Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: سوم)

تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: سوم)
عنوان: تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: سوم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی

رضویت دو شخصیتوں میں میں نے بہت زیادہ دیکھی، ایک شیرِ بیشۂ اہلِ سنت میں اور ایک محدثِ اعظم پاکستان میں۔ اُن میں تھی تو اُنھوں نے تو اعلیٰ حضرت کی سو بار زیارت کی تھی، انھوں نے تو کی نہیں، مگر فنا فی الرضا تھے۔ حضرت جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ سن 54 میں کراچی آئے تو محدث صاحب نے ان کی فیصل آباد دعوت دی، تو فیصل آباد والے کہتے ہیں کہ ایسا استقبال کسی کا نہیں ہوا۔ جیلانی میاں خود فرماتے تھے کہ مولوی سردار احمد صاحب میرے سامنے دوزانو بیٹھتے تھے تو مجھے بڑا احساس ہوتا تھا، یہ دیکھ کر کہ مولانا سردار احمد صاحب ان کے سامنے دوزانو بیٹھتے ہیں، بڑے بڑے وکیل حضرت مفسرِ اعظم کے مرید ہوئے۔ (محدث صاحب کا) وصال تو کراچی میں ہوا، مگر جب وہ آئے تھے (تو ڈاکٹر نے) دارالعلوم امجدیہ کے پاس ایک فلیٹ دے دیا تھا، اور کہا کہ آپ کسی کے گھر نہیں جائیں گے۔ ایک دن میں گیا تو حضرت لیٹے ہوئے تھے، مولوی معین شافعی خدمت میں تھے، دو شاگردوں کو ساتھ لے کر آئے تھے، ایک تو مولوی عبدالقادر مرحوم احمد آباد کے اور دوسرے مولانا غلام معین الدین شافعی بھونڈی کے، مولانا حامد فقیہ کے عزیز۔ مولانا حامد فقیہ، مولانا محسن فقیہ دو بھائی تھے، اور دونوں نے صدر الشریعہ سے بریلی شریف میں پڑھا۔ مولانا حامد فقیہ بمبئی رہ گئے اور مولانا محسن فقیہ کراچی آ گئے، تو یہ تھے مولانا غلام معین الدین شافعی، ان دونوں شاگردوں کو (حضرت محدثِ اعظم کراچی) ساتھ لائے تھے، انھوں نے بڑی خدمت کی۔ تو میں کہہ رہا تھا مولوی معین سے کہ اس بار حضرت ہمارے یہاں نہیں آ سکتے، (آپ نے سن لیا تو فرمایا) فقیر إن شاء الله تعالى آپ کے گھر پر حاضری دے گا، اور عصر کے وقت تشریف لائے اور ایسے ہی نہیں آئے، مٹھائی کا ڈبا، کپڑا، لفافہ لے کر آئے۔ وصال سے ایک دن پہلے فرمایا: الحمد لله آج میرے پیر کام دے رہے ہیں، تھوڑی جگہ تھی، کچھ چلے، ایک طرف مولوی معین تھے ایک طرف میں، سانس پھول رہے تھے، اس حالت میں بھی دو گھنٹے بریلی شریف کا ذکر کرتے رہے، زار و قطار روتے رہے۔ حضور حجۃ الاسلام کا کرم، حضور مفتیِ اعظم کا کرم، حضرت چھوٹی بی صاحبہ کا فقیر پر کرم، اور پھر آخر میں فرمایا کہ فقیر کی کم نصیبی کہ فوٹو کی وجہ سے بریلی شریف حاضری نہیں دے سکا۔

تاج الشریعہ مدظلہ العالی:

رمضان میں مدینہ شریف ہوتا ہوں، مفتی اختر رضا ہوتے ہیں، وہاں کون کس کو پوچھتا ہے، مگر واحد شخصیت ہے ان (تاج الشریعہ) کی جو کمرے سے نکلتے ہیں حاضری تک پورا مجمع پیچھے ہو جاتا ہے، شرطے پوچھتے ہیں: یہ کون ہے؟ اور پورے ڈیڑھ گھنٹے تک مواجہہ شریف میں کھڑے ہوتے ہیں، پورا قصیدہ بردہ شریف، قصیدہ غوثیہ شریف، نعت شریف پڑھتے ہیں۔ (اس دوران) ان کا پیر نہیں ہلتا، ہاتھ نہیں ہلتا اور سر نہیں ہلتا۔ مولانا نور المصطفیٰ پنجاب کے، وہ کہہ رہے تھے آپ نے غور کیا؟ براہِ راست حضور کی زیارت کر رہے ہیں، ورنہ ممکن ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ آدمی کھڑا رہے اور ذرا بھی جنبش نہ ہو، ایسی محویت اسی وقت ہو سکتی ہے جب (کوئی) براہِ راست زیارت کر رہا ہو۔ حضرت صدیقِ اکبر کے فضائل میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موجودگی میں اپنا مصلیٰ ان کے سپرد کیا، تو جب مفتی اختر رضا خاں جامعہ ازہر سے آئے تو مفتیِ اعظم نے ان کو مصلیٰ سپرد کیا، تو ان کے ہوتے کوئی اور نماز نہیں پڑھا سکتا، اور عید گاہ میں جو نماز پڑھاتے تھے عید گاہ کی امامت (بھی) ان کے سپرد کی۔ پھر جب علیل ہوئے تو فتویٰ ان کے سپرد کیا، یہ حضرت کی نظرِ کرم سے ہی مفتی ہو گئے۔ یہ لکھ کر لاتے (اور حضرت تصحیح کرتے) مگر بغیر دیکھے تصحیح نہیں کرتے۔ ایک دفعہ مرید کرنے میں (ایک ارادت کے خواہشمند سے) فرمایا اختر میاں سے مرید ہو جاؤ، سفر میں بھی (تاج الشریعہ کو) ساتھ رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ناگپور جلسے میں حضرت کے ساتھ یہ تھے، تو جب چندے کا اعلان ہوا تو ان (تاج الشریعہ) کو خیال آیا کہ میری صدری کمرے پر رہ گئی، ورنہ میں بھی چندہ دیتا، مفتی اختر رضا کہتے ہیں کہ ابھی خیال ہی آیا کہ حضرت نے روپے جیب سے نکالے اور فرمایا کہ یہ اختر میاں کی طرف سے ہیں۔

خادمِ خاص اعلیٰ حضرت حاجی کفایت اللہ مرحوم:

حاجی کفایت اللہ مرحوم اعلیٰ حضرت کے خادمِ خاص تھے، سفر میں بھی ساتھ رہتے، اعلیٰ حضرت کے بڑے چاہنے والے تھے۔ حضور حجۃ الاسلام کے پائینتی مولانا حسنین رضا خاں کا مزار ہے، اس کے بعد حاجی کفایت اللہ صاحب کا مزار ہے، دونوں کا مزار آس پاس ہے۔ ہوا یہ کہ جبل پور کے سفر میں یہ (اعلیٰ حضرت کے) ساتھ تھے، جمعہ کا دن تھا، اعلیٰ حضرت غسل کو گئے، حاجی صاحب نے کپڑے نکالے، اتفاق سے کرتے کا ایک بٹن ٹوٹا ہوا تھا، اعلیٰ حضرت لباس میں بڑا.......... غصہ فرمایا، اور فرمایا: حاجی یہ میرا مر کے بھی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ بس یہ ایسا اعلیٰ حضرت کا کہنا ہوا کہ (وہیں مزار شریف پر) وصال ہوا، جب تک حیات رہے مزار شریف میں رہے، مزار شریف کے مین دروازے پر بیٹھ کر وضو کرتے، بس رفعِ حاجت کو باہر نکلتے تھے اور نماز کو مسجد، بس۔ جب پاکستان بنا اور شرنارتھی آ گئے اور جس مکان میں منانی میاں (رہتے) وہ بھی شرنارتھیوں کے پاس، پھاٹک بھی نہیں، مزار پر شرنارتھیوں کے لڑکے گھومتے تھے، تو اُن کے پوتے، چھوٹے چھوٹے تھے۔ اب بڑے ہو گئے ہیں مشتاق اور ایک انوار کا انتقال ہو گیا۔ کہتے دادا آپ کو کوئی (شرنارتھی) رات میں مار ڈالیں گے (یہاں سے چلیے) تو بولے: اعلیٰ حضرت کو چھوڑ کے نہیں جاؤں گا۔ جب اعلیٰ حضرت کا وصال ہوا تو دونوں شہزادگان سے اپنے دفن کا اجازت نامہ لکھوا کے وہیں ٹانگ دیا تھا۔ [ماہنامہ پیغامِ شریعت، دہلی، ص: 19، ستمبر 2017]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!