| عنوان: | روزہ! طبی اور روحانی فوائد کا سرچشمہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
روسی ماہرِ ابدان پروفیسر این نکٹین نے لمبی عمر سے متعلق ایک اکسیر دوا کے انکشاف کے سلسلے میں لندن میں 22 مارچ 1940ء کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذیل کے تین اصولِ زندگی اپنا لیے جائیں تو بدن کے زہریلے مواد خارج ہو کر بڑھاپا روک دیتے ہیں:
- خوب محنت کیا کرو، ایک ایسا پیشہ جو انسان کو مشغول رکھے جسم کے رگ و ریشہ میں تروتازگی پیدا کرتا ہے، بشرطیکہ ایسا شغل ذہنی طور پر بھی قوت بخش ہو، اگر تمہیں اپنا کام پسند نہیں تو فوراً ترک کر دینا چاہیے۔
- کافی ورزش کیا کرو، بالخصوص زیادہ چلنا پھرنا چاہیے۔
- غذا جو تم پسند کرو کھایا کرو لیکن ہر مہینہ میں کم از کم فاقہ ضرور کیا کرو۔
ہر سلیم الفطرت آدمی اچھی اور بری چیز کو جانتا ہے لیکن بہت سے لوگوں کے ارادے کی کمزوری پرخطر لذت کوشی کا سبب بنتی ہے، خواہشات کا طوفان روکنے کے لیے ارادے کی پختگی بہت ضروری ہے، روزہ ارادے کی تقویت کے لیے بہترین عملی مشق ہے، آدمی کا دیر تک کھانے پینے سے رکا رہنا اسے محنت و مشقت برداشت کرنے کا عادی بناتا ہے، زندگی کوئی باغِ جنت نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا میدان ہے جس میں مقاصد کی تکمیل کے لیے پیہم مقابلہ جاری رہتا ہے، اس میں رکاوٹیں بھی پیش آتی ہیں، اس میں عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کی ضرورت پڑتی ہے، یہ چیز طاقت و ارادے کے بغیر ممکن نہیں، روزے میں قوتِ ارادی کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھوک اور پیاس کی شدت سے خواہش اور عقل کے درمیان ایک معرکہ برپا ہو جاتا ہے جس سے قوتِ ارادی کو تقویت ملتی ہے۔
جرمن عالم جیہمارڈٹ نے قوتِ ارادی پر ایک کتاب لکھی ہے، انہوں نے روزے کو قوتِ ارادی پیدا کرنے کے لیے ایک بنیادی عمل قرار دیا، اس کے ذریعے ابھرنے والی خواہشات پر قابو حاصل ہوتا ہے، اس کی سالانہ تکرار ارادے کو کمزوری سے محفوظ کرتی ہے اور پختگی حاصل ہوتی ہے، انہوں نے ان لوگوں کی مثال دی جنہوں نے سگریٹ نوشی چھوڑی، سب سے پہلے انہیں پورے دن سگریٹ چھوڑنی پڑی، جس سے ان میں اسے چھوڑنے کا جذبہ پیدا ہوا، پھر انہوں نے ہمیشہ کے لیے بھی اسے چھوڑ دیا۔
روزہ اور موافقتِ ملائکہ
امام المحققین حضرت علامہ نقی علی خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ایک فائدہِ جلیلہ روزہ میں موافقتِ ملائکہ ہے کہ جس طرح فرشتے کھانے پینے سے پاک ہیں، اسی طرح روزہ دار بھی کھانا پینا ترک کرتا ہے بلکہ درحقیقت یہ بات اس سے زیادہ ہے کہ فرشتے اصل فطرت میں کھانے پینے سے مستغنی ہیں، نہ ان کو بھوک لگے نہ پیاس ستائے، بخلاف مسلمان کے، باوجود احتیاج صرف بتعمیلِ حکمِ پروردگار کھانا پینا ترک کرتا ہے، گویا مضمون إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اس عبادت سے آشکارا ہے کہ اگر تم اپنی تسبیح و تقدیس پر نظر رکھتے ہو یہ مشتِ خاک باوجود ہزاروں موانع کے ہماری تسبیح و تقدیس بجا لائیں گے، اگر تم اپنی عصمت و پاکی کو دستاویزِ فضیلت سمجھتے ہو، ان کی طہارت پر نظر کرو کہ باوجود احتیاج کھانا پینا ترک کرتے ہیں اور ہماری راہ میں کیسی کیسی محنت و مشقت گوارا کرتے ہیں، اگر فساق ان کی خونریزی کرتے ہیں عشاق ان کی آنکھوں سے خونِ دل ہمارے شوق میں جاری رکھتے ہیں۔ [جواہر البیان، ص: 67-68]
نیز ایک دوسری جگہ یوں رقم طراز ہیں: اے عزیز! روزہ اصل اکثر اخلاق کا ہے، خوفِ پروردگار کا روزہ سے زیادہ ہوتا ہے، آدمی جب بھوک پیاس کی شدت پاتا ہے، سمجھتا ہے کہ ایک دن کی بھوک پیاس میں باوجود اس کے کہ مکان سایہ دار اور ہوا سرد اور اسبابِ آرام موجود ہیں، یہ حال ہو گیا، دوزخ کی بھوک پیاس اور قیامت میں قیامت کی تشنگی و گرسنگی باوجود ان مصائب کے کس سے اٹھائی جائے گی اور رحم و رقت و سخاوت زیادہ ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا حقائق و شواہد سے یہ امر بالکل واضح ہو گیا کہ اسلامی تعلیمات و احکامات انسان کے لیے دنیوی اور اخروی دونوں اعتبار سے بے شمار فوائد و برکات کا سرچشمہ ہیں، روزہ ہی کو دیکھ لیں یہ ایک طرف خوشنودیِ مولیٰ کے حصول کا سبب ہے تو دوسری طرف انسانی جسم کو طبی فیضان سے ہمکنار کرتا ہے، مولائے کریم ہمیں رمضان المبارک اور روزے کے فوائد و برکات سے مالا مال فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
