کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عشرہ مبشرہ سے محبت

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عشرہ مبشرہ سے محبت
عنوان: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عشرہ مبشرہ سے محبت
تحریر: بنت محمد یونس

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کی بنیاد، دین کے اولین محافظ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے براہ راست تربیت یافتہ نفوس قدسیہ ہیں۔ صحابہ کرام میں سے دس حضرات ایسے ہیں جنہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی اور انہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ان حضرات سے محبت محض قلبی تعلق نہ تھی بلکہ دینی، عملی اور ایمانی تعلق تھی، جسے قرآن، حدیث اور ائمہ اہل سنت کی تصریحات نے محفوظ کر دیا۔

عشرہ مبشرہ کون ہیں؟

عشرہ مبشرہ کے نام یہ ہیں:

  1. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
  2. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
  3. حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
  4. حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
  5. حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ
  6. حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ
  7. حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ
  8. حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
  9. حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ
  10. حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ

قرآن مجید کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام:

اگرچہ قرآن پاک میں عشرہ مبشرہ کے نام الگ الگ مذکور نہیں، مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعلیٰ مقام پر قطعی آیات موجود ہیں:

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ

ترجمہ کنز الایمان: ”اور جو لوگ سبقت لے جانے والے مہاجرین اور انصار میں سے ہیں اور ان کے بعد نیک راست پر چلنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔“ [التوبۃ: 100]

ائمہ تفسیر (ابن کثیر، قرطبی) کے مطابق اس آیت کے اولین مصداق وہی جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں جو اسلام میں سبقت لے گئے اور ان میں عشرہ مبشرہ سرفہرست ہیں۔

حدیث مبارکہ میں عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کی بشارت:

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:

أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ...

ترجمہ: ”ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں اور علی جنت میں ہیں...“ [جامع الترمذی، ج: 5، الحدیث: 3747]

یہ حدیث عشرہ مبشرہ کی بنیاد ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان عظیم صحابہ کرام کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری عطا فرمائی اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خصوصی محبت کا واضح ثبوت ہے۔

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عشرہ مبشرہ سے محبت اور ان کے فضائل کی خصوصی اہمیت:

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:

”اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔“ [صحیح البخاری، الحدیث: 3654]

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ:

”اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری فرمایا۔“ [جامع الترمذی، الحدیث: 3682]

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل پر مستقل کتاب تصنیف فرمائی، جو اہل سنت کے نزدیک نہایت معتبر ہے۔

عشرہ مبشرہ کی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر صدیق جنت میں ہیں۔“ [فضائل الصحابہ، ج: 1، ص: 161]

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:

لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ

ترجمہ: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔“ [فضائل الصحابہ، ج: 1، ص: 174]

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:

أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

ترجمہ: ”کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“ [فضائل الصحابہ، ج: 6، الحدیث: 24257]

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عشرہ مبشرہ کے فضائل بیان کرنا سنت اور ان سے بغض کرنا بدعت و گمراہی کی علامت ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصاً عشرہ مبشرہ کے عقیدے کو اہل سنت کی بنیاد قرار دیا۔

عشرہ مبشرہ اور ایمان:

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”عشرہ مبشرہ کی محبت اہل سنت کے ایمان کا حصہ ہے اور ان کی تنقیص ہلاکت کا سبب ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 130]

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا معیار:

”جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنتی فرمایا، وہ یقیناً محبوبان رسول ہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 130]

اہل سنت کا متفقہ عقیدہ:

  1. تمام صحابہ عادل ہیں۔
  2. عشرہ مبشرہ افضل الصحابہ میں شامل ہیں۔
  3. ان سے محبت ایمان اور ان سے عداوت نفاق ہے۔

یہی عقیدہ قرآن، حدیث، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سب نے بیان فرمایا۔

نتیجہ:

عشرہ مبشرہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے محبوب، مقرب اور منتخب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ ان سے محبت دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت ہے۔ قرآن نے ان کی رضا کی گواہی دی، حدیث نے جنت کی بشارت دی، امام احمد بن حنبل نے فضائل الصحابہ میں عشرہ مبشرہ کے فضائل کو مستند سند کے ساتھ محفوظ کیا اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدہ اہل سنت واضح کیا۔ پس عشرہ مبشرہ سے محبت ایمان کی علامت اور نجات کا ذریعہ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!