Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: دوم)

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: دوم)
عنوان: کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: دوم)
تحریر: ابوالاختر مفتی مشتاق احمد امجدی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: دوم)

معزز قارئین! مندرجہ بالا شرعی آداب معاشرت اور ازدواجی اصول و قوانین سے آپ پر بخوبی عیاں ہو چکا ہوگا کہ اسلامی نقطہ نظر سے طلاق ایک دفاعی نظامِ قدرت ہے جو صرف وقتِ ضرورت ہی استعمال کیا جا سکتا ہے، اگر بلا ضرورت طلاق دی جائے تو اگرچہ طلاق پڑ جائے گی مگر یہ قانونِ فطرت سے بغاوت ہوگی، اس کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا، جب تک معاشرہ کے افراد و رجال اللہ کے قانونِ فطرت پر عمل پیرا رہے وہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ، خیر و خوبی کا سر چشمہ اور فوز و فلاح کا مرکز بنا رہا، ایسے مثالی معاشرہ کے افراد کی عائلی زندگیاں ہمارے لیے صبح قیامت تک مشعل راہ اور نمونۂ عمل ہیں۔

لیکن آج حالات اس قدر ناگفتہ اور خستہ ہو چکے ہیں کہ عصر حاضر میں طلاق ایک فیشن اور کھیل بن چکا ہے، آئے دن طلاق کے قصے سننے میں آتے ہیں، طلاق کی کثرت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ دارالافتا اور دارالقضا طلاق و خلع کے مسائل اور میاں بیوی میں تفریق و جدائیگی کے حوادثات واقعات میں سے بھرے پڑے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر طلاق ہو جانا عام سی بات ہو گئی ہے، دن بدن طلاق کا یہ بڑھتا ہوا تناسب ہمارے لیے ایک بڑا لمحۂ فکریہ اور تازیانہ عبرت ہے، ایسے سنگین حالات میں اس کے اسباب و علل اور محرکات و عوامل تلاش کرنا اور ان کا شرعی و دینی حل پیش کرنا ہمارا ایمانی، اخلاقی اور معاشرتی و سماجی فریضہ ہے، ذیل میں تلاش و جستجو اور قیاس و استقراء سے چند اسباب و عوامل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور ساتھ ہی ان کا شرعی حل بھی نذر قارئین کیا جاتا ہے، اصحاب نظر سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اسے بنظر استحسان دیکھیں گے اور بے جا تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کریں گے اور اس اصلاح سے نوازیں گے اور فقیر کی طرف سے مشکور ہوں گے۔

  1. اسلامی تعلیم و تربیت نہ ہونا: ہر قسم کی بھلائی اور ہر طرح کی فلاح و ترقی صرف دینی تعلیم اور اسلامی تربیت پر موقوف ہے، دینی تعلیم و تربیت کے بغیر کسی قسم کی کامیابی پالینا ایک مشکل امر ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کے ظاہر کو سنوارنے اور نکھارنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور ان کی ضروریات زندگی پورے کرنے میں خوب محنت کرتے ہیں وہیں ماں باپ کی یہ بھی بڑی اہم ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیمات اور اسلامی اخلاق و آداب مثلاً کھانے پینے، ہنسنے بولنے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے وغیرہ کے آداب سے بھی روشناس کرائیں، بچوں کو سورہ مائدہ کی تعلیم اور بچیوں کو سورہ نور کی تعلیم دیں، خاص بیٹیوں کو شادی کے بعد شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت بتائیں، بچوں کے دلوں میں خوف خدا، عشق رسول اور فکر آخرت راسخ و مضبوط کریں تاکہ وہ جہاں کہیں رہیں ایک باوقار اور باکردار فرد کی حیثیت سے کامیاب زندگی بسر کریں، اولاد کی ناقص تربیت اور دینی ماحول میں ان کی پرورش نہ کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ انگریزی تعلیم کے ساتھ انگریزی تہذیب میں بھی خوب ترقی کر رہا ہے اور دنیاوی رنگ رلیوں میں اچھی طرح رنگتا چلا جاتا ہے، شادی تو خوب دھوم دھام سے کرتا ہے مگر شادی شدہ زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ اور میاں بیوی کے حقوق و فرائض کا علم نہ ہونے کے سبب رشتہ نکاح کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ پاتے ہیں، نتیجۃً زیادہ دنوں تک نکاح کے فوائد و مصالح حاصل نہیں کر پاتے اور پھر بہت جلد دونوں میں تفریق و جدائیگی ہو جاتی ہے، دور جدید میں طلاق کی بہتات کا یہ سب سے بڑا اور بنیادی سبب ہے۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!