Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مبارک پور کی معاشی و معاشرتی تاریخ (قسط: دوم)مہتاب پیامی

مبارک پور کی معاشی و معاشرتی تاریخ (قسط: دوم)
عنوان: مبارک پور کی معاشی و معاشرتی تاریخ (قسط: دوم)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

وقت کا پہیہ اگر ایک لمحے کو تھم جائے اور ہم ماضی کی گلیوں میں قدم رکھیں، تو مبارک پور کا نقشہ ایک ایسی برادری کے طور پر ابھرتا ہے جس کے ہاتھوں میں دھاگے نہیں، بلکہ آنکھوں میں خواب، جن کی بنیاد صرف روزی روٹی نہیں، بلکہ عزت، پہچان، اور ثقافت تھی۔ بنکر برادری کے لیے بنائی محض پیشہ نہیں تھی، بلکہ ایک تہذیب تھی؛ ایسا اثاثہ جسے وہ سینے سے لگا کر نسلوں تک سنبھالتے رہے۔

مبارک پور کے بنکروں نے ہمیشہ اپنی پیداواری سرگرمیوں کو اور اپنی چھتری تلے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے لیے کھڈیوں پر سنے والا ہر دھاگا، ہر کر دھالی، ان کے وقار اور شناخت کا مظہر تھا۔ یہ وہی برادری تھی جس نے اپنی اجتماعی سوچ کو پیدا اور تک تو محدود رکھا، لیکن جب بات ہجرت اور سیاسی سرگرمیوں کی آئی، تو کوئی متفقہ لائحہ عمل نہ بن سکا۔ یہی وہ دراڑ تھی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ مفاد پرستوں نے برادری کی حدود کو اپنے مالی مفادات کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا، اور اس اجتماعی ادارے کی اتھارٹی آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگی۔

محلہ پورہ صوفی کے ایک خوشحال بنکر عبدالمجید نے 1902 سے 1934 کے درمیان مبارک پور کی روزمرہ کی زندگی، بازار کے نرخ، برادری کے مسائل اور مقامی سیاست پر مبنی ایک ڈائری مرتب کی۔ اگرچہ انہوں نے اپنی کھڈی یا فن بنائی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، لیکن ان کے اندراجات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ محض ایک کاریگر نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص تھے جو برادری کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ ان کے قلم سے ظاہر جملہ، ہر تبصرہ، مبارک پور کی سماجی ساخت کا آئینہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا: “اب کے سال روزگار ہوا، جس سے مبارک پور آباد ہوا، آج تک ایسا روزگار کبھی نہ ہوا اور نہ ہوگا۔” یہ الفاظ 1919 کی اس خوش حالی کے لیے تھے، جب شخصی اور گنا کپڑے 10 سے 41 روپے فی گز تک فروخت ہوئے، اور مبارک پور کے بنکروں نے ایسا معاشی عروج دیکھا جو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ہر محلے میں بھینسیں خریدی گئیں، حتیٰ کہ دودھ نہ دینے والی بھینسیں بھی۔ فضول خرچی عام ہوئی، اور 142 افراد نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ مگر یہ مسرت زیادہ دیر پا نہ رہی۔

بیسویں صدی کے آغاز میں، جب بنائی کی صنعت دیگر علاقوں میں دم توڑ رہی تھی؛ مبارک پور میں ابھی بھی امید باقی تھی۔ 1920 کی دہائی میں عام ریشم کی جگہ زری کی ساڑیوں کی سازھیوں نے لینا شروع کی، اور 1930 میں بروکیڈ (زری) ساڑیوں کی تہہ کرگھا صنعت کی بنیاد محلہ پرانی بستی میں رکھی گئی۔ عبید حسین انصاری اس تبدیلی کے علم بردار تھے۔ انھوں نے اپنی بانی سے اس صنعت کا آغاز کیا اور مقامی افراد کو تربیت دے کر ایک نئی راہ متعین کی۔

یہ وہ وقت تھا جب مبارک پور کی گلیوں میں دھاگے کی بو، رنگوں کی جھلک اور کھڈیوں کی آوازیں ایک بار پھر گونجنے لگیں۔ مبارک پور، المو، اور سریان کے کاریگروں نے 15 دن کے اندر بروکیڈ ساڑی بنائی سیکھ لی۔ آج بھی مبارک پور کی ہر گلی، ہر آنگن میں کوئی نہ کوئی زری ساڑی ضرور ملتی ہے، جو اس سنہری روایت کی خاموش مگر زندہ گواہ ہے۔

1950 تک مبارک پور میں 5,275 ہاتھ کرگھے موجود تھے، جن میں سے 20 فیصد کپاس کے کپڑے کے لیے مخصوص تھے، اس وقت معاشرتی سطح پر ایک واضح تقسیم نظر آتی تھی: امیر بنکر ریشم کی بنائی کرتے، غریب کپاس پر قناعت کرتے، اور کچھ متوسط گھرانے دونوں میں مشغول ہوتے۔

ریشمی ساڑیاں گھر کے اندر، ذاتی ہاتھ کرگھوں پر بنائی جاتیں۔ مگر یہ سب کچھ ایک مکمل خود مختاری کی علامت نہیں تھا، کیوں کہ چھوٹے کارخانوں میں بنکر ایسے مالکان کے رحم و کرم پر کام کرتے تھے جو دھاگہ فراہم کرتے، مزدوری طے کرتے، اور زیادہ تر منافع خود سمیٹ لیتے، وہ ایسے کاریگر تھے جنہوں نے ہنر کو ورثہ بنایا، جن کے فن نے زبان کا کام کیا، اور جن کی کھڈیوں نے دھڑکنوں کو ترتیب دیا۔ مگر یہ کہانی صرف سنہری ساڑیوں، چند خوش حال برسوں یا عبدالمجید کی ڈائری تک محدود نہیں؛ اس میں تو ان سروں کی بھی داستان ہے جو جھک کر کپڑا بنتے رہے، ان آنکھوں کی بھی کہانی ہے جو دھاگے میں مستقبل ڈھونڈنا کرتی تھیں، اور ان دلوں کی بھی فریاد ہے جو کبھی اپنا حق نہ پاسکے۔

ساہوکار، دلال، اور دھاگے کی سیاست

مبارک پور کی ریشمی صنعت کی بنیاد جن ہاتھوں نے رکھی، وہی ہاتھ وقت کے ساتھ بازار کی سرد و گرم ہوا کے تھپیڑوں میں بے بس ہوگئے۔ سب سے چھوٹی پیداواری اکائی، یعنی ایک تنہا جولاہا، محض ہنر کے بل پر اس وسیع اور پیچیدہ نظام میں اپنی شناخت قائم رکھنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن سرمایہ، خام مال اور بازار تک رسائی کی کمی نے اسے دلالوں کے شکنجے میں جکڑ دیا۔

بنکر کو وہ دھاگہ، جو اس کے فن کی روح تھا، خود خریدنے کی طاقت نہ تھی۔ تاجر، جو دلال کا روپ دھارے ہوئے ہوتا، نہ صرف اسے دھاگہ مہیا کرتا بلکہ اس کے تیار کردہ کپڑے کو بھی اپنے مقررہ نرخ پر خرید لیتا۔ یوں بنکر مکمل طور پر اس دلال کے رحم و کرم پر ہوتا، جو اس کے فن کو صرف آرڈر کی شکل میں تولتا۔ یہ دلال نہ صرف تجارت کے ایک بڑے حصے پر قابض تھے بلکہ ان کا ادارہ اس قدر مضبوط تھا کہ وہی پیداوار، خریداری اور فروخت، سب کچھ طے کرتے۔

ورک شاپ کے مالکان، اگرچہ بظاہر آزاد نظر آتے، مگر درحقیقت وہ بھی ان دلالوں کے سامنے بے بس تھے۔ ماہر بنکر ان کے پاس کام کرتے، جنہیں فی کپائی ساڑی کے حساب سے اجرت دی جاتی، مگر یہ محنت تب تک بے معنی ہو جاتی جب تک دلال تیار مال اٹھا کر لے نہ جاتا۔ انہیں اشٹرفہ قدم کے بجائے تین یا چار ماہ مؤخر ادائیگی کے چیک دیے جاتے، جس سے سرمایہ منجمد اور نظام بے کیف ہو جاتا۔ 1960 کی دہائی کے آغاز میں ایسے 21 دلالوں نے مبارک پور میں اپنا جال بچھایا ہوا تھا، جو ماہانہ لگ بھگ دس ہزار ریشمی ساڑیاں بازار تک پہنچاتے اور خود خطرہ خواہ منافع سمیٹ کر چلے جاتے ہیں۔

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب ہیوی ہینڈلوم بروکیڈ ساڑیوں کی مانگ نے صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، وہ لمحے مبارک پور کے لیے سنہری تھے۔ تاہم، یہ چمک زیادہ دیر برقرار نہ رسکی۔ دوسری جنگ عظیم اور آزادی کے بعد کی سیاسی تبدیلیوں نے اس صنعت کی بنیادیں ہلا دیں۔ جاپان سے درآمد شدہ خام ریشم پر انحصار اس قدر بڑھ گیا کہ قیمتیں عام صارف کی دسترس سے باہر ہوگئیں، اور مقامی بازار سمٹنے لگے۔

اس سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب برصغیر کی تقسیم نے مبارک پور کے روایتی خریداروں (یعنی پاکستان اور مشرقی پاکستان بعد ازاں بنگلہ دیش) کا بازار چھین لیا۔ فرقہ وارانہ فسادات نے کئی ماہر بنکروں کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔ نہ صرف ہنر بکھر گیا بلکہ بازار بھی سمٹ گیا۔ اس کے بعد جب پاکستان نے ریشمی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کیے، تو مبارک پور کی زری ساڑیاں خریداروں کی فہرست سے غائب ہونے لگیں۔

خام مال, رنگ، اور روایت کا بدلتا چہرہ

بروکیڈ ساڑی کی تیاری میں دو بنیادی عناصر شامل ہوتے تھے: خالص ریشم اور زری کا دھاگہ۔ ریشمی دھاگہ مشہوت اور نسر کی اقسام میں دستیاب تھا، جو اگرچہ اتر پردیش کے چند اضلاع میں تھوڑی بہت پیداوار دیتے تھے، مگر مبارک پور کے کاریگر مغربی بنگال کے درآمد شدہ ریشم کو فوقیت دیتے تھے۔ اسے گھر کے اندر ہی سستے، کیمیائی اینلین رنگوں سے رنگا جاتا۔ یہ تبدیلی روایت سے ہٹ کر سہولت اور ارزانی کی طرف ایک علامتی قدم تھا۔

زری کے دھاگے کی کہانی بھی کم پیچیدہ نہ تھی۔ 1963 تک سونے کا بازار کھلا تھا، اور وارانسی و سورت جیسے شہروں کے تاجر خالص سونے یا چاندی کے تار فراہم کرتے تھے۔ لیکن جیسے ہی “دفاع ہند (تریمی) رول” کے تحت سونے پر کنٹرول نافذ ہوا، زری ساڑی کی لاگت آسمان چھونے لگی پھر سنہری اور نقرئی “لوریکس” نے سونے کا اہم متبادل بن کر مارکیٹ میں قدم رکھا، مگر اصل چمک باقی نہ رہی۔

سماجی تناؤ اور شناخت کی تلاش

ایسے میں معاشی دباؤ اور پیداواری زوال کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر بھی گہرا انتشار جنم لینے لگا۔ ہندو ساہوکاروں کے مسلم بنکروں کے ساتھ تعلقات میں درار پڑنے لگی۔ معاشی کمزوریوں نے مذہبی کشیدگی کو ہوا دی، اور بنکر اپنی شناخت کو مذہب کے دائرے میں ڈھالنے لگے۔ اسلامائزیشن کا یہ عمل صرف عقیدے کی تبدیلی نہ تھا، بلکہ ایک پیچیدہ ردِعمل تھا ان سماجی اور اقتصادی حقائق کا، جو ہر قدم پر بنکروں کو پیچھے دھکیل رہے تھے۔ ان بنکروں کے اندر بھی نسلی، اور پیشہ ورانہ تقسیم موجود تھی، وہ صرف ایک طبقے کے مسلمانوں نہیں تھے، بلکہ وہ تو ایک تہذیب کے زخم خوردہ بودوباش تھے۔ جو اپنے فن، اپنی معیشت، اور اپنی سماجی شناخت کو دیکھ رہے تھے۔

مذہبی تنوع اور مسلکی رقابتیں

جیسا کہ ہم نے کہا؛ مبارک پور کی سرزمین صرف ریشمی دھاگوں اور بروکیڈ ساڑھیوں ہی کی آماجگاہ تھی، بلکہ یہاں مذہبی فکر و فہم کے مختلف رنگ بھی پوری شدت سے رائج تھے۔ وقت کے ساتھ اس قصبے میں جہاں صنعتی حرکیات نے اپنی ایک دنیا آباد کی، وہیں مذہبی رجحانات نے بھی سیاست، معاشرت اور شخصی روابط پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ مبارک پور میں مکاتب ہائے فکر کی موجودگی نہ صرف مذہبی فکر کی تہرانی کی مظہر ہے، بلکہ ان کے باہمی تعلقات نے مقامی سیاست، تعلیم اور ثقافتی اداروں کی تشکیل پر بھی اثرات مرتب کیے۔

مبارک پور میں سب سے پہلا اور قدیم اسلامی مذہب سنی حنفی تھا، جو عموماً برصغیر کے طول و عرض میں پھیلا ہوا تھا۔ اٹھارویں صدی میں جب اودھ کے نوابین نے مذہبی فضا کو نئی جہتیں عطا کیں، تب شیعہ مذہب نے بھی اس خطے میں قدم جمائے۔ نواب آصف الدولہ کے عہد میں رمضان علی شاہ نے یہاں اپنا امام باڑہ تعمیر کروایا، جو نہ صرف ان کے مذہبی شعائر کا مرکز تھا بلکہ شیعہ وجود کی سماجی پہچان بھی۔ اس وقت کئی شیعہ مبلغین نے مبارک پور کا رخ کیا، اور نوابی سرپرستی میں اس کو فکری پشت پناہی حاصل ہوئی۔

بوہرہ اسماعیلی شیعہ بھی مبارک پور میں انیسویں صدی کے ابتدائی برسوں سے قبل موجود تھے، اور ان کے وجود کا استناد ملا شار علی مبارک پوری سے ہوتا ہے، جنھوں نے اس مذہب کی بنیاد یہاں رکھی۔ بعد ازاں، غیر مقلدین نے بھی قدم جمانے شروع کیے، یہاں اس کے بانی مبانی شاہ ابواسحاق لہراوی تھے، جن کا انتقال 1234 ہجری میں ہوا۔ سب سے آخر میں دیوبندی مکتب فکر نے 1317 ہجری میں یہاں اپنی شناخت قائم کی۔ مولانا محمود معروف اور مولانا حکیم الہی بخش نے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ان مختلف مکاتب فکر نے نہ صرف اپنے عقائد کی تبلیغ کی بلکہ اپنے اپنے مدارس بھی قائم کیے، جو ان کی فکری تربیت گاہیں بن گئیں۔ سنیوں کا مدرسہ “اشرفیہ” (دار العلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم)، دیوبندیوں کا “جامعہ عربیہ احیاء العلوم”، اہل حدیث کا “دار التعلیم”، اور شیعوں کا “باب العلم”۔ یہ تمام مدارس اپنے مذاهب کی علمی روایت کے امین کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ بوہروں کا مدرسہ ملا شار علی سرائیری نے قائم کیا تھا، جسے بمبئی کے بوہروں کی جانب سے مالی امداد حاصل ہوتی تھی۔ اگرچہ بیسویں صدی کے اوائل میں یہ مدرسہ طویل عرصے تک غیر فعال رہا، لیکن دینی تعلیم امام باڑہ اور گھریلو سطح پر جاری رہی۔ تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہے، اور سب کے اندر ایک دوسرے کے خلاف کشیدگی پروان چڑھتی رہی۔

مقامی قیادت اور باہمی تعلقات

1909-10 میں مبارک پور پولیس نے اپنے مشاہدے میں درج کیا کہ مبارک پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں، بلکہ خود مسلمانوں کے اندر بھی گہری الجھنیں موجود ہیں۔ سنی، اہل حدیث، شیعہ اور دیوبندی سب اپنے اپنے تشخص میں ممتاز اور الگ شناخت رکھتے تھے، ان کے عبادت کے مراکز جدا تھے، اور وہ ایک دوسرے کی مساجد میں نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ البتہ محرم کے دوران تمام فرقے، اہل حدیث کے سوا، عزاداری میں شریک ہوتے۔ تعزیے کے جلوس کے دوران بدامنی کا آغاز اکثر محلہ شاہ محمد پور سے ہوتا، جو کہ ایک شیعہ اکثریتی علاقہ تھا۔

اس دور کی مقامی قیادت بھی مسالک کے نمائندہ چہرے تھے۔ سنی قیادت میں شیخ عبد الوہاب، شیخ طیب گبرستھ، حکیم الہی بخش اور حاجی عبدالحق شامل تھے۔ اہل حدیث کی نمائندگی مولوی سلامت اللہ، عبدالمجید اور حکیم محمد شفیع کے پاس تھی، جب کہ شیعوں کی قیادت حکیم یار علی کے ہاتھ میں تھی۔ سرکاری امور میں یہ رہنما نہایت اہم کردار ادا کرتے تھے، اور بعض مواقع پر مقامی انتظامیہ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ بدامنی کے تدارک کے لیے حکیم یار علی سے تعاون حاصل کیا جائے، کیوں کہ وہ معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

بمبئی کا “غلہ کیس”

اناج کے دانوں میں چھپی ہوس کی داستان

1940 کی دہائی کا ہندوستان ایک بے قراری کی کیفیت میں سانس لے رہا تھا۔ باہر کی دنیا میں جنگ کے بادل گرج رہے تھے، تو اندرون ملک فاقہ کشی کی آندھیاں چل رہی تھے۔ بمبئی، جو برطانوی ہندوستان کا دل تھا، اپنے بظاہر جگمگاتے بازاروں، اونچی عمارتوں اور بندرگاہ کے شور میں ایک ایسی سچائی کو چھپائے بیٹھا تھا جو بھوک کی چیخوں سے گونجتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چاول کی خوشبو محض یاد بن چکی تھی، اور گندم کے دانے سونے کی مانند قیمتی ہو گئے تھے۔ اناج کی قلت، جو قدرت سے زیادہ مصنوعی تھی، ہر گھر کی دہلیز پر ایک سوال بن کر دستک دے رہی تھی: “کیا کل چولہا جلے گا؟” اور تب سامنے آیا بمبئی کا “غلہ کیس”۔ (جاری)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!