| عنوان: | فرض عین علوم کا تحقیقی جائزہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | سلمیٰ شاہین امجدی کردار فاطمی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ。[صحيح البخاري: 52]
حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
حلال اور حرام کھانے پینے کی چیزوں کی پہچان ضروری ہے۔ حرام کمائی کی اقسام، جیسے سود، رشوت اور دھوکہ، سے آگاہی بھی لازم ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی اور بہتان کی حرمت اور ان کی مختلف صورتوں کا شعور ہونا چاہیے۔ ناپ تول میں کمی کے گناہ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح حرام نظر اور حرام سماعت سے متعلق احکام سے واقفیت رکھنا بھی لازم ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:
مَنْ لَّا يَعْرِفُ الْحَرَامَ كَيْفَ يَتَجَنَّبُهُ وَمَنْ لَّا يَتَجَنَّبُ الْحَرَامَ فَهُوَ آثِمٌ فَإِذَنْ تَعَلُّمُ الْحَرَامِ فَرِيضَةٌ。[إحياء علوم الدين، ج: 1، كتاب العلم: 16]
جو شخص حرام کو نہ جانے وہ اس سے کیسے بچے گا، اور جو حرام سے نہ بچے وہ گناہ گار ہے، پس حرام کو جاننا فرض ہے۔
تبیین المحارم میں ہے:
لَا شَكَّ فِي فَرْضِيَّةِ عِلْمِ الْفَرَائِضِ الْخَمْسِ وَعِلْمِ الْإِخْلَاصِ؛ لِأَنَّ صِحَّةَ الْعَمَلِ مَوْقُوفَةٌ عَلَيْهِ وَعِلْمِ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَعِلْمِ الرِّيَاءِ؛ لِأَنَّ الْعَابِدَ مَحْرُومٌ مِّنْ ثَوَابِ عَمَلِهِ بِالرِّيَاءِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، وَعِلْمِ الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ لِمَنْ يَتَعَرَّضُ لَهُمَا وَعِلْمِ الْحَسَدِ وَالْكِبْرِ وَالْعُجْبِ。[فتاویٰ رضویہ، ج: 16، ص: 130]
پانچ فرائض کا علم، اخلاص کا علم، حلال و حرام کا علم، ریا کاری کا علم، بیع و شرا کا علم اور حسد تکبر اور عجب کا علم۔ یہ سب فرض عین ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔
اخلاص کے معنی اور اس کی شرائط سے واقفیت ضروری ہے۔ ریا کاری کی تعریف، اس کی اقسام اور اس کے گناہ کا شعور ہونا چاہیے۔ حسد کی حقیقت اور اس سے بچنے کے طریقوں سے آگاہی بھی لازم ہے۔ تکبر اور غرور کی حقیقت اور ان کی برائی کو سمجھنا ضروری ہے۔ عجب، یعنی اپنے آپ پر فخر کرنے کے گناہ، کا ادراک ہونا چاہیے۔ اسی طرح توکل اور تواضع کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھنا بھی لازم ہے۔
علم معاملات پیشہ ور حضرات کے لیے
امام ابن عابدین رحمہ اللہ نے ردالمحتار میں فرمایا:
وَكَذَا أَهْلُ الْحِرَفِ وَكُلُّ مَنِ اشْتَغَلَ بِشَيْءٍ يُفْرَضُ عَلَيْهِ عِلْمُهُ وَحُكْمُهُ لِيَمْتَنِعَ عَنِ الْحَرَامِ فِيهِ。[رد المحتار على الدر المختار، ج: 1، مقدمہ: 29]
اسی طرح ہر پیشے والے پر اور جو شخص جس کام میں لگا ہو اس پر اس کے علم اور حکم کو جاننا فرض ہے تاکہ اس میں حرام سے بچ سکے۔ بیع کے ارکان و شرائط سے واقفیت ضروری ہے۔ سود کی اقسام، جیسے ربا الفضل اور ربا النسیئہ، کا علم بھی لازم ہے۔ بیع فاسد اور بیع باطل کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ دھوکہ دہی اور تدلیس کی حرمت کا شعور ہونا چاہیے۔ احتکار، یعنی ذخیرہ اندوزی کی حرمت، سے آگاہی بھی لازم ہے۔ اسی طرح ناپ تول میں کمی کے گناہ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
امام کاسانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
يَجِبُ عَلَى مَنْ أَرَادَ النِّكَاحَ أَنْ يَتَعَلَّمَ أَحْكَامَهُ مِنْ شُرُوطِهِ وَأَرْكَانِهِ وَمُحَرَّمَاتِهِ。[بدائع الصنائع، ج: 2، ص: 230]
جو شخص نکاح کا ارادہ رکھتا ہو اس پر نکاح کے شرائط، ارکان اور محرمات کا سیکھنا واجب ہے۔
نکاح کے ارکان، جیسے ایجاب، قبول اور گواہ، سے واقفیت ضروری ہے۔ محرمات، یعنی وہ رشتے جن سے نکاح حرام ہے، کی پہچان بھی لازم ہے۔ مہر کے احکام سے آگاہی اور حقوقِ زوجین کو سمجھنا بھی لازم ہے۔ طلاق کی اقسام، جیسے طلاق رجعی، بائن اور مغلظہ، کا شعور ہونا اور اسی طرح عدت کے احکام سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: کسان پر زمین کی بٹائی اور ٹھیکے کے احکام جاننا فرض عین ہے اور اجیر پر اجارے کے احکام جاننا فرض عین ہے۔[فتاویٰ رضویہ، ج: 16، ص: 130]
علامہ مناوی رحمہ اللہ نے التیسیر شرح الجامع الصغیر میں حدیث طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ کی شرح میں فرمایا:
أَرَادَ بِهِ مَا لَا مَنْدُوحَةَ لَهُ عَنْ تَعَلُّمِهِ كَمَعْرِفَةِ رُسُلِهِ وَكَيْفِيَّةِ الصَّلَاةِ وَنَحْوِهَا فَإِنَّ تَعَلُّمَهُ فَرْضُ عَيْنٍ。[التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي، ج: 2، ص: 115]
اس حدیث سے مراد وہ علم ہے جس سے کوئی چارہ نہیں جیسے رسولوں کی معرفت اور نماز کا طریقہ اور اس جیسی چیزیں ان کا سیکھنا فرض عین ہے۔
امام حصکفی رحمہ اللہ نے درمختار میں فرمایا:
اِعْلَمْ أَنَّ تَعَلُّمَ الْعِلْمِ فَرْضُ عَيْنٍ وَهُوَ بِقَدْرِ مَا يَحْتَاجُ لِدِينِهِ。[الدر المختار، مقدمہ، ج: 1، ص: 6]
جان لو کہ علم سیکھنا فرض عین ہے اور وہ اتنا ہے جتنا انسان کو اپنے دین کی ضرورت ہے۔
امام ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے ردالمحتار میں اس کی شرح میں فرمایا:
فَرْضٌ عَلَى كُلِّ مُكَلَّفٍ بَعْدَ تَعَلُّمِهِ عِلْمَ الدِّينِ وَالْهِدَايَةِ تَعَلُّمُ عِلْمِ الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَعِلْمِ الزَّكَاةِ لِمَنْ لَّهُ نِصَابٌ، وَالْحَجِّ لِمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ، وَالْبُيُوعِ عَلَى التُّجَّارِ لِيَحْتَرِزُوا عَنِ الشُّبُهَاتِ فِي سَائِرِ الْمُعَامَلَاتِ، وَكَذَا أَهْلُ الْحِرَفِ وَكُلُّ مَنِ اشْتَغَلَ بِشَيْءٍ يُفْرَضُ عَلَيْهِ عِلْمُهُ وَحُكْمُهُ لِيَمْتَنِعَ عَنِ الْحَرَامِ فِيهِ。[رد المحتار على الدر المختار، ج: 1، ص: 29]
ہر مکلف پر، علم دین اور ہدایت حاصل کرنے کے بعد، وضو، غسل، نماز اور روزے کا علم سیکھنا فرض ہے اور جس کے پاس نصاب ہو اس پر زکات کے مسائل سیکھنا لازم ہے، اور جس پر حج فرض ہو اس پر حج کے احکام سیکھنا ضروری ہے۔ نیز تاجروں پر بیوع (خرید و فروخت) کے مسائل سیکھنا لازم ہے تاکہ وہ معاملات میں شبہات سے بچ سکیں۔ اسی طرح ہر پیشہ ور شخص اور جو کسی کام میں مشغول ہو، اس پر اس کام کے احکام سیکھنا فرض ہے تاکہ وہ اس میں حرام سے بچ سکے۔
فرض عین علم نہ سیکھنے کا گناہ اور اس کی سنگینی
امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:
مَنْ تَرَكَ تَعَلُّمَ مَا لَزِمَهُ مِنَ الْعِلْمِ فَهُوَ عَاصٍ آثِمٌ وَلَهُ عُقُوبَةٌ فِي الْآخِرَةِ。[إحياء علوم الدين، ج: 1، ص: 17]
جو شخص اپنے اوپر لازم علم سیکھنا چھوڑ دے وہ نافرمان اور گناہ گار ہے اور آخرت میں اس کی سزا ہوگی۔
عمل بغیر علم کے مردود ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ。[صحيح مسلم: 1718]
جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا:
یعنی جو عمل شریعت کے خلاف ہو وہ مقبول نہیں اور علم کے بغیر عمل شریعت کے خلاف ہو سکتا ہے اس لیے پہلے علم ضروری ہے۔[شرح مسلم للنووي، ج: 12، ص: 16]
آج کے دور کے نئے فرض عین مسائل
ڈیجیٹل معاملات: فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ جو اصول قاعدہ ہے کہ كُلُّ مَنِ اشْتَغَلَ بِشَيْءٍ يُفْرَضُ عَلَيْهِ عِلْمُهُ یہ ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ اس لیے آج کے دور میں آن لائن تجارت کے احکام جاننا، سوشل میڈیا کے جائز و ناجائز استعمال کا علم، آن لائن سود کی حرمت جاننا اور ڈیجیٹل جھوٹ اور دھوکے کی حرمت جاننا یہ سب فرض عین کے حکم میں آتے ہیں۔
امام ابن عابدین رحمہ اللہ نے فرمایا:
يَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ تَعَلُّمُ أَحْكَامِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ وَالِاسْتِحَاضَةِ وَأَحْكَامِ الطَّهَارَةِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ。[رد المحتار على الدر المختار، ج: 1، ص: 298]
عورت پر حیض، نفاس، استحاضہ اور طہارت، نماز اور روزے کے احکام سیکھنا واجب ہے۔
عورتوں کے خصوصی فرض عین مسائل میں حیض و نفاس کے احکام سے واقفیت ضروری ہے۔ پردے کے فرائض کا شعور ہونا لازم ہے۔ شوہر کے حقوق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی اسلامی تربیت کے طریقوں سے آگاہی ہونی چاہیے۔ اسی طرح محرم و نامحرم کی پہچان رکھنا بھی لازم ہے۔
ایک جامع دعوت فکر
علم دین کا حصول اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ فتاویٰ رضویہ، درمختار، ردالمحتار، احیاء العلوم، تبیین المحارم اور دیگر معتبر کتب فقہ نے مل کر یہ بتا دیا ہے کہ فرض عین علم وہ ہے جو انسان کو اپنی روزمرہ زندگی میں چاہیے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ دنیاوی تعلیم پر ہزاروں روپے اور سال لگاتے ہیں مگر دینی فرائض کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فرض عین علوم سیکھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنے گھروں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
