Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عورت کے لیے پردہ کیوں؟ (قسط: دوم) | فردین احمد خان رضوی

عورت کے لیے پردہ کیوں؟ (قسط: دوم)
عنوان: عورت کے لیے پردہ کیوں؟ (قسط: دوم)
تحریر: فردین احمد خان رضوی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اگر مندرجہ بالا گفتگو کو دو نکات میں جمع کریں تو وہ کچھ یوں ہو گا کہ، مردوں میں جنسی اشتعال کے دو ہی سبب ہیں، عورت کے جسم کا نظر آنا اور مرد کا اس کی طرف نگاہ کرنا۔ یہی دو اسباب ہیں جن کے سبب دنیا بھر میں تمام جنسی محاذ پر جرائم سر انجام دیے جارہے ہیں۔ اب بس ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی طرح عورت اپنے جسم کو چھپالے اور مرد اس کی طرف نگاہ نہ کرے، مگر سوچنے کا مقام ہے کہ کیا دنیا میں کوئی نظام ایسا بھی موجود ہے؟ کیا کوئی مذہب ایسا ہے جس نے اس طرح کا کوئی حکم دیا ہو؟ ملحدین تو کہتے ہیں کہ مذہب بے وقوف لوگوں کا شغل ہے، مگر کیا کوئی ایسا بھی مذہب ہے جس نے نیوروسائنس کے اس باریک اور پیچیدہ قاعدے کو حیاتِ نو بخشی ہو؟ کیا فطرتِ انسانی سے اس قدر ہم آہنگ اور شناسا بھی کوئی دین ہے کیا؟ آنکھیں سراپا تجسس ہو کر عالمِ دنیا کا سفر کرتی ہیں، ہر گلی، ہر محلے، ہر کوچے پہ نظر کرتی ہیں، ان کے سامنے دنیا کے تمام مذاہب ہیں، مگر یہ کیا سرگزشت ہے! کہ نگاہ جا کر فقط محسنِ کائنات، فخرِ موجودات، سیاحِ لامکاں، نازشِ ہر دو جہاں، سیدِ مرسلاں جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دینِ اسلام پر ہی رک جاتی ہیں۔

تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب [۲]

دینِ اسلام کی حکمت اور احکاماتِ قرآنی

جی ہاں! واللہ العظیم! یہ مذہبِ اسلام ہی ہے جہاں یہ باریکی، یہ حکمتیں، یہ رعنائیاں جلوہ فگن ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں! یہ اس کردگارِ عالم کا دین ہے کہ جس نے اس پوری دنیا کو بنایا ہے، اس کا دین ہی حق ہے اور یہی مذہب اس لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ یقین نہیں آتا تو خود پڑھیے، قرآن مجید میں خود رب تبارک و تعالی فرماتا ہے:

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٣٠﴾

ترجمہ: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔ [۵]

اور فرمایا گیا:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ ﴿٣١﴾

ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں۔ [۱]

پردہ: عفت و عصمت کا محافظ

اللہ اکبر کبیرا! قربان جائیے دینِ متین اسلام پر کہ جو کچھ ہم عورتوں کی عصمتوں کی حفاظت کے سامان اور مردوں کی پاکبازی کے اسباب ڈھونڈ رہے تھے، وہ سارے کے سارے تو ان دو آیات میں مل گئے! میں دنیا کے انصاف پسند قارئین سے التماس کروں گا، کہ خود فیصلہ فرمائیں، اگر مرد غیر عورتوں کو دیکھے گا نہیں اور عورت بھی باپردہ ہو گی تو کیا کبھی فریقین میں سے کسی کے بھی جنسی احساسات مشتعل ہوں گے؟ کیا کسی کا نفس اسے جنسی بے راہروی پر اتر آنے پر مجبور کرے گا؟ کیا کوئی انسان کسی کی ماں، بہن کی عزت پامال کرے گا؟ نہیں ہر گز نہیں!

گزشتہ تمام گفتگو سے پتا یہ چلا کہ یہ جو پردے کا حکم دیا گیا ہے اسلام میں، یہ دراصل عورت کی عفت و عصمت کی حفاظت اور مرد کے تقویٰ و باطنی طہارت کے تحفظ کے لیے دیا گیا ہے۔ پردہ کسی بھی طرح کسی عورت کی ترقی میں مانع نہیں، بلکہ یہ تو عورت کو وہ حفاظتی سامان مہیا کراتا ہے جس سے وہ معاشرے میں بلا خوف و خطر، چین و سکون سے رہ سکتی ہے اور ترقی پاسکتی ہے۔

مقامِ اصلاح میں یہ بات کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جس بھی انسان کو اپنی سلیم و سالم طبیعت کو مجروح ہونے سے بچانا ہے اسے چاہیے کہ مذہبِ اسلام کا دامن تھام لے کیوں کہ یہی وہ دین ہے جو انسانوں کی فطرت سے ہم آہنگ ہے اور ان کی تمام تر ضروریات کا محافظ و امین ہے۔ راقم نے ماضی میں کبھی ایک نظم کہی تھی عورت کے عنوان سے جس کا آخری شعر کچھ یوں تھا:

دنیا و عقبیٰ میں تیری جاں کا حافظ ہے یہ دیں
زندگی کی ہر ضرورت کا محافظ ہے یہ دیں [۳]

اس پر اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا، اللہ تبارک و تعالی ہمیں علم و عمل کی دولت عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین بجاہ حبیبک سید المرسلین علیہ و آلہ افضل الصلوات واکرم التسليم

[حوالہ:- ماہنامہ افکار حصہ 3 صفحہ نمبر 75/78]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!