Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: آٹھویں)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

اللہ تعالیٰ پر وجوب اور عدمِ وجوب کی بحث

علامہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ نے ”المعتقد“ میں امام نسفی کے حوالے سے لکھا کہ: ”رسولوں کو انذار و تبشیر کے ساتھ بھیجنا ممکن بلکہ واجب ہے“۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اس پر گہری تحقیق فرمائی۔ آپ کا موقف یہ ہے کہ امام نسفی کے کلام کو معتزلہ پر محمول کرنا درست نہیں، کیونکہ ہمارے ائمہ اہل سنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں، وہ حاکمِ مطلق ہے جس پر کوئی حاکم نہیں۔ اللہ کے افعال میں کسی قسم کا ”جبر و ایجاب“ (فلاسفہ کا عقیدہ) نہیں، بلکہ وہ فاعلِ مختار ہے۔

اعلیٰ حضرت نے وضاحت فرمائی کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مابین حسن و قبحِ عقلی کے حوالے سے اختلاف رہا ہے۔ ماتریدیہ کے نزدیک حکیمِ مطلق صرف اللہ ہے اور افعال میں بذاتِ خود حسن و قبح کی صفات پائی جاتی ہیں۔ پس جو فعل موافقِ حکمت ہو وہ ”وجوبِ منہ“ (یعنی اس کے ارادہ و اختیار سے صادر ہوا) کے زمرے میں آتا ہے، نہ کہ ”وجوبِ علیہ“ (کہ جس کے خلاف پر قدرت نہ ہو، جیسا کہ فلاسفہ اور معتزلہ کا عقیدہ ہے)۔

نظریہ وجوب کا رد

اعلیٰ حضرت نے نظریہ وجوب کا شد و مد سے رد کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے تمام افعال حکمتِ بالغہ کے مطابق ہیں۔ کسی فعل کا حکمت کے موافق ہونا اسے واجب کر دے یہ ضروری نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل و ترک عینِ حکمت ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ ہم کوئی ایسا فعل نہیں سمجھتے جسے حکمت واجب اور اس کا ترک محال قرار دے، اگرچہ قدرت ان دونوں کو شامل ہو۔ مطیع کو ثواب دینا یا ارسالِ رسل، یہ سب حکمت کا تقاضا ہے، مگر تقاضائے حکمت اسے ”حیزِ وجوب“ تک نہیں پہنچاتا۔

ابن تیمیہ کے کفر کے متعلق موقف

ابن تیمیہ کے متعلق اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ ابن حجر ہیتمی نے جو سخت الفاظ استعمال کیے، وہ تغلیظ یا دنیاوی گرفت کے سیاق میں ہو سکتے ہیں۔ امام احمد رضا کا تحقیقی موقف یہ ہے کہ ابن تیمیہ گمراہ اور گمراہ گر تو ہے، لیکن اسے ”کافر“ نہیں کہا جائے گا۔

تعذیبِ مطیع کا مسئلہ

اس مسئلہ پر اشاعرہ اور ماتریدیہ میں اختلاف ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک تعذیبِ مطیع عقلاً جائز ہے کیونکہ وہ مالکِ حقیقی ہے، جبکہ ماتریدیہ کے نزدیک یہ حکمت کے منافی اور عقلاً ممتنع ہے۔ اعلیٰ حضرت نے اپنی تحقیق میں یہ امتزاج پیش کیا:

  • اصولی موقف: آپ نے ائمہ ماتریدیہ کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ حسن و قبح عقلی ہیں، اور ظلم و کذب اللہ تعالیٰ پر بالذات محال ہیں۔

  • فروعی مسئلہ (تعذیبِ مطیع): اس میں آپ نے ائمہ اشعریہ کا مسلک اختیار کیا کہ تعذیبِ مطیع عقلاً جائز مگر شرعاً ممتنع ہے۔

آپ نے فرمایا کہ دنیا میں انبیاءِ کرام پر آزمائشیں آتی رہی ہیں، جو ان کے لیے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح آخرت میں اگر اللہ تعالیٰ کسی مطیع پر کوئی ایسی صورت ظاہر فرمائے جو بظاہر ایلام (تکلیف) ہو، تو وہ بھی رفعِ درجات یا دیدارِ الٰہی کے حصول کے لیے ہو سکتی ہے۔ آپ کے نزدیک ائمہ ماتریدیہ کا اسے ممتنع قرار دینا ”تعذیبِ خالص“ (بے سبب و بے حکمت) کے سیاق میں ہو سکتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!