Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط:اول)

کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: اول)
عنوان: کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: اول)
تحریر: ابوالاختر مفتی مشتاق احمد امجدی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

اسلام کا منشا یہ ہے کہ جب ایک مسلم جوڑا رشتۂ ازدواج سے منسلک ہو تو ہر ممکن نباہ کی کوشش کی جائے، میاں بیوی نکاح کی گرہ میں قائم رہ کر نکاح کے دینی و دنیاوی فوائد و مثال حاصل کریں، اللہ و رسول کی رضا کے طالب ہو کر ایک باوقار اور کامیاب زندگی گزاریں اور ہر اس چیز سے اجتناب و پرہیز کریں جس سے اس رشتہ میں کسی قسم کی کمزوری اور خلل پیدا ہو اور نکاح کے مصالح و برکات سے محرومی ہاتھ آئے البتہ جب کسی طرح اس پاکیزہ رشتہ میں کجی پیدا ہو جائے اور میاں بیوی میں نااتفاقی اور ناچاقی بڑھنے لگے خواہ یہ نا اتفاقی مرد کی جانب سے ہو یا عورت کی طرف سے، جہاں تک ہو سکے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کو دور کیا جائے اور کسی طرح اس کی اصلاح ممکن نہ ہو اور ایسی صورت میں خطرہ ہو کہ اگر بدستور رشتہ نکاح میں بندھے رہے تو یہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور نکاح کے مقاصد فوت ہو جائیں گے تو ان کی عدم موافقت اور باہمی نفرت کے باوجود ان کو نکاح میں رہنے پر مجبور کرنا بھی اسلام کو پسند نہیں، ایسی صورت میں مرد و عورت، ان کے رشتہ داروں اور معاشرہ کے دیگر افراد کی بہتری اور مصلحت اسی میں ہے کہ عقدِ نکاح کو باقی نہ رکھا جائے۔

اگر منافرت عورت کی طرف سے ہو تو اللہ عزوجل نے اس کی اصلاح کے درج ذیل رہنما اصول عطا فرمائے ہیں، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِـعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا- [النساء: 34]

اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور (نا سمجھنے کی صورت میں) ان سے الگ سوؤ اور (پھر نہ سمجھنے پر) ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔ [کنز الایمان]

مذکورہ آیتِ کریمہ میں نافرمان بیوی کی اصلاح کے لیے تین انفرادی کوشش کا تذکرہ کیا گیا ہے اگر ان تینوں انفرادی کوششوں میں سے کسی کے ذریعہ نافرمان بیوی فرماں بردار نہ ہو تو پھر اجتماعی طریقۂ اصلاح کی تعلیم کرتے ہوئے رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا [النساء: 35]

اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کر دے گا بے شک اللہ جاننے والا، خبردار ہے۔

اوپر ذکر کردہ دونوں آیاتِ طیبات سے امر روزِ روشن کی طرح واضح و عیاں ہوتا ہے کہ اگر میاں بیوی میں عداوت اور پھوٹ پڑ جائے تو اس کا حل صرف طلاق نہیں ہے بلکہ طلاق سے پہلے بھی اصلاح کے کئی طریقے ہیں جن کے ذریعہ نفرت محبت میں تبدیل کی جا سکتی ہے، ہاں اگر ان طریقوں سے بھی اصلاح نہ ہو سکے تو اب میاں بیوی میں تفریق و جدائیگی سے چارہ نہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!