| عنوان: | ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ |
|---|---|
| تحریر: | زبیدہ خانم |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
بچے گھر کے آنگن میں پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ صحت مند بچے والدین کے لیے سکون اور اطمینان کا باعث بنتے ہیں، لیکن ان کی صحت، پرورش اور تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ نہ صرف مذہبی نقطۂ نظر بلکہ قومی فریضہ کے طور پر بھی یہ ان کا فرض ہے کہ وہ بچے کی بھرپور توجہ سے پرورش کریں تاکہ وہ مستقبل میں ایسا انسان بن سکے جس پر والدین فخر کر سکیں۔ اگرچہ ماں کے ساتھ ساتھ بچے کی پرورش میں باپ کی بھی اپنی ذمہ داری ہے، لیکن روزگار کے سلسلے میں گھر سے باہر رہنے کے باعث زیادہ ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں ہی وہ بچے کی پہلی درسگاہ ہے جس سے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ یقیناً بچہ ماں کے لیے بہت ہی مسرت اور روحانی خوشیاں لے کر دنیا میں آتا ہے، اور ماں کی تمام تر توجہ ہی بچے کی پرورش، اس کی نگہداشت اور صحت کے لیے تردد کرنے میں صرف ہوتی ہے، لیکن سبھی بچے جو دنیا میں آتے ہیں وہ اتنے خوش قسمت بھی نہیں ہوتے کہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر دنیا میں آئیں۔ یا والدین کی غربت میں کسی طرح کی معاونت کر سکیں، بہرحال اس کے باوجود غریب اور امیر گھرانے میں بچوں کی پیدائش اور خصوصاً بچوں کی پرورش جس میں مائیں آج کل دودھ کے ڈبے اور گائے بھینس کے دودھ پر بہت انحصار کرتی ہیں۔
بعض عورتیں ملازمت پیشہ ہونے کے باعث بچے کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں، بعد ازاں بچہ ڈبے کا دودھ پی کر کئی طرح کے پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے، نہ صرف جسمانی امراض بلکہ بچے کئی طرح کے نفسیاتی اور ذہنی مسائل کے بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیبی اور اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں اور والدین کی وہ محبت جو مذہبی نقطۂ نظر سے بچوں کا حق ہے، وہ اس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ خواتین کو ان کے حقوق کی یاد دہانی کے لیے عورتوں کی تنظیمیں اور کئی ایک فلاحی ادارے وقتاً فوقتاً بچوں کی صحت و تندرستی اور صفائی کے مقابلے منعقد کرواتے رہیں تاکہ ماؤں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہو اور صحت مند بچوں کی مائیں ہونے پر وہ دوسری خواتین کے سامنے اپنا سر فخر سے بلند کر سکیں۔ صحت مند بچوں کے اس قسم کے مقابلے عموماً زیادہ آبادی والے علاقوں اور غیر تعلیم یافتہ آبادیوں میں کروائے جائیں تاکہ ان پڑھ عورتوں میں یہ شعور پیدا کیا جا سکے کہ وہ اپنے بچوں کی نگہداشت کن اصولوں کے تحت کر سکتی ہیں، تاکہ وہ بڑے ہو کر ان کے لیے پریشانی کا باعث بننے کے بجائے راحت اور سکون کا باعث بنیں۔
بعض ان پڑھ مائیں جو ذہن میں یہ خیال بٹھا لیتی ہیں کہ ان کے یہاں اولادِ نرینہ پیدا ہوگی، وہ لڑکی کی پیدائش پر عجیب قسم کے تذبذب کا شکار ہو جاتی ہیں، اپنے آپ میں پٹھوں کا کھچاؤ محسوس کرنے لگتی ہیں، جسمانی کمزوری کا شکار ہو کر کئی ایک امراض میں مبتلا رہنے لگتی ہیں۔ وہ خواتین جن کی توقع کے مطابق ان کے یہاں خوبصورت بچے پیدا نہیں ہوتے وہ نفسیاتی طور پر بچوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتیں، بلاوجہ ان کو مارتی پیٹتی رہتی ہیں جس سے بچے بھی اپنی ماں کی طرح ذہنی کھنچاؤ کا شکار رہنے لگتے ہیں۔ وہ بچے جو کسی طرح سے جسمانی اعضا سے محروم ہوتے ہیں، والدین انہیں بھی اپنے لیے مسئلہ بنا لیتے ہیں اور ان کی تمام زندگی خوشیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دکھوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں معذور پیدا ہونے والے بچے اور ماں کوئی بھی قصور وار نہیں ہوتا۔
لیکن پھر بھی وہ خود کو سزا دیتی رہتی ہیں۔ وہ گھرانے جس میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، وہ عورتیں اپنے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتی ہیں اور یوں وہ گھریلو مسائل کی پریشانیاں جو ان سے حل نہیں ہو پاتیں ان کا غصہ وہ بچوں پر ظاہر کرتی ہیں۔ شہری ماؤں کے مقابلے میں دیہاتی عورتیں زیادہ پرسکون زندگی گزارتی ہیں کیوں کہ گھرداری وغیرہ سے فارغ ہو کر اس پر بچوں کی اتنی خاطر داری اس لیے نہیں ہوتی کہ بچے بھی اسکولوں میں جانے کے بجائے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہاتوں میں لاکھوں بچے زیورِ تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ بعض دیہاتوں میں اسکول اتنے فاصلے پر ہوتے ہیں کہ بچوں کے لیے پیدل چلنا مشکل ہوتا ہے۔ یوں وہ دل برداشتہ ہو کر کاشتکاری میں والدین کا ہاتھ بٹانے لگتے ہیں، جو کہ والدین کی طرف سے ان پر بہت بڑی زیادتی ہے۔
بچوں کی پرورش کی ابتدائی عمر میں انہیں توجہ دینے اور ان کی نگرانی کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ بچے جو عموماً بڑوں کی نقالی کرتے ہیں گھر سے باہر گلی میں جا کر دوسرے بچوں کو دیکھ کر بیہودہ الفاظ سیکھ لیتے ہیں جس سے ماؤں کو پریشانی اور شرمساری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے ماحول کی وجہ جہالت اور شرح تعلیم کا تناسب کم ہونا بھی ہے۔ اور اس کی وجہ والدین کی عدم توجہی بھی ہو سکتی ہے لیکن امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں امریکی بہبودِ عامہ کی تنظیم کے تحت بالٹی مورسن کے نام سے جو جائزہ رپورٹ تیار کی گئی ہے اس کے مطابق ایریزونا ریاست میں والدین کی بدسلوکی کے شکار بچوں کی حالت نہایت افسوسناک ہے، رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ طلبہ کے ساتھ ساتھ ماں باپ کو باقاعدہ تربیت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے، ان جائزوں کے مطابق انتہائی گنجان آباد امریکی علاقوں میں ہر سال ایک ملین سے زیادہ بچے مختلف نوعیتوں کے سماجی اور گھریلو طرز کی بدسلوکیوں کا شکار ہوتے ہیں۔
ماہرین اس امر پر متفق ہوتے ہیں کہ بچوں کی ۸۰ فی صدی تعداد والدین، نزدیکی لواحقین یا روزگار فراہم کرنے والے افراد کے ہاتھوں بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں چنانچہ واشنگٹن کے مضافات میں ایک جامع پروگرام شروع کیا گیا ہے جسے والدین کے لیے امتناعی تعلیم اور خطرے کی زد میں خاندانوں کے امدادی پروگرام کا نام دیا گیا ہے۔
”بہر حال صحت اور تعلیم دونوں بچوں کی تربیت کے اتنے اہم پہلو ہیں کہ ان کی طرف سے ابتدائی غفلت کا نقصان ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تلافی بن جاتا ہے۔ تعلیم اور صحت سے محروم بچوں کا مستقبل خاندان، ملک اور قوم کے لیے مایوسی کا باعث ہوتا ہے، انہیں دیکھ کر والدین آنسو بہاتے ہیں، اہل خاندان منہ پھیر لیتے ہیں اور ملک و قوم کی پیشانیاں شکن آلود ہو جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف صحت و تعلیم سے مالا مال بچے اپنے والدین کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے بیش قیمت تحفہ ثابت ہوتے ہیں۔
اب یہ خواتین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے فرائض کو کسی حد تک محسوس کرتی ہیں اور اس کے لیے کتنی محنت و جانفشانی کرتی ہیں تاکہ بچہ مستقبل میں ملک و قوم کا ایک قیمتی اثاثہ بننے کے قابل ہو۔“
