Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قرآن کا بیان

قرآن کا بیان
عنوان: قرآن کا بیان
تحریر: صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی
پیش کش: شاہین صبا نوری

قران کا بیان

اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ [البقرۃ: 196]

اور اللہ (عزوجل) کے لیے حج و عمرہ کو پورا کرو۔

  1. حدیث: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ ضحی بن معبد تغلبی سے راوی، کہتے ہیں میں نے حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: تو نے اپنے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی کی۔ [2]
  2. حدیث: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سنا، حج و عمرہ دونوں کو لبیک میں ذکر فرماتے ہیں۔ [3]
  3. حدیث: امام احمد نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حج و عمرہ کو جمع فرمایا۔ [4]
  1. مسئلہ: قران کے یہ معنی ہیں کہ حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یا پہلے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور ابھی طواف کے چار پھیرے نہ کیے تھے کہ حج کو شامل کر لیا یا پہلے حج کا احرام باندھا تھا اس کے ساتھ عمرہ بھی شامل کر لیا، خواہ طوافِ قدوم سے پہلے عمرہ شامل کیا یا بعد میں۔ طوافِ قدوم سے پہلے اساءت ہے کہ خلافِ سنت ہے مگر دم واجب نہیں اور طوافِ قدوم کے بعد شامل کیا تو واجب ہے کہ عمرہ توڑ دے اور دم دے اور عمرہ کی قضا کرے اور عمرہ نہ توڑا جب بھی دم دینا واجب ہے۔ [5، درمختار، رد المحتار]
  2. مسئلہ: قران کے لیے شرط یہ ہے کہ عمرہ کے طواف کا اکثر حصہ وقوفِ عرفہ سے پہلے ہو، لہٰذا جس نے طواف کے چار پھیروں سے پہلے وقوف کیا اس کا قران باطل ہو گیا۔ [6، فتح القدیر]
  3. مسئلہ: سب سے افضل قران ہے پھر تمتع پھر افراد۔ قران کے احرام کا طریقہ احرام کے بیان میں مذکور ہوا۔ [رد المحتار وغیرہ]
  4. مسئلہ: قران کا احرام میقات سے پہلے بھی ہو سکتا ہے اور شوال سے پہلے بھی مگر اس کے افعال حج کے مہینوں میں کیے جائیں، شوال سے پہلے افعال نہیں کر سکتے۔ [درمختار]
  5. مسئلہ: قران میں واجب ہے کہ پہلے سات پھیرے طواف کرے اور ان میں پہلے تین پھیروں میں رمل سنت ہے پھر سعی کرے، اب قران کا ایک جزو یعنی عمرہ پورا ہو گیا مگر ابھی حلق نہیں کر سکتا اور کیا بھی تو احرام سے باہر نہ ہو گا اور اس کے جرمانہ میں دم لازم ہے۔ عمرہ پورا کرنے کے بعد طوافِ قدوم کرے اور چاہے تو ابھی سعی بھی کر لے، ورنہ طوافِ افاضہ کے بعد سعی کرے۔ اگر ابھی سعی کرے تو طوافِ قدوم کے تین پہلے پھیروں میں بھی رمل کرے اور دونوں طوافوں میں اضطباع بھی کرے۔ [درمختار وغیرہ]
  6. مسئلہ: ایک ساتھ دو طواف کیے پھر دو سعی جب بھی جائز ہے مگر خلافِ سنت ہے اور دم لازم نہیں، خواہ پہلا طواف عمرہ کی نیت سے اور دوسرا قدوم کی نیت سے ہو یا دونوں میں سے کسی میں تعیین نہ کی یا اس کے سوا کسی اور طرح کی نیت کی۔ بہر حال پہلا عمرہ کا ہو گا اور دوسرا طوافِ قدوم۔ [درمختار، منسک]
  7. مسئلہ: پہلے طواف میں اگر طواف حج کی نیت کی، جب بھی عمرہ ہی کا طواف ہے۔ عمرہ سے فارغ ہو کر بدستور محرم رہے اور تمام افعال بجا لائے، دسویں کو حلق کے بعد پھر طوافِ افاضہ کے بعد جیسے حج کرنے والے کے لیے چیزیں حلال ہوتی ہیں اس کے لیے بھی حلال ہوں گی۔ [جوہرہ]
  8. مسئلہ: قارن پر دسویں کی رمی کے بعد قربانی واجب ہے اور یہ قربانی کسی جرمانہ میں نہیں بلکہ اس کا شکریہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اسے دو عبادتوں کی توفیق بخشی۔ قارن کے لیے افضل یہ ہے کہ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے۔ [عالمگیری، وغیرہ]
  9. مسئلہ: اس قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ حرم میں ہو، بیرونِ حرم نہیں ہو سکتی اور سنت یہ ہے کہ منیٰ میں ہو اور اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی فجر طلوع ہونے سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے مگر یہ ضرور ہے کہ رمی کے بعد ہو، رمی سے پہلے کرے گا تو دم لازم آئے گا اور اگر بارہویں تک نہ کی تو ساقط نہ ہو گی بلکہ جب تک زندہ ہے قربانی اس کے ذمہ ہے۔ [منسک]
  10. مسئلہ: اگر قربانی پر قادر تھا اور ابھی قربانی نہ کی تھی کہ انتقال ہو گیا تو اس کی وصیت کر جانا واجب ہے اور اگر وصیت نہ کی مگر وارثوں نے خود کر دی جب بھی صحیح ہے۔ [منسک]
  11. مسئلہ: قارن کو اگر قربانی میسر نہ آئے کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہیں، نہ اتنا اسباب کہ اسے بیچ کر جانور خریدے تو دس روزے رکھے۔ ان میں تین تو وہیں یعنی یکم شوال سے ذی الحجہ کی نویں تک احرام باندھنے کے بعد رکھے، خواہ سات، آٹھ، نو کو رکھے یا اس کے پہلے اور بہتر یہ ہے کہ نویں سے پہلے ختم کر دے اور یہ بھی اختیار ہے کہ متفرق طور پر رکھے، تینوں کا پے در پے رکھنا ضرور نہیں اور سات روزے حج کا زمانہ گزرنے کے بعد یعنی تیرہویں کے بعد رکھیں، تیرہویں کو یا اس کے پہلے نہیں ہو سکتے۔ ان سات روزوں میں اختیار ہے کہ وہیں رکھے یا مکان واپس آ کر اور بہتر مکان پر واپس ہو کر رکھنا ہے اور ان دسوں روزوں میں رات سے نیت ضرور ہے۔ [عالمگیری، درمختار، رد المحتار]
  12. مسئلہ: اگر پہلے کے تین روزے نویں تک نہیں رکھے تو اب روزے کافی نہیں بلکہ دم واجب ہو گا، دم دے کر احرام سے باہر ہو جائے اور اگر دم دینے پر قادر نہیں تو سر منڈا کر یا بال کتروا کر احرام سے جدا ہو جائے اور دو دم واجب ہیں۔ [درمختار]
  13. مسئلہ: قادر نہ ہونے کی وجہ سے روزے رکھ لیے پھر حلق سے پہلے دسویں کو جانور مل گیا، تو اب وہ روزے کافی نہیں لہٰذا قربانی کرے اور حلق کے بعد جانور پر قدرت ہوئی تو وہ روزے کافی ہیں، خواہ قربانی کے دنوں میں قدرت پائی گئی یا بعد میں۔ یوں ہی اگر قربانی کے دنوں میں سر نہ منڈوایا تو اگرچہ حلق سے پہلے جانور پر قادر ہو وہ روزے کافی ہیں۔ [1، درمختار، رد المحتار]
  14. مسئلہ: قارن نے طوافِ عمرہ کے تین پھیرے کرنے کے بعد وقوفِ عرفہ کیا تو وہ طواف جاتا رہا اور چار پھیرے کے بعد وقوف کیا تو باطل نہ ہوا اگرچہ طوافِ قدوم یا نفل کی نیت سے کیے، لہٰذا یوم النحر میں طوافِ زیارت سے پہلے اس کی تکمیل کرے اور پہلی صورت میں چونکہ اس نے عمرہ توڑ ڈالا، لہٰذا ایک دم واجب ہوا اور وہ قربانی کہ شکر کے لیے واجب تھی ساقط ہو گئی اور اب قارن نہ رہا اور ایامِ تشریق کے بعد اس عمرہ کی قضا دے۔ [2، درمختار]

حوالہ: [بہار شریعت، ج: 6، ص: 1154 تا 1157]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!