| عنوان: | دنیاوی چالیں اور عورت کا وقار (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سلمیٰ شاہین امجدی |
| پیش کش: | زیبا رضویہ |
آج کے زمانے میں ہر مسلمان، اور خاص طور پر مسلمان عورتوں کے لیے ایمان کی حفاظت ایک لازمی فریضہ اور سب سے بڑی جدوجہد بن چکی ہے۔ یہ دور نہ صرف ظاہری چیلنجز سے بھرا ہوا ہے بلکہ دل، نظر، زبان، اور عمل میں سرایت کرنے والے فتنوں سے بھی بھرپور ہے۔
عورت کے لیے یہ جدوجہد زیادہ نازک اور حساس ہے، کیوں کہ اس کی شخصیت، کردار، اور عملی زندگی نہ صرف ذاتی فلاح بلکہ پورے خاندان اور معاشرت کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو محض جسمانی جمال یا زیب و زینت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی حیا، تقویٰ، علم، اخلاق، اور عمل کی بنیاد پر مقام دیا ہے۔ عورت کے کردار میں ایمان کی موجودگی نہ صرف اس کی ذاتی زندگی میں روشنی پیدا کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو استحکام بخشتی ہے۔
«وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ وَ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ» [سورۃ النور: 31]
ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
یہ آیت عورت کے لیے ایک جامع رہنمائی ہے؛ ایمان، حیا، اور اخلاق کا تحفظ ہر مسلمان عورت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حیا عورت کا زیور، اس کی طاقت، اور اس کی پہچان ہے۔ آج بعض عورتیں حیا کو صرف دنیاوی فیشن یا آزادی کے نام پر قربان کر دیتی ہیں، مگر تاریخ ہمیں واضح سبق دیتی ہے کہ حقیقی عزت اور وقار اللہ کی رضا میں ہے، نہ کہ دنیا کی تعریف میں۔
صحابیات کی مثالیں آج کی خواتین کے نام
اسلامی تاریخ میں خواتین صحابیات نے ہمیں واضح پیغام دیا ہے کہ ایمان کے لیے صبر، استقامت، اور قربانی لازمی ہے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا، حضرت نسیبہ رضی اللہ عنہا، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف اعتقاد نہیں بلکہ عملی جدوجہد اور اخلاقی معیار کا نام ہے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی پہلی شہیدہ، اپنی ایمان داری اور اپنے ایمان کی استقامت کی وجہ سے آج بھی مومن کے لبوں پر ہیں۔ انہوں نے دنیاوی تکلیف اور جانی خطرات کے باوجود دین کی راہ میں ثابت قدمی اختیار کی حتیٰ کہ جان دے دی لیکن شریعتِ مصطفیٰ کو پامال نہیں کیا۔ حضرت نسیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہادری، شجاعت، اور علم کے ذریعے خواتین کے لیے عملی نمونہ قائم کیا، چاہے وہ جنگ کے میدان میں شامل ہونا ہو یا معاشرتی خدمات انجام دینا۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے صبر، استقامت، اور ایمان داری کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں، اور یہ ثابت کیا کہ عورت کا مقام صرف گھر کی پامرد و فطری حدود میں نہیں بلکہ علم، کردار، اور عمل میں بھی بلند ہے۔ صحابہ کرام میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال نمایاں ہے، جن کی زندگی ہر مسلمان کے لیے سبق آموز ہے، خاص طور پر عورتوں کے لیے۔ انہوں نے ایمان کے لیے مال و جان قربان کیے، ہر مشکل میں حق کے ساتھ ڈٹے، اور اپنی زندگی کو دین کی خدمت میں صرف کیا۔ عورتیں ان سے یہ سبق حاصل کر سکتی ہیں کہ ایمان صرف اعتقاد نہیں بلکہ عمل اور استقامت کا نام ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں اور تقویٰ بھی واضح رہنمائی پیش کرتے ہیں کہ معاشرت میں انصاف، تقویٰ اور دین کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔
فتنہ دوراں اور عورت
آج کا دور وہ دور ہے جس میں فتنہ ہر سطح پر سرایت کر چکا ہے۔ یہ فتنہ صرف باہر کی دنیا میں سے بلکہ دل، نظر، زبان، اور معاشرت میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ عورت کے لیے یہ فتنہ کئی جہتوں میں ظاہر ہوتا ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے عقل، ایمان اور حیا کی یکجائی ضروری ہے۔ جن میں چند درج ذیل ہیں۔
1۔ بے حیائی اور فیشن کا فتنہ
جو کبھی عورت کی زندگی میں پردے کے پیچھے محدود تھا، آج وہ فتنہ ہر ہاتھ کی ہتھیلی تک پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے رنگین بلاگز، موبائل ایپلی کیشنز، اور فیشن کی چمک دمک نے حیا کو نہ صرف چھپا کر رکھنا نامکن بنا دیا بلکہ اسے قابلِ دکھاوا، فخر، اور سماجی تعریف کا ذریعہ بھی بنا دیا ہے۔ آج عورتیں اکثر اپنے وقار اور پردے کی حفاظت کے بجائے دنیا کی تعریف اور لائکس کی دوڑ میں مشغول ہیں، اور جو لوگ حیا اور اخلاق کو اپنی عزت سمجھتے ہیں، انہیں بھی محتاط نظر رہنا پڑتا ہے۔ یہ فتنہ اتنا باریک اور چالاک ہے کہ دل، نظر، زبان، اور عمل کے ہر گوشے میں داخل ہو جاتا ہے۔ کبھی جو چھپا رہتا تھا، آج اس کا مظہر ہر تصویر، ہر پوسٹ، ہر اسٹوری میں دکھائی دیتا ہے، اور معاشرتی معیار بدل کر عورت کی حیا اور وقار پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔
2۔ علم کے نام پر دین سے دوری
تعلیم ایک عظیم نعمت ہے اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہے، مگر اگر اس کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی، شہرت یا مالی استحقاق ہو تو یہ عورت کے ایمان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ آج کی بہت سی خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں، چاہے وہ ڈاکٹر، وکیل، انجینئر یا سیاست دان بنیں، مگر عملی دین اور اخلاقی تربیت میں کمزور رہتی ہیں۔
ہمارے اسلاف میں بھی خواتین نے علم و ہنر کے بلند مقام حاصل کیے، صحابیات نے تعلیم، بہادری، رہنمائی، اور خدمتِ خلق کے ذریعے عظیم مثالیں قائم کیں۔ لیکن آج کے زمانے میں، جب عورت ڈاکٹر، وکیل، انجینئر یا سیاست دان بنتی ہے اور معاشرت میں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہے، فوری طور پر بعض اوقات پردے اور حیا کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ہمارے ارد گرد ایسی کئی خواتین موجود ہیں جو دینی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتی ہیں، مگر تعلیم یا کامیابی کے ساتھ ساتھ پردے اور حیا میں کمزوری دیکھنے کو ملتی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف دنیاوی علم کا حصول نہیں، بلکہ اسے دین کی روشنی میں سمجھنا، دل و عمل میں اتارنا، اور معاشرت میں اس کے اثرات کو پھیلانا ہے۔ اگر علم صرف دنیاوی معیار کے لیے ہو، تو یہ روحانی اندھیروں میں دھکیل سکتا ہے، حیا اور ایمان پر سایہ ڈال سکتا ہے، جب کہ دین کے ساتھ مربوط تعلیم عورت کی شخصیت کو مکمل، مضبوط، اور کامیاب بناتی ہے۔
3۔ دوستی اور محفلوں کا فتنہ
آج کی عورت کی دوستی اور محفلیں اکثر دین کے مددگار نہیں بلکہ دلوں کو دنیا کی طرف مائل کرنے والے ہیں۔ بہت سی بہنیں لڑکوں سے دوستی کر لیتی ہیں، اور بعض مسلم بہنیں غیر مسلم دوستیاں بھی قائم کرتی ہیں، جو بعد میں شادی یا دیگر اہم فیصلوں میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ اور مشکلات پیش آتی رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بیٹیاں غیر مسلم کے ساتھ فرار ہو رہی ہیں۔ وہ محفلیں جو دن کے وقت نظر نہیں آتیں، رات کے وقت سوشل میڈیا اور موبائل کے ذریعے دلوں اور ذہنوں پر قبضہ کر لیتی ہیں، اور حیا و ایمان پر چھوٹا سا سایہ ڈال دیتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ والدین کہاں ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟
قرآن کہتا ہے:
«إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ» [سورۃ التغابن: 15]
ترجمہ: تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔ آج یہ آزمائش صرف مال و اولاد تک محدود نہیں، بلکہ موبائل، اسکرین، خیالات اور دوستیاں بھی آزمائش بن چکی ہیں۔ [ماہنامہ اشرفیہ، دسمبر 2025، ص: 36]
