| عنوان: | قربانی کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد حسنین رضا برکاتی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃالمدینہ فیضانِ عطار |
قربانی ایک ایسی عبادت ہے جو مخصوص دن یعنی کہ ذوالحجہ کی دس، گیارہ، اور بارہ تاریخ کے ساتھ خاص ہے۔ اور ان دنوں میں یہ عبادت اللہ پاک کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ یہ اسلام کے تہواروں میں سے ایک عظیم تہوار ہے۔ قربانی ہم مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ قربانی کرنا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔ اسی طرح قربانی کرنے سے سنتِ ابراہیمی پر عمل کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اور رہی بات قربانی کے حکم کی تو اللہ پاک اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [الكوثر: 2] ترجمہ: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
اس آیتِ کریمہ سے قربانی کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اب چونکہ میرے اس مضمون کا موضوعِ سخن ہے قربانی کی فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں، تو اس حوالے سے سب سے پہلے چار یار کی نسبت سے چار آیاتِ قرآنی پیشِ خدمت ہیں:
اے محبوب! قربانی کرو
- فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [الكوثر: 2] ترجمہ: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ اس آیت میں ہمیں نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بعض مفسرین نے نماز سے مراد نمازِ عیدالاضحیٰ لیا ہے۔
- لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ [الحج: 37] ترجمہ: ”اللہ تک نہ ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف بکرا، گائے، اور اونٹ کو ذبح کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ خلوصِ نیت، تقویٰ، اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہی اس قربانی کا اصل مقصد ہے۔
ہر امت کے لیے قربانی مقرر تھی
- وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ترجمہ: ”اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ ان چوپایہ جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف اسی امت پر واجب نہیں بلکہ پچھلی امتوں پر بھی واجب تھی۔
گویا کہ قربانی بھی شعائر اللہ ہے
- وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ترجمہ: ”اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے۔“
قربانی کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
جس طرح قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر قربانی سے متعلق آیات موجود ہیں اسی طرح متعدد احادیث میں بھی قربانی کے فضائل موجود ہیں۔ ان میں سے چار احادیثِ کریمہ درج ذیل ہیں:
- ہر بال کے بدلے ایک نیکی: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ مَا هٰذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيْمَ. قَالُوْا: فَمَا لَنَا فِيْهَا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ. صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ عرض کیا: اس میں ہمارے لیے کیا ہے؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 3127]
- قربانی اللہ کو بہت محبوب عمل ہے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔ [جامع ترمذی: 1493]
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ. یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید سیاہ دھبوں والے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔ [صحیح بخاری: 5558، صحیح مسلم: 1966]
- استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر وعید: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا. یعنی جو شخص استطاعت رکھتا ہو پھر بھی قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ [سنن ابن ماجہ: 3123]
الحاصل
حاصلِ کلام یہی ہے کہ ہمیں خلوصِ دل اور رضائے الٰہی کے ساتھ قربانی کرنی چاہیے۔ ان فضیلتوں اور سنتوں پر عمل کر کے ہم سب کو دنیا و آخرت میں اپنے لیے قربانی کو زادِ راہ بنانا چاہیے۔ نیز ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو استطاعت کے باوجود بھی اس عملِ خیر سے منہ پھیرتے ہیں۔
