Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ | مولانا عطاء المصطفیٰ مصباحی

مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: مولانا عطاء المصطفیٰ عطاری مصباحی

اے اشرفِ زمانہ، زمانہ مدد نما
درہائے بستہ را ز کلیدِ کرم کشا

اشرف نہنگ دریا دریا بسینہ دارد
دشمن ہمیشہ پرغم با ذکرِ تو دوست دارد

آغازِ تعلیم اور غیر معمولی علمی استعداد:

حضور مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ جب چار سال، چار ماہ اور چار دن کے ہوئے تو اُس زمانے کے بزرگوں کے معمول کے مطابق آپ کی رسمِ بسم اللہ خوانی نہایت اہتمام کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس مبارک موقع پر اس زمانے کے جلیل القدر عالم، حضرت علامہ عماد الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو بسم اللہ شریف پڑھائی، جس کے بعد آپ کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی ذہانت اور قوتِ حافظہ سے نوازا تھا۔ چنانچہ آپ نے صرف ایک ہی سال میں قرآنِ مجید حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ قراءتِ سبعہ کی بھی تکمیل فرما لی۔

اس کے بعد پوری دلجمعی کے ساتھ مختلف علوم و فنون کی تحصیل میں مصروف رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی علمی استعداد عطا فرمائی کہ محض چودہ سال کی عمر میں جملہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی اور آپ کی علمی شہرت پورے عراق میں پھیل گئی۔ [ماخوذ از: لطائفِ اشرفی]

حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: “بندے کے لیے بندگی کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔”

اسی فکر کے مطابق آپ کی پوری زندگی عبادت، ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت سے معمور تھی۔ آپ کا کوئی لمحہ ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت سے خالی نہ گزرتا تھا۔ آپ نے رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ درمیانی ایک تہائی حصہ آرام کے لیے مخصوص فرماتے، جبکہ باقی دو تہائی حصے نماز، تلاوت، ذکر، دعا اور دیگر عبادات میں بسر کرتے۔ اسی شب و روز کی ریاضت و عبادت کے سبب بارگاہِ الٰہی میں آپ کو نمایاں قرب اور مخصوص مقام عطا ہوا۔

بارگاہِ الٰہی سے “محبوبِ یزدانی” کا عظیم شرف:

حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا۔ جیسے ہی سنِ شعور کو پہنچے، محبتِ الٰہی کے جذبے سے سرشار ہو کر معرفتِ الٰہی اور تلاشِ حق تعالیٰ میں ہمہ تن مشغول ہو گئے، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ تخت و تاجِ سلطنت کو ٹھوکر مار کر مرشدِ برحق کی تلاش میں نکل گئے۔ جذبہ سچا ہو تو راہیں خود ہموار ہو جاتی ہیں، سنگلاخ وادیوں اور سنسان جنگلات کو سر کرتے ہوئے ایسے میخانے تک پہنچ گئے جہاں سے جامِ عشق و معرفت بھر بھر کر تقسیم ہو رہے تھے۔

کمالِ محبت کے ساتھ اپنے شیخِ کامل کی خدمت و اطاعت میں لگے رہے، شیخِ کامل کی نگاہِ دوربین نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیشانی میں چمکنے والے قربِ الٰہی کے نور کو روزِ اول ہی پہچان لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو ایسی مقبولیت عطا فرمائی کہ وہ وقت آ پہنچا جب آپ کو اپنی خاص محبوبیت کے شرف سے نوازا گیا، تاکہ دنیا پر یہ حقیقت آشکار ہو جائے:

مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ.

“جو اللہ کا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کا ہو جاتا ہے۔”

مَنْ يُحِبُّ اللَّهَ يُحْبِبْهُ اللَّهُ.

“جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔”

چنانچہ 27 رمضان المبارک 782ھ کی مبارک رات، روح آباد کچھوچھہ شریف میں حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ حسبِ عادت عبادت میں مشغول تھے۔ اس بابرکت محفل میں آپ کے مریدین، خلفاء، بزرگانِ دین اور متعدد علماء و مشائخ بھی موجود تھے، جن میں آپ کے بھانجے اور جانشین حضرت نور العین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت دُرِّ یتیم رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ رکن الدین شاہباز رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ اصیل الدین سفید باز رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ جمیل الدین جرّہ باز رحمۃ اللہ علیہ، حضرت قاضی رفیع الدین اودھی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ شمس الدین اودھی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ عارف رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ معروف رحمۃ اللہ علیہ، حضرت ملک محمود رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین موجود تھے۔

جیسے ہی رات نے اپنی زلفوں کو سمیٹا اور افق پر سپیدۂ سحر نمودار ہوا تو حاضرین نے غیب سے ایک آواز سنی: “اشرف ہمارا محبوب ہے۔”

یہ مبارک بشارت سنتے ہی پوری خانقاہِ اشرفیہ میں خوشی کے نغمے گونج اٹھے۔ مریدین اور عقیدت مند خوشی سے جھوم اٹھے۔ ہر طرف مبارک بادی کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور شبِ قدر کی برکتوں نے سب کو شایانِ شان فیضیاب کر دیا۔

حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ آپ ہر روز نمازِ فجر مکہ مکرمہ میں ادا فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ سے روزانہ طیِ زمان و مکان کی کرامت ظاہر ہوتی تھی۔ چنانچہ اس مبارک شبِ قدر کی صبح بھی آپ نمازِ فجر کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت شیخ نجم الدین اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ پر پڑی، فوراً فرمایا: “محبوبِ یزدانی تشریف لے آئے، آپ کو یہ خدائی اعزاز مبارک ہو۔”

اس کے بعد دونوں بزرگوں نے اظہارِ مسرت کے لیے معانقہ کیا۔ اس وقت حرمِ شریف میں تقریباً پانچ سو مشائخِ کرام موجود تھے۔ سب نے حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کو مبارک باد پیش کی۔ اس واقعے کے بعد حضرت مخدومِ اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ جہاں بھی تشریف لے جاتے، مشائخِ کرام آپ کو “محبوبِ یزدانی” کہہ کر مخاطب فرماتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ لقب ہر طرف مشہور ہو گیا، یہاں تک کہ آپ کے اسمِ گرامی کے ساتھ “محبوبِ یزدانی” ہمیشہ کے لیے وابستہ ہو گیا۔

ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ [ماخوذ از: حیات غوث العالم، بتغیر]

وصالِ باکمال:

حضرت سید جہانگیر اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے محرم الحرام کی ستائیسویں تاریخ کو قرب و جوار کے اکابر، عمائد اور مشائخ کو جمع کر کے اپنے روحانی بیٹے سید نور العین عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ کو خرقۂ خلافت سے نوازا اور 28 محرم 808ھ کو کچھوچھہ شریف میں بوقتِ عصر عالمِ آخرت کا سفر فرمایا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!