Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ قادیانیہ (قسط: اول)

فرقہ قادیانیہ (قسط: اول)
عنوان: فرقہ قادیانیہ (قسط: اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

یوم تحفظ ختم نبوت و یوم تحفظ ناموس رسالت

۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستانی پارلیامنٹ نے قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا، لہذا پاکستان میں ۷ ستمبر کو یوم تحفظ ختم نبوت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سال ۲۰۲۲ء سے انڈیا میں بھی ۷ ستمبر کو یوم تحفظ ختم نبوت کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس رسم حسن کا خیر مقدم ہے!

اسماعیل دہلوی (۱۱۹۳ھ - ۱۲۴۶ھ) نے برصغیر میں وہابیت و نجدیت کی تبلیغ و اشاعت کی۔ اس کے متبعین دو طبقوں میں منقسم ہو گئے:

  1. مقلد وہابیہ (فرقہ دیوبندیہ)
  2. غیر مقلد وہابیہ (اہل حدیث / سلفی جماعت)

علمائے اہل سنت و جماعت اور وہابیہ کا پہلا مناظرہ ۲۹ ربیع الثانی ۱۲۴۰ھ مطابق ۲۰ دسمبر ۱۸۲۴ء کو جامع مسجد (دہلی) میں ہوا تھا۔

یوم تحفظ ختم نبوت کی طرح ان شاء اللہ تعالیٰ ہم ہر سال ۲۹ ربیع الثانی کو یوم تحفظ ناموس رسالت منائیں گے، تاکہ مسلمانان برصغیر قادیانیوں کی طرح وہابیوں اور دیوبندیوں سے بھی پرہیز کریں اور ان کے قریب نہ جائیں۔ برصغیر میں قادیانیوں کی بہ نسبت وہابیوں اور دیوبندیوں کی تعداد زیادہ ہے، نیز وہابیہ اور دیابنہ عام طور پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

فرقہ قادیانیہ اور غیر مقلد وہابیہ کی عبادات و اعمال کے طریقے جداگانہ ہیں لیکن فرقہ دیوبندیہ خود کو حنفی کہتا ہے اور دیابنہ خود کو قادری و چشتی اور نقشبندی و سہروردی کہتے ہیں، لہذا عوام الناس کو دیوبندیوں سے دھوکہ ہو جاتا ہے، پس عوام مسلمین کو دیوبندیوں کے حقائق سے واقف و آشنا کرنا زیادہ قابل توجہ اور مستحق التفات ہے اور موقع بہ موقع عہد حاضر کے دیگر باطل فرقوں کے اعتقادی مفاسد سے بھی امت مسلمہ کو آگاہ کیا جاتا رہے۔

بھارت میں قادیانیوں سے زیادہ روافض پائے جاتے ہیں لیکن سنی حنفی مسلمانوں کو شیعوں سے دھوکہ نہیں ہوتا، لہذا رافضیوں کا تحریری و تقریری رد و ابطال کچھ کم ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی اور جہاد اسلامی کی مخالفت

جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے دلوں سے شوق جہاد نکالنے کے واسطے غلام احمد قادیانی کو مقرر کیا، تاکہ وہ برصغیر میں اطمینان سے حکومت کر سکیں۔

علامہ عبدالحکیم خاں اختر شاہجہاں پوری نے قادیانی کی ایک عبارت نقل کی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا: ”میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت (برٹش گورنمنٹ) کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی (امام مہدی علیہ السلام) اور مسیح خونی (حضرت عیسی علیہ السلام) کی بے اصل روایتیں (جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں) اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل (جو حکم خدا اور عمل و ارشاد مصطفیٰ ہے) جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“ قادیانی کی عبارت میں قوسین کے درمیان علامہ شاہجہاں پوری کی عبارت ہے۔ [تریاق القلوب، ص: 25 / مشعل راہ، ص: 776، فرید بک اسٹال، لاہور]

جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں سنی مسلمانوں نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اگر اس میں کامیابی ہو جاتی تو برصغیر میں بدمذہبیت کو فروغ کا موقع نہ ملتا، کیونکہ بادشاہ دہلی بھی سنی تھے۔

مسلمانان ہند اور برطانوی حکومت

نصاریٰ جو انگلینڈ سے آ کر برصغیر کی مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت پر قابض ہو چکے تھے، انہوں نے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے کسی کو امام مہدی اور کسی کو نبی و رسول بنا دیا۔ عظمت الہی اور ناموس رسالت پر بھی حملے کیے گئے۔ قادیانی ایک عام فرد تھا، لیکن اس نے انگریزوں سے نبوت کا رتبہ پا لیا اور بعض لوگ نبوت و رسالت کی تمنا لیے دنیا سے چل بسے۔ انگریزوں کو چند ایمان فروش بھی مل گئے، ورنہ یہ مرحلہ بڑا ہی مشکل تھا۔

ہمفرے نامی برطانوی جاسوس نے ابن عبد الوہاب نجدی (۱۱۱۵ھ - ۱۲۰۶ھ) کو گمراہ کیا۔ لارنس آف عربیہ نے عرب کے سرداروں کو عرب قومیت کا سبق پڑھا کر سلطنت عثمانیہ ترکیہ سے بغاوت پر آمادہ کر دیا۔ عثمانی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور مسلمانوں کو سلطنت و حکومت کے زوال کے ساتھ اپنا دین و مذہب بچانا بھی مشکل نظر آنے لگا۔ سارے عالم اسلام میں جدید نظریات کا شور اٹھا۔ علمائے حق نے کفن بر دوش ہو کر دین اسلام و مذہب اہل سنت کی صالح قیادت فرمائی اور بہت سے مسلمانوں کے دین و ایمان کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔

ابوالحسن زید فاروقی مجددی دہلوی (۱۹۰۶ء - ۱۹۹۴ء) کی ایک تحریر مرقومہ ذیل ہے۔ اس سے برصغیر میں انگلینڈ کے نصاریٰ کی فریب کاری روز روشن کی مثل عیاں ہو جاتی ہے۔

زید ابوالحسن فاروقی دہلوی نے لکھا: ”پروفیسر محمد شجاع الدین صدر شعبہ تاریخ دیال سنگھ کالج لاہور نے جن کی وفات ۱۹۶۵ء میں ہوئی ہے، اپنے ایک خط میں پروفیسر خالد بزمی کو لاہور لکھا ہے اور اس کا اعتراف کیا ہے کہ انگریزوں نے کتاب تقویۃ الایمان بغیر قیمت کے تقسیم کی ہے۔ انگریزوں نے وہ ہنگامے دیکھے جو ۱۲۴۰ھ / ۱۸۲۵ء میں دلی کی جامع مسجد میں ہوئے اور پھر دیکھا کہ کس طرح مسلمان فرقوں میں اور ٹولیوں میں بٹے اور یہ سب کچھ اس کتاب کی وجہ سے ہوا، لہذا اس کتاب کو ہندوستان کے گوشے گوشے تک پہنچایا جائے، تاکہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں، وہ آپس میں لڑیں اور انگریز سکون سے حکومت کرے۔“

لاہور پاکستان میں ”بیس بڑے مسلمان“ کے نام سے ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا پیش لفظ علامہ خالد محمود ایم اے نے لکھا ہے، وہ لکھتے ہیں: ۱۸۷۰ء وائٹ ہاؤس لندن میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کمیشن مذکور کے نمائندگان کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی دعوت خاص پر شریک ہوئے، جس میں دونوں نے علیحدہ علیحدہ رپورٹ پیش کی جو کہ ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ کے نام سے شائع کی گئی ہے جس کے دو اقتباس پیش کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ سربراہ کمیشن سرولیم ہنٹر

مسلمانوں کا مذہباً عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے اور ان کے لیے غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرنا ضروری ہے۔ جہاد کے اس تصور سے مسلمانوں میں ایک جوش اور ولولہ ہے اور جہاد کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔ ان کی کیفیت کسی وقت بھی انہیں حکومت کے خلاف ابھار سکتی ہے۔

رپورٹ پادری صاحبان

یہاں کے باشندوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔ اگر اس وقت ہم کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظل نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقۂ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے لیکن مسلمانوں میں اس قسم کے دعویٰ کے لیے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔

یہ کام ہو جائے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم اس سے برصغیر کی تمام حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمت عملی سے شکست دے چکے ہیں، وہ مرحلہ اور تھا۔ اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی تلاش کی گئی تھی لیکن اب جب کہ ہم برصغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہو چکے ہیں اور ہر طرف امن و امان بھی بحال ہو گیا ہے تو ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کرنا چاہیے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔ [اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، ص: 51، 52، لاہور]

انگریزوں کو مرزا غلام احمد قادیانی، سرسید احمد خاں علی گڑھی اور بہت سے غدار مل گئے اور برصغیر کے مسلمانوں کی تباہی و بربادی ہوئی اور آج تک لوگ فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

قادیانی کا دعوائے نبوت

ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی پاکستانی نے تحریر فرمایا:

۱۸۶۹ء میں انگریز مفکرین پادریوں کی ایک جماعت ایک خاص مقصد کے لیے ہندوستان آئی۔ ۱۸۷۰ء میں واپس لندن پہنچ کر اجلاس ہوا۔ ایک رپورٹ تیار ہوئی جس میں ایک ایسا آدمی تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ظلی نبی ہونے کا اعلان کرے۔ [پیش لفظ: بڑے مسلمان، از ڈاکٹر خالد محمود، مطبوعہ لاہور، ص: 6]

دو سال بعد ہی ۱۸۷۲ء میں کتاب ”تحذیر الناس“ وجود میں آئی جس میں خاتم النبیین کے مسنون، متواتر اور اجماعی معنی کو ٹھکرا کر نیا معنی ایجاد کیا گیا، مگر سات سال بعد ۱۸۷۹ء میں تحذیر الناس کا مصنف مر کر مٹی میں مل گیا تو متبادل ڈھونڈا گیا۔ چنانچہ اسی سال مرزا قادیانی نے ”براہین احمدیہ“ نامی کتاب لکھنے کا اعلان کیا۔ ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء تک اس کتاب کی چار جلدیں وجود میں آئیں۔

اس کتاب میں الہامات ایجاد کر کے مقامات مصطفیٰ پر ڈاکہ ڈالا اور تحریف قرآن کا ارتکاب کیا، مگر غیر مقلد مولوی محمد حسین بٹالوی (متوفی ۱۳۳۸ھ) نے اپنے رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں اسے اسلام کی تاریخ میں بے نظیر کتاب قرار دیا۔ ۱۸۸۴ء میں ہی غیر مقلدین کے شیخ الکل مولوی نذیر حسین دہلوی (متوفی ۱۳۲۰ھ) نے ۱۷ نومبر ۱۸۸۴ء کو مرزا قادیانی کا نکاح پڑھایا۔ [مطرقة الحدید، از مولوی یحییٰ گوندلوی غیر مقلد، ص: 14 / حسام الحرمین کے سو سال، ص: 8، تحریک فکر رضا]

مرزا غلام احمد قادیانی کو قاسم نانوتوی کی کتاب ”تحذیر الناس“ سے سہارا ملا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ قادیانیت کی جڑ تحذیر الناس ہی ہے۔ مرزا بشیر احمد قادیانی نے اپنی کتاب ”ختم نبوت کی حقیقت“ میں تحذیر الناس کی عبارتوں کو نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل ہی یہ کتاب لکھی گئی تھی۔ [ختم نبوت کی حقیقت، ص: 158، 160]

قادیانی کے جھوٹے دعوے

مرزا غلام احمد قادیانی (۱۲۵۵ھ - ۱۳۲۶ھ / ۱۸۳۹ء - ۱۹۰۸ء) کوئی عالم و فاضل نہیں تھا۔ انگریزوں نے ملک ہند پر قبضہ کر لیا اور مغلیہ سلطنت کو ختم کر دیا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے درمیان تفریق کی بہت کوشش و کاوش کی، مختلف فتنے پیدا کیے۔ مسلمانوں میں مذہبی فرقہ بندیاں کیں، تاکہ مسلمان اپنی حکومت کی واپسی کی کوشش نہ کر سکیں۔ غیروں کو ہمیشہ مسلمانوں کی غیر متزلزل فطرت اور شجاعت و ہمت سے خوف طاری رہا ہے۔

انگریزوں نے جہاد کا مفہوم بدلنے کے واسطے مرزا قادیانی کو استعمال کیا، کیونکہ مسلم علمائے کرام نے ہی ۱۸۵۷ء میں پہلی جنگ آزادی کا فتویٰ دیا تھا۔ غلام احمد قادیانی کو نبی اور امام مہدی بنا کر پیش کیا گیا۔ تعجب ہے کہ بہت سے لوگوں نے اسے نبی تسلیم بھی کر لیا。

علامہ عبدالحکیم خاں اختر شاہجہاں پوری نے تحریر فرمایا: ”مرزا غلام احمد قادیانی کی حتمی تاریخ پیدائش تو کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں، مرزا صاحب نے ”کتاب البریہ“ میں ۱۸۳۹ء اور ۱۸۴۰ء بتائی ہے، لیکن ”تریاق القلوب“ میں ۱۸۴۵ء لکھی ہے۔ اردو فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ عربی اور انگریزی میں ابجد خواں تھے۔ سیالکوٹ کچہری میں بمشاہرہ پندرہ روپے ماہوار چار سال تک محرر بھی رہے۔ آبائی پیشہ زمینداری تھا۔ آبا و اجداد سکھوں اور انگریزوں کے وفادار اور ملازم رہتے آئے تھے۔ والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے قانونی مختار کاری کا امتحان بھی دیا لیکن فیل ہونے پر تعلیم سے دل اچاٹ ہو گیا۔ ضعف دل و دماغ تمام عمر جولانی پر رہا۔ قوت مردمی سے اکثر اوقات محروم رہے، تشنج قلب، اسہال، درد سر، دوران سر، مالیخولیا اور ذیابیطس وغیرہ امراض موصوف کی زندگی کے ساتھی تھے۔

۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں موصوف کا شدت اسہال یا ہیضہ سے انتقال ہوا تھا۔ بعد وفات ان کے منہ سے پاخانہ نکلتے ہوئے دیکھا گیا جو حاضرین کی عبرت کا باعث ہوا۔“ [باطل فرقے برطانیہ کے سائے میں، ج: 2، ص: 644، رضا اکیڈمی، ممبئی]

اللہ تعالیٰ اہل باطل کے بطلان کی کوئی نشانی ظاہر فرما دیتا ہے، تاکہ لوگ حق کو سمجھ سکیں۔ [حوالہ: دور حاضر کے بدمذہب فرقے، ص: 11 تا 16]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!