| عنوان: | خانقاہ اور درسگاہ میں برتری کی جنگ (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ہاں! ملا علی قاری رحمۃ اللہ الباری کی شرح میں اگر وہ عبارت نہیں ہو تو بے شک اس مسئلہ میں ان سے غلطی ہوئی اور انہوں نے تشدد سے کام لیا جو یقیناً غلط ہے؛ مگر کوئی معصوم نہیں۔ غور فرمائیں! انبیا کے لیے لغزش، امام حسن مجتبیٰ کے لیے لغزش، سالکوں کے لیے ”خطا اور غلط“، حضرت ملا علی قاری کے لیے یقیناً ”غلط ہے“ لکھا گیا یا نہیں؟ کیا اب کوئی کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ معاذ اللہ! حضرت سید اکبر حسینی، حضرت خواجہ بندہ نواز، حضرت مجدد الف ثانی علیہم الرحمہ والرضوان اور حضرت شیرِ بیشۂ اہل سنت علیہ الرحمہ نے بھی گستاخیاں کی ہیں؟ جب یہاں یہ الفاظ برسوں سے لکھے اور پڑھے جا رہے ہیں اور کوئی انہیں ”گستاخی“ نہیں سمجھتا تو حضرت محبوبِ الٰہی کے لیے ”خطا“ کہہ دینا کیسے گستاخی ہو گئی؟ کیا اس سے صاف واضح نہیں ہوتا کہ یہی وہ طبیعت کے مطابق فتویٰ نہیں ملنے کا بخار ہے جو حضرت محبوبِ الٰہی سے محبت کے پردہ میں باہر آ گیا ہے؛ یا پھر ایسا ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام اور حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ”لغزش“ کا لفظ قبول ہے مگر حضرت محبوبِ الٰہی کے لیے اجتہادی خطا بھی ناقابلِ قبول؟
حضور تاج الشریعہ نے تو حدِ ادب میں فرمایا: ”حضرت محبوبِ الٰہی اور ان بعض فقہا پر طعن جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسنِ ظن اور ان کا احترام لازم“؛ مگر حضرت مجدد مکتوبات (حصہ چہارم، دفتر اول) میں تو یہاں تک فرماتے ہیں:
”صوفیہ کا عمل حل و حرمت میں سند نہیں ہے، صرف یہی کافی نہیں ہے کہ ہم انہیں معذور سمجھیں اور ان کو ملامت نہ کریں اور ان کا امر اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں؛ یہاں امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول معتبر ہے نہ کہ ابو بکر شبلی اور ابی حسن نوری کا عمل۔“
مزید فرماتے ہیں: ”صوفیہ کا جو کلام علمائے اہل سنت کے اقوال کے موافق ہو گا وہ مقبول ہو گا اور غیر موافق غیر مقبول ہو گا“۔ اسی صفحہ میں یہ بھی ہے: ”صوفی سے اگر ایسا کلام صادر ہو جو شریعت کے مخالف ہو، جو غلبۂ حال اور سکر کے وقت میں یا کشف کے باعث ہو تو اس کو معذور قرار دیا جائے گا اور اس کا یہ کشف غیر صحیح ہو گا“۔ (مکتوبات امام ربانی، دفتر اول، حصہ پنجم، ص: ۹۰۸)۔
ان تفصیلات کی روشنی میں غور فرمایا جائے کہ حدیثِ مبارک ہے کہ مجتہد کی جس خطا پر ایک اجر کی بشارت دی گئی، اور جس خطا کے لفظ کو علمائے عظام و فقہائے کرام نے اپنے ہم عصر و ما سبق علماء و فقہاء کے لیے استعمال کیا اور کسی نے اسے گستاخی نہیں سمجھا، آج وہی لفظ تاج الشریعہ کے ذریعہ استعمال کر دینے سے گستاخی کیسے ہو گئی؟ اب بتایا جائے کہ نا کردہ جرم کے خلاف اس طرح واویلا مچانا قرینِ انصاف ہے؟ کیا اسی کا نام تصوف، اخلاص اور خانقاہیت ہے؟ اگر ان حضرات کو ”ہم چنیں دیگرے نیست“ کی دعویداری کے ساتھ بزرگوں کی کتابیں پڑھنے کی توفیق مرحمت ہوتی تو اپنے عہد کے صاحبِ شریعت و حاملِ طریقت بزرگ تاج الشریعہ کی حرمت و توقیر سے کھیلنے کے بجائے، کھلواڑ کرنے والوں کی سرزنش کرتے۔ ان محبتِ اولیاء کے دعویداروں نے تاج الشریعہ کے خلاف کیسے کیسے مہذب جملے استعمال کیے ہیں، قارئین اسے بغیر تبصرہ کے ملاحظہ کریں کہ یہ طبقۂ شرفاء کے الفاظ ہیں جس پر تبصرہ کرنا بھی جرم ہے:
”تحقیق کے نام پر جہالت دکھاتے ہوئے (سید فردالحسن چشتی)۔۔۔ اجارہ داری کرتے ہوئے، فتویٰ بازی کرتے آئے، اپنی باطنی خباثت کا اظہار کیا ہے، احمقانہ حرکت، صوفیہ کرام سے بغض و عناد (مولانا سید شاہ اسرار حسین: آستانہ عالیہ)۔۔۔ اکابر کی راہ سے ہٹ کر گمراہی میں مبتلا، علی شیرِ خدا کی شان میں گستاخی کے مرتکب (پیر سید شبیر نقشبندیہ: درگاہ کمیٹی اجمیر شریف)۔۔۔ بددمانی کا مزاج لیے، ان کی بدبختی (مولانا صوفی شاہ مظفر علی ابو العلائی)۔“
تاج الشریعہ کی پوری زندگی میں کوئی جملہ ایسا دکھا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے سخت سے سخت معاند کے لیے اتنی سطحی ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہو؟ قارئین تاج الشریعہ کے فتوے کی عبارت پر ایک بار پھر غور فرمائیں، کیا پڑھے لکھے لوگ کبھی بھی اس سے حضرت محبوبِ الٰہی کی توہین و اہانت سمجھ سکتے ہیں؟ اور جو توہین سمجھیں گے کیا وہ پڑھے لکھے کہلانے کے مستحق ہیں؟
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا رہا ہے وہ بھی کوئی ایسے ویسے نہیں بلکہ مقبولِ بارگاہِ الٰہی اور کروڑوں مریدین کے مرشد ہیں، جو متبعِ سنت اور تقویٰ و خشیت کا مظہر ہیں، جنہیں آج تک کسی نے کسی سنت کا تارک نہیں دیکھا، جن کے خلفاء و مریدین کا سلسلہ عجم ہی نہیں عرب ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جنہوں نے آج تک ذاتی طور پر کسی کی دل آزاری نہیں کی، فتوے میں جن کی زبان ہمیشہ سنجیدہ و شستہ رہی اور ہے۔ یہ اس زمانہ کے لیے مثال ہے کہ حضور تاج الشریعہ نے اتنا ہنگامۂ حشر ہونے کے باوجود کسی سے باز پرس نہیں کی، اور نہ کسی کے خلاف کوئی احتسابی بیان دیا۔ ان کی شخصیت اس شعر کی زندہ مثال ہے:
ایں تقویٰ ام بس است کہ چوں زاہدانِ شہر
ناز و کرشمہ بر سرِ منبر نمی کنم
جس سے نفسِ ستم کوش زدہ حضرات کو سبق لینا چاہیے۔ تصوف جس شے کا نام ہے وہ تاج الشریعہ کے یہاں بدرجۂ اتم موجود ہے، یہ ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور ہر انصاف پسند و حق گو فرد اس کا اقرار و اظہار کر رہا ہے۔
حضرت محبوبِ الٰہی سے لفظِ خطا کو جوڑ کر جس طرح کرم فرما حضرات نے تاج الشریعہ کے خلاف ’سنامی کی لہر‘ نام سے مہم چلائی اس سے ہر دل دکھی ہوا، اور ہر دکھی دل تاج الشریعہ سے حسد رکھنے والے افراد کی علمی بے بضاعتی و غیر تصوفانہ عمل پہ حیرت زدہ ہے۔ اس صورتِ حال کے سبب تاج الشریعہ کے فیض یافتہ علما، فضلا اور مشائخ نے حقیقت کے اظہار میں کوتاہی نہیں برتی اور سوشل میڈیا پر مضامین و رسائل کے انبار لگا دیے۔ اور اگر یہ روش قائم رہی تو تاج الشریعہ کے دامنِ کرم سے وابستہ افراد اپنی بیزاری کے اظہار کے لیے یقیناً مجبور ہوں گے اور یقیناً یہ عمل دونوں طرف سے اپنی قوتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہو گا، جو کسی طرح بھی ہندوستانی مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
خانقاہ و درسگاہ میں آج جو برتری کی جنگ اور ’ہم چنیں دیگرے نیست‘ کا نعرۂ دلخراش ہے، وہ امتِ مسلمہ کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ وہ خانقاہیں جو ’ما أنا عليه وأصحابي‘ کی حقیقی امین اور اہلِ سنت و جماعت کے معتقدات پہ یقین رکھتی ہیں ان کے درمیان اختلاف حیرت انگیز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ صلح کلیت کسی بھی درجہ میں ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں مگر جہاں یہ عفریت نہیں وہاں تنازع کیوں؟ جب اختلاف کی کوئی شرعی بنیاد نہیں تو پھر اختلاف ہوائے نفس کے سوا کچھ نہیں؛ اور جہاں اختلاف کی کوئی شرعی بنیاد ہے وہاں اختلاف کرنے والوں سے اختلاف کرنا جادۂ حق سے عدول کی علامت ہے، جو نہ کسی خانقاہ کو قبول ہونا چاہیے اور نہ کسی سنی درسگاہ کو۔ اس لیے حالات کا جبری تقاضہ ہے کہ سنی خانقاہوں اور سنی درسگاہوں کے درمیان مطلوبہ اتحاد پیدا کیا جائے، ماضی کے ان رشتوں کا احیاء کیا جائے جس نے امت کو مربوط اور جماعت کو مستحکم رکھا تھا۔ خدا کرے ہمیں حالات کی سنگینی کو سمجھنے اور پھر سے بگڑے ہوئے حالات پہ قابو پانے کی توفیق مل جائے۔ ع
