دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

روحِ اسلام (قسط: دوم)

روحِ اسلام (قسط: دوم)
عنوان: روحِ اسلام (قسط: دوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

امام جلیل محی الدین ابو زکریا نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی عاقل کے لیے اولیاء اللہ کے متعلق سوءِ ظن روا نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ ان کے اقوال و افعال کی تاویل کرے۔ شرح مہذب میں فرماتے ہیں کہ اگر ستر وجہوں تک ان کے کلام کی تاویل ممکن ہو اور ہم ایک بھی قبول نہ کریں تو یہ محض بے جا تشدد ہوگا۔ [الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر، ص: 9]

شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلام جنہیں سلطان العلماء کہا جاتا ہے، فرماتے ہیں کہ سارے لوگ تو شریعت کے رسوم پر ٹھہرے ہوئے ہیں مگر صوفیہ کرام شریعت کی ان بنیادوں پر قرار پذیر ہیں جو غیر متزلزل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ان کا مسلک وہ ہے جو تمام اخلاقِ مرسلین کا جامع ہے۔ [الیواقیت والجواہر، ج: 2، ص: 92] امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ بھی اپنے فرزند کو تاکید فرماتے تھے کہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرو، کیونکہ انہیں خدا کی خشیت اور شریعت کے وہ اسرار حاصل ہیں جو ہمیں حاصل نہیں، اور آپ اکثر مسائل میں شیخ ابو حمزہ بغدادی سے رجوع فرماتے تھے۔ [الیواقیت والجواہر، ص: 94]

شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ

منکرین سب سے زیادہ سید المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ کو نشانہ بناتے ہیں، مگر امت کے اکابر نے ان کی جلالتِ شان کا اعتراف کیا ہے۔ شام کے شیخ الاسلام حضرت سراج الدین مخزومی فرماتے ہیں کہ ان کے کسی کلام پر انکار سے بچو، کیونکہ اولیاء کے گوشت زہر آلود ہوتے ہیں۔ ان سے بغض رکھنے والے کے دین کی بربادی یقینی ہے۔ حضرت عبد اللہ قرشی فرماتے تھے کہ جو خدا کے ولی کی تحقیر کرتا ہے، مرنے سے پہلے اس کا عقیدہ فاسد ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

شیخ قطب الدین حموی سے جب ان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے علم و معارف میں انہیں ایسا تلاطم خیز سمندر پایا جس کا ساحل نہیں۔ یہاں تک کہ حافظ ابو عبد اللہ ذہبی، جو صوفیہ کے مخالفین میں سے تھے، انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ میں یہ گمان نہیں کر سکتا کہ محی الدین ابن عربی جیسا بزرگ کبھی جھوٹ بولے گا۔ شیخ صلاح الدین صفدی نے فرمایا کہ جو علومِ لدنیہ دیکھنا چاہے وہ ابن عربی کی کتابیں دیکھے۔

شیخ قطب الدین شیرازی فرماتے ہیں کہ ابن عربی شریعت و طریقت میں رتبہ کمال پر فائز تھے۔ ان پر وہی اعتراض کرے گا جو ان کا کلام سمجھنے سے قاصر ہو۔ جیسے کفار کے اعتراض سے انبیاء کی شان میں خلل نہیں آتا، ویسے ہی ناواقفوں کے اعتراض سے شیخ کی شان متاثر نہیں ہوتی۔ امام شمس الدین رازی نے بھی صراحت فرمائی کہ شیخ محی الدین عظیم ولی تھے۔

جاری ہے...

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!