Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

وقت کی ضرورت (دین اور علما کی اہمیت)

وقت کی ضرورت (دین اور علما کی اہمیت)
عنوان: وقت کی ضرورت (دین اور علما کی اہمیت)
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

موجودہ دور میں جو بھی حالات پیش نظر آ رہے ہیں ہمارے معاشرے میں اس کی خاص وجہ کہیں نہ کہیں دین و علمائے کرام سے دوری ہے۔ جب ہمارے کردار میں دین کی تعلیمات ابھریں گی، ہمارے علما سے تعلقات بہتر ہوں گے تب جا کر معاشرے کے سارے معاملات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

اسی مدعا کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ دنیاوی فکر نے ہمیں اس حد تک اللہ تعالیٰ کے فرمان سے دور کر دیا ہے کہ ایک وقت کھاتے ہیں تو کل کی فکر میں لگ جاتے ہیں کہ کل ہمیں یہ کھانا نصیب ہوگا؟ آج کھا لیں گے تو کل بھوکے مر جائیں گے۔ ہم اتنے محدود ہو چکے ہیں کہ ہمیں اللہ پر سے توکل ہی نہیں۔

اس کی وجہ ہے کہ ہم نے دین سے دوری بنا لی، علمائے کرام کی صحبت اختیار نہ کی۔ علم دین سے ہم نے دنیاوی پڑھائی پر زور دیا۔ دولت کمانے کے چکر میں ہم نے اصل زیور و زینت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

دنیا ترقی پر پہنچ گئی ہے، لوگ چاند پر پہنچ گئے۔ یہ جملہ تو ہم بار بار سنتے ہیں۔ پر مسلمان کو ترقی کے لیے دنیا کے پیچھے بھاگنا یہ عقل مندی نہیں بلکہ بہت ہی اہم ضرورت علم دین حاصل کرنا ہے۔ اور اس میں خالص نیت کے ساتھ دل سے حاصل کرنا اور علما کی اہمیت سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

حدیثِ پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الأعمال بالنية، وإنما لامرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله، فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها، فهجرته إلى ما هاجر إليه

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارو مدار نیت پر ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔“ [صحیح بخاری]

مفہوم حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خالص نیت۔

ہم دین سیکھیں تو صرف رضائے الٰہی کے لیے۔ جب ہماری نیتوں میں پاکیزگی ہوگی تو دین ہمارے دل میں اترے گا۔ خواتین کی نسلوں میں اترے گا۔ ذمے دار مرد پیدا ہوں گے۔

عصرِ حاضر میں دین ہی ہمیں اصل راہ تک پہنچاتا ہے۔ عشقِ حقیقی کی اور لے جاتا ہے۔ اور اس دین کو ہمارے دل میں علمائے کرام ہی کے ذریعے نکھارتا ہے۔

ہم کچھ دنیاوی تعلیمات حاصل کر کے دنیاوی ٹیچر کو اپنا رہبر مان لیتے ہیں؛ لیکن اصل تاجدار تو ہمارے دین کے رہبر، علمائے کرام ہیں۔ وہ ہمیں دین کا زیور پہناتے ہیں۔ ہمیں اللہ اور اس رسول کی اطاعت کراتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بھی دنیاوی پڑھائی بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ دنیاوی پڑھائی شریعت کے دائرے میں رہ کر کی جائے تو ہماری دنیا، دین و آخرت سنور جائے۔

جب کہ ایک اہم بات ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عصرِ حاضر میں دنیاوی پڑھائی کا نظام ہر ۵ سال میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی سلیبس ہر سال یکساں طور پر قائم نہیں رہتا۔ اس میں وقت کی ضرورت کے مطابق کچھ گھٹایا بڑھایا جاتا ہے۔

یہاں غور فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کریم کی کتاب، جو پوری دنیا کے لیے زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے، اس میں رائی کے دانے کے برابر بھی شک ہوا تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ

ترجمہ کنزالایمان: یہ وہ بلند رتبہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں (یہ) ڈر والوں کے لیے ہدایت ہے۔ [البقرۃ: 2]

اسی آیت سے ہمیں بڑا درس حاصل کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عظیم کتاب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ تو مسلمانوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے قرآن مجید کا علم حاصل کرے۔ جس سے ہم دنیا میں صحیح راستے پر چل سکیں۔ ہم اس کریم رب العزت کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر سکیں کہ ہمارے عظیم معلم و رہبر ہیں۔

ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے علمائے کرام کو اپنا وارث قرار دیا ہے۔ اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ ہم تک دین صرف علما کے ذریعے ہی پہنچا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو جاننا ہے تو علما کے ذریعے ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنا ہمارا عین فرض ہے۔

علم وہ روشنی ہے کہ جو جہالت کے گھور اندھیرے سے نور دلوں میں ڈالتی ہے۔ اور اسی روشنی کے ذریعے ہمیں آخرت کا راستہ ملتا ہے۔ اور وہ ہمارے علما و مرشد کے ذریعے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری حدیث ہے:

وعن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يشفع يوم القيامة ثلاثة: الأنبياء، ثم العلماء، ثم الشهداء.

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن تین جماعتیں شفاعت کریں گی انبیاء، پھر علماء، پھر شہید لوگ۔ [ابن ماجہ]

علمائے کرام کو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت ملی ہے۔ اسی لیے ہمیں ان کی قدر جاننی اور ماننی ضروری ہے۔ علما کا مرتبہ اسلام میں باپ سے بھی اوپر رکھا ہے۔ جو ہمیں دنیا میں ڈھال بن کر گناہوں سے بچاتے ہیں اور آخرت میں سفارش کر کے دوزخ سے بچائیں گے۔

آپ ڈاکٹر بنیں، انجینئر بنیں، پروفیسر بنیں، چاہے دنیاوی کوئی بھی پوسٹ حاصل کریں پر پہلے مؤمن بنیں۔ دیندار بنیں تبھی کوئی دنیاوی پیسہ و شہرت آپ کو نفع بخش ہوگی؛ ورنہ کہاں ہلاکت میں پڑ جائیں گے ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوگا۔ دنیا و آخرت کو جوڑنے والی کڑی علم و علما ہے۔

علم دین سیکھنا ہر مؤمن مسلمان پر فرض ہے۔

اسی لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ڈاکٹر پروفیسر کے ساتھ ہم بھی عالم، مفتی، حافظ بنیں، اور اپنی آنے والی نسلوں تک ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا دین محفوظ کر لیں، تاکہ ہمارا حق ادا ہو جائے۔

سمجھدار بنیں، دین دار بنیں، ایماندار بنیں۔

اللہ کے فضل سے آپ کے گھر میں برکتیں ہوں گی، نسلیں پاک ہوں گی، اور پاک معاشرہ بنے گا۔ اور اسلام کا بول بالا بھی۔ ان شاء اللہ عزوجل۔

اللہ کریم ہمیں دین و علما کی صحیح معنیٰ میں قدر عطا فرمائے۔ علم حاصل کرنے والے بنائے، علما کی صحبت اختیار کرنے والے بنائے۔ آمین۔

۴ ذی الحجہ ۱۴۴۷ھ
بروز جمعہ
۲۲ مئی ۲۰۲۶ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!