Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسلم پرسنل لا، دستور ہند اور ہندی مسلمان

مسلم پرسنل لا، دستور ہند اور ہندی مسلمان
عنوان: مسلم پرسنل لا، دستور ہند اور ہندی مسلمان
تحریر: غلام مصطفی نعیمی مدیر اعلی سواد اعظم دہلی
پیش کش: مصباح صدف
منجانب: مدرسۃ الفاطمہ قادریہ للبنات گلبرگہ شریف

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، آج سے تقریباً 30 سال پہلے شاید پہلی بار ملک کی سب سے بڑی عدالت نے شاہ بانو کیس کا سہارا لے کر شریعت مطہرہ کی حدود میں زبردستی داخل ہونے کی جسارت کی تھی۔ کانگریس نے چور دروازے سے سنگھ پریوار کے اس خفیہ منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جس کو مسلمانوں کے اس ازلی دشمن کی شہ رگ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس وقت تک مسلمانوں کا خون اتنا ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ عدلیہ و پارلیمنٹ جیسے انسانی اداروں کا تسلط خدا اور رسول کے دین کے معاملے میں برداشت کر لیتے؛ وہ سینہ سپر ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کا شیش محل ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔

اس تاریخی ہزیمت کے بعد کانگریس تو خیر شریعت اسلامیہ کے حوالے سے کسی براہ راست حملے کی پوزیشن میں نہیں رہی مگر اس کی ہمنوا دیگر جماعتوں نے اپنی اپنی نام نہاد غیر سیاسی تنظیموں (NGOs) کے ذریعے اس سازش کو پروان چڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ہمارے ملک میں کوئی ایک ایسی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت موجود نہیں ہے جو زندگی کے کسی بھی شعبے میں دین کی مداخلت کو برداشت کر سکتی ہو؟ لہذا ریشہ دوانیوں کا سلسلہ بھی ختم نہیں ہوا، پھر ایک دن نام نہاد سیکولر طاقتوں کو دھول چٹاتے ہوئے سنگھ پریوار کی منظور نظر بھاجپا ملک کی گردن پر سوار ہو گئی۔

بھاجپا اور اس کا سیاسی منشور

بھاجپا آر ایس ایس کی سیاسی جماعت ہے اور آر ایس ایس کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔ بھاجپا پہلے جن سنگھ کے نام سے ہندوستان کے سیاسی افق پر آئی اور بعد میں بی جے پی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے آگے بڑھی۔ ایک طویل زمانے تک بھاجپا کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر پائی لیکن بعد میں کچھ سیکولر پارٹیوں کی مہربانی سے اس جماعت نے حیرت انگیز ترقی کرتے ہوئے لوک سبھا میں اپنی سیٹوں کی تعداد دو [۲] سے بڑھا کر اٹھاسی (۸۸) تک پہنچا دی جس کے کھلے ذمہ دار وہ سیاسی لیڈران تھے جنہیں دانشور مسلمانوں نے مسلمانان ہند کا سب سے بڑا مسیحا مان لیا تھا اور آج بھی اسی جماعت ”جنتا دل“ کے لیڈران الگ الگ پارٹیاں بنا کر مسلمانوں کے ووٹوں سے تخت و تاج کے مالک بنے ہوئے ہیں۔

بی جے پی کا خمیر جس مسلم دشمنی کے جذبے کے تحت تیار ہوا تھا، اس کا اثر نہ کبھی ختم ہوا نہ ہی اس میں کوئی کمی واقع ہوئی۔ اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے بی جے پی نے کبھی کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنے منشور کا اعلان کھلے عام کیا، اس کے لیڈروں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا، ہر موقع پر کہا کہ وہ اقتدار میں آئے تو ان کے منشور کا سب سے اہم حصہ یہ تین نکات ہوں گے۔

  1. اقتدار میں آتے ہی اجودھیا میں عالی شان رام مندر بنائیں گے۔

  2. کشمیر کو ہندوستان سے جوڑنے والی دفعہ 370 کو دستور سے خارج کریں گے۔

  3. پورے ملک میں یونیفارم سول کوڈ (Uniform Civil Code) نافذ کریں گے۔

یہ تین بڑے مطالبات تھے جو بھاجپا والے دیگر سیاسی جماعتوں سے کرتے رہتے تھے۔ پچھلی حکومتوں نے، جن میں کانگریس وہ جماعت ہے جس نے سب سے زیادہ عرصے تک ملک پر حکومت کی ہے، اگر بی جے پی کے مطالبے پر کان نہیں دھرے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ان مطالبات کے خلاف تھے بلکہ بعض سیاسی مجبوریوں کے باعث وہ ایسا سمجھتے تھے کہ ان پر عمل کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے۔ بہرحال بی جے پی نے انصاف و ترقی کے نام پر الیکشن لڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کو بیک فٹ پر دھکیل دیا اور آسانی کے ساتھ اقتدار پر قابض ہو گئی۔ حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی بھاجپا اپنے اصلی رنگ میں آ گئی اور انصاف و ترقی کا نعرہ ایک طرف پھینک کر اس نے پورے ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے۔

اسی حکمت عملی کے تحت تین طلاق کے بہانے انہوں نے دستور ہند کے رہنما ہدایات کے باب میں درج دفعہ 44 کے حوالے سے یکساں سول کوڈ کا معاملہ گرم کر دیا اور اس بار لگتا یہی ہے کہ اگر ہم نے اس مصیبت سے بند کمروں میں رہ کر نمٹنے کی کوشش کی تو اس ملک میں صرف نام کے مسلمان بچیں گے، اصل اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو گا۔ خدا نہ کرے۔

دستور ہند کے رہنما اصول اور یکساں سول کوڈ

ہندوستان کا دستور تین اہم چیزوں پر مشتمل ہے جو درج ذیل ہیں:

  1. سوشلسٹ (Socialist) یعنی دستور عوامی ہوگا، کسی کے لیے کوئی تخصیص نہیں ہوگی، دستور کی نگاہ میں امیر و غریب سب برابر ہوں گے۔

  2. سیکولر (Secular) یعنی ملک کا دستور غیر مذہبی ہوگا یعنی کسی خاص مذہب کا اس پر غلبہ نہیں ہوگا۔

  3. ڈیموکریٹک (Democratic) یعنی سبھی فیصلے عوامی اور جمہوری ہوں گے۔ جمہوریت ہی ہر فیصلے کی اصل و بنیاد ہوگی۔

دستور ہند کا ایک باب ہے رہنما اصول جسے آئین کی زبان میں ڈائریکٹو پرنسپل (Directive Principles) کہا جاتا ہے۔ اس باب میں ایک دفعہ آرٹیکل 44 ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت مملکت ہندوستان کے سارے علاقوں میں تمام شہریوں کے لیے یونیفارم سول کوڈ ترتیب دینے کی کوشش کرے گی۔

دستور کے اسی رہنما اصول کی آڑ لے کر بی جے پی پورے ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی تیاری میں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دستور کے ڈائریکٹو پرنسپل (Directive Principles) میں بہت سارے ایسے اصول بھی درج ہیں جن کا حصول کسی طور ممکن نہیں؛ اسی لیے دستور کی دفعہ 37 کے ذریعے یہ وضاحت کر دی گئی کہ اس حصے میں درج رہنما اصول عدالتوں کے ذریعے قابل قبول نہیں، یعنی کوئی بھی انسان عدلیہ سے یہ حکم حاصل نہیں کر سکتا کہ فلاں اصول کو نافذ کیا جائے اور نہ ہی کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود سے کسی رہنما اصول کو نافذ کرنے کا حکم جاری کرے۔

کچھ اہم رہنما اصول اور حکومتوں کا رویہ

دستور میں تحریر کچھ ایسے اہم رہنما اصول بھی ہیں جنہیں اگر نافذ کر دیا جائے تو ملک کی عوام کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا مگر حکومتوں نے ان کے نفاذ میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی، لیکن اپنی مسلم دشمن پالیسی یا ووٹوں کی حرص میں آئے دن مسلم پرسنل لا کے خلاف آوازیں اٹھاتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی نیتیں صاف ہیں تو وہ دیگر رہنما اصولوں کے بارے میں کیوں عملی اقدامات نہیں کرتے؟ ملاحظہ کریں دستور کے ایسے ہی چند رہنما اصول جو ملک کے عوام کے لیے حد درجہ فائدہ مند ہیں مگر ان سے ہر حکومت صرف نظر کرتی ہے۔

रहنما اصول جو نفاذ کی راہ دیکھ رہے ہیں

  1. آرٹیکل 47 میں نشہ آور چیزوں پر مکمل پابندی کا اصول درج ہے لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے اس اصول کو نافذ کرنے کی جرات نہیں دکھائی۔ حالانکہ ہر سال نشہ سے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے، گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں، جھگڑے، مار پیٹ، قتل و غارت گری کا ایک اہم سبب نشہ آور چیزوں کا استعمال ہوتا ہے، کتنے گھر اسی نشہ کی نحوست کی وجہ سے اجڑ جاتے ہیں، کتنی بیٹیاں نشہ کی وجہ سے برباد ہو جاتی ہیں مگر کبھی کسی حکومت نے نشہ پر مکمل پابندی کی بات نہیں کی۔ ہاں، نشہ کے کاروبار سے ٹیکس وصول کر کے خزانہ اکٹھا کرنے کے لیے محکمہ آبکاری ضرور بنا دیا ہے۔

  2. دستور کے آرٹیکل 39 میں کہا گیا ہے کہ نظام قانون کو اس طرح پروان چڑھایا جائے گا کہ ہر شہری کو انصاف حاصل کرنے کے مساوی مواقع ملیں گے۔ کیا آزادی کے بعد سے اب تک کوئی ایسا میکانزم بنایا گیا کہ جس سے امیر و غریب کو انصاف کے حصول کے لیے یکساں مواقع مل سکیں؟ کیا آج ایک غریب انسان حصول انصاف کی خاطر ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ میں جانے کی ہمت جٹا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے وکیلوں کی فیس ادا کرنے کی ہمت ایک غریب تو کیا ایک مڈل کلاس انسان بھی دکھا سکتا ہے؟ کہاں ہے اس رہنما اصول کا نفاذ جس سے سبھی کو حصول انصاف کا یکساں موقع مل سکے؟ کسی بھی حکومت نے اس سلسلے میں کبھی کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔

  3. آرٹیکل 39E میں کہا گیا ہے کہ پیٹ کی آگ بجھانے اور دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے کسی کو ایسا کام نہ کرنا پڑے جو اس کی عمر اور اس کی طاقت سے مناسبت نہ رکھتا ہو۔ کسی حکومت کو شہر کی گلیوں میں پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر ضعیف العمر بوڑھے رکشا چلاتے نظر نہیں آتے؟ اپنے گھروں کا خرچ چلانے کی خاطر اپنے بچپن کی امنگوں کو بھول کر کوڑا کرکٹ چنتے چھوٹے چھوٹے بچے حکومت کو دکھائی نہیں دیتے؟ آزادی کے 70 سال بعد بھی اس رہنما اصول پر آج تک کوئی عمل نہیں کیا گیا، کتنے بزرگوں کا بڑھاپا حکومت کی سرد مہری کی وجہ سے اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے، کتنے بچوں کا بچپن حکومت کی بے رخی کی داستان کہتا ہے لیکن آج تک حکومتوں نے نہ بوڑھوں کے بڑھاپے پر رحم کھایا اور نہ ہی کسی حکومت کو بچوں کی امنگوں کا خیال رہا۔ ہاں، اپنی مسلم دشمن پالیسی کی وجہ سے یکساں سول کوڈ کا شگوفہ ضرور چھیڑا جاتا رہا اور موجودہ حکومت کا یہ اقدام بھی اس کا ایک نمونہ ہے۔

موجودہ تنازع اور تفصیلات

اس وقت جس بات کو لے کر سنگھی میڈیا اور غیروں کے آلہ کار شور مچا رہے ہیں، اس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے:

کچھ نام نہاد مسلم عورتیں جن میں زیادہ تر دین و مذہب سے بیزار ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ میں اس بات کو لے کر کیس کیا ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق، ایک سے زیادہ شادی پر پابندی عائد کی جائے اور عورت کو بھی طلاق دینے کا اختیار دیا جائے۔ اس مسئلے کو لے کر سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے جو جسٹس وکرم جیت سنگھ اور جسٹس شیوا کیرتی سنگھ پر مشتمل ہے، اس بینچ نے حکومت سے حلف نامہ داخل کر کے اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا جس پر مودی حکومت نے حلف نامہ دیتے ہوئے طلاق ثلاثہ اور ایک سے زیادہ شادی پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا ہے۔

بی جے پی مسلمانوں کے تعلق سے پہلے ہی کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی ہے، اس لیے اس مسئلے پر بھی اس نے آر پار کی لڑائی کی ٹھان لی ہے جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اس کے کئی بڑے وزیر روی شنکر پرساد، ارون جیٹلی، وینکیا نائیڈو صاف کہہ چکے ہیں کہ ہم اس مسئلے پر جھکنے والے نہیں اور اب طلاق ثلاثہ و تعدد ازواج کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔ خود وزیر اعظم نے ایک سیاسی ریلی میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس مسئلے میں کھل کر ان نام نہاد مسلم عورتوں کے ساتھ ہیں جو دراصل حکومت کے ہی اشارے پر یہ کھیل کھیل رہی ہیں۔ اب چونکہ حکومت کا موقف بہت کھل کر سامنے آ چکا ہے، یہ بات بھی بہت صاف ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو مسلم پرسنل لا سے کوئی خاص ہمدردی نہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے کوئی بہت بڑا اہم مسئلہ نہیں، اس لیے اب جو کچھ کرنا ہے وہ ہمیں خود ہی کرنا ہو گا۔

کیا ہے پرسنل لا؟

دستور ہند سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے افراد یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ پورے ملک میں رائج قانون کی دو اہم قسمیں سول کوڈ (Civil Code) اور کریمنل کوڈ (Criminal Code) ہیں۔ کریمنل کوڈ کے اندر جرائم کی سزائیں اور بعض انتظامی امور آتے ہیں۔ یہ سارے قوانین تمام اہالیانِ وطن پر یکساں طریقے پر نافذ ہوتے ہیں۔ اس میں کسی طرح کی تفریق نسل و مذہب یا علاقے کی بنیاد پر نہیں کی گئی ہے۔

سول کوڈ کے دائرے میں وہ قوانین آتے ہیں جن کا تعلق انسانی معاشرے اور اس کے تمدنی و معاملاتی مسائل سے ہے۔ اس میں بھی زیادہ تر قوانین سبھی افراد کے لیے یکساں ہیں، ہاں! سول کوڈ کے ایک حصے میں ملک کی بعض اقلیتوں کو ان کے مذہب کے مطابق کچھ مخصوص معاملات میں ان کے مذہبی قوانین پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی اور دستور میں اس کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اسی کو ”پرسنل لا“ کی آزادی کا نام دیا گیا ہے۔ دستور کی اس آزادی کے تحت مسلمانوں کو بھی شریعت ایپلی کیشن ایکٹ میں یہ حق دیا گیا ہے۔

مسلم پرسنل لا

اسلامی قوانین کا وہ حصہ جس کا تعلق مسلمانوں کی معاشرتی اور ان کی عائلی زندگی سے ہے، جس کو خاندانی تعلقات بھی کہا جاتا ہے، جس میں نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، خلع، حضانت، متبنیٰ، ولایت، دعیت اور وقف جیسے اہم قوانین آتے ہیں، انہیں کو دستور کی زبان میں مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) کہا جاتا ہے۔ کسی کے ذہن میں یہ وہم و گمان نہ رہے کہ ملک میں مسلمانوں کے لیے شرعی قوانین نافذ ہیں، یہ تو صرف شدت پسندوں کا پروپگنڈا ہے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ شریعت کا صرف بمشکل دو فیصد حصہ ہی دستور میں مسلمانوں کے لیے منظور کیا گیا ہے جس کو مسلم پرسنل لا کہا جاتا ہے اور اس معمولی سے اسلامی حصے کو بھی شدت پسند برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔

دستور ہند اور پرسنل لاز

یہ بات بھی خوب ذہن نشین رہے کہ وطن عزیز میں صرف مسلمانوں کو ہی ان مذہبی عائلی قوانین پر عمل کی اجازت نہیں دی گئی ہے بلکہ ملک کی دیگر مذہبی قوموں کو بھی ان کے پرسنل لاز پر عمل کی اجازت دی گئی ہے۔ دستور میں [آرٹیکل: 25] اور [آرٹیکل: 26] کے تحت باضابطہ اس کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

وطن عزیز ہندوستان میں انگریزوں کے دور سے ہی ہر مذہبی کمیونٹی کو ان کے پرسنل لا پر عمل کی اجازت تھی۔ جس وقت انگریزوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو اس ملک میں مسلمانوں کی حکومت ہونے کی وجہ سے نظام شرعیہ نافذ تھا جسے انگریزوں نے آہستہ آہستہ ختم کر دیا۔ اسلامی قوانین کو منسوخ کرنے کی مہم میں انہوں نے سب سے پہلے 1866ء میں فوجداری کا اسلامی قانون ختم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے قانونِ شہادت کو ختم کیا، اس کے بعد قانونِ معاہدات کو بھی انہوں نے ختم کر دیا۔ اسلامی قوانین کی منسوخی کا یہ عمل ہوتے ہوتے عائلی قوانین تک آن پہنچا جس کا تعلق معاشرتی و خاندانی امور سے تھا۔ معاشرتی امور میں نکاح، طلاق اور وراثت جیسے اہم قوانین تھے۔

انگریزوں نے عائلی قوانین کا جائزہ لینے اور اسے منسوخ کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی پینل بنایا جسے رائل کمیشن (Royal Commission) کا نام دیا گیا۔ اس کمیشن نے ملک کی مختلف قوموں کے افراد، ان کے مخصوص رسوم و رواج اور معاشرتی شناخت کے حوالے سے اپنی تحقیق مکمل کی اور حکومت کو بتایا کہ معاشرت مذہب کا ایک حصہ ہے، اگر اس کو بدلنے کی کوشش کی گئی تو پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف غم و غصہ کی آگ پھیل جائے گی، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہر قوم کو اس کے مذہبی عائلی قوانین پر عمل کی اجازت دی جائے۔ اس کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکومت نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور اس طرح انگریزی دورِ حکومت میں کسی بھی قوم کے عائلی قوانین کو بدلنے کی کوشش نہیں کی گئی۔۔

ملک میں دیگر اقوام کے پرسنل لاز

وطن عزیز میں شدت پسند افراد اور سنگھی میڈیا مسلسل یہ شور مچاتا ہے کہ ملک سے شرعی قانون کو منسوخ کیا جائے۔ ابھی حال ہی میں پوری پیٹھ کے شنکراچاریہ نے حکومت سے یہ اپیل کی ہے کہ ملک سے شریعت قانون کو ختم کیا جائے۔ ابھی گرو جی چپ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ آر ایس ایس کے اہم لیڈر نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر کچھ قومیں اپنے پرسنل لاز پر عمل کرنا چاہیں تو ان سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ ان دونوں مذہبی لیڈروں کا اشارہ کس کی جانب تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے سامنے یہ بات بھی آ جائے کہ اس ملک میں صرف مسلمانوں کے لیے ہی کوئی پرسنل لا نہیں بلکہ ملک میں بسنے والی دیگر قوموں کے لیے بھی دستور میں پرسنل لا کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ اور کتنی قوموں کے پرسنل لاز ہیں لیکن ان پر کبھی کسی نے نہ تو غور کیا اور نہ اعتراض۔ ملاحظہ کریں پرسنل لاز کی فہرست:

  1. کرناٹک، تمل ناڈو میں برہمن اپنی سگی بھانجی سے شادی کر سکتا ہے جبکہ دیگر اقوام میں اس شادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

  2. بینک میں کوئی بھی شخص کسی دھار دار ہتھیار یہاں تک کہ شیونگ بلیڈ भी نہیں لے جا سکتا لیکن سکھ قوم کو اس سے چھوٹ ملی ہوئی ہے اور وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ بینک میں جا سکتے ہیں۔

  3. ٹو وہیلر گاڑی پر مرد و عورت دونوں کے لیے حکومت ہند نے ہیلمیٹ پہننا لازم کر دیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بھرنا پڑتا ہے مگر سکھوں کے مذہبی اعتقاد کی وجہ سے انہیں اس قانون سے الگ رکھا گیا ہے اور وہ بغیر ہیلمیٹ کے گاڑی چلا سکتے ہیں۔

  4. کسی بھی عوامی مقام پر ننگا گھومنا پھرنا قانوناً جرم ہے لیکن جین دھرم کے عقیدے کا لحاظ کرتے ہوئے ناگا سادھوؤں کو عوامی مقامات پر ننگے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

  5. سومناتھ اور پشوپتی ناتھ مندر میں غیر ہندوؤں کا داخلہ منع ہے۔

  6. کیرل میں شراب بیچنے کا لائسنس صرف کرسچن کو مل سکتا ہے کسی ہندو کو نہیں۔

  7. آسام کے چار اضلاع میں صرف قبائلی ہی زمین خرید سکتے ہیں باقی کسی بھی ہندوستانی کو وہاں زمین خریدنے کی اجازت نہیں۔

  8. انڈین آرمی میں ایک سکھ تو داڑھی رکھ سکتا ہے لیکن ایک مسلمان کو آرمی میں داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں۔

  9. انڈین ایئر لائنز میں ایک سکھ پائلٹ تو پگڑی باندھ سکتا ہے لیکن بغیر سکھ کے اس کی اجازت نہیں۔

  10. ناگا قوم جس کا تعلق ناگالینڈ سے ہے، وہاں کے باشندے حکومت ہند سے مسلسل برسرِ پیکار تھے اور کسی طور پر حکومت کے ساتھ چلنے کے روادار نہ تھے۔ اخیر میں انہوں نے دستور میں اپنے پرسنل لا کو منظور کرایا پھر ملک کی مین اسٹریم میں داخل ہوئے۔ ناگا قوم سے جو معاہدہ حکومت ہند نے کیا، اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے: دستور میں ترمیم کرتے ہوئے آرٹیکل [371] کے تحت ناگا قوم کو یہ ضمانت دی گئی کہ: (1) ناگاؤں کے مذہبی و سماجی رسوم، (۲) ناگا قوم کے مروجہ قوانین اور ضوابط، (۳) ناگاؤں کے رواجی قانون کے مطابق سول اور فوجداری مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کے نظام کے متعلق پارلیمنٹ کے کسی قانون کا اطلاق ناگا ریاست پر نافذ نہیں ہو گا۔

  11. ناگا قوم کے بعد میزو قوم نے بھی آزاد میزو ریاست کے لیے حکومت ہند کے خلاف بغاوت کر دی اور مسلح ہو کر حکومت کے خلاف اتر آئے۔ حکومت نے پہلے تو ان کو طاقت کے ذریعے دبانا چاہا لیکن جب طاقت کا حربہ کامیاب نہ ہوا تو ان کو مذاکرات کی میز پر بلایا۔ چند شرائط کی بنیاد پر میزو قوم نے معاہدہ کیا اور اس کے بعد ہندوستانی شہریت قبول کی اور تبھی انہوں نے ہندوستان کا حصہ بننا قبول کیا۔ میزو قوم کے مطالبات کو مانتے ہوئے دستور میں ایک بار پھر ترمیم کی گئی اور دفعہ 371 کے تحت میزو قوم کے پرسنل لا کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

لا کمیشن کا سوال نامہ یا تعصب کا پٹارا؟

لا کمیشن نے تمام شہریوں کے لیے ایک سوال نامہ جاری کیا ہے جس میں یکساں سول کوڈ (Civil Code) کے بارے میں لوگوں کی رائے طلب کی ہے، اس سوال نامہ میں کل 16 سوالات کیے گئے ہیں جن میں گیارہ سوال تو ایسے ہیں جن کا جواب ہاں یا نا میں طلب کیا گیا ہے، یعنی آپ ہاں کہیں یا نا کہیں دونوں صورتوں میں حکومت کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان سوالات میں اکثر کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ یہاں لا کمیشن کی بددیانتی صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ سوال نامہ تمام شہریوں کے لیے ہے لیکن سوالات پوچھے جاتے ہیں صرف مسلم پرسنل لا کے متعلق۔ سوال نامہ میں بمشکل ایک دو سوال ہی ہندو اور عیسائی کمیونٹی سے پوچھے گئے ہیں۔ سوالات کو پڑھتے ہوئے پہلی ہی نظر میں لا کمیشن کا تعصب صاف نظر آتا ہے جیسا کہ ایک سوال میں پوچھا گیا ہے:

“مسلم سماج سے تین طلاق کا خاتمہ کر دیا جائے؟ اس میں مناسب ترمیم کی جائے؟ یا پرانے قوانین کو باقی رکھا جائے؟”

لا کمیشن کی نیت کا فتور پہلی ہی نظر میں دکھائی پڑتا ہے۔ حکومت کی شہ پر لا کمیشن نے یکساں سول کوڈ کا مدعا اٹھا کر ملک میں بسنے والی دوسری سب سے بڑی اکثریت اور پہلی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے پہلے بھی لا کمیشن ایسی حرکتیں کرتا رہا ہے جو سراسر مسلم دشمنی کو بیان کرتا ہے۔

لا کمیشن کی نیت کا فتور

لا کمیشن پہلے سے ہی اس تاک میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح سول کوڈ کو نافذ کر کے مسلمانوں کو پریشان کیا جائے اور ان کے مذہبی تشخص کو مٹا دیا جائے۔ اس سلسلے میں یہ واقعہ لا کمیشن کا تعصب ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ مارچ 1973ء میں بنگلور میں منعقدہ ایک پروگرام میں بولتے ہوئے لا کمیشن کے سابق چیئرمین مسٹر گجندر گڈ کر سابق جسٹس آف انڈیا نے کہا تھا:

“مسلمانوں کو یکساں سول کوڈ کو قبول کرنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کر لینا چاہیے، اگر انہوں نے خوش دلی کے ساتھ یہ تجویز منظور نہیں کی تو قوت کے ذریعے یہ قانون نافذ کیا جائے گا۔” [مسلم پرسنل لا کا مسئلہ نئے مرحلہ میں]

لا کمیشن کے سابق چیئرمین کا یہ بیان ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ لا کمیشن کا مقصد صرف سول کوڈ کے نفاذ کی راہیں ہموار کرنا اور مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر اس کے لیے راضی کرنا ہے۔ موجودہ سوال نامہ بھی اسی نظریے کی عکاسی کرتا ہے جس کا اظہار مسٹر گجندر گڈ کر نے کیا تھا۔

تحفظ شریعت کے لیے ہماری ذمہ داریاں

یہ بات ملک کا ہر خاص و عام جان چکا ہے کہ موجودہ حکومت جو بڑے بڑے بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔ صرف ڈھائی سال کی مدت میں ہی عوام کے سامنے ایکسپوز ہو چکی ہے اور سب لوگ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ اس حکومت کے پاس ترقی کے لیے کوئی واضح نظریہ نہیں۔ ملک کی ترقی کی رفتار دھیمی پڑتی جا رہی ہے، کسان بدحالی کا شکار ہیں، لاقانونیت بڑھتی جا رہی ہے، کاروباری اچھے دنوں کی تلاش میں پریشان ہیں، ایک عام آدمی کے لیے روزی روٹی کا حصول مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اپنی کمزوریوں کو چھپانے اور عوام الناس کا ذہن اصل مسائل سے بھٹکانے کے لیے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

کبھی لو جہاد، کبھی دادری، کبھی سرجیکل اسٹرائک، کبھی گورکشا، کبھی یوگا کے نام پر عوامی ذہنوں کو بھٹکانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے۔ اس کوشش کی تازہ کڑی میں یکساں سول کوڈ کا مدعا اٹھا کر مذہبی کشیدگی کو بڑھا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ اس موقع پر ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم اس معاملے کو اتنا ہلکا نہ سمجھیں کہ معاملہ یوں ہی ختم ہو جائے گا بلکہ حکومت کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ حکومت آسانی سے اس مسئلے میں چھوٹ دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی، ویسے بھی یکساں سول کوڈ کا نفاذ بی جے پی کے انتخابی منشور کا ایک حصہ ہے۔ ایسے میں بہت دانائی اور حکمت کے ساتھ تحفظِ شریعت کی مہم چلانی ہے۔

حکومتی مداخلت کے خلاف ہمارا رد عمل

جب سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے تب سے ملک کے اندر تمام مذہبی حلقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر طرف احتجاجی مظاہرے، دھرنے، جلسہ و جلوس کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اگر خودستائی کو بھی کسی سنجیدہ تحریک کے لیے جزوِ لاینفک تسلیم کر لیا جائے تو بہت کچھ ہو رہا ہے۔ بیانات داغے جا رہے ہیں، کانفرنسیں ہو رہی ہیں، وارننگ دی جا رہی ہے مگر حکومت پوری شانِ بے نیازی کے ساتھ اپنے راستے پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ کوئی بھی دانا بینا شخص جس کی نظر افقِ سیاست پر اٹھنے والے گرد و غبار اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا جانے والے طوفانوں پر ہے، یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر ہمارے اربابِ علم و دانش بہت جلد اپنی خوش فہمیوں کے خول سے باہر نہ نکلے تو ان کا دامن صرف داغدار نہیں ہوگا بلکہ وہ مع اپنے حواریوں کے تاریخ کا گمنام حصہ بن جائیں گے۔

ہمارے پاس نہ تو جماعتوں کی کمی ہے اور نہ ہی قائدین کی، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ قائدین کی کثرت ہی ہماری اچھی خاصی پریشانیوں کی وجہ ہے تو بے جا نہ ہوگا لیکن محض نام سے کچھ نہیں ہوتا۔ اگر ناموں سے ہی کچھ کام چلنے والا ہوتا تو اب تک ارشد مدنی ایوان کے در و دیوار اکھاڑ کر پھینک چکے ہوتے، منت اللہ رحمانی کے بیٹے ولی رحمانی صاحب بہت کچھ کر چکے ہوتے مگر یہاں عوام پر اثر انداز ہونے کے لیے جس درجے کے اعتبار کی ضرورت ہے، اس کا فقدان نام نہاد قائدین کے یہاں صاف نظر آتا ہے۔ ارشد مدنی مع رابع حسنی ندوی مع جلال الدین عمری اور ولی رحمانی ظاہری طور پر سیاسی و ملی امور میں بڑے نام مانے جاتے ہیں مگر خود ان کی جماعت کے افراد ان پر کتنا اعتبار کرتے ہیں، سب پر ظاہر ہے۔ قائدین کے اس کمزور اعتبار کی وجہ سے ان کی جماعتوں سے دس ہزار ایسے جاں نثار ڈھونڈ نکالنا مشکل ہے جو Sڑکوں پر اتر کر حکومتِ وقت کے دیرینہ خواب کو زمین دوز کرنے کی عزیمت کے حامل ہوں۔

ہاں! اسی سرزمین پر ایک ایسی شخصیت بھی ہے جسے اپنوں کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہندوستانی مسلمان مزاجاً سنی بریلوی زیادہ ہیں۔ نبیرہ اعلیٰ حضرت، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی ایک مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں، اصول پسند ہیں، سیاست سے دور رہتے ہیں، اعلیٰ حضرت کے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں، سنیوں کے مردِ خاموش ہیں، بہت کم بولتے ہیں مگر جب بولتے ہیں تو ایوانوں میں زلزلہ آ جاتا ہے۔ انہوں نے اس حساس مسئلے میں اپنا سکوت توڑتے ہوئے مردانہ وار حکومت کا نام لے کر اسے للکارا اور شریعت میں مداخلت سے باز رہنے کی تاکید کی۔ ضرورت ہے کہ بغیر کسی تعصب کے تحفظِ شریعت کے لیے ان کے دست و بازو کو مضبوط کیا جائے اور ان کے قدم سے قدم ملا کر مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔

حکومت نے جو یہ تاثر دے رکھا ہے کہ کچھ ناعاقبت اندیش مسلمانوں کی طرح پوری سنی جماعت بھی ان کی جیب میں ہے، تو حکومت کسی مغالطے میں نہ رہے۔ سنی حنفی صوفی مسلمان کسی سرکاری پلاننگ کے زرخرید نہیں بلکہ غلامانِ غریب نواز ہیں اور غریب نواز کی زندگی اس بات کا ببانگِ دہل اعلان کرتی ہے کہ ظلم و جبر کے آگے جھکا نہیں جاتا بلکہ اسے اپنی نعلین سے زمین دوز کیا جاتا ہے۔

آئیے قدم اٹھائیں، شانہ بہ شانہ ملائیں، اپنے قائد کے دست و بازو کو مضبوط کریں اور حکومت کو بتا دیں کہ جس دستور کو اب تک سو سے زیادہ بار بدلا جا چکا ہے، اس کے نفاذ کے لیے اس شریعت کو نہیں بدلا جا سکتا جو چودہ سو سال سے غیر متبدل ہے اور قیامت تک غیر متبدل رہے گی۔ اگر اس کو بدلنے کی کوشش کی گئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ بدلنے والے خود تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!