| عنوان: | رہنمائے اصولِ تحریر: تبصرہ |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
فنِ تحریر کے آسمان پر جو چراغ صدیوں سے روشن ہوتے آئے ہیں، ان کی روشنی آج بھی اہل قلم کو راستہ دکھاتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب بھی اسی روشن روایت کی تازہ قندیل ہے، جو قلم کاروں کے لیے رہنمائی، تربیت اور فکری بالیدگی کا بے مثال خزانہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی مصنفہ ہماری مشفقہ رہنما معلمہ مفتیہ عالیہ فاطمہ انیسی صاحبہ ہیں۔ آپ نے کالم نگاری، سوانح نگاری، تذکرہ نویسی، کہانی نویسی، زبان و اندازِ بیان اور کامیاب تحریر کے بنیادی اصول و رموز کو نہایت احسن ترتیب اور شاندار تجربے کی روشنی میں بیان کیا ہے۔
76 صفحات پر مشتمل یہ مختصر مگر جامع رسالہ تحریری دنیا کے تمام بنیادی اور اعلیٰ اصولوں کا وہ حسین مجموعہ ہے جو ایک عام تحریر کو مؤثر، دل نشیں اور دلوں میں اتر جانے والی بنا دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ان باریک نکتوں اور قیمتی رازوں کا گراں قدر خزانہ بھی ہے جن تک رسائی کے لیے عموماً کئی کتابوں کے صفحات کھنگالنے پڑتے، مگر یہاں سب کچھ نہایت سلیقے، ترتیب اور یکجائی کے ساتھ ایک ہی جگہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ ہر موضوع کو اس مہارت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف معلومات حاصل کرتا ہے بلکہ لکھنے کا سلیقہ، ترتیب، جذبہ اور اعتماد بھی سیکھتا ہے۔
کتاب کی سب سے انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ زبان بے حد رواں، سادہ، دلچسپ اور بے تکلف ہے۔ نہ تشنگی چھوڑتی ہے اور نہ قاری کو تھکاتی ہے۔ ایک عام قاری بھی اسے پڑھ کر تحریر کے راز سمجھ سکتا ہے، نیز ایک نوآموز اور سنجیدہ قلم کار بھی اس سے اپنا اسلوب نکھار سکتا ہے۔ مصنفہ کا اندازِ بیان کسی مہربان استاد کی گفتگو جیسا ہے؛ سہل، دل پذیر، مشفقانہ اور براہِ راست دل پر اثر ڈالنے والا۔ آپ کے الفاظ میں رہنمائی کا نور اور تجربے کی دولت جھلک رہی ہے۔
اللہ رب العزت مصنفہ کی اس عظیم علمی خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے اور اسے صدقۂ جاریہ بنائے۔ یہ کتاب صرف معلومات نہیں دے گی بلکہ لکھنے کی محبت جگائے گی، قلم سے رشتہ مضبوط کرے گی اور سوچنے سمجھنے کا سلیقہ عطا کرے گی۔ دعا ہے آپ کی یہ کاوش لاکھوں طلبہ و قلم کاروں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا چراغ بن کر ہمیشہ روشن رہے۔ آمین یا رب العالمین۔
اگر آپ بھی تحریروں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس رسالے سے ضرور افادہ حاصل کریں۔ یہ آپ کے ذوقِ مطالعہ اور اندازِ تحریر دونوں میں نکھار پیدا کرے گا۔
