| عنوان: | حفظان صحت: جسمانی طہارت کی طاقت |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر ام فرح |
| پیش کش: | ام ماجد |
| منجانب: | نالج آف اسلام اکیڈمی |
انٹی میٹ ہائی جین (جسمانی صفائی) صرف صاف رہنے کا نام نہیں بلکہ تازگی، اعتماد، اور راحت محسوس کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ بہت سی خواتین میں صفائی کی عادت اُن کے خاندان، ثقافت، اور ذاتی انتخاب سے تشکیل پاتی ہے۔ باوجود اس کے آج کی فروغ پذیر انفارمیشن ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، اور جدید مصنوعات کے ساتھ، جسمانی نگہداشت معمول سے بڑھ کر خود سے محبت اور خود اعتمادی کی علامت بن چکی ہے۔ اپنے جسم کی دیکھ بھال کا طریقہ سمجھنا، آپ کو روزانہ، اندرونی اور بیرونی طور پر، بہترین محسوس کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ہر عورت کے لیے صحت و صفائی کے مشورے
1. روزانہ غسل کریں، غسل سے آپ خود کو تازہ دم محسوس کریں گی البتہ سخت صابن کے استعمال اور ضرورت سے زیادہ جلد کو رگڑنے سے پرہیز کریں، کیوں کہ یہ اچھے بیکٹیریا کے قدرتی توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔
2. بدن کے پوشیدہ مقامات اور شرم گاہ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، اپنے پوشیدہ حصوں کو ہلکے پانی سے نرمی کے ساتھ دھوئیں، خاص طور پر حیض (پیریڈ) کے دوران یا گرمی کے موسم میں۔ اگر ضرورت ہو تو ہلکا pH متوازن کلینرز استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر صرف بیرونی حصے (ولوا) پر۔
3. صفائی کا صحیح طریقہ اپنائیں، ہمیشہ بیت الخلا کے بعد آگے سے پیچھے کی سمت میں صاف کریں۔ یہ سادہ عادت پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) سے بچاتی ہے۔ یہی عمل مباشرت کے بعد بھی کریں، اور بعد میں ہاتھ اچھی طرح دھونا نہ بھولیں۔
4. ماہواری کے دنوں میں صفائی بہت ضروری ہے! اپنا سینیٹری پیڈ ہر 4 سے 8 گھنٹے میں بدلیں، ٹیمپون ہر 8 گھنٹے میں، اور زیر جامہ روزانہ تبدیل کریں۔ اگر آپ مینسٹرول کپ استعمال کرتی ہیں، تو اسے استعمال سے پہلے اور بعد میں ابلتے ہوئے پانی سے جراثیم سے پاک کریں۔
5. تنگ یا مصنوعی کپڑے نمی اور گرمی کو روکتے ہیں، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے نرم کاٹن کے کپڑے پہنیں، اور ورزش یا پسینہ آنے کے بعد فوراً کپڑے بدل لیں۔
6. عوامی بیت الخلا میں احتیاط کریں، وہ انفیکشن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ٹوائلٹ میں بیٹھنے سے پہلے ٹوائلٹ سیٹ سینیٹائزر یا ڈسپوزیبل کور استعمال کریں، اور ممکن ہو تو براہ راست عوامی بیت الخلا کی دیواروں اور اس کے سامان کے استعمال سے بچیں۔
7. صحت مند غذا اور وافر پانی جسم اور پوشیدہ حصوں کو اندر سے توازن میں رکھتا ہے اور تازگی بخشتا ہے۔ اندام نہانی اور ولوا کی صحت کے لیے متوازن غذا انتہائی اہم ہے! ان غذاؤں کو اپنی خوراک میں شامل کریں جو اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای، وٹامن سی، اومیگا 3 اور اومیگا 6 فیٹی ایسڈز، پروٹین، اور پروبائیوٹکس سے بھرپور ہوں۔ یہ غذائی اجزا جسم کے قدرتی توازن کو برقرار رکھتے ہیں، قوت مدافعت بڑھاتے ہیں، اور پوشیدہ حصے کو صحت مند اور آرام دہ رکھتے ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹس بیریز، گرین ٹی، اور ڈارک چاکلیٹ میں پائے جاتے ہیں، جو نازک بافتوں کو نقصان سے بچاتے ہیں۔ وٹامن ای بادام، بیج، اور ایووکاڈو میں موجود ہوتے ہیں وٹامن ای جلد کو نرم اور مرطوب رکھتا ہے۔ وٹامن سی مالٹے، کیوی اور شملہ مرچ میں پایا جاتا ہے، کولیجن بڑھاتا ہے اور قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔
اومیگا 3 فیٹی ایسڈ مچھلی (جیسے سامن)، چیا بیج، اور السی کے بیج میں پائے جاتے ہیں، سوزش اور خشکی کم کرتے ہیں۔ اومیگا 6 فیٹی ایسڈ: سورج مکھی کے تیل اور اخروٹ میں پائے جاتے ہیں، خلیوں کی ساخت کو برقرار رکھتے ہیں۔ پروٹین انڈے، دال، اور دہی میں ہوتے ہیں، بافتوں کی مرمت اور جسمانی توانائی کے لیے مفید ہے۔ پروبائیوٹکس: دہی، لسی، اور خمیر شدہ غذاؤں میں پائے جاتے ہیں، جو اندام نہانی کے قدرتی pH کو برقرار رکھتے اور انفیکشن سے بچاتے ہیں۔
8. اپنے گائناکالوجسٹ سے باقاعدہ معائنہ کروائیں تاکہ سب کچھ درست رہے اور کوئی مسئلہ ہو تو وقت پر پتہ چل سکے۔ یاد رکھیں احتیاط بہرحال بہترین علاج ہے۔ اور حفاظتی ویکسین لگوائیں، HPV ویکسین سروائیکل حفاظت کرتی ہے۔ یہ دونوں ویکسین ہر عورت کے لیے ضروری ہیں، خاص طور پر ان کے لیے جو ازدواجی زندگی یا حمل کی منصوبہ بندی کر رہی ہوں۔
اپنی صحت کا خیال رکھنا صرف صفائی نہیں، بلکہ یہ خود کی دیکھ بھال ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں روزانہ آپ کے اعتماد، آرام اور صحت محسوس کرنے کے انداز میں بڑا فرق ڈال سکتی ہیں! سادہ عادتیں، جیسے نرمی سے صفائی کرنا، کاٹن کے زیر جامے پہننا، اور حیض (پیریڈز) کے دوران مناسب دیکھ بھال، انفیکشن اور بدبو کو روک سکتی ہیں۔ ان عادتوں کو اپنائیں اور اپنے گائناکالوجسٹ (ماہر امراض نسواں) اور ڈرماٹولوجسٹ (ماہر جلد) سے بات کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ یاد رکھیں، اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھنا خود سے محبت کا ایک چھوٹا سا عمل ہے جو روزانہ آپ کی زندگی میں ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ [ماہنامہ اشرفیہ، طبیات، ص: 34۔34]
