| عنوان: | تاج الشریعہ اور حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | سیدہ آمنہ نقشبندی وجیلانی |
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک نہایت ہی عجوبۂ روزگار خبر پڑھنے کو ملی کہ تاج الشریعہ مدظلہ العالی نے حضرت محبوبِ الٰہی علیہ الرحمہ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ آنکھوں پر یقین نہیں آیا، پھر تاج الشریعہ کے فتاویٰ کے وہ صفحات سامنے آئے جن کو بنیاد بنا کر اس قسم کا پروپیگنڈہ کیا گیا تھا، میں سوچنے لگا کہ اس دنیا میں گھوٹالے تو ہوتے ہی رہتے ہیں، یہ بھی انہیں میں سے ایک گھوٹالا ہوگا۔ لیکن تاج الشریعہ کی عبارت پڑھ جائیے تو حیرت ہوتی ہے کہ جن کلمات سے دنیا بزرگوں کے آداب سیکھے گی اور احترامِ اولیاء کا درس لے گی، کس طرح اس سے گستاخی کا مفہوم کشید کیا گیا ہے۔
پوری دنیا کو معلوم ہے کہ اعلیٰ حضرت اور ان کے خانوادے کی خصوصیت رہی ہے کہ انہوں نے انبیاءِ کرام و اولیاءِ عظام کی عظمتوں کی پاسبانی کی ہے، اور تاج الشریعہ انہیں نقوشِ قدم پر گامزن ہیں۔ تاج الشریعہ شریعت کی پیروی میں بڑے سخت اور اولیاءِ کرام کے تحفظِ ناموس میں حد درجہ چست واقع ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں کبھی نہیں سنا گیا کہ انہوں نے کسی بزرگ کی بے حرمتی کی ہو، یا ان کے اندازِ بیان سے اسلافِ کرام کی شان میں کوئی فروگزاشت ہوئی ہو۔ جو حضرات حضور تاج الشریعہ کے آن لائن سوال و جواب کا سیشن سنتے ہیں، انہیں خوب معلوم ہے کہ اس بارگاہ میں اولیاءِ کرام کے آداب سکھائے جاتے ہیں، اور خصوصاً حضور محبوبِ الٰہی کے متعلق تو ایک سوال کے جواب میں آپ نے تفصیلی بیان فرمایا جس میں یہ بھی فرمایا کہ ”محبوبِ الٰہی تو محبوبِ الٰہی ہیں۔“
دراصل آپ نے اپنے فتاویٰ میں ایک مقام پر سجدۂ تعظیمی کی حرمت پر تفصیلی کلام کیا ہے اور اس مسئلے پر ان لوگوں کا رد کیا ہے جو لوگ بعض فقہا کے خلافِ اجماعِ قول سے سجدۂ تعظیمی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ اسی سیاق میں فرماتے ہیں: ”اور حضرت محبوبِ الہی اور ان بعض فقہا پر طعن جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسنِ ظن اور ان کا احترام لازم ہے۔ اور حسنِ ظن یہ ہے کہ ان حضرات سے اس مسئلہ میں خطا ہو گئی نہ کہ انہوں نے دانستہ حق کو چھوڑا اور باطل کو اپنایا، لہذا ان کے مزارات پر عقیدت سے جانے اور ان کے احترام میں مضائقہ نہیں۔“ [فتاویٰ تاج الشریعہ، ص 268، 269]
مذکورہ مسئلے پر اس عبارت کا پیرایہِ بیان حد درجہ احتیاطی ہے۔ جبکہ نصوص کے خلاف اگر کسی بزرگ کا کوئی قول کہیں سے مل جائے تو کتنے من چلے ان کی بزرگی اور ان پر اعتماد و اعتقاد کی پروا نہیں کرتے، اور جو منھ میں آتا ہے بک جاتے ہیں۔
سب کو معلوم ہے کہ ملائکہ اور انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے علاوہ کوئی معصوم عن الخطا نہیں۔ اور خطا سے نہ ولایت متاثر ہوتی ہے نہ مقام و مرتبے پر حرف آتا ہے، بلکہ صحیح حدیث میں بعض خطاؤں پر بارگاہِ رسالت سے ایک نیکی کا مژدہ بھی سنایا گیا ہے: وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ [أخرجه مسلم: 1716] اور اس کی بے شمار مثالیں شریعتِ اسلامیہ کے ذخیرۂ فتاویٰ میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ فتویٰ سجدۂ تعظیمی کے جواز اور عدمِ جواز سے بحث کرتا ہے۔ اس کا موضوع یہ نہیں کہ اگر کسی سے خطا ہو جائے تو اس کا احترام کرنا چاہیے یا نہیں، لیکن تاج الشریعہ کے اس فتوے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس بات کو ذکر کرنے سے پہلے اور بعد میں احترامِ اولیاء کی خاص تلقین فرمائی۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ ان حضرات پر طعن جائز نہیں بلکہ ان کا احترام لازم ہے، بعد میں بھی ان کے مزارات پر احترام و عقیدت سے جانے کی بات کہی۔ اس قسم کے حساس مسئلے پر تاج الشریعہ کا مذکورہ فتوئی اور اس کی عبارت اصولِ شرع پر مبنی، اعلیٰ درجہ کے احتیاط اور نہایت ہی نفیس اسلوب کی حامل ہے، جہاں قلم تو نصوصِ شرعیہ کے بھی ہاتھ سے نہیں جاتا۔ نوجوان محققین اور قلم کاروں کو اس سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔
ہاں اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز اور پھر حضور تاج الشریعہ نے اپنے فتاویٰ میں اس بات کی شدید تردید کی ہے کہ حضرت محبوبِ الٰہی قدس سرہ العزیز مزامیر کے ساتھ سماع کے قائل تھے اور اس کے لیے انہوں نے کتابِ مستطاب فوائد الفواد شریف سے استدلال کیا ہے کہ حضرت محبوبِ الٰہی نے مزامیر کو منع فرمایا ہے۔
[پیغامِ شریعت، اپریل 2017ء]
