Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

توحید اور مقدس مقامات کا احترام|مولانا محمد عبدالقادر رضوی اشفاقی

توحید اور مقدس مقامات کا احترام
عنوان: توحید اور مقدس مقامات کا احترام
تحریر: مولانا محمد عبدالقادر رضوی اشفاقی
پیش کش: شیخ کنیز فاطمہ

عقیدہ توحید

قرآن و سنت کی روشنی میں توحید، وحدانیت باری تعالی کا ایک واضح تصور ہے جس میں کسی کی شرکت کا ہرگز ہرگز امکان نہیں۔ توحید باری تعالی کا عقیدہ، یعنی اللہ کا ایک ہونا، یکتا ہونا، دین اسلام میں اساسی حیثیت رکھتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان اللہ کو بلا شریک غیر واحد جانتے اور مانتے ہیں اور الحمد للہ اہل سنت و جماعت بھی اسی کے قائل اور عامل ہیں۔ جو شخص اللہ رب العزت کی توحید، وحدانیت احد و واحد ہونے میں ذرہ برابر شک کرے مسلمان نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کو مشرک قرار دیا جائے گا، ایسا شخص دائرہ اسلام سے فوراً نکل جائے گا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”توحید مدار ایمان ہے اور اس میں شک کفر، اور وحدت وجود حق ہے۔ قرآن عظیم اور احادیث و ارشادات اکابر دین سے ثابت اور اس کے قائلوں کو کافر کہنا خود شنیع خبیث کلمہ کفر ہے۔ رہا اتحاد وہ بے شک زندقہ و الحاد اور قائل اس کا ضرور کافر۔ اتحاد یہ کہ یہ بھی خدا وہ بھی خدا سب خدا۔ گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی، حاش للہ الہ الہ ہے اور عبد عبد۔ ہرگز نہ عبد اللہ ہو سکتا ہے نہ اللہ عبد، اور وحدت وجود یہ کہ وہ صرف موجود واحد باقی سب ظلال و عکس ہیں قرآن کریم میں ہے، كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ [ج: 2، ص: 132]

قرآن کریم اور مقدس مقامات کا ذکر

قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے مختلف آیات میں مقدس مقامات کا ذکر فرمایا ہے اور ان کی حیثیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ تصور قرآن کے بالکل خلاف ہے کہ اسلام میں مقدس مقامات کی کوئی اہمیت نہیں۔ بد مذہب لوگ مقدس مقامات کا انکار کر کے ان کی حرمت و عظمت کو نظر انداز کرتے ہیں، اپنا ایمان و عقیدہ خراب کرنے کے ساتھ ساتھ قوم مسلم کے ایمان و عقیدے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔ مقدس مقامات کی تعظیم و تکریم کرنا ان کی حفاظت کرنا، ان کے ذریعہ برکت حاصل کرنا وغیرہ امور ہرگز توحید باری تعالی کے خلاف نہیں۔ بلکہ قرآن عظیم نے مقدس مقامات کی حفاظت و صیانت اور ان کی تعظیم و تکریم کو مومنین کے لیے تقویٰ قرار دیا۔ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ [سورۃ الحج: 32]

جو اللہ کی مقرر کردہ نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ قرآن پاک میں صفا و مروہ پہاڑی کو بھی شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ [سورۃ البقرة: 158]

شعائر اللہ سے مراد دین کے اعلام و اقدار اور وہ آثار قدیمہ بھی ہیں جو دین کے نشانات ہیں۔ مثلاً کعبہ شریف، میدان عرفات، مزدلفہ، منیٰ، مسجد الحرام، مسجد نبوی، روضۂ رسول اکرم، مسجد اقصیٰ، مسجد قبلتین، مقام ابراہیم، حجر اسود، چاہ زمزم وغیرہ [عام کتبِ تفسیر] ان تمام آثار سے برکت حاصل کرنا، تعظیم و ادب کرنا، توحید کے منافی نہیں، بلکہ قرآن اور حکم باری کی تعمیل ہے۔

تابوت سکینہ

قرآن مجید میں آثار قدیمہ و مقدس اشیا میں سے تابوت سکینہ کا ذکر ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ [سورۃ البقرة: 248]

یعنی اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت، جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز ہارون اور معزز موسیٰ کے ترکے کی، اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے۔

مفسر قرآن حضرت صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ تابوت کے متعلق لکھتے ہیں: یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا ایک زراندوز صندوق تھا جس کا طول تین ہاتھ کا اور عرض دو ہاتھ کا تھا، اس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا۔ اس میں تمام انبیائے کرام کی تصویریں تھیں ان کے مساکن و مکانات کی تصویریں تھیں، اور آخر میں حضور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضور کے دولت سرائے اقدس کی تصویر ایک یاقوت سرخ میں تھی کہ حضور بحالت قیام نماز میں ہیں ارد گرد آپ کے اصحاب۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا۔ آپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی، چنانچہ اس تابوت میں الواح توریت کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، کپڑے، آپ کے نعلین شریف، حضرت ہارون کا عمامہ، ان کا عصا اور تھوڑا سا من جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے، اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی۔ آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں توارثاً ہوتا چلا آیا جب انہیں کوئی مشکل درپیش آتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعائیں کرتے اور کامیاب ہوتے، دشمنوں کے مقابلے میں اس کی برکت سے فتح پاتے۔ [تفسیر جلالین، جمل, خازن، مدارک وغیرہ، خزائن العرفان زیر آیت]

وادی طویٰ کا ادب

قرآن پاک میں وادی طویٰ کا ذکر ہوا ہے، قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے:

إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى [سورۃ طٰہٰ: 12]

یعنی بے شک میں تیرا رب ہوں، تو اپنے جوتے اتار ڈال بے شک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے۔ حضرت صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں: طویٰ وادی مقدس کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا، اس میں تواضع اور مکہ معظمہ کا احترام اور وادی مقدس کی خاک سے حصول برکت کا موقع [خزائن العرفان زیر آیات] فاخلع نعلیک فرما کر مقدس مقامات کی حاضری اور ان کے آداب کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار مبارک کے آداب

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار و تبرکات مبارک دو قسم کے ہیں: (1) وہ جن کا تعلق براہ راست آپ کے جسم اطہر یا آپ کی ذات سے ہے۔ (2) وہ جن سے آپ کے جسم مبارک کا کوئی حصہ یا عضو مبارک مس ہوا ہے۔

وہ آثار مبارک یا تبرکات شریف جن کا تعلق براہ راست آپ کی ذات مبارک سے ہے۔ مثلاً موئے مبارک، کے متعلق بخاری شریف باب ما یذکر فی الشیب میں ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم جب بال شریف منڈواتے، صحابہ کرام بطور تبرک آپس میں تقسیم کر لیتے، آپ نے ایک مرتبہ سر مبارک کے بال شریف منڈوائے بال شریف منڈنے کا شرف حضرت ابو طلحہ کو حاصل ہوا آپ نے نصف بال مبارک حضرت ابو طلحہ کو عنایت فرمایا اور بقیہ نصف دیگر صحابہ کرام میں تقسیم کر دیے، ایک موئے مبارک حضرت خالد بن ولید سیف اللہ کے حصے میں آیا، آپ نے اس کو اپنی ٹوپی میں محفوظ کر لیا جب جنگ میں جاتے اس ٹوپی کو پہن لیتے، اس کی برکت سے فتح حاصل ہوتی تھی۔ کچھ موئے مبارک حضرت ام سلمہ کے پاس تھے جب کسی کو کوئی شدید مرض لاحق ہوتا اور وہ نا امید ہو جاتا، یا آنکھ کی شدید تکلیف میں مبتلا ہوتا تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس پانی سے بھرا برتن بھیجتا آپ موئے مبارک اس پانی میں ڈبو دیتیں اور اس کا دھوون عطا کرتیں جس سے مریض شفایاب ہو جاتا۔ [رقم الحديث: 5896]

بخاری شریف میں ہے کہ صحابی رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد مشہور تابعی امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ ابن مسعود کے صاحبزادے حضرت عبیدہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ اگر میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موئے مبارک بھی ہوتا تو میں اسے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب رکھتا۔ [رقم الحديث: 170]

مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ فقہ حنبلی کے امام حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل کے پاس حضور کا ایک موئے مبارک تھا، آپ فرط محبت میں کبھی اسے چومتے کبھی آنکھوں پر رکھتے اور کبھی اس کا پانی پیتے، امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک اپنے منہ پر رکھتے اور بوسہ دیتے کبھی آنکھوں سے لگاتے اور کبھی پانی میں ڈبو کر اس پانی کو نوش فرماتے۔ [ج: 1، ص: 82]

مشہور صحابی رسول کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن مبارک تھے ان کو آپ بڑی حفاظت سے رکھتے تھے۔ وصال کے وقت آپ نے وصیت کی یہ ناخن مبارک میرے کفن کے ساتھ قبر میں رکھ دیے جائیں۔ وصیت کے مطابق یہ ناخن مبارک آپ کی قبر میں رکھ دیے گئے۔

آثار و تبرکات کی دوسری قسم کہ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے نسبت ہو گئی تو وہ چیزیں بھی لائق تعظیم قرار پائیں مثلاً نقش قدم رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا مشہور معجزہ شریف ہے کہ جس پتھر پر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم قدم مبارک رکھتے تو موم ہو جاتا۔ اس پتھر پر قدم مبارک کے نشان ابھر جاتے اس مبارک پتھر کو ”نقش قدم رسول“ سے موسوم کیا گیا، اس کی عظمت و بزرگی مسلم ہے۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبارک قدم کے پتھر پر ابھرے ہوئے نشان کو محترم بتایا گیا اسے مقام ابراہیم کا نام دیا گیا نیز نماز کے لیے مصلیٰ بنانے کا حکم بیان فرمایا:

وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى [سورۃ البقرة: 125]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ تمام انبیاء کرام اور اولین و آخرین سے افضل و اعلیٰ، ارفع و بالا ہے، اس لیے آپ کے جسم پاک سے منسوب آثار و تبرکات کا مقام و مرتبہ بھی ارفع و اعلیٰ ہے۔ جس طرح ”مقامِ ابراہیم“ کو نماز کے لیے مصلیٰ بنانا جائز ہے اسی طرح نقش قدم رسول و موئے مبارک کے ذریعے برکت حاصل کرنا، تعظیم و ادب کرنا، شریعت مطہرہ کے عین مطابق ہے، اور توحید کے خلاف نہیں۔ اگر تصور توحید سے ان تبرکات و آثار کی تعظیم و ادب متصادم ہوتی تو صحابہ کرام کی جماعت کا عمل روایات صحیحہ کے ذریعے ہم تک نہ پہنچتا۔ اس پیاری جماعت کے تعظیم و ادب اور ان کے عمل نے ہم پر ظاہر کر دیا کہ توحید باری تعالی کا حقیقی تصور ایک مسلم عقیدہ ہے اور آثار رسول کا ادب کرنا اہل ایمان کا تقاضا ہے۔ مسجد نبوی شریف میں آج بھی آثار و تبرکات شریف موجود ہیں جن کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمان برکت و فیض حاصل کرتے ہیں اور زیارت کی جاتی ہے۔

اصحاب صفہ کا چبوترا

یہ وہ جگہ ہے جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی جماعت کو خاص قسم کی صوفیانہ تعلیم و تربیت عطا فرماتے۔ آپ خود بھی بنفس نفیس ان کے درمیان جلوہ افروز ہوتے تھے، محراب رسول، مسجد نبوی شریف کے ریاض الجنۃ کا وہ حصہ جو روضۂ رسول سے منبر رسول تک کا حصہ ہے وہ جنت کی کیاری ہے اور وہ ستون بھی تبرکات میں شامل ہیں جو مسجد نبوی شریف میں ہیں ان ستونوں کے قریب عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہیں مثلاً ستون حضرت عائشہ، ستون توبہ، ستون علی، ستون وفود، ستون تہجد وغیرہ۔

مشہور سلطنت عثمانیہ ترکی کے عجائب گھر (میوزیم) میں آج بھی قدیم آثار رسول صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ ہیں، ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ مبارک، عمامہ شریف، دندان مبارک، موئے مبارک، عصا مبارک، تلوار مبارک، اور خلفائے راشدین کے کچھ تبرکات بھی اس میوزیم میں محفوظ ہیں جن کی زیارت کی جاتی ہے۔ ہندوستان کی بہت سی خانقاہوں اور مساجد میں موئے مبارک و قدم مبارک محفوظ ہیں۔ دیگر خانقاہوں میں آج کل اہل سنت کے دیگر تبرکات بھی موجود ہیں۔ کشمیر کی درگاہ حضرت بل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدیم موئے مبارک ہے۔ ہمارے راجستھان کے ناگور شریف شہر کے قریب 20 کلومیٹر دوری پر واقع، روحل شریف، قصبہ کی مسجد میں جبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً 600 سال سے محفوظ و موجود ہے جو حضرت عارف باللہ قاضی حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کو کئی واسطوں کے ذریعے حضرت سیدنا مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے حاصل ہوا تھا جس کی زیارت کے لیے پورے ہندوستان سے عاشق رسول سفر کر کے آتے ہیں۔

اسلام میں آثار قدیمہ و مقدس مقامات کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ مقدس روحانی یادگاروں کی حفاظت کی ہے۔ مسلم حکمران ہند نے भी ان آثار رسول و تبرکات شریف کی حفاظت کی اور عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے مقدس و متبرک آثار شریفہ کو دل و جان سے زیادہ عزیز رکھا، خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، پھر تابعین، تبع تابعین نے آثار رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کیا اور تعظیم و تکریم کو ملحوظ رکھا، یہ آثار مبارک عباسیوں سے فاطمیوں کے پاس پہنچے اور فاطمیوں سے عثمانی ترکوں میں منتقل ہوئے۔ عثمانی ترک حکمرانوں نے ان آثار شریفہ و تبرکات کا احترام کیا اور ان کی حفاظت و صیانت میں ذرہ برابر کوتاہی نہ کی۔

خانقاہ اور درس توحید

دین اسلام اور پیغام توحید و رسالت کی ترویج و اشاعت بیشتر ممالک میں صوفیائے کرام و اولیائے عظام کی تبلیغی کاوشوں کا ثمرہ ہے، انہیں کی مساعی جمیلہ سے پیغام توحید و محبت رسالت کا جذبہ عام ہوا، اور لوگوں میں دینی جذبات بیدار ہوئے، اہل اللہ خانقاہ میں اپنے متوسلین و محبین کو توحید باری تعالی کا جام پلاتے رہے ہیں۔ اللہ اللہ کی ضرب کے ذریعے دلوں کے زنگ کو دور کر کے بندگان خدا کو معرفت الٰہی، حقائق ربانی کے جلوے دکھائے۔ شرک و کفر کی آلودگیوں سے پاک کر کے لوگوں کے دلوں کو توحید باری کے نور سے منور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور خواجہ غریب نواز سلطان الہند رضی اللہ عنہ کے دست پاک پر 90 لاکھ غیر مسلموں نے اسلام کا کلمہ پڑھ کر توحید باری تعالی کا اقرار کیا۔ بلا شبہ آج بھی اہل سنت و جماعت کی خانقاہوں سے یہی درس جاری ہے۔

نجدی حکومت اور مقدس مقامات کی پامالی

مقدس مقامات کا احترام توحید باری تعالی کے خلاف نہیں، بلکہ تعظیم اور عبادت کے درمیان بہت فرق ہے۔ مقدس مقامات کا ادب کرنا قرآن و سنت کا حکم ہے۔ آج سے تقریباً 100 سال قبل حرمین شریفین میں جنۃ البقیع، و جنۃ المعلیٰ میں صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے مقدس مزارات قبہ جات کے ساتھ مرجع خلائق تھے، لیکن جب... (باقی اگلے صفحے پر)

[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، اپریل 2016ء، ص: 21-24]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!