| عنوان: | ہر مرض کی دوا ہے صلی علی محمد ﷺ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سیف الدین اصدق چشتی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
اللہ جل شانہ کا ہم، اس پر جس قدر شکر و احسان بجا لائیں وہ کم ہے کہ ہم اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں جو سید الانبیاء ہیں۔ یہ وہ رسول ہیں جن پر اوالعزم رسولوں کی جماعت بھی رشک کرتی ہے۔ یہ وہ معصوم ہیں جن کی بارگاہ ناز میں فرشتوں کی معصوم جماعت بھی نیاز مندانہ حاضری دیتی ہے۔ یہ نور بھی ہیں بشر بھی، لیکن نور ایسے کہ نوری فرشتوں کا سردار ان کے دربار میں اپنی غلامی پیش کرتا نظر آتا ہے۔ بشیر ایسے کہ خیر البشر اور ناز بشریت ہیں۔
صد ہزاراں جبرئیل اندر بشر
بہر حق سوئے غریباں یک نظر
ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی صفات کے بھی مظہر اور ذات کے بھی مظہر ہیں۔ ان کا کرم، اللہ کا کرم ہے۔ انہیں ماننا ہی ایمان ہے، بلکہ یہ خود مکمل ایمان، شان ایمان اور جان ایمان ہیں۔ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب اور سچ فرمایا:
اللہ کی سر تا با قدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے، میری جان ہیں یہ
اللہ رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا باکمال بنایا ہے کہ جو ان کے قدموں میں آ جائے، جو ان کی شان پہچان لے، جو ان کی اطاعت و پیروی کر لے، ان کی غلامی کا پٹہ جو اپنی گردن میں ڈال لے، تو پھر وہ پلٹ کر کسی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتا۔ وہ کسی اور کی طرف نہیں تکتا۔ وہ زبان حال سے پکار پکار کر کہتا ہے:
کاسۂ غیر کو اور منھ سے لگاؤں توبہ
شان پہچانتا ہوں یار کے پیمانے کی
جنہیں نبی رحمت، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کے ڈنکے بجانا چاہیے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینا چاہیے تھا۔ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت تعارف دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھا۔ مگر افسوس! وہ دنیا چھن جانے کے خوف سے، کہیں میں لوگوں کا نشانہ نہ بن جاؤں اس ڈر سے، ہمارا بزنس اور کاروبار متاثر نہ ہو جائے اس حرص و ہوس میں اور لارڈ میکالے کے بنائے ہوئے ایجوکیشن سسٹم میں جکڑ کر اسلامی تعلیمات سے دور ہوا اور ایک مشین اور روبوٹ بن گیا۔ بقول اکبر الہٰ آبادی:
کیا بتاؤں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے
بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے
آج آپ اپنے ارد گرد نظر ڈالیں، ہماری قوم کے ذمہ دار کہے جانے والے حضرات کا ایک بڑا طبقہ اغیار سے متاثر اور مولویوں کو نشانہ بناتا نظر آئے گا۔ کسی دانشور کی یہ گولڈن لائن ہے کہ ”کچھ لوگ اسلام کو گالیاں دینا چاہتے ہیں، مگر ڈر یا عوامی دباؤ کی وجہ سے ایسا نہیں کر پاتے، تو وہ مولوی کو گالی دے کر اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں“۔ لیکن دوسری طرف جب اللہ کا فضل اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کسی کے رگ و پے میں بس جاتی ہے تو وہ یوروپ کے عظیم دانش کدوں میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، مغربی ممالک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں لے کر اور اپنے زمانے کی نامور مغربی شخصیات سے مل جل کر بھی کسی سے متاثر و مرعوب نہیں ہوتا۔ یہ دیکھیں تو سہی شاعر مشرق علامہ اقبال مغرب و یوروپ کی سیر سے وطن لوٹ کر بھی بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں کہ:
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
یعنی میں نے اپنی آنکھوں میں مدینہ طیبہ اور نجف اشرف کی خاک کا سرمہ لگایا ہے۔ اس لیے انگریزوں کے فلسفہ و سائنس اور یورپ کے علم و حکمت کا جلوہ میری نظروں کو چکا چوند نہیں کر سکتا۔ میں نبی و علی کی تعلیمات کا پیروکار ہوں، اس لیے مغربی علوم مجھے متاثر نہیں کر سکتے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علامہ اقبال نے حضرت مولا علی شیر خدا کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ حدیث ان کے پیش نظر تھی۔
أنا مدينة العلم وعلي بابها (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے) پس جس شخص کو علوم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کی آرزو ہو اسے سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شاگردی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ دروازے کے بغیر شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔
معلوم ہوا کہ اگر مسلمانوں کے دل میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت جاگزیں ہو تو وہ کبھی ”دانشِ فرنگ“ سے متاثر ہو کر گمراہ نہیں ہو سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ زمانے کے تمام مسائل کا حل رسول اللہ کے قدموں میں ہے۔ آپ نے نہ جانے کتنے مسائل کی گتھیاں سلجھائیں اور ہمیں ایک نصاب زندگی عطا فرما دیا۔ عارف بنارسی نے کیا خوب فرمایا ہے:
اپنے بندوں پر خدا نے خاص احساں کر دیا
مصطفےٰ کو بھیج کر بخشش کا ساماں کر دیا
دے کے دنیا کو مکمل اک نصاب زندگی
رحمت عالم نے ہر مشکل کو آساں کر دیا
