Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قرآنیات (سلسلہ: 03)

مضمون: قرآن مجید میں مذکور پرندے (کوا)
عنوان: قرآن مجید میں مذکور پرندے (کوا)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: مظفر حسین شیرانی

قرآن مجید میں مذکور پرندے (کوا / Crow)

قرآن مجید میں کوے کا ذکر حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل اور ہابیل کے واقعے کے ضمن میں آیا ہے۔ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا اور چوں کہ یہ دنیا میں کسی انسان کی پہلی موت تھی، اس لیے اسے سجھائی نہ دیا کہ اس لاش کے ساتھ کیا سلوک کرے اور ایک مدت تک اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتا رہا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا، جس نے اسے اپنے مردہ بھائی کو دفن کرنے کا طریقہ سکھایا۔ ہوا یوں کہ دو کوے آپس میں لڑے، ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر زندہ کوے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر گڑھا کھودا اور اس میں مرے ہوئے کوے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل کو سجھائی دیا کہ مردے کی لاش کو دفن کرنا چاہیے، چناں چہ اس نے زمین کھود کر دفن کر دیا اور اپنی اس جہالت پر افسوس کرتا رہ گیا، ارشاد ہے:

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِؕ-قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْۚ-فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ۔

تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیوں کر اپنے بھائی کی لاش چھپائے۔ بولا: ہائے افسوس! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچھتاتا رہ گیا۔ [المائدۃ: 31]

قرآن کریم میں مذکور یہ پرندہ اپنے امتیازات کے لیے ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  1. اب تک دنیا میں کوے کی 40/ نسلیں متعارف ہو چکی ہیں لیکن بھارت میں ان میں سے 6/ نسلیں پائی جاتی ہیں اور ان 6/ میں بھی 2/ زیادہ مشہور ہیں: ایک وہ گھریلو کوا جو عام طور پر آبادیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ درمیانے قد یعنی تقریباً ڈیڑھ بالشت کا ہوا کرتا ہے اور دوسرا ڈوم کوا جس کی سائز ہاتھ بھر ہوتی ہے اور یہ کوے بہت جھگڑالو ہوتے ہیں، جو اپنے ہم جنس کووں پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔
  2. کوا اصلاً ایشیائی پرندہ ہے جو بھارت کے علاوہ پاکستان، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، جنوب مشرقی تھائی لینڈ، جنوبی ایران اور بنگلہ دیش وغیرہ میں پایا جاتا ہے لیکن اب یہ ایشیا کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
  3. اس کی عمومی رنگت سیاہ ہوتی ہے تاہم الگ الگ علاقوں اور نسلوں کے مطابق اس کی الگ الگ رنگتیں اور جسامتیں بھی متعارف ہیں۔ سیاہ رنگت سے مراد سر، چونچ، پر، دم اور ٹانگوں کا سیاہ ہونا ہے ورنہ اس کی گردن اور سینہ ہلکے سرمئی رنگ کے ہوتے ہیں۔
  4. کوے کی چونچ نہایت تیز اور طاقت ور ہوتی ہے۔ وہ جس سے دشمنی پال لیتا ہے، اپنی چونچ سے اس کے سر کو زخمی کر سکتا ہے۔
  5. جب تک انڈے دینے کا وقت نہ ہو، کوا اپنا گھونسلہ نہیں بناتا۔ جب بناتا ہے تو اونچے درختوں پر بناتا ہے اور گھونسلہ بناتے وقت اپنی حفاظت، انسانی آبادیوں سے قربت اور خوراک سے نزدیکی کو ترجیح دیتا ہے۔ گھونسلہ بنانے میں نر و مادہ برابر حصہ لیتے ہیں۔
  6. ایک کوا بیک وقت 3 - 6 انڈے دیتا ہے اور اپنے بچوں اور انڈوں کی حفاظت کے لیے بہت چوکنا رہتا ہے۔ اگر کہیں چیل یا بلی نظر آ جائے تو کوے پورے جھنڈ کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں سے بہت محتاط رہتے ہیں۔ اگر کوئی انسان ان کے گھونسلے سے انڈے نکالنے کی کوشش کرے تو یہ اس کے سر پر چونچیں مار مار کر خون نکال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کوا زندگی میں ایک بار انڈے دیتا ہے اور کوئل پرندہ بھی اپنے انڈے اسی کے گھونسلے میں رکھ جاتا ہے لیکن جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو کوے کوئل اور اس کے بچوں کو بھگا دیتے ہیں۔
  7. کوے اپنی کائیں کائیں کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن ان کی یہ ہائے توبہ کی آوازیں دراصل خطرے کی گھنٹیاں ہوتی ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ کوے کی دریافت نسلیں 250 طرح سے کائیں کائیں کر سکتی ہیں۔ دوہرا کمال یہ ہے کہ کوے کو جس قسم کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، وہ اس خطرے سے نپٹنے یا اپنے ہم جنسوں کو اطلاع پہنچانے کے لیے اسی خاص قسم کی آواز نکالتا ہے جیسے انسانوں کے خطرات سے بچنے کے لیے الگ قسم کی کائیں کائیں ہوتی ہے اور بلی، باز، چیل یا دوسرے خطرات سے نپٹنے کے لیے الگ قسم کی۔
  8. کوے کی آنکھیں بہت تیز ہوتی ہیں اور اس کے پر بھی مضبوط اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، جو اسے خوراک اور دشمنوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
  9. کوا چالاک ہونے کے ساتھ بہت ذہین بھی واقع ہوا ہے بلکہ اسے دنیا کے ذہین ترین پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے ماحول کو سمجھنے، مسائل کو حل کرنے اور مختلف اوزاروں کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بات کی تصدیق جدید سائنس بھی کرتی ہے بلکہ بعض تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کوا اوزار کا استعمال کرتا ہے اور مختلف ماحول میں اپنی تدبیریں بھی تبدیل کرتا ہے۔ چناں چہ جاپان میں مونگ پھلی کے دانوں کو توڑنے کے لیے کوے سڑک کے کنارے کھڑی کاریں، اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے لکڑیاں اور مچھلیاں پکڑنے کے لیے چارہ استعمال کرتے ہوئے پائے گئے اور مانا جاتا ہے کہ کوے وینڈنگ مشین میں سکے ڈال کر اشیائے خوردنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
  10. اگر کووں کو تربیت دی جائے تو وہ 1-7 کی گنتی گن سکتے ہیں۔ طوطے کے مقابلے بہتر باتیں کر سکتے ہیں۔ جانوروں، پرندوں، کاروں اور باتھ روم کے فلش کی آوازیں نکال سکتے ہیں۔
  11. کوا طبعاً قناعت پسند پرندہ ہے۔ مختلف کیڑے اور پھلوں کی باقیات جو بھی مل جائے کھا لیتا ہے، صرف گوشت یا صرف ہری غذا کا اہتمام نہیں کرتا البتہ گوشت بے حد شوق سے کھاتا ہے۔ اگر کوا بھوکا ہو تو اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے ڈھکے ہوئے برتنوں کے ڈھکن پرے کر کے، یا بچوں کے ہاتھوں سے چھین کر بھی کھا لیتا ہے۔
  12. کوا پھلوں کے ساتھ ان کے بیج بھی کھاتا ہے اور نہ صرف کھاتا ہے بلکہ ان کو مختلف مقامات تک لے بھی جاتا ہے، جس سے پودوں کی افزائش میں مدد ملتی ہے۔
  13. کوا اپنے ساتھیوں اور دشمنوں کو پہچاننے اور اپنے خطرات کا تدارک کرنے میں بہت اچھا حافظہ رکھتا ہے۔ وہ انسانی چہروں کو یاد رکھتا ہے اور دشمن ہو جائے تو تقریباً 17/ سال تک دشمنی نبھاتا ہے۔
  14. کوے کی عمر 14 - 30 سال تک ہوتی ہے۔
  15. اگر کسی جگہ کوئی کوا مرا ہوا پایا جاتا ہے تو دوسرے کوے وہاں منڈلا کر ممکنہ خطرات کی جانچ پڑتال اور تحقیق کرتے ہیں۔
  16. کوے اور الو میں بلا کی دشمنی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر دونوں کا آمنا سامنا ہو جائے تو ایک دوسرے پر حملہ کیے بغیر نہیں رہتے۔
  17. کوا صرف اپنے بچوں کی نہیں بلکہ کسی بھی کوے کے بچوں کی حفاظت کرنا، اپنا فریضہ سمجھتا ہے۔
  18. دوسرے بہت سے پرندوں کی طرح کوا طبعاً مہاجر پرندہ نہیں بلکہ پوری عمر اپنی پیدائش گاہ کے آس پاس رہنا پسند کرتا ہے لیکن امریکی کوے سردیوں کے موسم میں گرم جگہوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔
  19. کوے کی ناک بالکل بیچ میں نہیں ہوتی بلکہ درمیان سے قدرے ہٹ کر ہوتی ہے۔
  20. کوا عام طور پر اپنی مادہ کے ساتھ وفا داری نبھاتا ہے اور اپنی خاص مادہ کے علاوہ کسی سے جنسی تعلق نہیں بناتا لیکن کچھ تحقیقات میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ یہ وفا داری صرف مادہ کوے میں پائی جاتی ہے نر کوا کبھی کبھی غیر سے تعلق قائم کر لیتا ہے۔
  21. ضرورت بھر خوراک حاصل کرنے کے بعد کوے ما بقیہ خوراک کو چھپا دیتے ہیں اور کبھی ایک ہی خوراک کو دو تین بار الگ الگ جگہوں پر چھپاتے ہیں۔
  22. جاپان میں کچھ کووں کو گھونسلہ بنانے کے لیے دھاتیں چراتے ہوئے بھی پایا گیا۔
  23. بعض لوگ کوے کے طرز عمل کو قدرتی آفت آنے کا اشارہ سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوا غیر معمولی آوازیں نکال رہا ہو تو اسے کسی قریب آنے والے طوفان یا آفت کے نشان کے طور پر لیا جاتا ہے۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!