Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلامی سزاؤں پر شکوک و شبہات اور ان کا ازالہ

اسلامی سزاؤں پر شکوک و شبہات اور ان کا ازالہ
عنوان: اسلامی سزاؤں پر شکوک و شبہات اور ان کا ازالہ
تحریر: مولانا عامر حسین مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

نظامِ عالم کو چلانے اور معاشرے کو نظم و نسق کے ساتھ منضبط کرنے اور جوڑنے کے لیے اصول و ضوابط اور قوانین کی ضرورت پڑتی ہے تا کہ معاشرہ پرسکون ہو اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو انصاف مل سکے، دنیا کے تمام ممالک اور مذاہب اصول و ضوابط اور قاعدے قانون کے تحت ہی چل رہے ہیں بغیر اس کے ملکی، مذہبی اور معاشرتی زندگی نامکمل، ناپائیدار سی ہو جاتی ہے، مذہبِ اسلام جو خدائی اور آفاقی مذہب ہے، انسانی زندگی کے لیے سراپا خیر و برکت اور رحمت ہی رحمت ہے وہ بھلا بغیر ضابطے کے کیسے ہو سکتا ہے بلکہ اسلامی قوانین میں تو مکمل نظامِ حیاتِ انسانی کے اصول مضمر ہیں اور ایسے کامل ترین ہیں کہ دوسروں کو بھی کامل بنا دیتے ہیں۔ مگر دشمنانِ اسلام کی اسلام کے خلاف مسلسل سازشوں اور حسد و جلن کی بنا پر لوگوں کے دل شکوک و شبہات میں مبتلا ہورہے ہیں کیوں کہ وہ آئے دن اسلامی حدود و تعزیرات پر نکتہ چینی کرتے ہیں کبھی نکاح و طلاق کے قوانین، کبھی حجاب، کبھی سنگ ساری و قصاص اور حدِ قذف وغیرہ ان کے نشانوں پر ہوتے ہیں اور ان چیزوں کا صرف ایک ہی بناوٹی اور گڑھا ہوا رخ پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ہمارا فرضِ منصبی ہے کہ ان کے باطل افکار و نظریات کا پردہ چاک کریں تا کہ سیاہ بادل چھٹیں اور قوانینِ اسلام روشن و تاباں ہوں، ذیل میں ہم اُن کے اعتراضات مع جواب قلم بند کرتے ہیں امید ہے کہ قارئین اس سے اکتساب کی سعی کریں گے۔

نقد و نظر

نوٹ: سب سے پہلے یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ اسلامی حدود و تعزیرات کا نافذ کرنا بادشاہِ اسلام یا اُس کی طرف سے منتخب کردہ حاکمِ اسلام یا قاضیِ اسلام کا ہی حق ہے۔ ہر کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے کر سزا نافذ نہیں کر سکتا ورنہ جرائم اور زیادہ بڑھیں گے۔

قصاص و دیت پر ہونے والے اعتراض کا جائزہ

اعتراض: غیر مسلموں اور مستشرقین کی جانب سے پوری شد و مد کے ساتھ یہ آواز بلند کی جاتی ہے کہ اسلام میں قتل کے بدلے میں قتل ہے جو ایک وحشیانہ اور ظالمانہ قانون ہے کیوں کہ جب ایک زندگی کو قتل کیا جا چکا تو اس کے بدلے میں مزید اور ایک زندگی کیوں دی جائے؟ اس کا کیا فائدہ ہوگا؟

جواب: قصاص کی حکمتیں اور اس کی مصلحتیں جاننے سے پہلے قصاص کے معنی و مفہوم کو سمجھ لیں، اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو خوش دلی سے بدلہ کراوے (خوشی سے خود کو قصاص کے لیے پیش کر دے) تو وہ اس کا گناہ اُتار دے گا اور جو اللہ کے اُتارے پر حکم (فیصلہ) نہ کرے تو وہی ظالم ہیں۔ (پارہ ۶ سورہ مائدہ، آیت نمبر ۴۵)

بنی اسرائیل (قوم یہود) پر اللہ رب العزت نے توریت کے اندر مذکورہ سزاؤں کو مقرر فرمایا قرآنِ مقدس میں بغیر انکار اور بغیر منسوخی کے بیان ہوا تو شریعتِ سابقہ کا یہ حکم مسلمانوں کے اوپر بھی نافذ ہوا اور شریعت کا ایک قانون بن گیا، اس آیت کریمہ میں نقصان کے بقدر قصاص (بدلہ) کا حکم ہے، لہٰذا کوئی کسی کو قتل کر دے تو اس قتل کی فقہائے امت نے پانچ اقسام بیان فرمائی ہیں۔ (۱) قتلِ عمد (۲) قتلِ شبہ عمد (۳) قتلِ خطا (۴) قتلِ قائم مقام خطا (۵) قتل بالسبب۔

  • قتلِ عمد: کسی انسان کو قاتل نے جان سے مارنے کا ارادہ کیا اور ایسے ہتھیار سے مار ڈالا جو قتل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، مثلاً تلوار، نیزہ، بندوق، توپ یا جو قتل کرنے والے آلہ کے قائم مقام ہو جیسے دھار دار لکڑی یا پتھر اور آگ۔
    سزا: (۱) گناہِ کبیرہ۔ (۲) قصاص یعنی بدلے میں قتل! مگر یہ کہ مقتول کے اولیا معاف کر دیں۔ (۳) میراث سے محرومی۔
  • قتلِ شبہ عمد: جان بوجھ کر قتل تو کرے مگر اسلحہ یا جو اسلحہ کے قائم مقام چیز ہو اس سے قتل نہ کرے بلکہ لاٹھی یا پتھر سے مار ڈالے۔
    سزا: (۱) مجرم گناہِ کبیرہ کا مرتکب۔ (۲) کفارہ۔ (۳) عاقلہ (رشتہ داروں) پر دیت مغلظہ۔ (۴) میراث سے محروم ہونا۔
  • قتلِ خطا: اس کی دو صورتیں ہیں۔ (۱) ارادے میں خطا ہو جائے مثلاً مار رہا تھا ہرن کو اور لگا کسی آدمی کو۔ (۲) عمل میں خطا مثلاً کسی نشانہ پر تیر چلایا مگر وہ نشانے پر نہ لگ کر کسی آدمی کو لگ گیا۔
    سزا: (۱) کفارہ۔ (۲) عاقلہ (رشتہ داروں) پر دیت مغلظہ۔ (۳) میراث سے محرومی۔
  • قتلِ قائم مقام خطا: سونے والا نیند کی حالت میں کسی پر پلٹ گیا جس سے انسان کی جان چلی گئی، قتلِ خطا کے قائم مقام ہے۔
    سزا: (۱) کفارہ۔ (۲) دیت مغلظہ۔ (۳) میراث سے محرومی۔
  • قتل بالسبب: کسی نے دوسرے کی زمین میں کنواں کھودا یا راستے میں گڑھا کر دیا یا بڑا سا پتھر رکھ دیا، کنویں میں گرنے، گڑھے میں گرنے یا پتھر سے ٹکرا کر کوئی انسان مر جاتا ہے تو یہ قتل بالسبب کہلاتا ہے۔
    سزا: عاقلہ پر دیت مغلظہ ہے۔

قتل کی مذکورہ پانچ قسموں میں سے صرف ایک قسم قتلِ عمد میں قصاص ہے باقی میں دیت مغلظہ، گناہ اور میراث سے محرومی ہے، اسی طرح باقی اعضا میں بھی قصاص ہے جیسے آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت! اور قصاص کے ان تمام جرائم میں قصاص ہی ضروری نہیں بلکہ اگر مقتول کے ورثا دیت لے کر یا یونہی معاف کر دیں تو یہ بھی جائز ہے لیکن اگر وہ قصاص کا مطالبہ کریں تب قصاص لینا فرض ہو جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں اس وقت ہیں کہ جب مجرم کا جرم ثابت ہو جائے اور تمام شرائط پا لیے جائیں۔

اب مخالفین کا اعتراض چونکہ قصاص پر ہی ہے تو قصاص کی حکمتیں ملاحظہ کریں، ان شاء اللہ حق واضح ہو جائے گا، انسانی زندگی کی بڑی قدر و قیمت ہے، اللہ رب العزت نے ناحق ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا اور ایک انسان کو قتل سے بچانے کو پوری انسانیت کو حیاتِ نو دینے کے برابر قرار دیا چناں چہ ارشاد ہے:

مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا

ترجمہ: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا (فرض کر دیا) کہ جس نے کوئی جان قتل کی، بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے بغیر تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔ (سورہ مائدہ، ۳۲)

اسی طرح احادیث میں بھی انسانی جانوں کی قدر قیمت کو واضح کیا گیا اور کہا گیا:

لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ

”اللہ عزوجل کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (ختم اور تباہ) ہو جانا ہلکا ہے۔“ (ترمذی، السنن، کتاب الدیات، ۴:۱۶، رقم ۱۳۹۵)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں ہے:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری کائنات کا ختم ہو جانا بھی کسی شخص کے قتلِ ناحق سے ہلکا ہے۔“ (ابن ابی الدنیا، الاہوال ۱۹۰، رقم ۱۸۳)

ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کے اقوال اسی مذہب کے ہوں گے جس کے نزدیک انسانی جان کی بڑی قدر و قیمت ہوگی۔ تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب انسانی جان کی اس قدر اہمیت اور قدر و قیمت ہے تو پھر قصاص کا حکم کیوں؟

جب آپ نے جان لیا کہ اسلام میں انسانی جان اور اعضا کی بڑی قدر ہے تو اُسی جان کو ناحق قتل سے بچانے کے لیے اسلام نے قصاص کا حکم نافذ کیا تا کہ مجرم ارتکابِ جرم سے پہلے ہزار بار سوچ لے کہ اگر میں نے کسی کا قتل کیا یا ناحق اس کے اعضاء کاٹے تو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا اب ظاہر سی بات ہے کہ اپنی زندگی اور اعضا سے پیار کرنے والا کوئی شخص کسی کو قتل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا تو اس قانون کے نفاذ سے ہی پچاس فیصدی جرم رک جائیں گے اب وہی ارتکابِ جرم کا مرتکب ہوگا، جسے اپنی جان یا اعضا پیارے نہیں یا جو اپنی زندگی سے تنگ آگیا ہو۔

پھر یہ مجرم جس نے قتل و اعضا کے قصاص کی سزا کو جان لینے کے بعد بھی جرم کا مرتکب ہوا اسے علی رؤوس الاشہاد (مجمعِ عام) میں جب قتل کیا جائے گا تو وہ تمام لوگوں کے لیے بھی عبرت کا نشان بن جائے گا اور مجمع میں ایسے افراد جنھوں نے کسی کے قتل یا اعضا کے قطع و برید کا ارادہ کیا ہوگا وہ سب کے سب ارتکابِ جرم سے پہلے ہی تائب ہو جائیں گے۔ اس طرح ایک قاتل کی سزا سے کئی قتلِ ناحق کا خود بخود قلع قمع ہو جائے گا اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ کنز الایمان: اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو کہ تم کہیں بچو۔ (پارہ ۲ سورہ بقرہ رکوع ۵)

اس کے برخلاف جس ملک یا مذہب میں قاتل کو بے لگام چھوڑ دیا جاتا ہے وہاں جرائم بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور آئے دن قتل و خون ریزی کے واقعات اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔

ارتداد میں قتل کی سزا

اس سلسلے میں اغیار کا اعتراض ہے کہ اسلام میں کہا گیا کہ دین میں کوئی جبر نہیں جب ایسا ہے تو پھر جب کوئی اسلام کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اپناتا ہے تو اسے سزائے موت کیوں دی جاتی ہے؟ یا انسان آزاد ہے تو پھر اس پر مذہبِ اسلام کی قید کیوں؟ انسان جس مذہب کو اختیار کرنا چاہے کر سکتا ہے، اس میں کسی طرح کا جبر نہیں ہونا چاہیے بلکہ آزادی ہونی چاہیے تا کہ آدمی اپنی زندگی کو اپنے حساب سے جی سکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ دین میں کوئی جبر نہیں، قرآنِ مقدس میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ

کچھ زبردستی نہیں دین میں۔ (پارہ ۳ سورہ بقرہ آیت ۲۵۶)

مگر لوگ اس آیت سے اپنی کم علمی کی بنا پر سخت غلط فہمی کے شکار ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے جب مرضی ہو اسلام قبول کرو اور جب دل چاہے نکل جاؤ، مسلمان ہو کر مرضی ہو تو نماز پڑھو ورنہ اس کی فرضیت کا انکار کر دو ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ اُس کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان نہیں ہے، اس پر دینِ اسلام قبول کرنا جبراً نہیں ہے بلکہ وہ اللہ رب العزت کی عظمت و شان اور اُس کی بے انتہا قدرت کو دیکھ کر اس کا دل اسلام کی طرف مائل ہوا تو اب بھی دنیا میں اُس کی مرضی ہے کہ دل کی سنیں اور دائرۂ اسلام میں آجائے یا شیطانی راہ پر چلتا رہے اُخروی معاملہ الگ ہے کہ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی کفر و شرک کے دلدل میں پھنسا رہا تو خلود فی النار کا مستحق ہوگا لیکن وہ اگر اسلام قبول کر لیتا ہے تو اب اس کو دینِ حق سے پھر جانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا کیوں کہ اس میں مذہبِ اسلام کی توہین و تذلیل ہے اور دوسروں کے لیے بغاوت کا راستہ ہے اس لیے اسلام اس کا سدِ باب کرتا ہے اور مرتد کو قتل کا حکم دیتا ہے مگر فوراً نہیں بلکہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی اور اس درمیان اسے غور و فکر کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا کچھ شبہات ہوں تو اُس کا ازالہ کیا جائے گا اس کے باوجود وہ اپنے ارتداد پر ڈٹا رہے تو اب حاکمِ اسلام اسے قتل کرے گا۔

اتنے سارے مواقع اور سہولیات کے باوجود لوگ اپنے دل کے بغض کی وجہ سے قانونِ اسلام کے خلاف بکواس کرتے ہیں اور ایسے قتل پر واویلا مچاتے ہیں جیسے قتل کی سزا کوئی ایسی چیز ہے جو صرف اسلامی دنیا میں ہے۔ حالاں کہ جو لوگ یہ اعتراضات کرتے ہیں اُن کے ماضی کا ایک بڑا حصہ قتل و خون ریزی میں ملوث نظر آتا ہے اور تاہنوز اُن کے یہاں یہ سلسلہ جاری ہے، اسلام تو مجرم کو سزا دیتا ہے اور یہ ناحق خون بہاتے اور مجرم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

گستاخِ رسول کو موت کی سزا

قرآن و حدیث سمیت تمام صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمۂ مجتہدین اور علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گستاخی و بے ادبی کفر ہے اور اس کی سزا قتل ہے، یعنی یہ اسلام کا اجماعی مسئلہ ہے، لیکن مغربی دنیا اور مغرب زدہ لوگوں کو یہ بات گلے سے نہیں اترتی اور علی الاعلان اس قانون کے خلاف بکواس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جب گستاخی کی جاتی ہے تو وہ جذبات میں آجاتے ہیں، اشتعال انگیزی اور قتل و خون ریزی تک معاملہ پہنچ جاتا ہے اور بسا اوقات گستاخِ رسول کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا، سر تن سے جدا کا نعرہ لگایا جاتا ہے، مسلمان جذبات میں سڑکوں پر اتر جاتے ہیں اور نعرے بازی کرتے ہیں جس سے امن و امان متاثر ہوتا ہے اور یہ نعرہ وائلنس (Violence)، ٹیررزم (Terrorism) اور دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا ہے اور اگر یہ اسلامی حکم ہے تو مسلمانوں کو ماننا چاہیے۔

ہمیں بولنے کی آزادی (Freedom of Speech) حاصل ہے اور اسلام بولنے کی سزا گردن اڑانے کے ذریعہ سے دیتا ہے جو سراسر غلط ہے، سب سے پہلے تو جان لینا چاہیے کہ بولنے کی آزادی انسانوں کو ضرور ہے مگر بولنے کی آزادی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ منہ جو آئے بول دیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ سامنے والے کی اس جملے سے دل آزاری تو نہیں ہو گی اگر آپ کے جملے سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو ناحق بولنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی یہی وجہ ہے کہ ہر ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں کہ اگر کسی کے بولنے سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے یا ملک کی معزز شخصیات کی تذلیل و توہین ہوتی ہے تو ایسے مجرم کو قید و بند کی سزاؤں سے لے کر موت تک کی سزا دی جاتی ہے، پھر ہر ذی عقل و ذی شعور کو سمجھنا چاہیے کہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ والا تبار میں ہرزہ سرائی کرنے سے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے کیوں کہ حضور کی محبت روحِ ایمان ہے اور وہ خود جانِ کائنات اور مومنوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر لیتا ہے مگر اپنے محبوب آقا کی گستاخی اسے برداشت نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی حضور علیہ السلام کی گستاخی کی جاتی ہے تو پوری دنیا کے مسلمان بے قرار ہو جاتے ہیں، مضطرب ہو جاتے ہیں اور یہ صرف آج کے مسلمانوں کا نظریہ نہیں بلکہ چودہ سو سال سے آج تک کے مسلمانوں کی یہ کیفیت ہے تو ایسا مجرم جس کی وجہ سے کروڑوں دل دُکھیں کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کی طرف داری اور اس کی وکالت کی جائے؟ ہر گز نہیں بلکہ مجرم سے زیادہ اس کی وکالت کرنے والا بڑا مجرم ہوتا ہے کہ وہ ایسے مجرم کا وکیل ہے جس نے امنِ عالم کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔

رہی بات یہ کہ کیا گستاخِ رسول کو سزا دینا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے؟ کیا مسلمان قانون ہاتھ میں لے کر خود سے مجرم کو سزا دے سکتا ہے تو اس کے متعلق میں نے پہلے ہی عرض کیا ہے کہ نہیں! یہ حق بادشاہِ اسلام یا اس کے مقرر کردہ حاکم و قاضی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرم ثابت ہو جانے کے بعد مجرم کو سزا دے اب رہی یہ بات کہ جب عام مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں تو وہ کیوں قتل کی واردات انجام دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ آج جہاں اسلامی قوانین موجود ہیں وہاں اس کے متعلق کوتاہی برتی جاتی ہے اور جہاں نہیں وہاں مجرم کی وکالت و طرف داری کی جاتی ہے اس کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، گرفتار بھی کر لیا جائے تو ضمانت مل جاتی ہے یا جلد ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے ہیں اور حکومتِ وقت کو احساس دلاتے ہیں کہ ملک کی سالمیت اور امن کو ایک مجرم کی وجہ سے خطرہ پیدا ہورہا ہے اس کے باوجود بھی حکومت کوئی ایکشن نہیں لیتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

زنا میں سنگ ساری اور کوڑوں کی سزا

دنیا کے بیشتر حصوں میں بے حیائی اور فحاشی عام ہو چکی ہے اور جب سے موبائل نے زمین پر اپنے قدم جمائے ہیں زنا کاری و بدکاری، زنا بالجبر اور بے پردگی اتنی عام ہو چکی ہے کہ انسان نیم جانور ہو چکا ہے حیرت تب ہوتی ہے، جب اس بے حیائی کو کئی ممالک میں حکومتی سطح پر پرموٹ کیا جاتا ہے اور نیوز چینلوں میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ لیکن مذہبِ مہذب اسلام میں بے حیائی اور فحاشی پر مکمل قدغن لگا دیا گیا اور شہوانی خواہشات کی تکمیل کے لیے نکاح جیسی بابرکت رسم کو فروغ دیا گیا۔ بے حیائی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا

ترجمہ: اور بدکاری (زنا) کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔ (سورہ بنی اسرائیل، ۳۲)

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے نسل محفوظ نہیں رہتی اور دوسروں کی عزت و عصمت تار تار ہوتی ہے۔ زنا تو زنا ہے بلکہ اسلام نے دوائی زنا کو بھی حرام قرار دیا ہے اس کے باوجود کوئی اگر زنا کر لے تو شریعتِ اسلامیہ کے حکم کے مطابق اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں تو انھیں سو کوڑے لگائے جائیں گے اور شادی شدہ جوڑے ہوں تو انھیں سنگ سار کرنے کا اسلامی حکم ہے۔

سنگ ساری بظاہر سخت ترین اور اذیت ناک سزا ہے اسی وجہ سے غیر اسلامی ممالک و مذاہب اس پر وحشیانہ اور ظالمانہ سزا کا اطلاق کرتے ہیں اسے انسانیت کے خلاف بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اسلام مجرم کو جرم کے مطابق سزا دیتا ہے فی زمانہ زنا کو لوگوں نے ہلکا تصور کر لیا ہے لیکن غیور قوم کے نزدیک زنا بہت بڑا جرم ہے اور اس کی برائی تب اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب بدکاری شادی شدہ جوڑے کریں۔ پہلے ہم اس جرم کی قباحت کو اجاگر کرتے ہیں۔

  • اللہ عزوجل اور اس کے حبیب کی رحمتوں اور عنایتوں سے زانی اور زانیہ دور ہو جاتے ہیں۔
  • زنا کی وجہ سے زانی اور زانیہ کے خاندان والوں کی عزت و وقار مجروح ہوتی ہے۔
  • زنا میں ملوث عورت کے شوہر کے حقوق ضائع ہوتے ہیں اور غیرت مند کسی صورت زانیہ بیوی کو برداشت نہیں کرتا اسی وجہ سے کبھی قتل کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں۔
  • زنا سے حاملہ عورت اور اُس کے گھر والے اپنی بے عزتی اور سماج میں ناک کٹنے کے خوف سے بچے کو ضائع کرانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں جس میں ایک جان کا ضیاع لازم آتا ہے۔
  • زنا سے پیدا شدہ بچے کو والدین کی شفقت و محبت سے محروم ہونا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ غلط عادتوں کے ساتھ جرائم کی دنیا میں چلا جاتا ہے جو قوم اور سماج سب کے لیے بوجھ ہوتا ہے۔
  • زانی اور زانیہ طرح طرح کی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
  • بے حیائی اور فحاشی بڑھتی ہے۔

یہاں دیکھیں کہ ایک شخص کی ہوس نے سماج میں کتنی خرابیوں کو جنم دیا اس لیے اسلام نے سخت ترین سزا مقرر کی تا کہ سماج اور معاشرہ سے یہ برائی جڑ سے ختم ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ رجم (سنگ ساری) کی یہ سزا بہت ہی خوف ناک اور ہیبت ناک ہے مگر یہ سزا محض کسی کے الزام لگا دینے سے نہیں مل جاتی بلکہ شرعی اصولوں کے مطابق جرم ثابت ہونا بھی ضروری ہے وہ بھی اس طرح کہ چار مرد ایک مجلس میں لفظِ زنا کے ساتھ شہادت ادا کریں یعنی یہ کہیں کہ اس نے زنا کیا ہے جب گواہی مکمل ہو جائے گی تو قاضی ان سے زنا کے بارے میں پوچھے گا کہ زنا کسے کہتے ہیں، کس کے ساتھ کیا، کب کیا، کہاں کیا ان تمام باتوں کا جواب ٹھیک طور پر دے دے تو اس پر حد قائم کریں گے اور ثبوتِ زنا کے لیے دوسرا طریقہ خود مجرم کا اقبالِ جرم ہو اور وہ بھی اس طرح کہ چار بار چار مجلسوں میں ہوش کی حالت میں صاف اور صریح لفظ میں زنا کا اقرار کرے اور تین مرتبہ تک ہر بار قاضی اُس کے اقرار کو رد کر دے جب چوتھی بار وہ اقرار کر لے تو اب مذکورہ سوالات قاضی اس سے بھی کرے گا۔ (بہارِ شریعت جلد ۲ ص ۳۷۲)

مذکورہ شرائط کے علاوہ اور بھی بہت سی شرطیں ہیں جس کے پائے جانے کے بعد قاضی یا حاکم حد قائم کرے گا، خلاصۂ کلام اتنی شرائط پائے جانے کے بعد اتنے بڑے مجرم کو سزا دی جاتی ہے یہ ساری صورتیں اور شرطیں اعدائے دین کو نظر نہیں آتیں صرف سنگ ساری نظر آتی ہے اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مسائل سے واقفیت حاصل کرے، اگر زنا کی یہ سزا علی الاعلان دی جانے لگے تو زنا کاری و بدکاری کا خاتمہ ہو جائے گا کیوں کہ کسی زانی کو لوگوں کے سامنے جب سنگ سار کیا جائے، اُس کی تکلیف اور درد ناک موت سینکڑوں قلوب سے اس گناہ کے خیال تک کو ختم کرنے کا اکسیر ثابت ہوگا، اس کے برخلاف جہاں زنا کی بالکل کوئی سزا مقرر نہیں یا معمولی سزا ہے وہاں فحاشی، بے حیائی کا کیسا کیسا ننگا ناچ ہورہا ہے، وہ آج دنیا سے مخفی نہیں، یہ تو میں نے چند ایسی سزاؤں کا ذکر کیا جس میں قتل اور سنگ ساری کی سزاؤں کا ذکر ہے اور جس پر زیادہ واویلا مچایا جاتا ہے حالاں کہ اسلام میں بہت سے قوانین ہیں جن پر بے جا انگشت نمائی کی جاتی ہے اگر وہ لوگ خود اپنے باطل عقائد و نظریات اور سزاؤں کو پڑھیں اور پھر بغض و حسد دل سے نکال کر اسلامی قوانین کی حکمتوں اور مصلحتوں پر نظر کریں تو کبھی اسلامی قوانین پر انگشت نہیں کریں گے بلکہ مجرم کے مطابق سزا کو قدر کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور اپنے ملک میں ان سزاؤں کو نافذ کر کے پرسکون زندگی گزاریں گے۔

[ماخوذ از: سنی دنیا بریلی شریف فروری ۲۰۲۴ء ص ۱۸]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!