Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: دوم)|حضرت مولانا مفتی شمشاد حسین بدایونی

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: دوم)
تحریر: حضرت مولانا مفتی شمشاد حسین بدایونی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ کا فروغ و ارتقا

امام احمد رضا فاضل بریلوی اس عظیم شخصیت کا نام ہے جنہوں نے فقہ و افتا کے میدان میں وہ جولانیاں دکھائیں کہ ان کے دور میں یا ان کے بعد کسی دور میں یا آج کے دور میں ان جیسا کوئی فقیہ منصہ شہود پر رونما نہیں ہوا۔ ان کی تحقیقات اور ان کی تدقیقات پوری دنیائے علم و فن سے خراج عقیدت بٹور رہی ہیں، ان کے تمام فتاوے اس بات پر شاہد عدل ہیں۔ بڑے بڑے دانشوروں نے ان کی تحقیق کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، انہوں نے جو تحریر کر دی ہے اس میں انہوں نے کسی طرح کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے نہ اپنوں کے لیے اور نہ کسی غیر کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کوئی بھی تحریر ہو یا آپ ان کے فتاویٰ میں سے کہیں سے کوئی تحریر لے لیں وہ جامع بھی ہے اور مانع بھی ہے، اور یہ صرف ہمارا ہی عندیہ نہیں ہے بلکہ ہماری جماعت کے اکابر کا موقف بھی یہی ہے۔ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فقہ فرع ہے اور اس کی اصل “اصول فقہ” ہے اور یہ بات بھی مسلمات میں سے ہے کہ کسی فرع کو اصل سے یا کسی اصل کو اس کی فرع سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے، جب کوئی فرع اپنی اصل سے اٹوٹ رشتے میں بندھ جاتی ہے تو اس میں زبردست قوت آجاتی ہے اور زور استدلال اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس کی مخالفت کسی نوع سے نہیں کی جاسکتی ہے۔ کم پڑھے لکھوں کی کیا بات ہے؟ بڑے بڑوں میں بھی اس کی سکت باقی نہیں رہتی ہے اور یہ بڑے بھی ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے ان کے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ فتاویٰ کیا ہوتے ہیں؟ اگر ان پر غور کیا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ فتاویٰ میں استدلال ہی استدلال ہوا کرتا ہے۔ کہیں قرآن پاک کی آیتوں سے استدلال کیا جاتا ہے اور کہیں احادیث پاک سے دلیلیں لائی جاتی ہیں اور کسی مقام پر اجماع سے کام لیا جاتا ہے اور کہیں محقق اپنے موقف کی تائید میں بہت ساری جزئیات پیش کرتا ہے اور کہیں ایسا ہوتا ہے کہ قوانین اصولیہ یا قواعد فقہیہ میں سے کسی قانون اور کسی قاعدے کی تطبیق کرتے ہوئے کسی خاص واقعے پر حکم شرع نافذ کیا جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی فقہی جزئیے سے دلیل لائی جاتی ہے، ان تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے تو آپ کو حیرت ہوگی کہ ایک مفتی ایک اصولی کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے، اور اگر کسی بات کو سرسری انداز میں لیا جائے تو کسی کی خوبی بھی ناخوبی دکھائی پڑتی ہے۔ حضرت سیدنا امام احمد رضا فاضل بریلوی کے جس فتویٰ مبارکہ کو آپ اٹھا کر دیکھ لیں، اس فتوے کی ایک ایک عبارت میں اصول فقہ کی صرف جھلک ہی نہیں بلکہ پوری تابشیں نظر آتی ہیں، ان تابشوں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی کے یہاں “علم اصول فقہ” مختلف انداز میں پایا جاتا ہے:

  1. الف: علم اصول فقہ پر عمومی نظر

  2. ب: علم اصول فقہ پر خصوصی نظر

  3. ج: علم اصول فقہ بحیثیت علم و فن

میں اپنے اس مقالے میں اس بات کی کوشش کروں گا کہ ان تمام پہلوؤں پر بحث کر لی جائے تاکہ اہل علم اس بات کو جان لیں اور سمجھ لیں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اس کے فروغ و ارتقا کے لیے کیا کیا کوششیں کی ہیں، اور انہوں نے کس حد تک اس کی ترقی میں حصہ لیا ہے، لیکن قبل اس کے کہ میں ان پہلوؤں پر کچھ لب کشائی کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ایک شخص وہ ہوتا ہے جو کسی ایک زاویے سے کسی علم یا کسی فن پر بات کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص ہوا کرتا ہے جو ایک زاویے سے بحث نہیں کرتا ہے بلکہ مختلف زاویوں سے اسے اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ میرے خیال میں اس پہلے شخص کی علمی یا فنی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے مگر اتنی بات ضرور ہے کہ پہلا شخص صرف نظریاتی طور پر بحث کرتا ہے اور پھر اس کی تفہیم کے لیے کوئی نہ کوئی مثال پیش کرتا ہے۔ اور دوسرا شخص وہ ہوا کرتا ہے، جس کی نظر علمی اور فنی نظریات پر بھی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اس کے تجربوں پر بھی ہوتی ہے، اور جب کوئی بات تجربے میں آتی ہے تو اس کی خوبیوں میں نہ جانے کس قدر خوبیاں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس علم کے سیکھنے والے اس کے محل استعمال سے بھی واقف ہو جاتے ہیں اور اس بات سے بھی روشناس ہو جاتے ہیں کہ کسی موقعے پر کس اصول سے کام لیا جاتا ہے۔ لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے اس پروردگار عالم کا کہ اس نے ہمیں ایسا عظیم الشان محقق مفکر اور بین الاقوامی حیثیت کا حامل دانشور عطا کیا جنہوں نے ایک ایک علم اور ایک ایک فن کو اس طرح برتا ہے جس کی وجہ سے اس کے تمام اسرار و رموز طشت از بام ہو گئے اور اس کے ژولیدہ مضامین اس طرح حل ہو گئے کہ اس کا ایک ایک انگ اور ایک ایک رخ ہماری نگاہوں کے سامنے آگیا، ان کی اسی کرشمائی بحث و تمحیص کا اثر ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ جو رائے قائم کر لی آپ نے کبھی اس سے رجوع نہ کیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علمی، فنی اور تحقیقی میدان میں “معصوم عن الخطا” ہیں، لیکن خاکدان گیتی پر ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے قلم کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے حفاظت فرما دی، اگر سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کو ایسے افراد کے زمرے میں شامل مان لیا جائے تو اس میں استحالہ ہی کیا ہے؟

الف: علم اصول فقہ پر عمومی نظر

کسی بھی فن پر عمومی نظر سے کیا مراد ہوتا ہے یہ سب کو معلوم ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ علم لیا جاتا ہے جو ہر وقت محقق کی نظر میں ہوا کرتا ہے۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی کے ہزارہا فتاوے پائے جاتے ہیں۔ کسی مفتی کے فتاویٰ کا مجموعہ ایک ہوتا ہے دو ہوتا ہے یا چار پانچ ہوا کرتا ہے مگر اعلیٰ حضرت کے فتاوے کس قدر پائے جاتے ہیں اب تک ان کی نہ کوئی گنتی ہے اور نہ کوئی شمار ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کس قدر پائی جاتی ہیں؟ اس بارے میں آج تک اس کی صحیح اور حتمی مقدار کے بارے میں کسی کو کوئی جانکاری نہیں۔ فی الحال اس کی مقدار وہی تسلیم کر لی جائے جو حیات اعلیٰ حضرت میں صراحت کی گئی ہے یا تصانیف اعلیٰ حضرت میں، باوجودیکہ ان کے فتاوے ہزاروں کی تعداد میں آج بھی جلوہ گر ہیں۔ اور یہ بات ہم بتا چکے ہیں کہ فقہ فرع ہے اور اس کی اصل “علم اصول فقہ” ہے چونکہ “اصول فقہ” میں اصل کی نسبت علم کی جانب کی گئی ہے اور یہ مسلمات میں سے ہے کہ اصل کی نسبت جب کسی علم کی جانب کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اصل سے مراد دلیل ہوا کرتی ہے، فتاویٰ میں صرف دعویٰ ہی نہیں ہوا کرتا ہے بلکہ دعوے کے ساتھ ساتھ اس کے دلائل بھی ہوا کرتے ہیں اس طرح امام احمد رضا کے یہاں دلائل کی کثرت پائی جاتی ہے اور یہی دلائل کسی بھی مفکر اور دانشور انسان کو “اصول فقہ” کی جانب لے جانے کے لیے کافی ہیں۔ یہ صرف اصول فقہ کی جانب رہنمائی نہیں کرتے ہیں بلکہ اسے منزل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوشش کرتے ہیں۔ اس توضیح سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اپنے فتاویٰ کو “اصول فقہ” سے سجا رکھا ہے اور نت نئے انداز میں اس کے حسن و کشش کو دو بالا کر دیا ہے، ایسے کسی انسان کو اگر کوئی چراغ لے کر بھی تلاش کرے گا تو اس کا ملنا مشکل ہوگا۔ اب میں ان کے ایک فتوے کا تجزیہ پیش کرنے جارہا ہوں۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے ۱۳۱۷ھ میں ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام “مَاحِي الضَّلَالَةِ فِي أَنْكِحَةِ الْهِنْدِ وَالْبِنْجَالَةِ” ہے۔ جس سوال کے جواب میں یہ رسالہ وجود میں آیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ فی زمانہ جو عقد ہوتے ہیں کہ ایک شخص غیر کو ولی ہندہ نے وکیل قرار دے کر اور دو شخص اور واسطے گواہی کے مقرر کر کے واسطے اجازت لینے نکاح کے ہندہ کے پاس بھیجے۔ ہنگامہ مستورات میں جاکر قریب ہندہ جا کر بیٹھا اور یہ کلمات کہے کہ تو مجھ کو واسطے عقد اپنے کے وکیل کر دے وہ بیچاری بباعث رواج اس ملک اور شرم کے کب گویا ہوتی ہے اکثر مستورات فہمائش کرتی ہیں مگر وہ جواب نہیں دیتی اور بعض بعض کچھ گریہ یا ہوں کا اشارہ کر دیتی ہیں بعد کو وکیل صاحب باہر تشریف مع دونوں گواہوں کے لاکر دولہا کے روبرو آکر بیٹھتے ہیں، قاضی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کہ آپ کا آنا کہاں سے ہوا؟ وکیل صاحب نے در جواب اس کے ارشاد کیا کہ دختر فلاں نے واسطے عقد اپنے کے مجھ کو وکیل مقرر کر کے بھیجا ہے اور میری وکالت کے یہ دونوں صاحب گواہ ہیں آپ اس کا عقد نوشہ ہذا کے ساتھ کر دیجیے، اور قاضی صاحب نے یہ کلمات فرمائے: فلاں شخص کی دختر کو بوکالت فلاں شخص اور یہ گواہی فلاں فلاں کے بالعوض اس قدر مہر سوائے نان نفقہ کے بیچ تیرے کے دی میں نے قبول کی تو نے۔ اس نے کہا: قبول کی میں نے۔ آیا یہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟ اور جو کہ اولاد ہوئی حرامی ہوئی یا نہیں؟ اور قول عمرو کا یہ ہے کہ کچھ اس نکاح میں قباحت نہیں اور نہ اولاد حرام کی ہو سکتی ہے۔

امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اس سوال کے جواب میں جو کچھ فرمایا رسالے کا مطالعہ کرنے سے ہی اس کا علم ہوگا، یہاں ہمارا مقصد اس بات کی تشریح کرنی ہے کہ اس جواب میں جو دلائل اور براہین پیش کیے گئے ہیں اصول فقہ سے ان کا رشتہ یا تعلق کس حد تک ہے؟ لہٰذا اس رسالے میں سے وہی عبارت پیش کروں گا جن میں اصول فقہ کی جھلک محسوس ہوتی ہوگی، یا جس کا تعلق خاص طور سے اصول فقہ سے ہوگا۔

دلائل اصولیہ / دلائل فقہیہ

(1): قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِيْ نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا. رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالسِّتَّةُ إِلَّا الْبُخَارِيَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری عورت بذات خود اپنے نکاح کی اجازت دے سکتی ہے جب کہ عاقلہ اور بالغہ ہو، اس کا خاموش رہنا بھی اس کی اجازت ہے۔ اس حدیث کو احمد اور کتب ستہ نے روایت کی مگر یہ کہ امام بخاری نے اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ یہ حدیث پاک ہے جو ادلہ اربعہ میں سے ایک دلیل شرعی ہے اور امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اس حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جو اصول فقہ کی جھلک پیش کر رہی ہے۔

(2): در مختار میں ہے: فَإِنِ اسْتَأْذَنَہَا غَيْرُ الْأَقْرَبِ كَأَجْنَبِيٍّ أَوْ وَلِيٍّ بَعِيْدٍ فَلَا عِبْرَةَ بِسُكُوْتِہَا إلخ.

ترجمہ: پس اگر عورت سے کسی غیر اقرب نے نکاح کی اجازت طلب کی جیسے کوئی اجنبی یا ولی بعید تو اس عورت کا چپ رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جو انطباق الجزئیۃ علی الواقعۃ پر مبنی ہے یہ بھی استدلال کا منہج مقبول ہے جو فن فتویٰ نویسی میں قابل قدر کی حیثیت رکھتا ہے اس کا تعلق بھی اصول فقہ سے ہے کیونکہ “اصول فقہ” طرز استدلال کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یہ ایک طرز استدلال ہے لہٰذا اس کا اصول فقہ سے ہونا ثابت ہے۔

(3): امام احمد رضا فرماتے ہیں: فِيْ رَدِّ الْمُحْتَارِ عَنِ الْعَلَّامَةِ الرَّحْمَتِيِّ عَنِ الْعَلَّامَةِ الْحَمَوِيِّ عَنْ كَلَامِ الْإِمَامِ مُحَمَّدٍ فِي الْأَصْلِ أَنَّ مُبَاشَرَةَ وَكِيْلِ الْوَكِيْلِ بِحَضْرَةِ الْوَكِيْلِ فِي النِّكَاحِ لَا تَكُوْنُ كَمُبَاشَرَةِ الْوَكِيْلِ بِنَفْسِہٖ بِخِلَافِہٖ فِي الْبَيْعِ.

کسی وکیل کے وکیل کا خود وکیل اول کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرانا خود وکیل اول کے نکاح پڑھانے جیسا نہیں بخلاف بیع کے یعنی اگر کسی وکیل کے وکیل نے وکیل اول کی موجودگی میں کچھ بیچا یا کچھ خریدا تو یہ ایسا ہی ہوا جیسے کہ اس وکیل اول نے خود اس کام کو انجام دیا ہے۔ یہ ایک دلیل ضرور ہے مگر اس کی حیثیت ایک قانون کی ہے اور جب کسی قانون کے سہارے کسی نئے واقعے پر حکم لگایا جاتا ہے تو پھر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی محقق یا مفکر اصول فقہ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہا ہے اور کسی کے اصولی ہونے کے لیے بس اسی قدر کافی ہوتا ہے۔

فائدہ: اس مذکورہ عبارت کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ نکاح اگرچہ عورت کی اجازت کے بغیر ہوا مگر پھر بھی اس کے منعقد ہونے میں کلام نہیں۔ ہاں اس نکاح کو نکاح فضولی کا نام دیا جا سکتا ہے اور اس بات میں شک نہیں کہ نکاح فضولی منعقد ہوا کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ یہ نکاح عورت کی اجازت پر موقوف ہوا کرتا ہے اگر وہ اجازت دے دے تو نافذ اور رد کر دے تو رد ہو جائے گا جیسا کہ امام احمد رضا فرماتے ہیں:

(4): كَمَا ہُوَ حُكْمُ تَصَرُّفَاتِ الْفُضُوْلِيِّ جَمِيْعًا عِنْدَنَا كَمَا صَرَّحَ بِہٖ فِيْ عَامَّةِ كُتُبِ الْمَذَاہِبِ. عالمگیری میں ہے: لَا يَجُوْزُ نِكَاحُ أَحَدٍ عَلٰى بَالِغَةٍ صَحِيْحَةِ الْعَقْلِ مِنْ أَبٍ أَوْ سُلْطَانٍ بِغَيْرِ إِذْنِہَا بِكْرًا كَانَتْ ثَيِّبًا فَإِنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَالنِّكَاحُ مَوْقُوْفٌ عَلٰى إِجَازَتِہَا فَإِنْ أَجَازَتْہَا جَازَ وَإِنْ رَدَّتْہُ بَطَلَ. كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَہَّاجِ.

جیسا کہ ہمارے نزدیک فضولی کے تمام تصرفات کا حکم ہے اور مذاہب کی عام کتابوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور عالمگیری میں ہے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بالغہ اور عاقلہ عورت کا نکاح اس کے باپ یا سلطان کی جانب سے اس عورت سے نکاح کی اجازت لیے بغیر نکاح کردے چاہے وہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ ہو، اگر اس نے ایسا کیا تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر وہ اجازت دے دے تو جائز ہے اور اگر رد کر دے تو باطل ہے۔ ایسا ہی سراج الوہاج میں ہے۔ نکاح فضولی علم فقہ کی بھی اصطلاح ہے اور اصول فقہ کی بھی اور یہاں اس سے مراد معنی لغوی نہیں بلکہ اصطلاحی معنی مراد ہے یہ بھی ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت بہت سارے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ صورت واقعہ پر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے انطباق کر کے اس کے حکم شرع کو واضح فرمادیا کہ وہ بھی ایک نکاح فضولی ہے اگر عورت کی جانب سے اجازت پائی جائے تو جائز و نافذ اور رد کی صورت میں باطل۔ یہ طرز استدلال اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ امام احمد رضا نے اصول فقہ کی ترویج و اشاعت کے لیے بہترین کوششیں کی ہیں۔

اپنی زبان سے اجازت دے کر بھی اجازت ہوا کرتی ہے اور عورت کے کسی کام یا کسی عمل کے انجام دینے سے بھی اجازت ہو جاتی ہے یعنی اس نکاح فضولی کو نافذ العمل کرنے کی مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں۔ اجازت قول کے اعتبار سے بھی ہو جاتی ہے اور عمل کے اعتبار سے بھی۔ ایسا نہیں ہے کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے یہ باتیں صرف اپنی طرف سے کہہ دی ہوں، بلکہ انہوں نے جو باتیں فرمائی ہیں ایک ایک قول کی بہت ساری دلیلیں دے دی ہیں، اور دلیل و برہان کی روشنی میں بات کہی ہے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ انھوں نے ایک ایک بات کی مختلف دلیلیں پیش کی ہیں، اور کسی ذات قدس کے اصولی ہونے کے لیے یہی صورت عمل اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہے، اس سلسلے میں انہوں نے جو دلیلیں دی ہیں ملاحظہ فرمائیں:

(5): عالمگیری میں ہے: كَمَا يَتَحَقَّقُ رِضَاہَا بِالْقَوْلِ بِقَوْلِہَا رَضِيْتُ، قَبِلْتُ وَأَحْسَنْتُ وَأَصَبْتُ وَبَارَكَ اللہُ لَكَ أَوْ لَنَا وَنَحْوَہُ يَتَحَقَّقُ بِالدَّلَالَةِ كَطَلَبِ مَہْرِہَا وَنَفَقَتِہَا وَتَمْكِيْنِہَا مِنَ الْوَطْئِ وَقَبُوْلِ التَّہْنِيَةِ وَالضَّحِكِ بِالسُّرُوْرِ مِنْ غَيْرِ اسْتِہْزَاءٍ. كَذَا فِي التَّبْيِيْنِ.

جس طرح عورت کی رضا اس کے اس قول سے ثابت ہوتی ہے “میں راضی ہوں”، میں نے قبول کیا، میں نے اچھا محسوس کیا، میں نے درست جانا، اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے یا ہمیں برکت دے اور اسی کی مانند اجازت دلالۃً بھی ثابت ہوتی ہے جیسے عورت مہر یا نفقہ طلب کرے اور شوہر کو وطی پر قدرت دے یا مبارک بادی قبول کرے یا خوشی سے مسکرائے جب کہ اس میں کسی طرح کا استہزا نہ پایا جائے، ایسا ہی تبیین میں ہے۔

(6): امام احمد رضا فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں: ہمارے بلاد میں عام لوگوں خصوصاً شریفوں خصوصاً اغنیا اگرچہ یہ اکثر باتیں شبِ زفاف بلکہ مدت تک اس کے بعد بھی واقع نہیں ہوتیں اور بوس و کنار و مساس و جماع جو اس شب ہوتے ہیں غالباً نہایت اظہار کراہت و نفرت کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے باعث انہیں دلیل رضا ٹھہرانے میں دقت ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ شوہر کو شب زفاف تنہا مکان میں اپنے پاس آنے دینا اور اس خلوت میں سوا شرم کے کوئی اثر مرتب نہ ہونا یقینا ہوتا ہے نکاح نافذ ہونے اور یہ امر قطعاً پیش از جماع واقع ہوتا ہے تو جماع بعد نفاذ ولزوم نکاح ہوا اور اولاد حلال ہوئی۔

اس عبارت کو تحریر کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت اس سے آگے فرماتے ہیں:

(7): بلکہ اگر مقاصد شرع مطہر اور اپنے بلاد کے حالات کو پیش نظر رکھ کر نگاہ دقیق فقہی سے کام لیجیے تو شب اول شوہر کو اپنے ساتھ جماع پر قدرت دینا بھی حقیقۃً رضا ہے اگرچہ بظاہر ہزار اظہار تنفر کے ساتھ ہو کہ یہ کراہتیں جیسی ہوتی ہیں سب کو معلوم ہے۔ حقیقت حال یوں منکشف ہو کہ اس مرد کی جگہ کسی اجنبی کو فرض کیجیے جس سے اس کا نکاح نہ کیا گیا ہو کیا اس وقت بھی یہ ایسی ہی ظاہری کراہتوں پر قناعت کر کے بالآخر جماع پر قدرت دے دے گی حاشا و کلا! تو صاف ثابت یہ سب امور حقیقۃً قبول نکاح سے ناشی ہوتے ہیں... بلکہ اس سے پہلے رخصت ہو کر جانا بھی اگرچہ بوجہ مفارقت اعزہ و خانہ مالوفہ نہایت ہی گریہ و بکا کے ساتھ ہو انصافاً دلیل رضا ہے... اگر اسے اپنا شوہر ہونا پسند نہ کرتی، اجنبی جانتی، ہرگز زفاف کے لیے رخصت ہو کر اس کے یہاں نہ جاتی۔

اصول فقہ اور اس کے منہج و اسلوب کی جانب طبیعت کا رجحان اور قلم ژرف نگار کی سرعت رفتار اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ فتاویٰ کی زبان اور اس کا اسلوب کسی بھی حال میں اصول فقہ اور اس کے تقاضوں اور آداب سے کوئی بھی مفتی چشم پوشی نہیں کر سکتا ہے، شعوری یا غیر شعوری دونوں صورتوں میں علم “اصول فقہ” کا منظر نامہ اس کے سامنے رہتا ہے اور نہایت ہی باریکی کے ساتھ وہ اسے استعمال بھی کرتا ہے اور جہاں تک سرکار اعلیٰ حضرت کی بات ہے ان کے یہاں تو عمومیت اور شمولیت کے ساتھ اصول فقہ کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ استدلال از روئے عرفی ہے کیونکہ “اَلْعَادَةُ مُحَكَّمَةٌ” ایک قاعدہ کلیہ ہے، فقہی اعتبار سے بھی یہ قاعدہ ہے اور اصولی اعتبار سے بھی۔ اس قانون کا انطباق کر کے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے عورت یا دلہن کی طرف سے دلالۃً رضا و قبول ثابت کیا ہے یہ منہج قطعی طور پر وہی صحیح ہے جس کی وضاحت اصول فقہ کرتا ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ اس فتوے کی پوری عبارت میں استدلال ہی استدلال ہے کوئی بھی انسان استدلال کی اس کیفیت کو اسی وقت لا سکتا ہے جب اس کے ذہن و فکر میں اصول فقہ کا تصور ہوا کرتا ہے۔ یہ بات اہل علم سے قطعی پوشیدہ نہیں کہ اصول فقہ کے بغیر علم فقہ نہیں اور علم فقہ کے بغیر فتویٰ نہیں لہٰذا ثابت ہوا کہ فتوے میں اصول فقہ کی موجودگی لازمی ہے اور دو اور دو چار کی مانند اس کی حقیقت روشن ہے۔ صورت سوال کا جو خلاصہ بیان کیا گیا اس سے صاف نمایاں ہوتا ہے اگر مذکور فی السوال نکاح کو جائز و نافذ نہ مانا جائے تو بہت ساری دقتیں اور دشواریاں سامنے آسکتی ہیں اور بہت سے لوگ گنہگار ہو سکتے ہیں، اس لیے اس نکاح کو جائز مانتے ہوئے بہت ساری دشواریوں کا ازالہ کر دیا گیا اور امت مسلمہ کو دقتوں میں پڑنے سے بچا لیا گیا جیسا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں:

(8): مقاصد شرع سے ماہر خوب جانتا ہے کہ شریعت مطہرہ رفق و تیسیر پسند فرماتی ہے نہ معاذ اللہ تضییق و تشدید ولہٰذا جہاں ایسی دقتیں واقع ہوئیں علمائے کرام انہیں روایات کی طرف جھکے ہیں جن کی بنا پر مسلمان تنگی سے بچیں۔ ردالمختار کی کتاب الحدود میں ہے: ہُوَ خِلَافُ الْوَاقِعِ بَيْنَ النَّاسِ وَفِيْہِ حَرَجٌ عَظِيْمٌ لِأَنَّہٗ يَلْزَمُ مِنْہُ تَأْثِيْمُ الْأُمَّةِ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 103 تا 110]

میں نے اسی ایک رسالے کا کسی نہ کسی حد تک تجزیہ کر کے بتا دیا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اپنے تمام فتاوے میں عمومیت اور شمولیت کے انداز میں علم اصول فقہ پر کام کیا ہے اور اس کے فروغ و ارتقا میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ جب کسی علم یا فن پر عمومی انداز میں کام کیا جاتا ہے تو اس کے فروغ و ارتقا کی راہیں زیادہ کھلتی ہیں اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا موقع زیادہ ملتا ہے۔ اس لیے ایک میں ہی کیا؟ کوئی بھی انصاف پسند علم اصول فقہ پر بحث کرتے وقت علم فقہ کی کتابوں کو ضرور پڑھتا ہے، کہ اس کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ ثابت ہوا کہ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ علم فتاویٰ کے لیے بھی اصول فقہ کی اسی قدر ضرورت پڑتی ہے جس قدر کہ علم فقہ کے لیے۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اصول فقہ کو نہ صرف ضرورت کی حد تک برتا ہے بلکہ اس کی ارتقائی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے فتاویٰ کے کینوس میں اسے سجا کر رکھا ہے۔ یہ سرکار اعلیٰ حضرت کا علم اصول فقہ کے ساتھ ایک عمومی طرز عمل تھا۔ جسے میں نے اپنے طور پر بیان کر دیا ہے اور علم اصول فقہ کے فروغ و ارتقا میں کسی فن کے عمومی طرز عمل کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ایسا کرنا انصاف و دیانت کے خلاف ہوگا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!