| عنوان: | ایمان کی حفاظت |
|---|---|
| تحریر: | بنت محمد صدیق |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اللہ رب العالمین کا بے حد شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان جیسی عظیم اور بیش قیمت دولت سے نوازا۔ دینِ اسلام نہایت عظمت و شان والا دین ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہوتا ہے، انہیں دنیا میں ایمان کی نعمت نصیب ہوتی ہے، اور جو لوگ ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں وہی حقیقت میں خوش نصیب ہیں، جو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی و سعادت حاصل کرتے ہیں۔
لہٰذا اس عظیم نعمت کی حفاظت کرنا، اس کی قدر و قیمت کو پہچاننا، اور اس پر استقامت کے ساتھ قائم رہنا ہر مسلمان پر نہایت ضروری اور لازمی ہے۔
ایمان کی اہمیت اور اس کی حفاظت کے تعلق سے رب العزت قرآنِ مجید میں پارہ نمبر چار سورہِ آل عمران میں فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ [آل عمران: 102]
ترجمہِ کنز الایمان: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان۔“
تفسیر صراط الجنان میں ہے: کہ اللہ عزوجل سے ایسا ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے۔
یہ آیتِ مبارکہ ایمان کی حفاظت کا ایک نہایت اہم اور بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ”اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا رہے، اس کے احکام کی پابندی کرے اور گناہوں سے خود کو دور رکھے۔
حقیقی تقویٰ یہی ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن دونوں کو اللہ کی رضا کے مطابق بنا لے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے: ”اور ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“
اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی اس انداز سے گزارنی چاہیے کہ اس کا ایمان مضبوط اور محفوظ رہے۔ کیونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں، وہ کسی بھی لمحے آ سکتی ہے۔ لہٰذا ہر وقت ایمان کی حالت میں رہنے کی کوشش ضروری ہے۔
جب کوئی مسلمان مسلسل اللہ تعالیٰ کی اطاعت، عبادت اور دین پر استقامت اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید کی جا سکتی ہے کہ اسے ایمان کی حالت میں موت نصیب ہوگی۔
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ یعنی ہر بندہ اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس حالت میں اس کا انتقال ہوا۔ [صحیح مسلم، کتاب الجنۃ]
اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہے۔ اگر کوئی شخص کفر کی حالت میں مرے تو وہ اسی حالت پر اٹھایا جائے گا، چاہے اس نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ ایمان کے ساتھ گزارا ہو۔ اور اگر کوئی ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو تو وہ ایمان ہی پر اٹھایا جائے گا، اگرچہ اس کی سابقہ زندگی میں کفر رہا ہو۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ کی ہمیشہ دعا کرتے رہیں۔
ایمان کی حفاظت کے لیے سب سے پہلی اور بنیادی چیز ہمارے عقائد کا درست ہونا ہے۔ ہمیں دل کی گہرائیوں سے اس بات پر کامل یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ جب عقیدہ مضبوط ہوتا ہے تو ایمان خود بخود مضبوط اور مستحکم ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قرآنِ پاک کی ہر آیت پر غور و فکر کرنا چاہیے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا ارشاد فرما رہا ہے۔ قرآن میں تدبر کرنے سے نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایمان بھی تازہ اور مضبوط ہوتا ہے۔
نماز کی پابندی ایمان کو مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی طرح گناہوں سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ جھوٹ، غیبت، حسد اور دیگر برائیاں ایمان کو کمزور کر دیتی ہیں۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، اور اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جائے چاہے جان بوجھ کر ہو یا انجانے میں تو فوراً اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کریں اس عمل سے نہ صرف دل پاک ہوتا ہے بلکہ آخرت بھی سنور جاتی ہے۔
ایمان ایک عظیم نعمت ہے، جس کی حفاظت ہر حال میں ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ وہ ہمیں ایمان پر قائم رکھے اور ہمارا خاتمہ بھی ایمان ہی پر فرمائے۔
