کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

طالب علم

نہیں، بلکہ وہ علم ہے۔

طالب علم
عنوان: طالب علم
تحریر: یوسف رضا بن قاسم عطاری
پیش کش: ماڈل جامعۃ المدینہ، ناگ پور، دعوت اسلامی

طالب علم کس کو کہتے ہیں؟

اللہ عزوجل نے تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے۔ اور کس چیز سے دی ہے، کیا آپ کو اس کا علم ہے؟ کیا وہ مال ہے؟ کیا وہ عزت ہے؟ کیا وہ شہرت ہے؟

اللہ عزوجل قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں فرماتا ہے:

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا

ترجمہ: ”اور اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔“ [البقرۃ: 31]

علم کی فضیلت اور عظمت کسی پر مخفی نہیں کیونکہ علم ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے سے اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو تمام فرشتوں پر فضیلت دی اور انہیں سجدۂ تعظیمی کا حکم دیا۔

حدیثِ پاک میں بھی علم حاصل کرنے کے بارے میں آیا ہے:

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

ترجمہ: ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔“ [سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمۃ، باب فضل العلماء، الحدیث: 224، ج: 1، ص: 146]

ہم نے علم کے بارے میں یہ تو جان لیا کہ اس کے ذریعے انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی گئی اور یہ بھی جان لیا کہ علم سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر ضروری ہے۔ اب آئیے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ایک طالبِ علم کو جو علم حاصل کرنے کے لیے نکلا ہے، اسے کیسا ہونا چاہیے۔

حصولِ علم کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو تعلیم کہتے ہیں۔ ایک طالبِ علم جب دورانِ تعلیم کے زمانے کو شرائط و آداب کے مطابق گزارتا ہے تب اللہ عزوجل اس کو علم کی دولت سے نوازتا ہے۔ یاد رکھیں میرے ساتھیو! کہ ہم کو جو کالے حروف پڑھائے جا رہے ہیں وہ محض علم نہیں بلکہ علم تو نور ہے اور نور ایک روشنی ہے، تو یہ نور ہمیں ملے گا کیسے؟ یہ نور انہی کالے حروف میں پوشیدہ ہے اور اس نور کو تلاش کرنے کے لیے کچھ لوازمات بہت ضروری ہیں:

علم کے مقاصد کا ہونا:

یاد رکھیے! جب علمِ دین حاصل کرنے کے مقاصد درست نہیں ہوں گے تو علمِ دین کا نور ملنا مشکل ہے۔ کیا علمِ دین حاصل کرنے کا مقصد مال کمانا ہے؟ شہرت حاصل کرنا ہے؟ منصب حاصل کرنا ہے؟ جی نہیں، بلکہ علمِ دین حاصل کرنے کے مقاصد تو یہ ہیں:

  • اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنا۔
  • عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بڑھانا۔
  • خود گناہوں سے بچنا اور دوسروں کو بچانا۔
  • امتِ مسلمہ کی خیر خواہی کرنا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے مقاصد کو درست فرما دے اور ہمیں اپنی پسند کا علم نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ادب:

ادب کرنا ان کا جن سے علم حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ ان کی بے ادبی کفر تک لے جاتی ہے اور ان کا ادب کرنے سے انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ ادب یہ ہے کہ ان کی جگہ پر نہ بیٹھے، جب وہ کچھ بات کر رہے ہوں اس وقت خاموش رہے، جو سبق پڑھا دیں اسے یاد کرے۔

اب ایک عبرتناک قصہ بھی سن لیجیے کہ میں نے اپنے استاذِ محترم سے ایک واقعہ سنا۔ وہ فرما رہے تھے کہ ایک عالم تھا جس نے ایک بڑے مدرسے سے سندِ فراغت حاصل کی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ اپنے استاذ صاحب کی سب کے سامنے بے ادبی کی تھی۔ پھر وہ مصر تعلیم حاصل کرنے کے لیے گیا، وہاں تعلیم لیتے لیتے گمراہ ہو گیا اور اب وہ وہاں پر بتوں کے سامنے سر ٹیک رہا ہے (یعنی ان کی عبادت کرتا ہے)۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اساتذہ کی اور سب بزرگانِ دین کی بے ادبی سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے
سرزد نہ کبھی مجھ سے بھی بے ادبی ہو

اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ جہاں پڑھ رہے ہیں اس جگہ کا، اور جو پڑھ رہے ہیں (یعنی کتاب) اس کا بھی ادب ضروری ہے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ: ”با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔“

اچھے دوست کی صحبت:

اب ہم اس شخص کے بارے میں بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے انسان نیک بھی بن سکتا ہے اور بد بھی۔ میری مراد دوست ہے، کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ اگر دوست خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم والا ہوگا تو انسان کو عاشقِ رسول بنا دے گا۔ وہیں اگر دوست ایسا ہوگا کہ شریعت کی پابندی نہ کرتا ہو، اساتذہ اور بزرگوں کا ادب کرنے والا نہ ہو، تو پھر اس کا ساتھی بھی ایسا ہی بن جائے گا۔

صُحْبَتِ صَالِحْ تُرا صَالِحْ کُنَد
صُحْبَتِ طَالِحْ تُرا طَالِحْ کُنَد

میرے استاذِ محترم مفتی آصف صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ: ”(اپنے برے ساتھیوں کو چھوڑ کر) اپنی کتابوں کو اپنا دوست بناؤ۔“

کسی نے کہا ہے کہ دوست وہ ہے جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے۔ طالبِ علم کو ایسے طلبائے کرام کے ساتھ رہنا چاہیے جن کے ساتھ رہنے سے علم، ادب، تقویٰ اور پرہیزگاری میں ترقی ہو۔

وقت کی قدر:

اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کو چھوڑ دینے کی نشانی یہ ہے کہ اسے بے فائدہ چیزوں میں مشغول کر دے۔ طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ بے فائدہ چیزوں سے بچے اور اپنے وقت کی قدر کرے۔ وقت کی قدر کرنے سے کیا مراد ہے؟ وقت کی قدر یہ ہے کہ اس کو نیک کام میں استعمال کیا جائے۔

طالبِ علم کو چاہیے کہ اپنا وقت دوستوں کے ساتھ باہر گھومنے، باتیں کرنے اور بے فائدہ کام کرنے سے بچائے، اور اپنا وقت ہمیشہ پڑھنے، لکھنے اور نیک و اچھے کاموں میں مصروف رکھے۔ کیونکہ میرے استاذِ محترم مفتی آصف صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ”طالبِ علم کہتا ہے کہ میرا وقت گزر گیا! نہیں، بلکہ بیٹا آپ کی زندگی گزر گئی۔“

اور اس کے والدین نے اس کو اپنے سے دور اس لیے نہیں رکھا کہ ان کا لاڈلا بیٹا اپنا وقت فضولیات میں گزارے، بلکہ اس لیے مدرسے میں بھیجا ہے کہ علمِ دین حاصل کر کے دین کی خدمت کرے، اور ان کے لیے اور سب احباب کے لیے نجات کا ذریعہ بنے۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور سب طلبائے کرام کو اپنا وقت علمِ دین حاصل کرنے اور نیک کاموں میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!