Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ رافضی/ شیعہ(قسط اول)

فرقہ رافضی (شیعہ) (قسط اول)
عنوان: فرقہ رافضی/ شیعہ (قسط اول)
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

شیعہ کا لفظی معنی گروہ ہے۔ شیعہ فرقہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں وجود میں آیا۔ حضرت علی کا جو گروہ تھا وہ چار فرقوں میں بٹ گیا۔ ایک فرقہ وہ تھا جو حضرت علی اور دیگر صحابہ و ازواج مطہرات کی تعظیم کرتا تھا۔ یہی گروہ والے اہل سنت کے پیشوا تھے۔ دوسرا فرقہ شیعہ تفضیلیہ تھا جو حضرت علی کو تمام صحابہ سے فضیلت دیتا تھا لیکن دوسرے صحابہ کو برا نہ کہتا تھا۔ تیسرا فرقہ سبائیہ تھا جسے تبرائیہ بھی کہا جاتا ہے، جو سب صحابہ کرام کو ظالم و غاصب کہتا تھا۔ چوتھا فرقہ شیعہ غلاۃ کا تھا جنہوں نے حضرت علی کو الوہیت کے درجے تک پہنچا دیا تھا۔ علامہ ابو الحسنات محمد اشرف سیالوی صاحب ”تحفہ حسینیہ“ میں اس پر تفصیلی کلام کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”الغرض جب شیعان علی چار فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو دوسرے فرق مخالفہ سے امتیاز ضروری ٹھہرا، لہذا انہوں نے اپنا نام اہل سنت والجماعت رکھا۔ یہ نام گو بعد میں تجویز ہوا لیکن عقائد و اعمال وہی پہلے کے ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں شیعہ نے اپنے آپ کو امامیہ اور اثنا عشریہ کہا اور اس نام سے موسوم کیا حالانکہ یہ نام پہلے موجود اور مسموع نہیں تھا۔“ [تحفہ حسینیہ، ج: 1، ص: 131، اہل السنہ پبلی کیشنز، جہلم]

شیعہ مذہب میں کئی فرقے ہیں انہیں رافضی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے آپ کو محبانِ علی رضی اللہ تعالی عنہ اور محبان اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم کہتے ہیں۔ شیعوں کے اصل تین گروہ ہیں: غالیہ، زیدیہ اور رافضہ۔

غالیہ کے درج ذیل فرقے ہو گئے: بنانیہ، طیاریہ، خطابیہ، معمریہ، بزیعیہ، مفضلیہ، متناسخیہ، شریعیہ، سبیہ اور مفوضہ۔

فرقہ زیدیہ کی یہ شاخیں ہو گئیں: جارودیہ، سلیمانیہ، بتریہ، نعیمیہ، یعقوبیہ اور تناسخیہ۔

رافضیہ کے درج ذیل گروہ ہیں: قطعیہ، کیسانیہ، کریبیہ، عمریہ، محمدیہ، حسینیہ، نادسیہ، اسماعلیہ، قرامطیہ، مبارکیہ، شمیطیہ، عمادیہ، طموریہ، موسویہ اور امامیہ۔

ان تمام فرقوں میں باہم شدید اختلاف ہے اور یہ ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ان کے عقائد کے متعلق شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی کتاب ”غنیۃ الطالبین“، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی کتاب ”تحفہ اثنا عشریہ“ اور امام ابن جوزی رضی اللہ تعالی عنہ کی کتاب ”تلبیس ابلیس“ کا مطالعہ کریں۔ یہاں ان سب فرقوں کی تفصیل بیان کرنا سوائے طوالت کا شکار ہونا ہے جو ہمارا مقصود نہیں۔

شیعوں کے بنیادی عقائد و نظریات درج ذیل ہیں:

عقیدہ: شیعہ کے تمام فرقے سوائے زیدیہ، خلفائے راشدین یعنی حضرت ابوبکر، عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو نہ ماننے پر متفق ہیں، بلکہ صحابہ کرام پر سب و شتم ان کا عام شیوہ ہے۔ شیعوں کے عالم ملا باقر مجلسی اپنی کتاب ”حق الیقین“ میں لکھتا ہے: ”امام مہدی ابوبکر و عمر کو قبر سے باہر نکالیں گے۔ وہ اپنی اسی صورت پر تر و تازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے۔ پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتارو، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا۔ ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے۔ پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر و عمر پر لازم کر دیں گے اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق (حضرت علی) کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے۔ پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلائے اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرا دے۔“ [حق الیقین، ص: 362، مطبوعہ کتاب فروشی اسلامیہ، تہران]

عقیدہ: شیعہ مذہب کا کلمہ یہ ہے: ”لا إله إلا الله محمد رسول الله علي ولي الله وصي رسول الله وخليفة بلا فصل“ ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول، یہی علی اللہ کے ولی اور رسول کے بلا فصل خلیفہ ہیں۔ [برہان متعہ ثواب متعہ، ص: 52]

عقیدہ: اپنے کئی اماموں خصوصاً امام مہدی کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔

عقیدہ: شیعوں میں ایک فرقہ غالی ہے جن کا عقیدہ ہے کہ علی خدا ہے اور بعضوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغام رسالت دے کر جبرائیل کو بھیجا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کو پیغام رسالت دو لیکن جبرائیل بھول کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گئے۔ [تفسیر عیاشی، ج: 2، ص: 101]

عقیدہ: شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے اماموں کا رتبہ حضور علیہ السلام کے علاوہ بقیہ انبیاء علیہم السلام سے زیادہ ہے۔ چنانچہ مجموعہ مجالس میں ہے: ”بارہ امام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ بقیہ تمام انبیاء علیہم السلام کے استاد ہیں۔“ [مجموعہ مجالس، ص: 29، صفدر ڈوگرا، سرگودھا]

عقیدہ: شیعوں کے نزدیک متعہ (چند دنوں کے لئے پیسوں کے عوض نکاح) جائز ہے اور اس کی بے شمار فضیلت ہے۔ شیعہ عالم نعمت اللہ جزائری اپنی کتاب میں لکھتا ہے: ”جس نے ایک دفعہ متعہ کیا اس کا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برابر، جس نے دو دفعہ متعہ کیا اس کا درجہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے برابر، جس نے تین دفعہ کیا اس کا درجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر، جس نے چار دفعہ متعہ کیا اس کا درجہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہو جاتا ہے۔“ [انوار نعمانیہ، ص: 237]

عقیدہ: روافض کا عقیدہ ہے کہ جب تک اولادِ علی رضی اللہ عنہ کے مخالفوں پر لعنت نہ کرے اس کا نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ [ماخوذ از تمہید ابو شکور سالمی، نواں قول، ص: 375، فرید بک سٹال، لاہور]

عقیدہ: شیعوں کے کئی گروہوں کا عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن مکمل نہیں ہے، اس میں تحریفات ہیں، کئی آیات جو حضرت علی اور اہل بیت کے متعلق نازل ہوئی تھیں وہ نکال دی گئی ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ امام مہدی جب آئیں گے تو وہ صحیح مکمل قرآن پاک لائیں گے۔

قرآن پاک نامکمل و تحریف شدہ ہونے پر شیعوں کے چند حوالے پیش خدمت ہیں:

قرآن پاک میں ازواج مطہرات کے متعلق نازل ہوئی آیت کے متعلق شیعہ ذاکر فرمان علی قرآن پاک کی تفسیر میں لکھتا ہے: ”اگر اس آیت کو درمیان سے نکال لو اور ماقبل و مابعد کو ملا کر پڑھو تو کوئی خرابی نہیں ہوتی بلکہ اور ربط بڑھ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اس مقام کی نہیں بلکہ خواہ مخواہ کسی خاص غرض سے داخل کی گئی ہے۔“ [تفسیر قرآن، ص: 674، مصباح القرآن ٹرسٹ، لاہور]

شیعہ ذاکر مقبول احمد دہلوی نے قرآن پاک کی تفسیر لکھی جس میں سورۃ یوسف کی اس آیت 49 ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ (ترجمہ کنز الایمان: پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینہ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے۔) [یوسف: 49]

آیت (یعصرون) کی تفسیر میں لکھتا ہے: ”معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن میں ظاہر اعراب لگائے گئے ہیں تو شراب خوار خلفاء کی خاطر يُصَرُوْنَ کو يَعْصِرُوْنَ سے بدل کر معنی کو زیر و زبر کیا گیا ہے یا مجہول کو معروف سے بدل کر لوگوں کے لئے ان کے کرتوت کی معرفت آسان کر دی۔ ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کریں تم اس کو اسی کے حال پر رہنے دو اور تغیر کرنے والے کا عذاب کم نہ کرو، ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو۔ قرآن مجید کو اس کی اصلی حالت پر لانا جناب صاحب العصر علیہ السلام (امام مہدی رضی اللہ عنہ) کا حق ہے۔ اور انہی کے وقت میں وہ حسب تنزیل خدا تعالیٰ پڑھا جائے گا۔“ [تفسیر قرآن، ص: 384، مقبول پریس، دہلی]

قرآن پاک میں ہے: فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا ترجمہ کنز الایمان: تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو اور قرارداد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہو جاوے تو اس میں گناہ نہیں، بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔ [النساء: 24]

اکبر علی شاہ نے اپنی کتاب ”متعہ اور صلاح الدین ایوبی“ کے صفحہ 60 پر لکھا: ”إلى أجل مسمى کے الفاظ متن قرآن میں تھے لیکن انہیں موجودہ ترتیب سے حذف کر دیا گیا۔۔۔ اگر اس آیت میں إلى أجل مسمى کے الفاظ کو شامل کر کے پڑھا جائے چاہے ان کی حیثیت متن قرآن کی سمجھی جائے یا تشریحی حاشیہ کی، بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ یہ آیت نکاح دائمی پر منطبق نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اور صرف نکاح متعہ کے لئے ہے۔“ اب مصنف نے قرآنی آیت میں إلى أجل مسمى کے الفاظ کا اضافہ کر کے آیت یوں بنائی اور اس کا ترجمہ کیا: فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ اِلٰى اَجَلٍ مُسَمًّى فَآتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا پھر جس طرح تم نے ان عورتوں سے متعہ کیا ایک متعینہ مدت کے لئے سو ان کو ان کے مہر دو جو کچھ مقرر ہو چکے ہیں اور مقرر ہوئے بعد بھی جس پر تم رضامند ہو جاؤ اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بڑا علیم و حکیم ہے۔ [متعہ اور صلاح الدین ایوبی، ص: 60، طبع کراچی]

اہل سنت کے نزدیک یہ موجودہ قرآن مکمل اور بغیر تحریف کے ہے، رب تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، کوئی قیامت تک اس میں سے ایک لفظ بھی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ قرآن پاک میں ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ ترجمہ کنز الایمان: بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ [الحجر: 9]

تفسیر جمل میں ہے: ”بخلاف سائر الكتب المنزلة فقد دخل فيها التحريف والتبديل بخلاف القرآن فإنه محفوظ عن ذلك لا يقدر أحد من جميع الخلق الإنس والجن أن يزيد فيه أو ينقص منه حرفا واحدا أو كلمة واحدة“ ترجمہ: بخلاف اور کتب آسمانی کے کہ ان میں تحریف و تبدیل نے دخل پایا اور قرآن اس سے محفوظ ہے۔ تمام مخلوق جن و انس کسی کی جان نہیں کہ اس میں ایک لفظ یا ایک حرف بڑھا دیں یا کم کر دیں۔ [الفتوحات الإلهية تحت آية إنا نحن نزلنا الذكر الخ، ج: 2، ص: 539، مصطفی البابی، مصر] [حوالہ: 73 فرقے اور ان کے عقائد، ص: 120 تا 126]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!