| عنوان: | اہل بیت نبوت (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
حضراتِ کرام! خلفائے راشدین علیہم الرضوان کا ذکر کیا گیا۔ ان کی ذواتِ مقدسہ مقربینِ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے اعلیٰ مرتبہ رکھتی ہیں اور حق یہ ہے کہ حضورِ انور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کسی کو بھی ادنیٰ سی محبت و نسبت ہے، اس کی فضیلت اندازے اور قیاس سے زیادہ ہے۔ اس آقائے نامدار، سرکارِ دولت مدار صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنی نسبت کہ کوئی شخص ان کے بلدۂ طاہرہ اور شہرِ پاک میں سکونت رکھتا ہو، اس درجہ کی ہے کہ حدیثِ شریف میں وارد ہوا:
مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ظُلْمًا أَخَافَهُ اللَّهُ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔ [رواہ قاضی ابو یعلی]
جس نے اہل مدینہ کو ظلم سے ڈرایا، اللہ تعالیٰ اس پر خوف ڈالے گا اور اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ ترمذی کی حدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي۔ [رواہ الترمذی]
حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے عربوں سے بغض رکھا وہ میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور اس کو میری مودت میسر نہ آئے گی۔ اتنی نسبت ایک شخص کو عرب کا باشندہ ہونے کے ناتے اس مرتبہ پر پہنچا دیتی ہے کہ اُس سے خیانت کرنے والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت و مودت سے محروم ہو جاتا ہے، تو جن برگزیدہ نفوس اور خوش نصیب حضرات کو اس بارگاہِ عالی میں قرب و نزدیکی اور اختصاص حاصل ہے، ان کے مراتب کیسے بلند و بالا ہوں گے! اس سے آپ اہل بیتِ کرام علیہم الرضوان کے فضائل کا اندازہ کیجیے۔ ان حضرات کی شان میں بہت آیتیں اور حدیثیں وارد ہوئیں:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔ [سورۃ الاحزاب: 33]
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے رجس (ناپاکی) دور کرے اے اہل بیتِ رسول! اور تمہیں پاک کرے، خوب پاک۔ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت حضرت علیِ مرتضیٰ، حضرت سَیِّدۃُ النِّساء فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی اور قرینہ اس کا یہ ہے کہ ”عنکم“ اور اس کے بعد کی ضمیر میں مذکر ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ علیہن کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ اس کے بعد ہی ارشاد ہوا: وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ۔ اور یہ قول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد خود سرکارِ دولت مدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی صفات ہے تنہا۔ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت حضور کی ازواجِ مطہرات کے حق میں نازل ہے، علاوہ اس کے کہ اس پر آیت ”وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ“ دلالت کرتی ہے، یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ یہ دولت سرائے اقدس ازواجِ مطہرات ہی کا مسکن تھا۔ حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نسب و قرابت کے وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ ایک جماعت نے اس پر اعتماد کیا اور اس کو ترجیح دی اور ابنِ کثیر نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
احادیث پر جب نظر کی جاتی ہے تو مفسرین کی دونوں جماعتوں کو ان سے تائید پہنچتی ہے۔ امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت پنجتنِ پاک کی شان میں نازل ہوئی۔ پنجتن سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ہیں۔ اس مضمون کی حدیث مرفوع ابنِ جریر نے روایت کی، طبرانی میں بھی اس کی تخریج کی گئی۔ مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے ان حضرات کو اپنی گلیمِ مبارک میں لے کر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یہ بھی بصحت ثابت ہوا ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کو تحتِ گلیمِ اقدس لے کر یہ دعا فرمائی:
اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي، أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا۔ [رواہ الترمذی]
یارب! یہ میرے اہل بیت اور میرے مخصوصین ہیں، ان سے رجس و ناپاکی دور فرما اور انہیں پاک کر دے اور خوب پاک۔ یہ دعا سن کر ام المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ فرمایا: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ (تم بہتری پر ہو)۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے جواب میں فرمایا: بَلَى (ہاں) اور ان کو کسا (گلیم) میں داخل کر لیا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے حق میں بھی دعا ہو یا رسول اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی دعا فرمائی۔ ایک صحیح روایت میں ہے واثلہ نے عرض کیا: وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ (میں بھی آپ کے اہل میں سے ہوں)۔ فرمایا: وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي (تم بھی میرے اہل میں سے ہو)۔ یہ کرم تھا کہ سرکارِ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نیاز مندِ خالص العقیدت کو مایوس نہ فرمایا اور اپنی اہل کے حکم میں داخل فرمادیا، وہ حکماً داخل ہیں۔
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور نے ان حضرات کے ساتھ اپنی باقی صاحبزادیوں، قرابت داروں اور ازواجِ مطہرات کو ملایا۔ ثعلبی کا خیال ہے کہ آیت میں اہل بیت سے تمام بنی ہاشم مراد ہیں، اس کو اس حدیث سے تائید پہنچتی ہے جس میں ذکر ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رِداء مبارک میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کی صاحبزادیوں کو لپٹا کر دعا فرمائی: یارب! ہذا عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي، وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَسَتْرِي إِيَّاهُمْ بِمِلَاءَتِي هَذِهِ۔ یعنی یارب! یہ میرے چچا اور بمنزلہ میرے والد کے ہیں اور یہ میرے اہل بیت ہیں، انہیں آتشِ دوزخ سے ایسا چھپا جیسا میں نے اپنی چادرِ مبارک میں چھپایا ہے۔ اس دعا پر مکان کے در و دیوار نے آمین کہی۔
خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں داخل ہیں کیونکہ وہی اس کے مخاطب ہیں۔ چونکہ اہل بیتِ نسب کا مراد ہونا مخفی تھا اس لیے آں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فعلِ مبارک سے بیان فرما دیا کہ مراد اہل بیت سے عام ہیں، خواہ بیتِ مسکن کے اہل ہوں جیسے کہ ازواج، یا بیتِ نسب کے اہل بنی ہاشم و مطلب۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے، آپ نے فرمایا: میں ان اہل بیت میں سے ہوں جن سے اللہ تعالیٰ نے رجس کو دور کیا اور انہیں خوب پاک کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں بیتِ نسب بھی اسی طرح مراد ہے، جس طرح بیتِ مسکن۔ یہ آیتِ کریمہ اہل بیتِ کرام کے فضائل کا منبع ہے۔
اس سے ان کے اعزاز، مآثر اور علوِ شان کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تمام اخلاقِ دنیہ و احوالِ مذمومہ سے ان کی تطہیر فرمائی گئی۔ بعض احادیث میں مروی ہے کہ اہل بیت نار پر حرام ہیں اور یہی اس تطہیر کا فائدہ اور ثمرہ ہے اور جو چیز ان کے احوالِ شریفہ کے لائق نہ ہو، اس سے ان کا پروردگارِ عزوجل انہیں محفوظ رکھتا اور بچاتا ہے۔ جب خلافتِ ظاہرہ میں شانِ مملکت و سلطنت پیدا ہوئی تو قدرت نے آلِ طاہر کو اس سے بچایا اور اس کے عوض خلافتِ باطنہ عطا فرمائی۔ حضراتِ صوفیہ کا ایک گروہ جزم کرتا ہے کہ ہر زمانہ میں قطبِ اولیاء آلِ رسول ہی میں سے ہوں گے۔ اس تطہیر کا ثمرہ ہے کہ صدقہ ان پر حرام کیا گیا کیونکہ اس کو حدیثِ شریف میں صدقہ دینے والوں کا میل بتایا گیا ہے، مع ذلک اس میں لینے والے کی سبکی بھی ہے۔ بجائے اس کے وہ خمس و غنیمت کے حق دار بنائے گئے جس میں لینے والا بلند و بالا ہوتا ہے۔
اس آلِ پاک کی عظمت و کرامت یہاں تک ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں جب تک تم انہیں نہ چھوڑو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے؛ ایک کتاب اللہ، ایک میری آل۔ دیلمی نے ایک حدیث روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دعا رکی رہتی ہے جب تک کہ مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ پڑھا جائے۔ ثعلبی نے حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے روایت کی کہ آپ نے آیت: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ کی تفسیر میں فرمایا کہ ہم ہی حبل اللہ ہیں۔
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ [سورۃ آل عمران: 103]
دیلمی سے مرفوعاً مروی ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے ساتھ محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے خلاصی عطا فرمائی۔ امام احمد نے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سَیِّدَیْنِ کَرِیمَیْنِ حسنینِ شہیدین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ جس شخص نے مجھ سے محبت رکھی اور ان دونوں سے اور ان کے والد اور والدہ سے محبت رکھی، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ یہاں معیت سے مراد قربِ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا درجہ تو انہیں کے ساتھ خاص ہے۔
کتنی بڑی خوش نصیبی ہے محبینِ اہل بیت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے جنتی ہونے کی خبر دی اور مژدہِ قرب سے مسرور فرمایا، مگر یہ وعدہ اور بشارت مومنینِ مخلصینِ اہل سنت کے حق میں ہے۔ روافض اس کا محل نہیں جنہوں نے اصحابِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی و بے باکی اور اکابرِ صحابہ علیہم الرضوان کے ساتھ بغض و عناد اپنا دین بنا لیا ہے۔ ان لوگوں کا حکم مولیٰ علیِ مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے جو آپ نے فرمایا: یَهْلِكُ فِيَّ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ (میری محبت میں مفرط ہلاک ہو جائے گا)۔ حدیثِ شریف میں وارد ہے:
لَا يَجْتَمِعُ حُبُّ عَلِيٍّ وَبُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ۔ [رواہ الترمذی]
یعنی حضرت علیِ مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت اور شیخینِ جلیلین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا بغض کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہِ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض و عداوت رکھنے والا حضرت مولیٰ علیِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ صحیح حدیث میں آیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے برسرِ منبر فرمایا: ان اقوام کا کیا حال ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحم (قرابت) روزِ قیامت کچھ کام نہ آئے گا؟ ہاں خدا کی قسم! میرا رحم (رشتہ و قرابت) دنیا و آخرت میں موصول ہے۔ قرطبی نے سید المفسرین حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے آیہِ کریمہ: وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ۔ کی تفسیر میں نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضورِ انور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر راضی ہوئے کہ ان کے اہل بیت میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ۔ [سورۃ الضحیٰ: 5]
حاکم نے ایک حدیث روایت کی اور اس کو صحیح بتایا، اس کا مضمون یہ ہے کہ آں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے میرے رب نے میرے اہل بیت کے حق میں فرمایا کہ ان میں سے جو توحید و رسالت کا مقر ہوا، ان کو عذاب نہ فرمائے۔ طبرانی و دارِ قطنی کی روایت ہے: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: اول گروہ جس کی میں شفاعت فرماؤں گا میرے اہل بیت ہیں، پھر مرتبہ بمرتبہ قریش، پھر انصار، پھر اہلِ یمن میں سے جو مجھ پر ایمان لائے اور میرے متبع ہوئے، پھر تمام عرب، پھر اہلِ عجم اور جن کی میں پہلے شفاعت کروں گا وہ افضل ہیں۔
بزار و طبرانی و ابو نعیم نے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاک دامن ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی ذریت کو نار پر حرام فرمایا۔ بیہقی اور ابوالشیخ اور دیلمی نے روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بندہ مومن کامل نہیں ہوتا... یہاں تک کہ میں اس کو اس کی جان سے زیادہ پیارا نہ ہوں اور میری اولاد اس کو اپنی جان سے زیادہ پیاری نہ ہو اور میرے اہل ان کو اپنے اہل سے زیادہ محبوب نہ ہوں اور میری ذات اس کو اپنی ذات سے زیادہ احب نہ ہو۔ دیلمی نے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو تین خصلتیں سکھاؤ: اپنے نبی کی محبت، ان کے اہل بیت کی محبت اور قرآنِ پاک کی قرأت۔ دیلمی نے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ کی محبت رکھتا ہے وہ قرآن کی محبت رکھتا ہے اور جو قرآن کی محبت رکھتا ہے وہ میری محبت رکھتا ہے اور جو میری محبت رکھتا ہے وہ میرے اصحاب اور قرابت داروں کی محبت رکھتا ہے۔ امام احمد نے روایت کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اہل بیت سے بغض رکھے وہ منافق ہے۔ (سوانح کربلا)
اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
