Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ قادیانیہ (قسط: دوم)

فرقہ قادیانیہ (قسط: دوم )
عنوان: فرقہ قادیانیہ (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

انگریزوں کی وفاداری اور جہاد کا انکار

  1. قادیانی نے لکھا: ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“ [تریاق القلوب، ص: 25، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں، تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں اور ان کے بعض کم فہم دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کو دور کروں جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“ [تبلیغ رسالت، ج: 7، ص: 10، قادیانی]

مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ

  1. قادیانی نے لکھا: ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالی کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔“ [تحفہ گولڑویہ، ص: 195، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا: ”کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے تو خود سوچ لو کہ حسین کے مقابل مجھے کیا درجہ دینا چاہیے اور اگر میں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صدہا نشانیاں کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہر دم میری تائید میں ہے۔“ [نزول المسیح، ص: 45، قادیانی]

کبھی جھوٹی بات کو بھی لوگ سچ مان لیتے ہیں۔ قادیانی کی باتوں کو بھی اس کے متبعین سچ مانتے رہے اور قادیانیوں کا ایک گروہ تیار ہو گیا۔ قادیانی فرقہ آج تک موجود ہے۔ اس گروہ کو فروغ دینے میں انگریزوں نے اہم کردار ادا کیا، تاکہ مسلمان جہاد کے لیے اٹھ کھڑے نہ ہوں، جیسا کہ جنگ غدر ۱۸۵۷ء کے وقت مسلمان میدان میں اتر پڑے تھے۔

پیغمبران عظام سے افضل ہونے کا دعویٰ

  1. قادیانی نے لکھا: ”اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے، کیوں کہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا، مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا اور اس امت کے یوسف کی بریت کے لیے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور بھی نشان دکھلائے، مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کے لیے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔“ [براہین احمدیہ حصہ پنجم، ص: 71، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہر گز نہ دکھلا سکتا۔“ [حقیقۃ الوحی، ص: 148، قادیانی]

نبوت ظلیہ کا دعویٰ

  1. قادیانی نے لکھا: ”چوں کہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے، بلکہ اسی کریم خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔“ [نزول مسیح، ص: 2، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا: ”اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں، یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے اور میں رسول اور نبی ہوں، یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبی نہ رکھتا۔“ [نزول مسیح، ص: 2، قادیانی]
  3. قادیانی نے لکھا: ”خدا تعالیٰ نے ابتدا سے ارادہ کیا تھا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات معتد بہ کے اظہار و اثبات کے لیے کسی شخص کو آں جناب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے، سو اس طرح سے خدا نے میرا نام نبی رکھا، یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور ظلی طور پر، نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا، تاکہ میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔“ [حاشیہ چشمہ رحمت، ص: 324، قادیانی]
  4. قادیانی نے لکھا: ”لا جرم خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز بنایا اور بھید اس میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابتدا سے ارادہ فرمایا تھا کہ اس آدمی کو پیدا کرے گا جو آخری زمانہ میں خاتم الخلفا ہو گا جیسا کہ زمانہ کے شروع میں آدم کو پیدا کیا جو اس کا پہلا خلیفہ تھا اور یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ فطرت کا دائرہ گول ہو جائے۔“ [خطبہ الہامیہ، ص: 167، قادیانی]

نبوت اصلیہ کا دعویٰ

  1. قادیانی نے لکھا: ”ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول (یعنی مرزا قادیانی) کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھ کو پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے، کیوں کہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“ [کشتی نوح، ص: 56، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا: ”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جز سے کم نہیں ہوگا۔“ [حقیقۃ الوحی، ص: 391، قادیانی]
  3. قادیانی نے لکھا: ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا، سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحٰق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسمٰعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسی بن مریم ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، یعنی بروزی طور پر، جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیے اور میری نسبت جري الله في حلل الأنبياء فرمایا، یعنی خدا کا رسول، نبیوں کا پیر ہوں، سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔“ [تتمہ حقیقۃ الوحی، ص: 84، قادیانی]

حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی

  1. قادیانی نے لکھا: ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“ [ازالہ اوہام، ص: 303، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔“ [ازالہ اوہام، ص: 303، قادیانی]
  3. قادیانی نے لکھا: ”اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں، بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہ تھا۔“ [حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم، ص: 7، قادیانی]
  4. قادیانی نے لکھا: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے انسان سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“ [ضمیمہ انجام آتھم، ص: 7، قادیانی]
  5. قادیانی نے لکھا: ”خدا ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“ [دافع البلاء، ص: 15، قادیانی]
  6. قادیانی نے لکھا: ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک کر انہیں سچ مچ جانور بنا دیتا تھا، نہیں، بلکہ صرف عمل ترب (مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف کھیل کی قسم میں سے تھا اور مٹی در حقیقت ایک مٹی رہتی تھی، جیسے سامری کا گوسالہ۔“ [ازالہ اوہام، ص: 322، قادیانی]

ابن اللہ ہونے کا دعویٰ

  1. قادیانی نے لکھا کہ رب تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: ”تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ [دافع البلاء، ص: 8، قادیانی]
  2. قادیانی نے لکھا کہ رب تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: ”أنت مني بمنزلة ولدي“ (تو میرے بیٹے کی منزل میں ہے)۔ [حقیقۃ الوحی، ص: 86، قادیانی]

الوہیت کا دعویٰ

قادیانی نے لکھا: ”میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی (اللہ) ہوں، پھر میں نے آسمان اور زمین بنائے اور کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔“ [آئینہ کمالات اسلام، ص: 564، 565، قادیانی]

قادیانی کے متضاد اقوال

  1. مرزا غلام احمد قادیانی سے متضاد اقوال کا صدور ہوا ہے اور دجال کا حال ایسا ہی ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جامع مسجد دہلی میں لوگوں کے سامنے اعلانیہ طور پر کہا: ”ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانۂ خدا (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ جناب خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“ [تبلیغ رسالت، ج: 2، ص: 44، قادیانی]
  2. قادیانی نے کہا: ”سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“ [تبلیغ رسالت، ج: 2، ص: 22، قادیانی]
  3. علامہ عبدالحکیم خاں اختر شاہ جہاں پوری نے رقم فرمایا: ”حکومت پاکستان نے بھی ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو یہی فیصلہ سنایا تھا کہ جو مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و رسالت کا قائل ہے، یا کم از کم ایسے دجال و کذاب کو مسلمان شمار کرتا ہے، وہ کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ [باطل فرقے برطانیہ کے سائے میں، ج: 2، ص: 659، رضا اکیڈمی، ممبئی]

قاسم نانوتوی نے ”تحذیر الناس“ میں دعویٰ کیا تھا کہ حضور اقدس خاتم النبیین علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسلیم کے بعد بھی کوئی نبی آ جائے تو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ انگریزوں نے اسی اصول کے مطابق قادیانی کو نبی بنا کر مسلمانوں کے ایمان کو برباد کیا۔

نانوتوی نے لکھا: ”بلکہ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا، چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں، یا فرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۔“ [تحذیر الناس، ص: 43، دار الکتاب دیوبند]

نانوتوی نے ۱۲۹۰ھ مطابق ۱۸۷۳ء میں تحذیر الناس لکھی تھی۔ قادیانی نے سات ہی سال بعد ۱۸۸۰ء میں ملہم (جس کو الہام کیا جاتا ہے) اور مجدد ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

وما توفيقي إلا بالله العلي العظيم والصلوة والسلام على رسوله الكريم وآله العظيم [حوالہ: دور حاضر کے بدمذہب فرقے، ص: 17 تا 22]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!