Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

برکات موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم (قسط: اول)

برکات موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم (قسط: اول)
عنوان: برکات موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم (قسط: اول)
تحریر: مفتی وصی احمد قادری علوی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

موئے مبارک شریف کی اہمیت قرآن مجید کی روشنی میں

سورہ ضحیٰ، سورہ نمبر 93: والضحى والليل إذا سجى (یعنی چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈالے)۔ اس آیت مبارکہ میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ چاشت سے جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی طرف اشارہ ہے اور رات سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عنبرین گیسو کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ تفسیر روح البیان سورہ ضحیٰ کی تفسیر میں مرقوم ہے۔ مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یوں نغمہ سرا ہیں:

ہے کلامِ الہی میں شمس و ضحیٰ
ترے چہرہ نورِ فزا کی قسم

قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا
کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم

مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موئے مبارک شریف تقسیم فرمایا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی منیٰ میں جب اپنا سر منڈوایا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کے دائیں حصے کو پکڑ کر اسے منڈوایا اور جب اس سے فارغ ہوئے تو مجھے کچھ موئے مبارک دے کر فرمایا کہ اے انس! یہ اپنی والدہ ام سلیم (جو ابوطلحہ انصاری کی زوجہ محترمہ ہیں) کے پاس لے جا کر انہیں دے دینا۔ ہمارے ساتھ یہ خصوصی عنایت لوگوں نے دیکھ کر آپ کے سر کے بائیں حصے کے مونڈے جانے کے وقت ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش شروع کر دی۔ کوئی صحابی رسول موئے مبارک یہاں سے حاصل کر رہا ہے اور کوئی وہاں سے حاصل کر رہا ہے [صحیح بخاری و جامع ترمذی]۔ حضرت ابو سلمہ کی روایت ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، حضور نے ضحایا تقسیم فرمائے اور انہیں اپنا موئے مبارک عنایت فرمایا [الاصابہ فی تمییز الصحابہ]۔ محمد بن عبد اللہ بن زید کا یہ بھی بیان ہے کہ وہ موئے مبارک مہندی یا وسمہ سے رنگا ہوا ہمارے پاس موجود ہے [طبقات ابن سعد]

سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے
چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو

موئے مبارک کی اہمیت حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نزدیک

حضرت سیدنا عثمان بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میری بیوی نے مجھ کو ایک پیالہ دے کر ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کیونکہ میری بیوی کی یہ عادت تھی کہ جب کسی کو نظر لگ جاتی اور وہ بیمار ہو جاتا تو وہ برتن میں پانی ڈال کر حضرت ام سلمہ کے پاس بھیج دیا کرتی تھی، اس لیے کہ ان کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک تھا جو چاندی کی نلی میں رکھا ہوا تھا۔ وہ اس کو نکالتی اور پانی میں ڈال کر ہلا دیتیں اور مریض وہ پانی پی لیتا جس سے اس کو شفاء مل جاتی [صحیح بخاری و مشکوٰۃ شریف]

گھماتی ام سلمہ پانی میں موئے مبارک کو
مریضوں کو شفا دیتے میرے سرکار کے گیسو

موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چند موئے مبارک تھے جنہیں آپ نے اپنے مکان کے ایک مخصوص حصہ میں ادب و احترام سے محفوظ کر رکھا تھا۔ ایک مرتبہ رات میں بیدار ہوئے تو دیکھا کہ مکان کے جس حصہ میں موئے مبارک تشریف فرما ہیں وہاں ستاروں کی مانند کچھ روشنیاں چمک رہی ہیں اور تلاوتِ قرآن کی آواز آرہی ہے۔ دوسرے دن آپ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملے اور اس کا تذکرہ کیا۔ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم نے ستاروں کی مانند جو روشنیاں دیکھی ہیں وہ فرشتوں کا نور ہے اور تم نے تلاوتِ قرآن کی جو آواز سنی وہ فرشتوں کے تلاوتِ قرآن کی آواز تھی، بے شک فرشتے میرے موئے مبارک کے پاس جمع ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔“ [حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک]

الغرض ان کے ہر مو پہ لاکھوں درود
ان کی ہر خو و خصلت پہ لاکھوں سلام

موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے نزدیک

مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ صفا و مروہ کی سعی فرما رہے تھے کہ داڑھی مبارک سے ایک بال جدا ہو کر نیچے کی طرف تشریف لے آیا، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تیزی سے آگے بڑھے اور زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی بال مبارک اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تم سے ہر ناپسندیدہ بات دور کرے [معجم کبیر]

نبی گیسو ترشواتے، صحابہ لیتے ہاتھوں میں
زمیں پر گرنے کب پاتے، میرے سرکار کے گیسو

موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے نزدیک

حضرت ثابت بنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خادم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک شریف میں سے ایک موئے مبارک ہے۔ جب میں وصال کر جاؤں تو اس کو میری زبان کے نیچے رکھ دینا۔ چنانچہ حسبِ وصیت ان کی زبان کے نیچے رکھ دیا گیا اور اس حالت میں وہ دفن کیے گئے [الاصابہ فی تمییز الصحابہ]

انس نے یہ وصیت کی زباں کے نیچے رکھ دینا
مجھے دفنانے سے پہلے میرے سرکار کے گیسو

موئے مبارک شریف کی اہمیت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک

حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ موئے مبارک اور ناخن مبارک منگوائے اور وصیت کی کہ یہ میرے کفن میں رکھ دینا [مدارج النبوہ و طبقات ابن سعد]

عمر سے عالمِ برزخ میں ملنے پر یہ پوچھوں گا
کفن میں کس لیے رکھے میرے سرکار کے گیسو

موئے مبارک کی اہمیت حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک

حضرت محمد بن سیرین تابعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں جو انس بن مالک یا ان کے گھر والوں کے ذریعے ہمیں حاصل ہوئے ہیں۔ حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موئے مبارک ہونا دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہے [صحیح بخاری]

ہم سیہ کاروں پہ یارب تپشِ محشر میں
سایہ افگن ہو تیرے پیارے کے پیارے گیسو

موئے مبارک کی اہمیت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک

ایک مرتبہ حضرت خالد تھوڑی سی فوج لے کر ملکِ شام میں جبلہ بن ایہم کی قوم کے مقابلے کے لیے تشریف لے گئے اور ٹوپی گھر بھول گئے۔ جب مقابلہ ہوا تو رومیوں کا بڑا افسر مارا گیا، اس وقت جبلہ نے تمام لشکر کو حکم دیا کہ مسلمانوں پر یکبارگی سے سخت حملہ کر دو۔ حملے کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حالت نہایت نازک ہو گئی، یہاں تک کہ رافع بن عمر طائی نے حضرت خالد سے کہا آج معلوم ہوتا ہے کہ ہماری قضا آ گئی ہے۔ حضرت خالد نے فرمایا سچ کہتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آج ٹوپی گھر بھول آیا ہوں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں۔ ادھر یہ حالت تھی اور ادھر اس رات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابو عبیدہ بن الجراح، جو فوج کے افسر تھے، ان کو خواب میں ملے اور فرمایا تم اس وقت سو رہے ہو، اٹھو اور خالد کی مدد کو پہنچو، کفار نے ان کو گھیر رکھا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ اسی وقت اٹھے اور لشکر کو حکم دیا کہ فوراً تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ فوراً تیار ہو کر مع لشکرِ اسلام تیزی کے ساتھ چلے۔ راستے میں انہوں نے ایک سوار کو دیکھا جو گھوڑا دوڑاتے ہوئے ان کے آگے جا رہا تھا۔ چند تیز رفتار سواروں کو کہہ دیا کہ اس سوار کا حال معلوم کرو۔ سوار جب قریب پہنچے تو پکار کر کہا اے جواں مرد سوار! ذرا ٹھہرو۔ یہ سنتے ہی وہ رک گیا۔ دیکھا تو وہ حضرت خالد بن ولید کی بیوی تھی۔ حضرت ابو عبیدہ نے ان سے حال معلوم کیا کہ اے امیر! جب رات کو میں نے سنا کہ آپ نے لشکرِ اسلام کو نہایت ہی بے تابی سے حکم فرمایا کہ خالد بن ولید کو دشمنوں نے گھیر رکھا ہے، تو میں نے خیال کیا کہ وہ کبھی ناکام نہ ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں، لیکن جوں ہی میں نے دیکھا تو میری نظر ان کی ٹوپی پر پڑی جس میں موئے مبارک تھے۔ نہایت ہی افسوس ہوا اور اسی وقت میں چل پڑی کہ کسی طرح ان موئے مبارک کو ان تک پہنچا دوں۔ حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا جلدی جاؤ خدا تمہیں برکت دے۔ چنانچہ انہوں نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی اور آگے بڑھ گئیں۔ حضرت رافع بن عمر جو حضرت خالد کے ساتھ تھے، فرماتے ہیں کہ حالت یہ تھی کہ ہم اپنی زندگیوں سے مایوس ہو گئے تھے کہ اچانک تکبیر کی آواز آئی۔ حضرت خالد نے دیکھا کہ یہ آواز کدھر سے آ رہی ہے۔ جب رومیوں کے لشکر پر نظر پڑی تو کیا دیکھا کہ ایک سوار ان کا پیچھا کیے ہوئے ہے اور وہ بدحواس ہو کر بھاگے چلے آ رہے ہیں۔ حضرت خالد گھوڑا دوڑا کر اس سوار کے قریب پہنچے اور پوچھا اے جوان! تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں آپ کی بیوی (امِ تمیم) ہوں، تمہاری ٹوپی مبارک لائی ہوں جس کی برکت سے آپ اور اہلِ اسلام فتح پاتے تھے، چونکہ آپ اسے بھول آئے تھے اور آپ پر مصیبت آ گئی۔ پھر بی بی امِ تمیم نے حضرت خالد کو ٹوپی دی، آپ نے پہن لی (جن کو مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سيف من سيوف الله فرمایا ہے) [برکات زلف عنبریں]

موئے مبارک شریف کی اہمیت پر واقعہ دوم

جنگِ یرموک میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ نسطور پہلوان سے ہوا۔ دونوں کا دیر تک سخت مقابلہ ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر گیا اور حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے سر پر آ گئے، ٹوپی زمین پر آ پڑی۔ نسطور کافر موقع پا کر آپ کی پشت پر آ گیا۔ اس وقت حضرت خالد رضی اللہ عنہ پکار پکار کر اپنے رفقاء سے فرما رہے تھے کہ میری ٹوپی مجھے دے دو خدا تم پر رحم کرے۔ ایک شخص جو آپ کی قوم بنی مخزوم سے تھا، وہ دوڑ کر آیا اور ٹوپی آپ کو دے دی، آپ نے اسے پہن لیا اور نسطور کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ آپ نے اس کو قتل کر دیا۔ لوگوں نے اس واقعے کے بعد آپ سے پوچھا کہ دشمن تو پشت پر آ پہنچا تھا اور آپ ٹوپی کی فکر کر رہے تھے حالانکہ ٹوپی اتنی قیمتی تو نہ تھی۔ تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس ٹوپی میں حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کے بال مبارک ہیں جو مجھے اپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں۔ عمر بھر ہر جنگ میں ان مبارک بالوں کی برکت سے فتح و نصرت حاصل ہوتی رہی۔ اس لیے میں بے قراری سے اپنی ٹوپی کی طلب میں تھا کہ کہیں ان کی برکت سے محروم نہ ہو جاؤں اور یہ ٹوپی کسی کافر کے ہاتھ نہ لگ جائے جو ان مبارک بالوں کی بے حرمتی کرے [عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری و شفاء شریف]

لیے آئی امِ تمیم وہ ٹوپی فتح تھی جس میں
بدل دیں جنگ کے نقشے میرے سرکار کے گیسو

فقط اس واسطے خالد نے ہر اک معرکہ جیتا
انہوں نے ٹوپی میں رکھے میرے سرکار کے گیسو

موئے مبارک شریف کی اہمیت پر واقعہ سوم

حضرت خالد کی ٹوپی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند گیسوئے عنبریں تھے، آپ کی ٹوپی گر گئی اس پر آپ نے کفار سے شدت کی لڑائی کا حکم فرمایا۔ گھمسان کی جنگ ہوئی، آپ پر بعض صحابہ نے اعتراض اٹھایا کہ ایک ٹوپی کی خاطر آپ نے قیمتی جانیں مروا دیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ میں نے ٹوپی کے لیے جنگ نہیں کی بلکہ ان گیسوئے پاک کی خاطر ایسا کیا ہے، اس لیے کہ ٹوپی میں گیسوئے پاک تھے، اگر ٹوپی نہ ملتی تو وہ بال کفار کے ہاتھ لگ جاتے اور ہم ان کے برکات سے محروم رہتے [شفاء شریف و برکات زلف عنبریں]

حوالہ: [برکات موئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، ص: 29 تا 34]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!