Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تصورِ تعلیم

امام احمد رضا اور تصورِ تعلیم
عنوان: امام احمد رضا اور تصورِ تعلیم
تحریر: غلام مصطفیٰ رضوی
پیش کش: محمد صابر عطاری

امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی عالم و فقیہ، محدث و مفسر اور ادیب و شاعر تھے، علومِ عقلیہ و نقلیہ پر کامل دسترس رکھتے تھے، جدید و قدیم علوم و فنون میں یگانہ روزگار تھے اور ایک ماہرِ تعلیم بھی۔

آپ کی ولادت 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء کو شہر بریلی (یوپی) میں ایک معزز گھرانے میں ہوئی، والدِ ماجد مولانا نقی علی خاں بریلوی [م: 1297ھ / 1880ء] اپنے عہد کے عظیم مفتی اور صفِ اول کے مصنف و مصلح تھے۔ فقاہت میں بلند پایہ مقام رکھتے تھے، اپنے والد مولانا رضا علی خان بریلوی [م: 1282ھ / 1866ء] کی طرح انگریزوں سے سخت نفرت رکھتے تھے، امام احمد رضا نے جملہ علوم و فنون کی تحصیل اپنے والدِ ماجد اور گھریلو اتالیق سے کی، بعض علما سے استفادہ فرمایا جن میں مولانا سید ابوالحسین احمد نوری مارہروی [م: 1906ء] اور مولانا عبدالعلی رامپوری [م: 1885ء] سرفہرست ہیں، بعض ابتدائی درس مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی [م: 1917ء] سے لیے بعد میں وہ خود امام احمد رضا سے استفادہ کرنے لگے۔

امام احمد رضا علوم و فنون کے بحرِ بیکراں تھے، اپنے 54 علوم کا تذکرہ خود فرمایا، اکیس علوم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کیے، وہ علوم جو اساتذہ سے نہیں پڑھے لیکن نقاد علماے کرام سے اجازت حاصل فرمائی دس شمار ہوتے ہیں، وہ علوم جنہیں کتب بینی اور فکر و نظر کے استعمال سے حل فرمایا ان کی تعداد چودہ ہے، اسی طرح نو علوم اور شمار کرائے ہیں جن کی تعلیم بھی کسی استاذ سے نہیں لی، عصرِ جدید میں علم و فن کا شہرہ ہے لیکن خود نمائی و جاہ طلبی کا عنصر غالب آگیا ہے، فخر و غرور کا یہ عالم کہ ایک علم میں درک رکھنے والا دوسروں کو حقیر گمان کرتا ہے، گویا علم کا حصول بھی ”برتری“ کے جذبہ کے تحت کیا جا رہا ہے، امام احمد رضا 54 علوم کے جاننے والے ہی نہیں بلکہ ان علوم کے ہر جزیے اور پہلو پر تعمق رکھتے تھے، اسے اللہ عزوجل کی عنایت سمجھتے تھے اور تشکر بجالاتے، ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

”میرا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ ان (علوم) میں اور ان کے علاوہ دیگر حاصل کردہ فنون میں بہت بڑا ماہر ہوں، میں تو اپنی انتہائی کوشش یہ سمجھتا ہوں کہ ان علموں سے کچھ حصہ نصیب ہوا ہے، اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ مزید برکت فرمائے، میں سمجھتا ہوں کہ ہر فن کے معمولی طالب علم کو مجھ پر غلبہ ہے لیکن مولیٰ سبحانہ وتعالیٰ جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے جسے چاہتا ہے گراتا ہے۔“ [1]

دار العلوم منظرِ اسلام کا قیام اور درس و تدریس

امام احمد رضا نے درسیات سے فراغت کے بعد ہی منصبِ افتا کو زینت بخشی، کچھ عرصہ طلبہ کو پڑھایا پھر تصنیف و تالیف اور کثرتِ کار کے سبب تدریس کا سلسلہ منقطع ہو گیا البتہ مخصوص شاگردوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رہا، اس لحاظ سے آپ کے تلامذہ ہند و پاک، بنگلہ دیش، حجازِ مقدس اور عرب و افریقہ میں پھیلے ہوئے ہیں، 1322ھ / 1904ء میں شہر بریلی میں آپ نے ”دارالعلوم منظرِ اسلام“ قائم فرمایا، فرزندِ اکبر مولانا محمد حامد رضا خاں [م: 1943ء] اس کے مہتممِ اول مقرر ہوئے، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رقم طراز ہیں:

”امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے تحریر کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ تدریس کو بھی ذریعہ تعلیم و تبلیغ بنایا، وہ دار العلوم منظرِ اسلام کے بانی تھے انہوں نے یہ دار العلوم اس وقت قائم کیا جب دشمنِ اسلام حاکموں نے سنی مسلمانوں کے لیے عرصۂ حیات تنگ کر رکھا تھا، ایک مثالی دینی مدرسے کے بانی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اخلاص ہو، وہ فکرِ صحیح کا مالک ہو، تعلیم کے بارے میں اس کے نظریات واضح اور مفید ہوں، جب ہم امام احمد رضا کی حیات و تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں ہم کو ان کے ہاں یہ ساری خوبیاں نظر آتی ہیں اور دل گواہی دیتا ہے کہ کسی بھی مثالی دینی ادارے کا بانی ہو تو ایسا ہو۔“ [2]

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے مطابق امام احمد رضا نے درسیات سے فراغت کے بعد گھر پر ہی چند سال طلبہ کو پڑھایا پھر کچھ عرصہ دار العلوم منظرِ اسلام میں بھی پڑھایا اور بعد میں گوناگوں علمی مصروفیات کی وجہ سے گھر پر صرف مخصوص طلبہ کو مخصوص علوم و فنون کا درس دیتے رہے۔

تصورِ نصاب

عظیم اللہ جندران، ایم اے اردو جامعہ پنجاب (لاہور) ایم، ایڈ اسلامیہ یونیورسٹی (بہاولپور) نے تعلیمی ادارے کے نصاب کی تشکیل کے حوالے سے امام احمد رضا کے تصورِ نصاب کے ضمن میں جو نتائج اخذ کیے ہیں اور خصوصیات بیان کی ہیں اس کے نکات کچھ اس طرح ہیں:

  1. نصاب کی سب سے اہم خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ نظریہ حیات کے مطابق تیار کیا گیا ہو اس میں کوئی بھی ایسی چیز شامل نہ ہو جو نظریہ حیات سے متصادم ہو۔
  2. نصاب جامع ہو اور طلبہ کی نفسیاتی ضرورتوں کو پورا کرے۔
  3. بے سود وقت کو ضائع کرنے والی تعلیم کسی کام کی نہیں، نصاب معاشرتی ضرورتوں کا آئینہ دار ہو۔
  4. نصاب میں تربیتی عنصر بھی شامل ہو۔
  5. نصاب عصری تقاضوں کے مطابق ہو لیکن دینِ متین کی بنیادوں پر استوار ہو۔
  6. آپ کے مطابق مروجہ سائنسی نظریات کو اسلامی نظریات کی روشنی میں پرکھ کر ہی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔
  7. نصاب اطاعت و حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہو۔
  8. نصاب عملاً قابلِ قبول ہو، کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مفید تعلیم دی جائے۔
  9. نصاب کی تیاری کے دوران مقصدیت بھی پیش نظر ہو اور وہ دین فہمی ہو۔
  10. ہر وہ علم و فن جو دین سے برگشتہ و غافل کرے اس سے دین و ایمان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اسے شاملِ نصاب نہیں ہونا چاہیے۔

ریسرچ اسکالر عظیم اللہ جندران لکھتے ہیں کہ:

”امام احمد رضا خاں کا تصورِ نصاب جو ایک طرف تو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے تو دوسری طرف قومی تعلیمی پالیسی کے گراں قدر رہنما اصولوں سے بھی مزین ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وسعتِ علمی کے تحت آپ کے تجویز کردہ نصابی ماڈلز کو بھی ٹیچرز ٹریننگ اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز کے کورسز میں شامل کیا جائے تاکہ اس عظیم اسلامی مفکرِ تعلیم کے علمی ورثہ سے استفادہ کر سکیں۔“ [3]

ابتدائی تعلیم کا نصابِ تربیت

سلیم اللہ جندران ریسرچ اسکالر پنجاب یونیورسٹی (لاہور) فتاویٰ رضویہ جلد دہم کے حوالہ سے رقم طراز ہیں:

امام احمد رضا خاں ابتدائی تعلیم کا نصاب نہایت تصریح و وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں:

  1. زبان کھلتے ہی اللہ اللہ، پھر پورا کلمہ لا الہ الا اللہ سکھائے۔
  2. جب تمیز آئے آداب سکھائے، کھانے پینے، ہنسنے بولنے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، حیا، لحاظ، بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ استاد اور دختر کو شوہر کی بھی اطاعت کے طرق و آداب بتائے۔
  3. قرآنِ مجید پڑھائے۔
  4. بعد ختمِ قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔
  5. عقائدِ اسلام و سنت سکھائے۔
  6. حضور اقدس رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم ان کے دل میں ڈالے۔
  7. حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے آل و اصحاب و اولیا و علما کی محبت و عظمت کی تعلیم دے۔
  8. سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے۔
  9. علمِ دین خصوصاً وضو، غسل، نماز، روزہ کے مسائل سکھائے۔
  10. توکل، قناعت، زہد، اخلاص، تواضع، امانت، صدق، عدل، حیا، سلامتِ صدر و لسان وغیرہ خوبیوں کے فضائل بتائے۔
  11. حرص و طمع، حبِ دنیا، حبِ جاہ، ریا، عجب، خیانت، کذب، ظلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہ برائیوں کے رذائل پڑھائے۔
  12. زمانہ تعلیم میں ایک وقت کھیلنے کا بھی دے کہ طبیعت پر نشاط باقی رہے۔
  13. زنہار زنہار بری صحبت میں نہ بیٹھنے دے کہ یارِ بد مارِ بد سے بدتر ہے۔“ [4]

چوں کہ نصابِ تعلیم میں معلم (استاذ) کا کردار کلیدی ہوتا ہے اور ابتدائی درس کے اثرات مستقبل کے لیے معاون ہوتے ہیں اس لیے ابتدائی تعلیم میں تعمیرِ شخصیت کے پہلو کو کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا، طالبِ علم اور تربیتِ اولاد کے ضمن میں سلیم اللہ جندران تحریر فرماتے ہیں:

”مدرسہ میں استاذ کی شخصیت، گھر میں ماں باپ کی طرح بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ دار ہوتی ہے، امام احمد رضا خاں 5 تا 6 سال کی عمر کے بچوں کے اسکول مدرسہ/ ایجوکیشن کے آغاز پر والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ والد ”بچے کو نیک، صالح، متقی، صحیح العقیدہ اور عمر رسیدہ استاد کے سپرد کرے اور بیٹی کو نیک، پارسا عورت سے پڑھوائے“ اگرچہ آج کل کے حالات میں بچوں کے لیے نیک، متقی، صحیح العقیدہ اور عمر رسیدہ (کہنہ مشق / تجربہ کار) استاد کا مل جانا نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں ہے اور عام حالات میں نہایت کٹھن کام ہے، بچوں کی تعلیم کے ضمن میں والدین اگر اس قدر دلچسپی لیں تو ان کے بچوں کی یقیناً بہتر شخصیت کی تعمیر ممکن ہے۔“ [5]

استاذ کا مقام اور ادب و احترام

جس طرح جسمِ انسانی میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اسی طرح پورے نظامِ تعلیم میں استاذ کی حیثیت ہوتی ہے، نصاب کتنا ہی عمدہ ہو لیکن اس کی تدریس بہتر نہ ہو تو نتائج منفی ظاہر ہوتے ہیں، استاذ کے بغیر تربیت کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے، متعلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ استاذ کی عزت اور ادب و احترام کو ملحوظ رکھے، اس کی عظمت کو مانے کہ بغیر اس کے تعلیم کا فیض حاصل نہیں ہوتا، امام احمد رضا نے استاذ کے وقار، ادب، احترام اور مقام کی وضاحت فرمائی ہے جسے نکات کی صورت میں تحریر کیا جاتا ہے:

  1. استاذ کا شاگرد پر ایک سچا حق ہے برابر اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور اس کی بات کو رد نہ کرے۔
  2. اپنے استاذ کے حقوقِ واجب کا لحاظ رکھے اپنے مال میں کسی چیز سے اس کے ساتھ بخل نہ کرے۔ یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضر کرے اور اس کے قبول کر لینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت جانے۔
  3. استاذ کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے۔
  4. جس نے اسے اچھا علم سکھایا اگرچہ ایک ہی حرف پڑھایا ہو اس کے لیے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے۔
  5. اپنے استاذ پر کسی کو ترجیح نہ دے اگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام کے رشتوں سے ایک رسی کھول دی۔
  6. استاذ کی تعظیم سے ہے کہ وہ اندر ہو اور یہ حاضر ہوا تو اس کے دروازہ پر ہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے۔
  7. عالمِ دین ہر مسلمان کے حق میں عموماً اور استادِ علمِ دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصاً نائبِ حضور پر نور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ہاں اگر وہ کسی خلافِ شرع بات کا حکم کرے ہرگز نہ مانے کہ لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى (اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں) مگر اس نہ ماننے میں گستاخی و بے ادبی سے پیش نہ آئے فَإِنَّ الْمُنْكَرَ لَا يُزَالُ بِمُنْكَرٍ (گناہ کا ازالہ گناہ سے نہیں ہوتا)“ [6]

ضابطہ اخلاق اور تصورِ سزا

فی زمانہ مخربِ اخلاق تعلیم و تعلم کا دور دورہ ہے، ایسے میں اخلاق کے جوہر کا پایا جانا مشکل ہے، اسلام نے اخلاق کو تربیت میں بنیادی حیثیت دی ہے اور اسے علم کا لازمی حصہ بنا دیا ہے، استاذ دورانِ درس متعلم کی اصلاح کے لیے اور اس کے تعلیمی ذوق کو بڑھانے کے لیے سزا دینے کا مجاز ہے لیکن اس کے لیے بھی ضابطہ اخلاق اور اصول مدِ نظر رہیں، سلیم اللہ جندران رقم طراز ہیں:

”امام احمد رضا خان بریلوی [1310ھ] فتاویٰ رضویہ جلد دہم، باب دہم، علم التعلیم اور عالم و متعلم میں استاد کے لیے یہ ضابطہ اخلاق دیتے ہیں: (استاذ) پڑھانے سکھانے میں رفق و نرمی ملحوظ رکھے موقع پر چشم نمائی، تنبیہ و تہدید کرے مگر کوسنا نہ دے کہ اس کا کوسنا ان کے لیے سببِ اصلاح نہ ہوگا بلکہ زیادہ فساد کا اندیشہ ہے، مارے تو منہ پر نہ مارے اکثر اوقات تہدید و تخویف پر قانع رہے کوڑا قمچی اس کے پیشِ نظر رکھے کہ دل میں رعب رہے ”امام احمد رضا خاں تدریس میں نرمی اور حکمت کے ذریعے ضبط قائم کرنے پر زور دیتے ہیں۔“ [7]

19 شوال المکرم 1315ھ کو مولانا خلیل احمد خاں پیشاوری نے فارسی میں ایک سوال بھیجا جس میں امام احمد رضا سے پوچھا کہ استاد اپنے شاگرد کو بدنی سزا دے سکتا ہے یا نہیں؟ اس کے جواب (بزبانِ فارسی) کے اردو ترجمے کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں:

”ضرورت پیش آنے پر بقدرِ حاجت تنبیہ، اصلاح اور نصیحت کے لیے بلا تفریقِ اجرت و عدمِ اجرت استاذ کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہیے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے۔“ [8]

علومِ عقلیہ و سائنس کی تحصیل

اسلام کے نزدیک ان تمام علوم کا حاصل کرنا اور درس لینا جائز ہے جو حدودِ شرع میں ہوں اور مضر نہ ہوں، ماہرینِ تعلیم نے تعلیمی نظریات کو تین خانوں میں تقسیم کیا ہے: (1) اشتراکی (2) جمہوری (3) اسلامی۔ اشتراکی نظامِ تعلیم مادیت پر بحث کرتا ہے، اس میں مذہب کے لیے کوئی جگہ نہیں، جمہوری نظامِ تعلیم مملکت میں بسنے والے تمام مذاہب میں مساوات اور تہذیبی اشتراک کو مدنظر رکھ کر تشکیل پاتا ہے عموماً اس میں مذہبی تعلیم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

لہٰذا ان دونوں نظام ہائے تعلیم میں مذہبی روح کا پاس و لحاظ نہیں، اسلامی نظامِ تعلیم میں انسانی زندگی کے تمام گوشوں کا احاطہ کر لیا جاتا ہے حتیٰ کہ گود سے گور تک تعلیم و تربیت کا اہتمام اسلام نے کر رکھا ہے، حیات کا کوئی گوشہ تشنہ اور محروم نہیں، اسلام! جہالت، جور و ستم، منافرت و عداوت جیسے غیر انسانی رویوں کا خاتمہ کر کے ایک ذمہ دار شہری تیار کرتا ہے۔

علم کے ساتھ اصول و قانون اور ضابطہ کا ہونا لازمی و ضروری ہے، علم کے دو رخ ہیں، منفی و مثبت، قانون و ضابطہ راحت و طمانیت کو راہ دیتا ہے اس کی صورت مثبت پہلو کے قیام سے یقینی ہے مثلاً سائنس کو دیکھیں اسے انسانی زندگی کی بقا و آسائش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور جوہری توانائی کو اسیر بنا کر آبادیوں میں منتشر کر کے حیاتِ انسانی کے خاتمہ کے لیے بھی، اسلام ہر علم کے لیے قانون فراہم کرتا ہے اور سلامتی کے پیغام کو فائق رکھتا ہے، امام احمد رضا تمام علوم کو دینِ حق کے زاویے سے دیکھتے تھے، آپ کے نزدیک انہیں علوم کی تعلیم دی جائے جو دین و دنیا میں کام آئیں، غیر مفید اور غیر ضروری علوم کو نصاب سے خارج کر دیا جائے۔

سائنس و فلسفہ جو اشتراکی و جمہوری نظام ہائے تعلیم کے زیرِ اثر پروان بڑھتے ہیں، عموماً اس میں مذہب کی رو رعایت نہیں ہوتی، ایسے ایسے نظریات پڑھائے جاتے ہیں جو مذہبی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے اور فکری انتشار کو راہ دیتے ہیں، امام احمد رضا ایسے علم کو مضر قرار دیتے ہیں اور اسے ”علم“ تسلیم نہیں کرتے، لکھتے ہیں: ”ہیہات ہیہات (افسوس افسوس) اسے علم سے کیا مناسبت، علم وہ ہے جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ ہے، نہ وہ جو کفارِ یونان کا پس خوردہ، اسی طرح وہ ہیئت جس میں انکارِ وجودِ آسمان و تکذیبِ گردشِ سیارات وغیرہ کفریات و امورِ مخالفِ شرع تعلیم کیے جائیں وہ بھی مثلِ نجوم حرام و ملوم اور ضرورت سے زائد حساب یا جغرافیہ وغیرہما داخلِ فضولیات ہیں۔“ [9]

برطانوی انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون [م: 1998ء] نے اپنے مقالہ ”امام احمد رضا کی عالمی اہمیت“ میں یہ تاثر دیا ہے کہ:

آپ کا نظریہ تھا کہ سائنس کو کسی طرح بھی اسلام سے فائق اور بہتر تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی اسلامی نظریے، شریعت کے کسی جز یا اسلامی قانون سے گلو خلاصی کے لیے اس کی کوئی دلیل مانی جا سکتی ہے، اگرچہ وہ خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تھا آپ اسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے تھے۔ [10]

امام احمد رضا قرآنِ عظیم سے فیض پاتے، احادیثِ نبوی سے اکتساب کرتے اور انہیں کی روشنی میں علوم کو جانچتے اور پرکھتے جس کو ان کے مطابق پاتے تسلیم کرتے اور جسے مخالف پاتے اس کی شدت سے مخالفت کرتے اس میں کسی طرح کی لچک کے قائل نہ تھے، آپ سائنس کو قرآنِ مقدس کی روشنی میں پرکھنے کے قائل تھے، اس لیے آپ سائنس کی تعلیم کی مشروط اجازت دیتے ہیں کہ سائنس اور مفید علومِ عقلیہ کی تحصیل میں مضائقہ نہیں مگر ہیئتِ اشیا سے زیادہ خالقِ اشیا کی معرفت ضروری ہے۔ [11]

ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

”مطلقاً علومِ عقلیہ کی تعلیم و تعلم کو ناجائز بتانا یہاں تک کہ بعض مسائلِ صحیحہ مفیدہ عقلیہ پر اشتمال کے باعث توضیح و تلویح جیسے کتبِ جلیلہ عظیمہ دینیہ کے پڑھانے سے منع کرنا سخت جہالتِ شدیدہ و سفاہتِ بعیدہ ہے۔“ [12]

امام احمد رضا ضروریاتِ دین کا علم حاصل کر لینے کے بعد دیگر علوم کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور ان علوم کے حصول کو مباح قرار دیتے ہیں جن سے واجبِ شرعی میں خلل نہ آئے۔ آپ لکھتے ہیں:

”ہاں جو شخص ضروریاتِ دینِ مذکورہ سے فراغت پا کر اقلیدس، حساب، مساحت، جغرافیہ وغیرہما وہ فنون پڑھے جن میں کوئی امرِ مخالفِ شرعی نہیں تو ایک مباح کام ہوگا جب کہ اس کے سبب کسی واجبِ شرعی میں خلل نہ پڑے۔“ [13]

ایک اور مقام پر رقم طراز ہیں:

”اگر جملہ مفاسد سے پاک ہو تو علومِ آلیہ مثل ریاضی و ہندسہ و حساب و جبر و مقابلہ و جغرافیہ و امثالِ ذلک ضروریاتِ دینیہ سیکھنے کے بعد سیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں کسی زبان میں ہو اور نفسِ زبان کا سیکھنا کوئی حرج رکھتا ہی نہیں۔“ [14]

انگریزی زبان سیکھنا

امام احمد رضا کے مطابق کسی بھی زبان کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن مقصد دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ ہو اور عقائد محفوظ و سلامت رہیں، ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

”ایسی انگریزی پڑھنا جس سے عقائد فاسد ہوں اور جس سے علمائے دین کی توہین دل میں آئے، انگریزی ہو خواہ کچھ ہو ایسی چیز پڑھنا حرام ہے۔“ [15]

استعماری قوتوں نے مسلمانوں کے علم و فن سے رشتے کو کمزور کرنے کے لیے ایسے نصاب تشکیل دے لیے جن سے اسلامی سوچ و فکر میں واضح تبدیلی آئی۔ عقائد میں انتشار برپا ہوا، آنربیل ایم ایلفنسٹن اور آنربیل ایف وارڈن نے 1823ء / 1238ھ کو جو ایک متفقہ یادداشت (انگریز) گورنمنٹ کو پیش کی تھی اس سے بھی مغربی نظامِ تعلیم کے اجرا کے استعماری مقاصد عیاں ہوتے ہیں، اس یادداشت کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”ہماری فتوحات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس نے نہ صرف ان کی عملی ترقی کی ہمت افزائی کے لیے تمام ذرائع کو ہٹایا ہے بلکہ حالت یہ ہے کہ قوم کے اصلی علوم بھی کم ہو جانے کا اندیشہ ہے اس الزام کو دور کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔“ [16]

امام احمد رضا محدث بریلوی نے اپنے تعلیمی تصورات (جن کی بنیاد مضبوط و مستحکم اسلامی عقائد و تعلیمات پر ہے) کو مقصدیت سے جوڑ کر تعمیرِ شخصیت کا واضح اصول مقرر فرما دیا وہ یہ کہ علومِ جدیدہ ہوں یا دیگر علوم و فنون وہ اسلامی فکر و خیال کو پروان چڑھاتے ہوں اور حق شناسی کا جوہر عطا کرتے ہوں ان کا حصول بلا شبہ کیا جانا چاہیے، آج ضرورت ہے کہ امام احمد رضا کی پیش کردہ تجاویز و تعلیمی افکار کو فروغ دیا جائے تاکہ مسلمانوں کے تعلیمی انحطاط و زوال کی تیرگی دور ہو اور سویرا نمودار ہو۔

مصادر و مراجع

  • [1] احمد رضا خاں، امام، الاجازات المتینة لعلماء بکۃ والمدینہ مشمولہ رسائلِ رضویہ، مطبوعہ ادارہ اشاعتِ تصنیفات رضا بریلی، ص: 163
  • [2] محمد مسعود احمد، پروفیسر ڈاکٹر، دار العلوم منظرِ اسلام، مطبوعہ ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی 2001، ص: 6-7
  • [3] عظیم اللہ جندران، امام احمد رضا کا تصورِ نصاب، مشمولہ یادگارِ رضا 2004، مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی، ص: 106 تا 128
  • [4] ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، نومبر 2005ء، ص: 41
  • [5] معارف رضا سالنامہ 2003، کراچی، مقالہ تعمیرِ شخصیت اور تربیتِ اولاد کا اسلامی نفسیاتی ماڈل، ص: 82، 83
  • [6] احمد رضا خاں، امام، فتاویٰ رضویہ (جدید)، جلد: 23، مطبوعہ مرکزِ اہلسنت برکاتِ رضا پور بندر گجرات، ص: 637 تا 639
  • [7] ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، نومبر 2000ء، ص: 43-44
  • [8] احمد رضا خاں، امام، فتاویٰ رضویہ (جدید)، جلد: 23، مطبوعہ مرکزِ اہلسنت برکاتِ رضا پور بندر گجرات، ص: 652
  • [9] ایضاً، ص: 628-629
  • [10] محمد ہارون، ڈاکٹر، امام احمد رضا کی عالمی اہمیت، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں، ص: 8-9
  • [11] محمد مسعود احمد، پروفیسر ڈاکٹر، دارالعلوم منظرِ اسلام، مطبوعہ ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی 2001، ص: 10
  • [12] احمد رضا خاں، امام، فتاویٰ رضویہ (جدید)، جلد: 23، مطبوعہ مرکزِ اہلسنت برکاتِ رضا پور بندر گجرات، ص: 634
  • [13] ایضاً، ص: 648
  • [14] ایضاً، ص: 706
  • [15] احمد رضا خاں، امام، فتاویٰ رضویہ (قدیم)، جلد: 6، مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی، ص: 24
  • [16] ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، فروری 2001ء، ص: 40-41

ماہنامہ سنی دنیا جون 2018، ص: 21 تا 26

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!