| عنوان: | بخل کی مذمّت اور اس کا علاج |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
بخل کے لغوی معنی روکنے کے ہیں، جبکہ اصطلاحِ شرع میں اس سے مراد یہ ہے کہ جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادۃً یا مروتاً لازم ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے۔ (۱)
حضرت سیدنا امام محمد غزالی بخل کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جہاں خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں سے روک دینا بخل ہے اور جہاں روکنا چاہیے وہاں خرچ کرنا دردناک عذاب کی وعید (اور) فضول خرچی ہے، ان دونوں کے درمیان اعتدال کا راستہ ہے، اور وہی محمود (و مطلوب) ہے۔ (۲)
بخل و کنجوسی کی ممانعت
بخل و کنجوس انتہائی مذموم صفت ہے، اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں اس کی ممانعت بیان فرمائی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: جو اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی، وہ ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں، بلکہ وہ ان کے لیے بُرا ہے، عنقریب جس میں بخل کیا وہ بروز قیامت اُن کے گلے کا طوق ہوگا۔ (۳)
صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ بخل کے معنی میں اکثر علماء اس طرف گئے ہیں، کہ واجب کا ادا نہ کرنا بخل ہے، اسی لیے بخل پر شدید وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ اس آیت میں بھی ایک وعید آرہی ہے، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ بخل اور بد خلقی یہ دو خصلتیں ایماندار میں جمع نہیں ہوتیں، اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے، کہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی، بروز قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپیٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ (۴)
جو لوگ بخل سے کام لیتے ہوئے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، بلکہ راہِ خدا میں خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں ایسوں کے لیے درد ناک عذاب کی وعید ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ
ترجمہ: وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ! جس دن وہ جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغیں گے (اور کہیں گے) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جمع کر رکھا تھا، اب اس جمع کرنے کا مزہ چکھو۔ (۵)
زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کا انجام
بخل و کنجوسی کے باعث زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی برتنا، عذابِ الٰہی کا باعث ہے، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ! أَنَا كَنْزُكَ
جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، اس کا وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، جس کے سر پر دو کالے نشان ہوں گے، قیامت کے دن وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑے پکڑ کر کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں! میں تیرا خزانہ ہوں۔ (۶)
ناپسندیدہ بندے
اللہ تعالیٰ بخل (کنجوسی) کرنے والے اور اس کی ترغیب دینے والے کو ناپسند فرماتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَمَنْ يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
ترجمہ: وہ جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کو کہیں اور جو منہ پھیرے تو یقیناً اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا۔ (۷)
بخل و کنجوسی ... ایک انتہائی مذموم صفت
بخل و کنجوسی انتہائی مذموم صفت ہے، خالقِ کائنات اسے سخت ناپسند فرماتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا
ترجمہ: تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمتوں کے خزانے کے مالک ہوتے، تو انہیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔ (۸)
بخل کی روش
بحیثیت قوم بخل کی روش اپنانا، اللہ کی ناراضگی اور اپنی ذلت و رسوائی کا باعث ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
هَاأَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ
ترجمہ: ہاں ہاں یہ جو تم ہو، بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو تم میں سے کچھ لوگ بخل کرتے ہیں! اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ (۹)
لہٰذا ہمیں اس روش کو ترک کر کے میانہ روی کی عادت اپنانی ہوگی، بخل و کنجوسی کی عادت اپنانا، مال و دولت جمع کرنا اور وقتِ ضرورت اسے راہِ خدا میں خرچ نہ کرنا، عذابِ جہنم کا باعث ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ
ترجمہ: جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا، کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا، ہر گز نہیں ضرور وہ روندھنے والی (جہنم) میں پھینکا جائے گا۔ (۱۰)
بخیل و کنجوس ... جہنم سے قریب ہے
بخیل شخص مال و دولت کی حرص و لالچ میں اپنی عزت، شہرت اور اپنا دین سب گنوا بیٹھتا ہے، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ناراض ہوتے ہیں، وہ جنت سے دور اور جہنم سے قریب ہوتا ہے، اس کے اپنے پرائے ہو جاتے ہیں، دوست احباب روٹھ جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ جب وہ دنیا میں تنہا رہ جاتا ہے، کوئی اس کے ساتھ تعلق نہیں رکھنا چاہتا، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ
سخی اللہ سے قریب ہوتا ہے، جنت سے قریب ہوتا ہے لوگوں سے قریب ہوتا ہے اور جہنم سے دور ہوتا ہے، جبکہ بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا ہے، جنت سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے دور ہوتا ہے، جہنم سے قریب ہوتا ہے۔ (۱۱)
بخل و کنجوسی باعثِ ہلاکت ہے
بخل، کنجوسی اور تنگ دلی، ہلاکت، خون خرابہ اور عزت و ناموس کی بربادی کا باعث ہے، حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ
بخل اور تنگدلی سے بچو؛ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل (اور تنگدلی نے ہلاک کر دیا، اس چیز نے انہیں خونریزی اور) حرام کو حلال کرنے پر اکسایا۔ (۱۲)
بخیل شخص کبھی کامل مؤمن نہیں ہو سکتا
بخیل شخص کبھی کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ
دو خصلتیں مؤمن میں جمع نہیں ہو سکتی ہیں: (۱) بخل (۲) اور بد خلقی۔ (۱۳)
جنت میں داخلے سے محرومی
بخیل و کنجوس شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا بَخِيلٌ وَلَا مَنَّانٌ
(۱) فریبی (۲) بخیل (۳) اور احسان جتانے والا، جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (۱۴)
ایک اور مقام پر یہی روایت کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ یوں مذکور ہے:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَخِيلٌ وَلَا خِبٌّ وَلَا خَائِنٌ وَلَا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ
(۱) بخل کرنے والا، (۲) فریبی، (۳) خیانت کرنے والا (۴) اور اپنے ماتحت سے بدسلوکی کرنے والا، جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (۱۵)
دنیا و آخرت میں ہلاکت کا باعث
بخل و کنجوسی دنیا و آخرت میں ہلاکت کا باعث ہے، حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
صَلَاحُ أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالزُّهْدِ وَالْيَقِينِ، وَهَلَاكُ آخِرِهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ
اس امت کے پہلے پہل لوگ زہد (تقویٰ و پرہیز گاری) اور یقین کے ذریعے سلامتی پائیں گے جبکہ آخری زمانے کے لوگ بخل اور امیدوں (لالچ) کے سبب ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ (۱۶)
انسان کی دو بُری عادتیں
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے:
شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ: شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
آدمی کی یہ عادتیں بہت بُری ہیں: (۱) رلا دینے والا بخل (۲) اور ذلیل کرنے والی بزدلی۔ (۱۷)
بخیلوں کا بلا حساب جہنم میں داخلہ
بخل کتنی بُری صفت ہے کہ اس کے بارے میں بطورِ تنبیہ یہاں تک فرمایا گیا، کہ مالدار بخیل کو بلا حساب جہنم میں داخل کیا جائے گا، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
سِتَّةٌ يَدْخُلُونَ النَّارَ بِغَيْرِ حِسَابٍ: الْأُمَرَاءُ بِالْجَوْرِ، وَالْعَرَبُ بِالْعَصَبِيَّةِ، وَالدَّهَاقِينُ بِالْكِبْرِ، وَالتُّجَّارُ بِالْكَذِبِ، وَالْأَعْرَابُ بِالْجَهَالَةِ، وَالْأَغْنِيَاءُ بِالْبُخْلِ
چھ قسم کے لوگ بلا حساب آگ میں داخل ہوں گے: (۱) حکمران اپنی نا انصافی کے سبب، (۲) عرب اپنی عصبیت کے باعث، (۳) زمیندار (احمق) تکبر کی وجہ سے، (۴) تاجر جھوٹ کے سبب، (۵) اعرابی جہالت کی بنا پر، (۶) اور مالدار بخل کی وجہ سے۔ (۱۸)
بخل جہنم کے ایک درخت کا نام ہے
بخل جہنم کے ایک درخت کا نام ہے، جو اس درخت کی ٹہنی کو پکڑ لیتا ہے، وہ درخت اسے اپنی طرف جہنم میں کھینچ لیتا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَالْبُخْلُ شَجَرَةٌ مِنْ شَجَرِ النَّارِ، أَغْصَانُهَا مُتَدَلِّيَاتٌ فِي الدُّنْيَا، مَنْ أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى النَّارِ
بخل جہنم کے درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے، جس کی ٹہنیاں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں، جس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں کھینچ لے گی۔ (۱۹)
جاہل سخی عبادت گزار بخیل سے بہتر ہے
عبادت گزار بخیل کی بہ نسبت، جاہل سخی اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے، حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَالْجَاهِلُ السَّخِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْعَابِدِ الْبَخِيلِ
اللہ تعالیٰ کو جاہل سخی، عبادت گزار بخیل سے زیادہ پسند ہے۔ (۲۰)
مکاشفۃ القلوب میں ہے کہ حضرت سیدنا یحییٰ علیہ السلام نے ابلیس (شیطان) سے پوچھا کہ تجھے کون سا آدمی پسند اور کون سا نا پسند ہے؟ ابلیس نے کہا کہ مجھے مؤمن بخیل پسند ہے، مگر گنہگار سخی پسند نہیں، سیدنا یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ کیوں؟ ابلیس نے کہا: اس لیے کہ بخیل (کنجوس) کو تو اس کا بخل ہی لے ڈوبے گا، مگر فاسق سخی کے متعلق مجھے خطرہ ہے، کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس کی سخاوت کے باعث اس پر رحمت فرما کر اس کی حالت بدل دے! پھر ابلیس نے جاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ یحییٰ (نبی) نہ ہوتے تو میں (راز کی یہ باتیں) کبھی نہ بتاتا۔ (۲۱)
سلام کرنے میں بخل کرنا
بخل کا مطلب صرف مال و دولت خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لینا ہی نہیں، بلکہ نیک کام نہ کرنا، یا اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام نہ کرنا بھی بخل ہے، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
إِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ
لوگوں میں سب سے بڑا بخیل وہ ہے، جو سلام کرنے میں بھی بخل کرے۔ (۲۲)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں بخالت کرنا
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ مبارک سن کر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نہ بھیجنا بھی بخل ہے، حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الْبَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ
بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (۲۳)
بخل کے دینی و دنیاوی نقصانات
بخل بہت بُری اور مذموم صفت ہے، اس کے متعدد دینی و دنیاوی نقصانات ہیں، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
- بخیل کبھی کامل مؤمن نہیں بن سکتا۔
- بخل ایمان سے روکنے اور کفر کی طرف لے جانے کا باعث ہے۔
- بخل جنت سے محرومی اور جہنم میں لے جانے کا باعث ہے۔
- بخل کی وجہ سے ایک مسلمان، کامل مومن بننے سے محروم رہتا ہے۔
- بخل خونریزی اور دنیا و آخرت میں ہلاکت کا باعث ہے۔
- بخل کے باعث انسان راہِ خدا میں خرچ کرنے کے اجر و ثواب سے محروم رہتا ہے۔
- بخل عزت و ناموس کی بربادی اور حرام کو حلال ٹھہرانے کا باعث ہے۔
- بخل کے باعث انسان زکوٰۃ جیسے اہم فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے۔
- بخل کی وجہ سے دلوں میں نفاق اور رشتوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔
- اور بخل کے باعث لالچ، حرص، نفرت، کدورت، تنگدلی اور تنگ ظرفی جیسی متعدد سماجی برائیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے سبب معاشرے میں انسان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا حتی الامکان اس مذموم صفت سے بچیں اور ایثار قربانی اور سخاوت کا مظاہرہ کریں۔
بخل کے اسباب اور ان کا علاج
بخل و کنجوسی کے متعدد اسباب ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
- (۱) بخل کا پہلا سبب تنگ دستی کا خوف ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھے، کہ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔
- (۲) بخل کا دوسرا سبب مال سے محبت ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ قبر کی تنہائی کو یاد کرے، کہ میرا یہ مال قبر میں میرے کسی کام نہ آئے گا، بلکہ میرے مرنے کے بعد ورثا اسے بے دردی سے خرچ کریں گے۔
- (۳) بخل کا تیسرا سبب نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ خواہشاتِ نفسانی کے نقصانات اور اس کے اخروی انجام کا بار بار مطالعہ کرے۔
- (۴) بخل کا چوتھا سبب بچوں کے روشن مستقبل کی خواہش ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندۂ مؤمن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے، اور اپنے اعتقاد و یقین کو مزید پختہ کرے، کہ جس رب تعالیٰ نے میرا مستقبل بہتر بنایا، وہی خالقِ کائنات میرے بچوں کے مستقبل کو بھی بہتر بنانے پر قادر ہے۔
- (۵) بخل کا پانچواں سبب آخرت کے معاملے میں غفلت ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات پر غور کرے، کہ جو مال و دولت میں نے راہِ خدا میں خرچ کیا، مرنے کے بعد وہ یقیناً مجھے نفع دے گا، لہٰذا اس فانی مال سے خوب نفع اٹھانے کے لیے، اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا ہی عقل مندی ہے۔ (۲۴)
- (۶) بخل کا مؤثر اور بنیادی علاج یہ ہے کہ بخل کے اسباب پر غور کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے، اپنے دل کو مال کی محبت اور نفسانی خواہشات سے پاک کیا جائے، نیز اپنے معاملات میں قناعت، صبر اور میانہ روی اختیار کی جائے کہ دینِ اسلام ہمیں ہر معاملے میں ہمیشہ اعتدال و میانہ روی کا حکم دیتا ہے، نیز بخل و کنجوسی اور اسراف سے منع کرتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا
ترجمہ: اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا۔ (۲۵)
صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ تمثیل (بطورِ مثال) ہے، جس سے انفاق یعنی خرچ کرنے میں اعتدال ملحوظ رکھنے کی ہدایت منظور ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ نہ تو (کنجوسی سے) اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلوم ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے، دینے کے لیے ہل نہیں سکتا، ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوتا ہے؛ کہ بخیل کنجوس کو سب بُرا کہتے ہیں اور نہ (ہی) ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لیے بھی کچھ باقی نہ رہے۔ (۲۶)
بخل سے بچنے کی دعا
بخل ایمان کے لیے کس قدر خطرناک اور بُری صفت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کی پناہ چاہی، حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ
اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ (۲۷)
خلاصۂ کلام
بخل کے باعث اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں، بخل و کنجوسی جنت سے محرومی کا باعث ہے، انسان اس مذموم صفت کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں پہنچ سکتا ہے، اگر دنیاوی اعتبار سے دیکھیں، تو بخل انسان کے اپنوں کو بیگانہ بنا دیتا ہے، باہم الفت، محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات کو ختم کر دیتا ہے، انسان صرف مال کا ہو کر رہ جاتا ہے، اس کے دماغ میں صرف یہی دھن سوار رہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کر لیا جائے، بخیل شخص اپنے مال کو بوقتِ ضرورت اپنی جان پر بھی خرچ کرنے سے اجتناب کرتا ہے اور اس فکر میں رہتا ہے کہ کہیں اس کا مال کم نہ ہو جائے۔
یاد رکھیے! یہ دنیا اور اس کا مال و اسباب سب عارضی و فانی ہے، ایک دن ہم سب کو موت آنی ہے، لہٰذا دنیا کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کریں، بخل و کنجوسی کی عادت کو ترک کریں، معاملات میں اعتدال و میانہ روی اپنائیں، اپنے مال کو حسبِ ضرورت اپنے اہلِ و عیال پر خرچ کریں، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد و کفالت کریں اور راہِ خدا میں زیادہ سے زیادہ خرچ کر کے اپنی آخرت کو بہتر بنائیں۔
اے اللہ! ہمیں بخل و کنجوسی کی عادت سے بچا، دین و دنیا کے تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی کی توفیق عطا فرما، کفایت شعاری اور سادگی کی دولت سے مالا مال فرما اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی توفیق مرحمت فرما، اے اللہ! اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بے کس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر و باطن کو تمام گندگیوں سے پاک و صاف فرما، اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سچی محبت اور اخلاص سے بھر پور اطاعت کی توفیق عطا فرما، آمین یا رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ و نور عرشہٖ سیدنا و نبینا و حبیبنا و قرۃ اعیننا محمد، و علیٰ آلہٖ و صحبہٖ اجمعین و بارک و سلم، والحمد للہ رب العالمین!
حوالہ جات:
- المفردات فی غریب القرآن، باب الباء، ص ۱۰۹ ملخصاً، و التعریفات باب الباء، ص ۴۲، ۴۳، ملخصاً۔
- احیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل، بیان حد السخاء ... الخ ۳ / ۲۵۹۔
- پ ۴، آل عمران ۱۸۰۔
- تفسیر خزائن العرفان، پ ۴، آل عمران، زیرِ آیت ۱۸۰: ۱۴۶۔
- پ ۱۰، التوبۃ ۳۴، ۳۵۔
- صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، ر: ۱۴۰۳، ص ۲۲۶۔
- پ ۲۷، الحدید ۲۴۔
- پ ۱۵، الاسراء ۱۰۰۔
- پ ۲۶، محمد ۳۸۔
- پ ۳۰، الہمزۃ ۲ تا ۴۔
- سنن الترمذی، باب ما جاء فی السخاء، ر: ۱۹۶۱، ص ۴۵۵۔
- صحیح مسلم، باب تحریم الظلم، ر: ۶۵۷۶، ص ۱۱۲۹۔
- سنن الترمذی، باب ما جاء فی البخل، ر: ۱۹۶۲، ص ۴۵۵، ۴۵۶۔
- المرجع نفسہ، ر: ۱۹۶۳، ص ۴۵۶۔
- شعب الایمان، ۷۴ - الجود والسخاء، ر: ۱۰۳۶۴: ۱۳ / ۳۰۰، المرجع نفسہ، ر: ۱۰۳۵۱: ص ۲۹۱۔
- سنن ابی داود، باب فی الجراۃ والجبن، ر: ۲۵۱۱، ص ۳۶۴۔
- الفردوس بماثور الخطاب، باب السین، ر: ۳۴۹۱، ۲، شعب الایمان، ۷۴ - الجود والسخاء۔
- ۱۳ / ۳۰۸، ۳۲۹۔
- المرجع نفسہ، ر: ۱۰۳۵۵: ص ۲۹۳۔
- مکاشفۃ القلوب، الباب ۲۵ فی الزکاۃ والبخل، ص ۸۷، ۸۸۔
- مسند ابی یعلی، مسند ابی ہریرۃ، ر: ۶۶۴۹: ۱۲ / ۵۲۷۔
- سنن الترمذی، ابواب الدعوات، ر: ۳۵۴۶: ص ۸۰۸۔
- احیاء العلوم، بخل کی مذمت، فصل ۱۰، بخل کا علاج، ۳ / ۸۶۹-۸۷۱، و باطنی بیماریوں کی معلومات، بخل کے پانچ اسباب اور ان کا علاج ۱۳۱، ۱۳۲۔
- پ ۱۵، بنی اسرائیل ۲۹۔
- تفسیر خزائن العرفان، پ ۱۵، بنی اسرائیل، زیرِ آیت ۲۹: ۵۳۱۔
- صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب التعوذ من البخل، ر: ۶۳۷۰، ص ۱۱۰۶۔
[ماخوذ از: سنی دنیا بریلی شریف دسمبر ۲۰۲۳ء ص ۶ تا ۱۱]
