دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

عشاقانِ چائے

عشاقانِ چائے
عنوان: عشاقانِ چائے
تحریر: افضل رضا قادری عطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان مخدوم لاھوری، موڈاسا، گجرات

چائے کے عاشق دورِ حاضر میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور جو چائے کو چسکی لے لے کر پیتا ہے تو وہ چائے سے محبت ہی نہیں بلکہ عشق کرتا ہے۔ بازاروں میں جاؤ تو چوکڑیوں پر چائے کی دکانوں پر فقط وہ حضرات ہی نظر نہیں آتے ہیں جو ابھی ابھی شباب کی دہلیز پر قدم رکھے ہیں بلکہ جو ارذل العمر کو پہنچ چکے ہیں ان کی باقاعدہ پورے اہتمام کے ساتھ چائے کی مجلس سجتی ہے اور پھر وہ جو لطف و سرور کے ساتھ چائے کی چسکیاں لیتے ہیں کہ گویا چائے بھی زبانِ حال سے التجا کرنے لگتی ہے۔

ناظرینِ کرام! اب مزید اپنے قدم بڑھائیے کہیں اور نہیں بلکہ ہم اپنے جامعہ ہی کی طرف رخ کرتے ہیں۔ تو ہمارے درمیان بھی عشاقانِ چائے کی خوب ریل پیل ہے۔ ہر طالبِ علم کا ایک منفرد، علیحدہ اور ایک الگ ہی انداز ہے چائے سے محبت و عشق کرنے کا۔ اگر کسی دن چائے میں ذرا سی تاخیر ہو جائے تو وہ طلبہ دسترخوان سے تشریف نہیں اٹھاتے۔ چائے سے اتنی محبت اور لگاؤ کہ جب تک چائے کی چسکیوں سے اپنی زبان کو مستفیض نہ فرمائیں، تب تک سکون و اطمینان اور راحتِ قلب میسر نہیں ہوتا۔

اور ٹھنڈ میں تو چائے پینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے کہ سامنے آگ جل رہی ہو، ساتھ میں چند مخلص احباب ہوں اور ہاتھ میں چائے سے لبریز کپ ہو، پھر جو چسکیاں لینے میں مزہ آتا ہے وہ تو وہی شخص بتا سکتا ہے جس نے ان مجلسوں کا مشاہدہ کیا ہو اور خود اس کا رکن رہ چکا ہو۔ چائے پینے کے بعد جو ذہنی سکون ملتا ہے، اس کو لفظوں کا جامہ پہنایا جانا مشکل ہے۔ بسا اوقات لوگ اپنے ذہن و دماغ کو تروتازہ کرنے کے لیے چائے کا سہارا لیتے ہیں اور نیند کا غلبہ دور کرنے کے لیے تو یہ ایک بہترین نسخہ ہے۔

چائے کے شوقینوں کے لیے ان کے دل کی آواز اور زبان کی فرمائش کچھ یوں ہوتی ہے:

نہ کسی یار کی چاہت، نہ کوئی خاص وفا چاہیے
مجھے تو بس صبح و شام ایک کپ چائے چاہیے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!