| عنوان: | احساس مروت کی موت پر ہمارا مرثیہ |
|---|---|
| تحریر: | صادق رضا مصباحی |
| پیش کش: | ذکیہ صدیقی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت،
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات [ڈاکٹر اقبال]
اگر ہم اس شعر کا حقیقی مصداق دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو جانا چاہیے۔ آئینے میں جو چہرہ اور جو پیکر منعکس ہوگا وہ یقیناً اس شعر کے حقیقی مصداق تک پہنچا دے گا۔ آئینے کی مثال دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم میں بیشتر لوگ کم از کم دو چہروں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم میں سے تقریباً سبھی کا احساسِ مروت کچلا جا چکا ہے۔ ہمیں دوسروں کی قدر و قیمت کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں، ہاں ہمارا یہ احساس اس وقت فزوں ہو جاتا ہے جب کسی سے ہمارا تعلق مادی ہوتا ہے اور اس مادی تعلق کا جال مکڑی کے جالے کی طرح ہمیں ایک دوسرے سے باندھے رکھتا ہے۔ اگر ہمیں کسی سے کوئی فائدہ نہیں، کوئی مطلب نہیں، کوئی کام نہیں، کوئی لالچ نہیں تو پھر ہمارے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ شخص کتنا لائق و فائق اور دوسروں کے لیے کتنا کارآمد ہے۔
وہ زمانہ تاریخ کے دوش پر سوار ہو کر بہت دور جا چکا، جب کسی بے اصولی، جھوٹے، مکار، فریبی اور برے شخص کی سماج میں کوئی عزت نہ تھی۔ ہر کوئی اس سے کتراتا تھا اور دوسروں کو اس سے بچنے کی تلقین بھی کرتا تھا۔ اس بات کی قطعاً پروا نہیں کی جاتی تھی کہ یہ فریبی شخص کس قدر دولت مند اور صاحبِ مسند و اقتدار ہے۔ گئے زمانے میں اصول و ضابطے جسم میں پھیلی شریانوں کی طرح ہمارے فکری و اخلاقی وجود میں پھیلے ہوتے تھے اور ہمیں خون پہنچاتے رہتے تھے، مگر اب یہ رگیں کاٹی جا چکی ہیں اور خون کی فراہمی بند ہو چکی ہے، اس لیے ہمارا پورا فکری و اخلاقی وجود ہی بے جان اور مردہ ہو چکا ہے۔
اب شاید و باید ہی ہم میں کوئی ایسا ہو جو ہم سے اصولی و اخلاقی بنیادوں پر ترکِ تعلق کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں برا کام کرنے میں ذرہ برابر بھی جھجھک محسوس نہیں ہوتی، کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ اب کوئی واعظ و ناصح باقی نہیں رہا اور اگر کوئی واعظ و ناصح ہے بھی تو ہمیں اس کے دامن پر بھی داغ دھبے نظر آتے ہیں، گویا آج ہم ایک ایسے حمام میں کھڑے ہیں جس میں ہم سب ننگے ہیں۔ آپ سب میرے ساتھ اس بات کی عینی شہادت دیں گے کہ آج چاپلوسوں کا زمانہ ہے، اصولی لوگوں کا نہیں۔ آپ کتنے ہی اچھے انسان ہوں، پڑھے لکھے ہوں، صاحبِ اقدار ہوں، روایات کے امین اور معاشرے کے جوہر ہوں، مگر آپ کی تمام صلاحیتیں اس وقت تک کنارے پڑی رہتی ہیں جب تک کہ آپ کے اندر ایک اور ہنر نہ ہو، اور وہ ہنر ہے چاپلوسی کا، جھوٹی تعریف کا، موقع پرستی کا، منافقت کا۔
سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ ہم بڑی خوبصورتی سے اپنے ان سارے عیبوں کو مصلحت کوشی کے لفافے میں پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کے اندر یہ ہنر ہے تو پھر سمجھئے کہ یہ مذکورہ ساری صلاحیتوں پر بھاری ہے اور آپ ایسی حقیقی خوبیوں والے افراد پر ”غالب“ ہی رہیں گے۔ کتنے ایسے لوگ میری نگاہوں میں ہیں جو دوسروں کا کام محض اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ان سے کام پڑتا رہتا ہے، یا انہیں ان سے کسی فائدے کی توقع ہوتی ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی حقیقی ضرورت مند انسان کسی ضرورت یا مدد کے لیے چلا جائے تو یہ لوگ اکثر معذرت کر لیتے ہیں اور اگر کام کر بھی دیں تو پھر احسان جتلا کر شرمندہ کرنا ان کا معمول ہے۔
جب کہ دوسری طرف اپنے مفاد اور مطلب کے لوگوں کو یہ کہہ کر فائدہ پہنچاتے ہیں کہ در اصل وہی لوگ ان کے صحیح معنوں میں بڑے مخلص اور عزیز ہیں۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ یہ دور مادی دور ہے، مشینی دور ہے، سائنسی دور ہے۔ اس مشینی اور سائنسی دور نے ہر انسان کو اتنا جلد باز بنا دیا ہے کہ اسے صرف اور صرف دنیا نظر آ رہی ہے، اسے آخرت نظر نہیں آ رہی، وہ جلد از جلد فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور معاشرے میں اپنا ”مقام“ بنانے کے لیے ہاتھ پیر مارتا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر حربہ آزماتا ہے۔ یہی وجہ ہے اب ہم میں انسانیت نہیں رہی، ہم میں احساسِ مروت نہیں رہا۔ مشینوں کی حکومت اور مادیت کے بوجھ تلے ہمارا احساس، انسانیت، مروت، محبت اور سب کچھ کچلا جا رہا ہے۔
سب کی موت واقع ہو رہی ہے، مگر ہمیں ان کی موت پر رتی برابر بھی افسوس نہیں ہے، کیوں کہ ہمیں اپنی اقدار، روایات اور ورثے کی اہمیت کا اندازہ نہیں اور جسے کسی چیز کی اہمیت کا اندازہ ہی نہ ہو، اسے اس چیز کی طرف متوجہ کرنا بھینس کے آگے بین بجانا ہے، لہذا یہ سطور ان عناصر کی موت پر بطور مرثیہ لکھی جا رہی ہیں، اصلاح کے لیے نہیں، کیوں کہ اصلاح کی طرف سے ہم نے اپنے سارے دروازے بند کر رکھے ہیں، اب موت کی دستک پر ہی یہ دروازہ کھولیں گے۔
