| عنوان: | شہید ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ملک ممتاز حسین قادری |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | ارشد رضا مدنی |
آسیہ بی بی پاکستان کی ایک عیسائی عورت تھی، جس نے حضور اقدس نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کی تھی اور عدالت میں اپنا جرم قبول کیا تھا۔
پنجاب (پاکستان) کے گورنر سلمان تاثیر نے 2010ء میں اس عیسائی خاتون آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی۔ اس کو توہینِ رسالت کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔ پھر سلمان تاثیر نے اُس وقت کے موجودہ صدرِ پاکستان آصف زرداری سے موجودہ دنوں میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کی حمایت میں پاکستانی دستور سے توہینِ رسالت سے متعلق قانون C/295 کو ہٹانے کی تجویز رکھی اور اس قانون کو کالا قانون کہا۔
اس کے خلاف دستہ کے ایک فرزندِ اہلِ سنت ملک ممتاز قادری نے راولپنڈی (پاکستان) میں 2 جنوری 2011ء کو سہارا مارکیٹ اسلام آباد پاکستان میں گن سے اس پر 28 گولیاں داغ کر ہلاک کر دیا۔ سلمان تاثیر اُس وقت ایک ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ ممتاز قادری نے اسلام آباد کی کورٹ میں اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اس نے سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کیا ہے کیونکہ اس نے قانونِ توہینِ رسالت کی تبدیلی کی حمایت کی تھی۔
اسلام آباد انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے سال 2011ء میں ملک ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت سنائی۔ ممتاز قادری نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ ہائی کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا، لیکن فوجداری قانون کی دفعہ 302 کے تحت اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ پھر ممتاز قادری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پاکستانی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔
سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی کورٹ کے فیصلے کو بحال کر دیا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کہا کہ اگر توہینِ مذہب کے کسی مجرم کو لوگ ذاتی طور پر سزا دینا شروع کر دیں تو اس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف ممتاز قادری نے سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی بھی اپیل کی، لیکن اس اپیل کو بھی خارج کر دیا گیا۔
اس کے بعد ممتاز قادری کے اہلِ خانہ نے صدرِ پاکستان ممنون حسین سے رحم کی درخواست کی۔ صدرِ پاکستان نے بھی رحم کی درخواست قبول نہ کی۔ آخری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ اسلامی قانون کے مطابق ممتاز قادری کو موت کی سزا دینا صحیح نہیں ہے، لیکن ہم ملکی قانون کے اعتبار سے سزائے موت دیتے ہیں۔
ممتاز قادری کو 29 فروری 2016ء کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی۔ جیل حکام کے مطابق ممتاز قادری کو اتوار اور پیر کی درمیانی رات پھانسی دی گئی۔ پھانسی کے وقت اڈیالہ جیل جانے والے راستے کو سیل کر دیا گیا اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کی لاش ان کے اہلِ خانہ کے سپرد کر دی گئی۔ ممتاز قادری کی پھانسی کو انتہائی راز میں رکھا گیا اور اس بارے میں پنجاب کے محکمہ جیل کے چند افسران ہی باخبر تھے۔ پھانسی دینے والے جلاد کو خصوصی گاڑی کے ذریعے اتوار کی رات لاہور سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل لایا گیا۔ جب کہ عام طور پر پھانسی دینے والے جلاد کو دو دن پہلے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے کس جیل میں قیدی کو تختۂ دار پر لٹکانا ہے۔ پھانسی گاہ میں موجود لوگوں کا بیان ہے کہ ممتاز قادری پھانسی کے وقت روزے کی حالت میں تھے اور ان کی زبان پر درود و سلام جاری تھا۔
نمازِ جنازہ 29 فروری 2016ء کو شام 3 بجے لیاقت باغ میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کی امامت علامہ سید حسین الدین شاہ نے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم راولپنڈی و سرپرستِ اعلیٰ تنظیم المدارس اہلِ سنت پاکستان نے کی۔ جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ ہوا۔
پھانسی کی سزا عام ہونے کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں سخت احتجاج ہوا۔ مظاہرین نے شہر راولپنڈی کو دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی بڑی شاہراہ ”اسلام آباد ایکسپریس وے“ اور فیض آباد پل کو بند کر دیا اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔
لاہور میں احتجاج کے سبب میٹرو بس سروس معطل رہی اور شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا۔ جلسے اور جلوسوں کے انعقاد پر حکومت نے فوری پابندی عائد کر دی۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد ایسے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا جو پاکستان میں ”ممتاز قادری، ہمارا ہیرو ہے“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ممتاز قادری کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ہڑتال کر دی۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں پھانسی کو ”جوڈیشل قتل“ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام آباد کے وکلا اس کے خلاف مکمل ہڑتال کریں گے اور کوئی بھی وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہوگا۔
ملک ممتاز حسین قادری کو 2011ء سے 2016ء تک اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس کی رہائی کے لیے بے حساب احتجاجات ہوئے، ریلیاں نکالی گئیں، لیکن پاکستانی حکومت پر مغربی آقاؤں کا بھی دباؤ تھا اور اہلِ مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے واسطے ہی سلمان تاثیر (گورنر پنجاب) نے قانونِ توہینِ رسالت کو کالا قانون کہا تھا۔ ایسے لوگ کس منہ سے خود کو مسلمان کہتے ہیں، جب کہ ان کے دل میں محبتِ رسول کی چنگاری تک موجود نہیں۔ [تحفظِ ناموسِ رسالت اور اسلاف و اخلاف، ص: 16]
