| عنوان: | حضرت صدیق قرآن و حدیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | فیضان رضا عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کے لئے منتخب فرمایا۔ صحابہ کرام ہی تو ہیں کہ جنہوں نے دین اسلام کے لئے اپنی جان، مال، آل و اولاد، گھر بار ہر چیز قربان کر دکھایا۔ ان کی زندگی اخلاص و وفاداری کا نمونۂ بے مثال ہے۔ یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع و فرمانبردار اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں۔ علم ہو یا عبادت، اخلاق ہو یا اعمال، الغرض ہر اعتبار سے ان نفوس قدسیہ کی حیات طیبہ مسلمانوں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہی حضرات طیبات میں سے ایک عظیم ہستی، یار غار و یار مزار، عاشق اکبر، جان نثار صحابی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور نظر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں۔
اب آئیے! ذیل میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل بزبان قرآن و حدیث سپرد قرطاس کیے جاتے ہیں۔
حضرت صدیق اکبر اور قرآنی آیات
فضائل صدیق اکبر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ سے روز روشن کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ ان سب کا ذکر باعث طوالت ہے۔ اسی لیے راقم الحروف اس مضمون میں فقط تین آیات مقدسہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔
مصدق کون اور مصدق کون؟
۱۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
ترجمہ: ”اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں۔“ (الزمر: ۳۳)
اس آیت کریمہ میں الَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور صَدَّقَ سے مراد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں۔
قسم نہ کھائیں گنجائش والے
۲۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ
ترجمہ: ”اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں۔“ (النور: ۲۲)
یہ آیت کریمہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے باقی تفصیلات صراط الجنان سے جانیں۔
جو رات و دن میں خیرات کرتے ہیں
۳۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
ترجمہ: ”وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں۔“ (البقرہ: ۲۷۴)
یہ آیت کریمہ بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ باقی تفصیل صراط الجنان سے حاصل کریں۔
ماقبل مذکور آیات مقدسہ سے یہ بات روز روشن سے بھی زیادہ عیاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ شان صدیق اکبر اور فضائل صدیق اکبر کے لیے فقط اتنا ہی کافی ہے کہ یہ آیات مقدسہ آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئیں۔
حضرت صدیق اکبر اور احادیث مبارکہ
جس طرح متعدد آیات مقدسہ فضائل صدیق اکبر پر دال ہیں وہیں بے شمار احادیث کریمہ سے بھی شان صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجاگر ہوتی ہے۔ آئیے! چار احادیث کریمہ ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔
تمام لوگوں سے افضل
۱۔ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى أَحَدٍ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا
یعنی ”روئے زمین پر کسی بھی انسان پر نہ سورج طلوع ہوتا ہے اور نہ غروب ہوتا ہے کہ وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل ہو سوائے انبیائے کرام کے۔“ [تاریخ الخلفاء]
سب سے پہلے داخلِ جنت
۲۔ ابو داود شریف کی حدیث ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي
یعنی ”اے ابو بکر! سن لو میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہو گے۔“
اس حدیث شریف سے ہر ارباب علم و دانش کے نزدیک یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امت محمدیہ میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوں گے۔
صدیق کی محبت واجب ہے!
۳۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حُبُّ أَبِي بَكْرٍ وَشُكْرُهُ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ أُمَّتِي
یعنی ”ابو بکر سے محبت کرنا اور ان کا شکر ادا کر نا میری پوری امت پر واجب ہے۔“ [تاریخ الخلفاء: ۴۰]
ایک دن اور رات کی نیکی
۴۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ ایک روز حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا گیا تو وہ رونے لگے اور فرمایا: ”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری زمانہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن رات میں جو عمل اور بہترین کام کیے ہیں کاش کہ میری پوری زندگی کا عمل ان کی ایک رات دن کے عمل کے برابر ہوتا۔ ان کی ایک رات کا عمل تو یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی رات غار ثور پر پہنچے (جو تقریبا ڈھائی کلو میٹر بلند ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ یعنی قسم خدا کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے میں نہ داخل ہو جاؤں تاکہ اگر کوئی موذی چیز سانپ وغیرہ ہو تو اس سے تکلیف مجھ کو پہنچے اور آپ محفوظ رہیں۔“
پیارے اسلامی بھائیو!
ان تمام آیات کریمہ اور احادیث کریمہ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے فضائل کیا ہیں۔ واقعی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کا سکون ہیں۔ ہم سب کو بھی چاہیے کہ ماقبل ذکر کردہ فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سامنے رکھیں۔ اور آپ کی شان میں کبھی بھی کسی بھی قسم کی گستاخی نہ کریں۔
محفوظ سدا رکھنا شہا! بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
