Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دنیا کی حقیقت اور قرآنی مثالیں

دنیا کی حقیقت اور قرآنی مثالیں
عنوان: دنیا کی حقیقت اور قرآنی مثالیں
تحریر: محمد توصیف رضا عطاری
پیش کش: لباب اکیڈمی

اس میں کوئی انکار کی گنجائش نہیں کہ دنیا حقیقتِ فانی ہے اور اس میں پائی جانے والی ہر شے زوال کی زد میں ہے۔ انسان بچپن سے بڑھاپے تک، خوشی سے غمی تک، امید سے مایوسی تک، ناکامی سے کامیابی تک، امیری سے فقیری تک، نیک سے بدبخت تک، مختلف مراحل سے گزرتا ہے لیکن وہ اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ یہ دنیا محض ایک عارضی مقام ہے اصل منزل نہیں۔ اس دنیا کی چمک دمک، مال و دولت، عزت و شہرت، سب دھوکے کی اشیاء ہیں جو انسان کو اپنے اصل اور حقیقی مقصد سے بھٹکا دیتی ہیں۔ ہمارے بزرگانِ دین اور صوفیائے کرام نے ہمیشہ اس دنیا کو فریب اور امتحان سے تعبیر کیا ہے۔ اس مضمون میں ہم دنیا کی حقیقت آیاتِ قرآنیہ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے ساتھ یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ انسان کو دنیا میں کس انداز میں گزر بسر کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں کئی ایسی آیات ہیں جو دنیا کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ یہاں پر چند اہم قرآنی مثالیں دی جا رہی ہیں جو دنیا کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

  1. دنیا کی عارضیت اور فریب: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ... ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۔ اس آیت میں انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی وقتی اور دھوکہ دہ ہے۔ لوگ اس میں زیب و زینت اور مال و اولاد کی زیادتی میں مشغول ہو جاتے ہیں، لیکن یہ سب اشیاء فنا ہو جانے والی ہیں، اصل کامیابی آخرت کی تیاری میں ہے۔ [الحدید: 20]
  2. دنیاوی زندگی کی مثال اور اس کا انجام: اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ ترجمہ: دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہو گئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آ گئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کر دیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں۔ دنیا کی ظاہری خوبصورتی وقتی ہے۔ جیسے سبز کھیت بارش کے بعد لہلہاتے ہیں اور پھر سوکھ کر مٹی ہو جاتے ہیں، ویسے ہی دنیا کی چمک دمک فنا ہو جانے والی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ وقتی فائدوں کے بجائے ابدی زندگی (آخرت) کی فکر کرے۔ [یونس: 24]
  3. موت کی حقیقت، دنیا کی عارضی زندگی، اور آخرت کی کامیابی: كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ترجمہ: ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔ اس آیت میں دنیا کی حقیقت کو بہت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ موت حتمی ہے اور اصل کامیابی آخرت میں جنت کا داخلہ ہے۔ دنیا کی زندگی فریب ہے، اس پر مغرور نہ ہوا جائے۔ [آل عمران: 185]
  4. دنیا اور آخرت کی زندگی کا موازنہ: فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ ترجمہ: جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا۔ یہاں تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا کا عارضی فائدہ ہمیں آخرت کی ابدی نعمتوں سے غافل نہ کرے۔ دنیا کی لذتیں محدود اور فانی ہیں، جب کہ آخرت دائمی اور بہتر ہے۔ [التوبہ: 38]
  5. زندگی اور موت کا مقصد، دنیا میں انسان کی آزمائش: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ ترجمہ: وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد محض عیش کرنا نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے، جہاں ہر عمل کا بدلہ ملے گا۔ اس لیے زندگی کو ذمہ داری کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ [الملک: 2]

ان تمام قرآنی آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی اور فانی ہے، اور یہی دنیا کی اصل حقیقت ہے۔ دنیا کی رنگینیاں اور لذتیں صرف ایک وقتی دھوکہ ہیں۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے، اور وہی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جو لوگ دنیا میں آخرت کو یاد رکھتے ہیں اور اس کی تیاری کرتے ہیں، وہی دراصل عقل مند اور کامیاب ہیں۔ قرآن ہمیں دنیا سے بے پرواہ ہونے کا نہیں، بلکہ اچھے انداز میں آخرت کی تیاری کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!