| عنوان: | جب حرم نبوی لرز اٹھا |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | عالمہ صغریٰ انجم حنفی |
حرم کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والے
مسجد نبوی شریف کے قریب ناکام خود کش حملے کا نشانہ یا تو گنبد خضریٰ تھا یا مہمانانِ رسول
کعبۂ عاشقان، قبلۂ دردمندان مدینہ منورہ گزشتہ چودہ سو سینتالیس سال سے پوری دنیا کی توجہات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جہاں دس سال تک وحی الہی کا نزول ہوتا رہا، جہاں سے اقوام عالم کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جس بارگاہ کے آداب کا ربانی اہتمام یہ کہ ستر ہزار صبح اور ستر ہزار شام ملائکہ کی جماعت بارگاہ اقدس میں سلامی کو حاضری دیتی ہے۔ جہاں جنت کی کیاریاں رشک فردوس بریں ہیں۔ جہاں فردوس رحمت ہمہ دم اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ جہاں قرآن بلند آواز سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہاں گزشتہ 3 جولائی کو جو خود کش دھماکہ ہوا وہ تاریخ اسلام کا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ یوں تو مشرق وسطی میں بم دھماکے کچھ نئی بات نہیں رہ گئے۔ پاکستان، افغانستان، شام، فلسطین، عراق، وغیرہ میں بم دھماکے روز مرہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ لیکن جو کچھ حرم نبوی کے قریب ہوا وہ پوری مسلم امہ کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔
ہم اسلامی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو لگتا تھا کہ شہادت عثمانی جیسا واقعہ جو اسلام کا پہلا فتنہ ہے اب Repeat نہیں ہوگا۔ یہ مصری بلوائیوں کا وہ فتنہ تھا جس نے 35 ہجری میں مرکز اسلام میں سیندھ لگائی۔ اس کے بعد سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہوئے تو مدینہ منورہ سے ہجرت کر کے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تا کہ اب اس قسم کے واقعات سے حرم نبوی کی حرمتیں پامال نہ ہوں۔ لیکن ابھی 64 ہجری کا واقعہ حرہ باقی تھا جب سانحہ کربلا کے رد عمل میں مدینے والوں نے یزید کی بیعت توڑ دی تو اقتدار کے نشے میں چور یزیدیت ایک طوفان بلا خیز بن کر مدینے کے افق پر نمودار ہوئی اور ارضِ طیبہ کی پاکیزہ فضاؤں کو قتل و خونریزی اور شر و فساد سے مسموم کر چھوڑا۔ مسلم بن عقبہ کی قیادت میں یزیدی فوج نے سینکڑوں صحابہ کرام اور تابعین عظام شہید کر دیے۔ لیکن اس کے بعد یزید کا جو حشر ہوا وہ آنے والی اشرافیہ کے لیے درس عبرت بن گیا، پھر اس کے کسی وارث نے مدینے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ اس یزیدی فتنے کو فرو ہوئے قریب چودہ سو سال ہونے کو آئے ہمیں نہیں معلوم اس طویل عرصے میں کبھی کوئی ایسا سانحہ مدینہ منورہ میں ہوا۔ ہاں ایسا چند بار ہوا کہ مسجد نبوی شریف میں حادثاتی طور پر آگ لگ گئی جس سے عمارت کو نقصان ہوا۔ ایک طویل عرصے تک حرم نبوی ترک سلطنت کے زیر انتظام رہا۔ پھر ایک طوفان نجد کے افق سے اٹھا جب آل سعود کے جیالوں نے حرمین شریفین پر چڑھائی کی اور تلوار کے زور پر دونوں مقدس شہر پر اپنا قبضہ کر لیا۔ اس وقت بھی ترک قوم نے احترام و عقیدت کی قدروں کو پامال نہ ہونے دیا اور اس شہر کو خوں ریزی سے بچانے کے لیے خود ہی ہتھیار ڈال دیے۔ ہر عہد اور ہر خطے میں علمائے کرام نے قوم کو بارگاہ رسالت کے آداب کا وہ سبق از بر کرایا ہے کہ کسی گستاخ طبیعت کو بھی جرات نہیں ہوتی کہ اس بارگاہ میں پہنچ کر کوئی نازیبا حرکت کرے۔ لیکن اب عالمی منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے۔
عرب اسرائیل اختلافات کے تناظر میں اور مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی کی کوکھ سے دہشت گردی کا جو بچہ پیدا ہوا اس نے جوان ہو کر اور بچے پیدا کیے۔ اب یہ بچے بھی جوان ہو چکے ہیں اور دنیا کا امن غارت کرنے میں جٹ گئے ہیں۔ اور جن لوگوں نے نظریہ ضرورت کے تحت ان بچوں کی پیٹھ تھپتھپائی تھی آج یہ بچے ان کا ماتھا ٹھنکا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سانپ کے انڈے سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں سانپ حفظ ما تقدم کے تحت انھیں خود ہی اپنا لقمہ بنالیتا ہے۔ عالمی قوتوں کو اس سے سروکار نہیں ہوتا کہ جس سانپ کو وہ دوسروں کو ڈسنے کے لیے دودھ پلاتے ہیں، کہیں اژدہا بن کر خود ان کے لیے آفت جان نہ بن جائے۔ لیکن ایسا ہی ہوا۔ دہشت گردی نے مشرق وسطی میں جنم لیا، پورے ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور اب ایسے ممالک بھی اس کے نشانے سے باہر نہیں جنھیں ناز ہے کہ انھوں نے ہوم لینڈ سیکیورٹی یا بارڈر سیکیورٹی سسٹم کے نام سے غیر مرئی سد سکندری بنائی ہے۔ اب دہشت گردی سے نہ یورپ محفوظ ہے نہ امریکہ نہ آسٹریلیا نہ کوئی اور خطہ۔ ہمارے علما نے تو دہشت گردوں کے بارے میں پہلے اعلان کر دیا تھا کہ ان کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ اس وجہ سے ان کے لیے اپنے دل میں کہیں نہ کہیں نرم گوشہ رکھتے تھے کہ چلو آخر اسلام کے نام لیوا ہیں اب جب کہ دہشت گردی کا یہ عفریت مقدس مقامات پر دستک دے رہا ہے ان کی تاویلات کا پٹارہ بھی اب خالی خالی نظر آتا ہے۔
ان انسانی بموں کی اپنی دنیا ہے، اپنا نظام ہے، اپنا مذہب ہے، ان کی اپنی جنت ہے جس کا سفر ان کے لیے بہت آسان ہے، بس ایک بٹن دبایا اور اپنی جنت میں پہنچ گئے۔ انھیں کسی کی ناموس کا خیال ہے نہ کسی مقام کے تقدس کا کوئی پاس ولحاظ۔
بم دھماکے خواہ کسی عبادت گاہ میں ہوں یا بازار میں، پیرس میں ہوں یا لندن میں، بنگلہ دیش کے کیفے میں ہوں یا جدہ کے ساحل پر، سب کے سب انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ لیکن 3 جولائی کو حرم نبوی کے قریب جو خود کش دھماکہ ہوا وہ عاشقان رسول کے لیے ایک کھلا ہوا چیلنج ہے۔ کبھی یہ وہم و گمان میں بھی نہ آیا تھا کہ کوئی کلمہ گو حرمین طیبین میں بم دھماکہ کر سکتا ہے۔
تادم تحریر ایسی کوئی خبر نہیں کہ کسی دہشت گرد تنظیم نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہو۔ ایک اندازے کے مطابق داعش نے سعودی سیکیورٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، تا کہ اپنے خلاف سعودی حکومت کے رد عمل کو روک سکے۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ اس کے لیے اسے حرم نبوی تک جانے کی کیا ضرورت ہے۔ سعودی سیکیورٹی فورسز سعودیہ عربیہ میں ہر طرف بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی عجیب بات ہے کہ داعش نے اپنا نام ”دولت اسلامیہ“ رکھا ہے، اور اس کا ہاتھ محض مسلمانوں کے خون سے رنگین ہے۔ صرف اس ماہِ رمضان میں اس نے قریب پانچ سو مسلمانوں کو شہید کیا ہے۔ انھوں نے قتل کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کیے۔ شام اور عراق میں کتنے بزرگوں کے مزارات کو مسمار کیا ہے صحیح تعداد کسی کو معلوم نہیں۔ ان کے نامہ اعمال میں مسلمانوں کا قتل، تاریخی مقامات و آثار کو مٹانا، مسجدوں اور درگاہوں پر حملہ کرنا، مشاہد اور مزارات کو اکھاڑ پھینکنے جیسے کارنامے ہیں۔ ان سے کیا بعید ہے؟ ویسے بھی گنبد خضری پر کٹر وہابیت کی ایک عرصے سے نظر ہے۔ لیکن اپنے ناپاک عزائم کے لیے وقت کا انتخاب بھی بہت کچھ بتاتا ہے۔
جن لوگوں نے رمضان شریف کے موسم میں مدینہ منورہ کی زیارت کی ہے انھیں وہاں رمضان کی بہاروں کا خوب اندازہ ہوگا۔ ایک تو بارگاہ رسالت اور گنبد خضری کے انوار، دوسرے مسجد شریف کی عالی شان عمارت۔ تیسرے اہل مدینہ کی بے مثال ضیافت۔ مدینہ منورہ اور قرب وجوار کے رہنے والے سرشام حاضر ہو کر روزہ داروں کو افطار کرانے کے لیے مسجد شریف کے فرش پر اپنا اپنا دستر خوان لگاتے ہیں۔ اس پر انواع و اقسام کی نعمتیں سجا دیتے ہیں، اور ایسے دستر خوان سے وسیع وعریض مسجد پوری بھر جاتی ہے، اور اہل مدینہ دنیا بھر سے آئے زائرین کو بلا بلا کر اپنے سفرے پر بٹھاتے ہیں، بڑی محبت سے افطار کراتے ہیں۔ رمضان کی ہر شام کئی لاکھ لوگ مسجد نبوی شریف کے سفروں پر افطار کرتے ہیں۔ وہ خودکش مسجد شریف کے اس مجمع کا رخ کر رہا تھا، یہ سوچ کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ اگر اسے اندر جانے کا موقع مل جاتا تو کیا قیامت برپا ہوتی۔ بہر کیف یہ بھی اللہ رب العزت کی قدرت اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا تصرف ہے کہ ان کے دامن میں بیٹھنے والوں کو ان کی پناہ ملی اور غلط ارادے سے آنے والا صحن میں داخل بھی نہ ہو سکا اور خود کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَلِكَ۔ لیکن اس کے اس گھناؤنے ارادے سے یہ اندازہ ہو گیا کہ دہشت گردوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔ وہ کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں اور کسی مقام پر بھی فساد برپا کر سکتے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو یہ واقعہ دہشت گردوں کے لیے ذلت آمیز اور سبق آموز ثابت ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 252] نیز یہ بھی ارشاد ہے کہ مدینہ حرم ہے عیر پہاڑی سے لے کر ثور پہاڑی تک۔ جو اس میں فساد کرے یا کسی فسادی کو پناہ دے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، روز قیامت اس کی کوئی مالی اور بدنی عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔ [صحیح البخاری، حدیث: 6755] اس کا صاف مطلب ہے کہ جو مدینہ میں شر و فساد پھیلانے کی کوشش کرے وہ رب ذوالجلال کی لعنتوں کو دعوت دے رہا ہے، اس نے اپنے ذاتی وجود کے تو ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، اور اپنے نظریاتی وجود کو بھی ربانی غضب کے نشانے پر لا کھڑا کیا۔ یہ حملہ سعودی سیکیورٹی فورسز پر نہیں نبی کی عزت و ناموس پر ہے۔ یہ حملہ امہات المومنین صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے تقدس پر ہے۔ یہ مسلمانان عالم کے دل بلکہ یہ حملہ عالم اسلام کی شاہرگ پر ہے۔ رمضان کی انتیسویں شب یعنی آخری شب قدر تھی جب کہ قرب و جوار کی نسبت سب سے زیادہ لوگ عبادت کے لیے مسجد نبوی شریف میں جمع ہوتے ہیں۔ اور پوری دنیا سے مسلمان حاضری دیتے ہیں۔ مسجد نبوی میں اس وقت موجود حضرات کا بیان ہے کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا زمین اس طرح دہل گئی تھی جیسے کوئی بہت بڑی عمارت یکایک زمین بوس ہوگئی ہو۔ اس سے باقی دشمنان اسلام آخر کیا سبق لیں گے؟ مسلمانوں کا ہلکا پھلکا ردعمل دیکھ کر ان کے دل میں کیا کچھ گندے خیالات نہ آئیں گے؟ سعودی اتھارٹی کی طرف سے اس انسانی بم کی شناخت ایک 26 سالہ سعودی شہری کے طور پر کی گئی ہے۔ جو بھی ہو یہ دراصل اس نظریاتی جنگ کا ایک نتیجہ ہے جو اصل اسلام اور اس کے وہابی ایڈیشن کے درمیان ایک عرصہ سے جاری ہے۔ مذہبی وہابیت نے سیاسی وہابیت کو جنم دیا، دونوں نے سعودیہ میں تو مل بانٹ کر اپنے حصے بخرے کر لیے لیکن باقی اسلامی دنیا کا کیا ہوگا اس کی کچھ فکر نہ ہوئی۔ سب کو معلوم ہے کہ عالم اسلام کے مسائل سے متعلق ہمیشہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ اب جب کہ داعش نے علاقائی بقا اور سالمیت کو چیلنج دیا ہے تو انھیں بھی دن میں تارے نظر آنے لگے، باہمی نظریاتی کشمکش شروع ہو گئی۔ اور دوست ممالک سے استمداد کیا جانے لگا۔ لیکن مسلمانوں کے لیے یہ بڑا مشکل مرحلہ ہے۔ اس حملے نے مسلمانوں کے جذبات عقیدت کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ کہاں جائیں؟ کس سے احتجاج کریں؟ کس کو سزا دیں؟ محافظ اور لٹیرے میں فرق مشکل ہو گیا ہے۔ کوئی غارت گر امن پسند کے روپ میں آئے تو کس سے فریاد کریں کس سے منصفی چاہیں؟ وہ زمانہ گیا جب شاعر نے کہا تھا: پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔ اب تو کہنا پڑے گا: ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔ لیکن حرم کی پاسبانی صرف سجدوں سے نہیں ہوگی۔ سیاسی وہابیت کا نیا چہرہ دہشت گرد کی حیثیت سے جو سامنے آیا ہے اس کا رد اور احتجاج اگر چہ ضروری ہے مگر کافی نہیں۔ بلکہ اس کا حل عالمی سطح پر نئی نسل کی فکری تربیت ہے، جس سلسلے میں کرنے کے سارے کام ابھی باقی ہیں۔ [پیغام شریعت، اگست 2016، ص: 5]
