| عنوان: | عورت اور پردہ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی، ٹٹلا گڑھ، اڈیشہ |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
مجھے کسی صاحب نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں ایک عورت یہ کہہ رہی ہے:
“اگر خدا کو آپ کے اور میرے چہرے سے اتنی دِقّت تھی تو ہمیں نقاب کے ساتھ ہی پیدا کرتا نا۔”
انہوں نے اس کا جواب مانگا، تو میں نے فوراً چند باتیں لکھ دیں۔ اللہ پاک ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔
ایک آسان فہم بات
سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چہرے پر پردہ یا نقاب کا حکم کسی کمی یا خرابی کی وجہ سے نہیں دیا گیا، بلکہ عورت کی عفت، پاک دامنی، حفاظت اور معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے دیا گیا ہے۔
اللہ پاک نے عورت کو ایک خاص مقام عطا فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اسے دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام نے اسے دیکھنے کی اجازت صرف چند مخصوص رشتہ داروں کو دی ہے، جنہیں محرم کہا جاتا ہے، جیسے: والد، دادا، نانا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا اور بھانجا وغیرہ۔
یہ عورت کی بے عزتی نہیں بلکہ اس کی عزت، وقار اور احترام کا اظہار ہے۔
ایک آسان مثال:
حکومت آپ کو گاڑی چلانے کی اجازت دیتی ہے اور ڈرائیونگ لائسنس بھی جاری کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی رفتار کی حد، ٹریفک سگنلز، سیٹ بیلٹ اور دیگر قوانین کی پابندی بھی لازم قرار دیتی ہے۔
اب اگر کوئی کہے: “اگر حکومت کو ہمارے گاڑی چلانے سے اتنی دقت تھی تو لائسنس جاری ہی کیوں کیا؟” تو ہر عقل مند شخص اسے بے معنی بات سمجھے گا۔
اجازت دینے کا مطلب بے لگام آزادی دینا نہیں ہوتا، بلکہ حفاظت اور نظم کے لیے کچھ حدود مقرر کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، تاکہ آپ بھی محفوظ رہیں اور دوسرے بھی آپ کے نقصان سے محفوظ رہیں۔
اسلام میں عورت کا مقام اور حفاظت
اسلام میں عورت کو اتنا بلند مقام دیا گیا ہے کہ ہر شخص اسے نہیں دیکھ سکتا۔
اگر محرم رشتہ داروں کے علاوہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے یا اسے دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے صرف ایک راستہ ہے، اور وہ نکاح ہے۔
نکاح: ایک پاکیزہ اور مقدس رشتہ
نکاح کے معاملے میں بھی اسلام نے عورت کو مکمل حقوق عطا فرمائے ہیں۔
-
نکاح میں عورت کی رضامندی ضروری ہے۔
-
اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔
-
اسے مہر کا حق حاصل ہے۔
-
وہ اپنی مرضی کے مطابق مہر مقرر کر سکتی ہے۔
نکاح کے بعد مرد کی ذمہ داریاں
نکاح کے بعد بھی اسلام نے عورت پر مالی بوجھ نہیں ڈالا بلکہ تمام ذمہ داری مرد پر رکھی ہے۔
شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق:
-
اچھا کھانا فراہم کرے۔
-
مناسب لباس دے۔
-
رہنے کے لیے محفوظ مکان مہیا کرے۔
-
اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے۔
عورت کی اصل قدر و قیمت
عورت سونے، چاندی اور ہیروں جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
جس چیز کی قدر زیادہ ہوتی ہے، اس کی حفاظت بھی زیادہ کی جاتی ہے۔
اسی طرح عورت کی حفاظت کی ذمہ داری اس کے محرم مردوں کو دی گئی ہے، تاکہ وہ اسے بُرے اور فاسق لوگوں کی بُری نظروں اور زیادتیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
لہٰذا پردہ عورت کی بے عزتی نہیں بلکہ اس کی عزت، وقار اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔
نتیجہ
پردے کا حکم عورت کے چہرے میں کسی کمی کی وجہ سے نہیں دیا گیا، بلکہ اس کی عزت، پاک دامنی، حفاظت اور پورے معاشرے کی بھلائی کے لیے دیا گیا ہے۔
اس لیے پردے کے حکم پر اعتراض کرنے کے بجائے اس کی حکمت اور اس کے پسِ پردہ موجود عزت و حفاظت کے پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ویسے بھی جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا جائے گا، برائیاں نئے نئے انداز میں سامنے آتی جائیں گی اور گناہوں کو جائز ثابت کرنے کے لیے نت نئے دلائل گھڑے جاتے رہیں گے۔
آج چہرے کے پردے اور نقاب پر اعتراض کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے:
“اگر اللہ پاک کو چہرہ چھپانا ہی مقصود تھا تو ہمیں نقاب کے ساتھ ہی پیدا فرما دیتا۔”
مگر اگر یہی طرزِ فکر چلتی رہی تو بعید نہیں کہ کل کوئی شخص جسم کے پردے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے یہ کہنے لگے:
“اگر جسم پر کپڑا اتنا ہی ضروری تھا تو اللہ پاک ہمیں کپڑوں کے ساتھ ہی پیدا فرما دیتا!”
اللہ پاک حیا کی دولت نصیب فرمائے۔ اس موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عظیم الشان حدیث پاک یاد آتی ہے:
إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.
ترجمہ: “جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔”
یعنی جب انسان کے دل سے حیا ختم ہو جاتی ہے تو وہ گناہ، بے پردگی اور نافرمانی کو بھی معیوب نہیں سمجھتا، بلکہ ان کے حق میں دلائل تلاش کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ حیا ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے، اور یہی حیا انسان کو برائیوں سے روک کر خیر اور بھلائی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو صحیح بات سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زبان و قلم کا درست استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
