیار بنا لیا، مگر باطنی اصلاح کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ہمارے گھروں میں آسائشیں بڑھتی گئیں مگر دلوں سے اطمینان کم ہوتا گیا، معلومات کے ذرائع وسیع ہوتے گئے مگر علم کے ساتھ عمل کی نسبت کمزور پڑتی گئی، مساجد آباد رہیں مگر سجدوں کی کیفیت بدل گئی، زبانوں پر دین کے دعوے رہے مگر معاملات سے دیانت، انصاف، اخلاص اور خوفِ خدا رخصت ہونے لگا۔ یہی وہ اندرونی کمزوری ہے جو کسی بھی قوم کو بیرونی حملوں سے پہلے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج امت مختلف آزمائشوں، فتنوں اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ کہیں اسلامی شعائر کو چیلنج کیا جا رہا ہے، کہیں دینی شناخت کو کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، کہیں مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کہیں ان کے تاریخی ورثے کو متنازع بنانے کی تدبیریں کی جا رہی ہیں۔ مگر قرآنِ حکیم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ آزمائشوں کے اسباب صرف باہر تلاش نہ کیے جائیں، بلکہ اپنے باطن کا بھی محاسبہ کیا جائے، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ [سورۃ الرعد: 11]
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دے۔” یہ آیت محض ایک قرآنی اعلان نہیں بلکہ قوموں کے عروج و زوال کا ایک اٹل قانون ہے۔ جب تک ایمان تازہ نہ ہو، اعمال سنور نہ جائیں، کردار میں اخلاص پیدا نہ ہو، عبادت میں روح نہ آئے اور دنیا دل سے نکل کر ہاتھ تک محدود نہ ہو، اس وقت تک صرف حالات کی شکایتیں قوموں کی تقدیر نہیں بدلا کرتیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے باطن کی اصلاح کی، اللہ تعالیٰ نے ان کے حالات بھی بدل دیے، اور جنہوں نے اپنے زوال کا سبب صرف دوسروں کو سمجھا، وہ مزید پستی میں گرتی چلی گئیں۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے: آخر وہ کون سی حقیقت ہے جس نے انسان کو اپنے مقصدِ تخلیق سے غافل کر دیا؟ وہ کون سا فریب ہے جس نے دلوں میں اس قدر جگہ بنا لی کہ انسان فنا کو بقا اور عارضی زندگی کو دائمی کامیابی سمجھ بیٹھا؟ کیا صرف مال و دولت اس کا سبب ہے، یا دنیا کی محبت کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں؟ اور پھر قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ اور اسلافِ امت نے اس روحانی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟
ان شاء اللہ اگلی قسط میں انہی بنیادی سوالات کا تحقیقی جائزہ لیا جائے گا، جہاں دنیا کی حقیقت، حبِّ دنیا کے مہلک اثرات، موت کی یقینی منزل، اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان انقلابی تعلیمات پر تفصیلی گفتگو ہوگی جنہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں سے دنیا کی غلامی نکال کر انہیں آخرت کا حقیقی مسافر بنا دیا۔
