Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عورت کے لیے پردہ کیوں؟ (قسط: اول) | فردین احمد خان رضوی

عورت کے لیے پردہ کیوں؟ (قسط: اول)
عنوان: عورت کے لیے پردہ کیوں؟ (قسط: اول)
تحریر: فردین احمد خان رضوی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حامداً و مصلیاً و مسلماً

جہاں بنا ہے زمان و مکاں کا زنّاری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ [1]

تخلیقِ انسانی اور احکاماتِ خداوندی

اللہ تبارک و تعالی نے بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اس کے سر پر "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ" کا تاجِ زریں رکھا ہے اور انسان کی خلقت کو "لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ" کی اعلیٰ قبا سے مشرف فرمایا ہے۔ یہ اس بے مثل و مثال خلاقِ کائنات کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے انسان کو اتنی خوبیوں، قوتوں اور توانائیوں کا مرکز و محور بنایا۔ چشمِ بینا ان احساناتِ عظمیٰ کا مشاہدہ کر رہی ہے اور خرد اس بات کی قائل ہے کہ اپنے محسن اور منعمِ حقیقی کا ہر آن، ہر لحظہ اور ہر لمحہ شکریہ ادا کیا جائے۔ تاہم اس بات سے بھی مجالِ انکار نہیں کہ اس خالق و مالک نے ہم پر بے شمار احسانات کی بارش کرنے کے ساتھ ہمیں چند امور کا مکلف بھی کیا ہے۔ ہم پر ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کی شکل میں ان احکاماتِ خداوندی کا پاس و لحاظ رکھیں۔

اگر دنیا کے کارہائے گراں سے چند لمحات نکالنے اور روزمرہ کی دوڑ بھاگ سے کچھ وقت چرانے میں کامیاب ہوں تو ذرا غور کریں کہ یہ جتنے بھی احکامات ہیں ان کی پاسداری اور خداوندِ قدوس کی فرماں برداری میں کس قدر حکمتیں پنہاں ہیں۔ چاہے وہ ہماری عقلِ ناپائیدار میں آئیں یا نہ آئیں، مگر یہ بات یقینی ہے کہ ہر حکمِ خدا میں بندے کی دنیا اور عقبیٰ کا عظیم مفاد ضرور موجود ہے۔

اسلام میں مرد و زن کا مقام اور موجودہ دور کے فتنے

دینِ اسلام اسی خدائے رحمن و رحیم کا دینِ قویم ہے جس میں مرد و عورت دونوں کو ہی ایک عظیم مقام دیا گیا ہے۔ ایک سالم و سلیم معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ دونوں ہی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر ایک بھی متزلزل ہو تو پوری عمارت زیر و زبر ہو سکتی ہے؛ اسی لیے مذہبِ مہذب اسلام نے ان دونوں کے لیے ایک ایسا معتدل اور قابلِ عمل نظام دیا ہے جس میں ان کے حقوق بھی محفوظ رہیں، باہمی تعلق بھی برقرار رہے اور صحیح معنی میں مساوات ہو سکے۔

مگر آج اس پر آشوب دور کے بارے میں کیا کہا جائے جب کہ انسان، فطرتِ سالمہ کا بھی دشمن بن بیٹھا ہے، خدائی احکامات پر نکتہ چینی کرنے لگا ہے اور صرف عقلِ ناپائیدار کو ہی ناخدا بنا کر اپنی کشتیوں کو منجدھار میں اتار رہا ہے۔ مثال کے طور پر اس شگوفے کو ہی لے لیں، آج دنیا کے آزاد خیال اور آوارہ طبیعت لوگ یہ سوال بار بار بانگِ مرغ کی طرح روز دہرا رہے ہیں کہ آخر "عورت کے لیے پردہ کیوں؟" آئیے ہم بعون اللہ تعالیٰ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ یہ حکم بالکل عین فطرتِ انسانی کے موافق ہے اور عورتوں کی عصمتوں کی حفاظت کا بہترین سامان ہے۔

سائنسی تحقیقات اور مرد و زن کی نفسیات

اس بات سے بھلا کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ عورتوں کی طرف مردوں میں اور مردوں کی طرف عورتوں میں رغبت رکھ دی گئی ہے جو کہ ایک فطری امر ہے۔ مشہور نیورو سائنس ماہرہ سٹیفنی کیسیو پو (Stephanie Cacioppo) کی تحقیق کے مطابق:

"12-areas of your brain work together to release chemicals and hormones that induce the feeling of falling in love, all of which happens in just a fifth of a second, eliciting 'floating on cloud nine' feelings similar to that of euphoria-inducing drugs."
[byrdie.com]

ترجمہ: "(جب آپ کوئی مرد عورت کو یا عورت مرد کو دیکھتے ہیں) تو آپ کے دماغ کے بارہ حصے ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور وہ کیمیاوی مادہ اور ہارمونز نکالتے ہیں جس سے پیار (یا جنسی اشتعال) کا احساس ہوتا ہے، یہ سب کچھ صرف سیکنڈ کے پانچویں حصے سے بھی کم وقفے میں ہو جاتا ہے جس سے بادلوں میں اڑنے جیسا احساس پیدا ہوتا ہے، ٹھیک ویسا ہی جیسا منشیات لینے سے ہوتا ہے۔" [۳]

یعنی مرد و عورت جب ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو جنسی اشتعال کا پیدا ہونا لازمی ہے، مگر مزید تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ یہ اشتعال مردوں میں جلد بلکہ عورت سے کہیں زیادہ تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ جب کسی عورت کو کوئی مرد دیکھتا ہے اور اتنے وقفے تک کہ اس کے جنسی احساسات متحرک ہو جائیں تو اس کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں، ہونٹ سوکھنے لگتے ہیں اور وہی احساس بدن میں ہونے لگتا ہے جو منشیات کے استعمال پر ہوتا ہے۔ اور اس پورے فتنے کا اول دروازہ ہے آنکھ۔ دیکھنے ہی سے انسانوں، خاص کر کہ مردوں میں جنسی احساسات متحرک ہوتے ہیں، یہ میرے اکیلے کا ماننا نہیں، دی گارڈین (The Guardian) کے ایک آرٹیکل کے مطابق:

"One thing that could be said to support the notion that men are vulnerable to being sexually aroused by appearance is evidence that suggests male arousal is far more visual in nature than female arousal."
[theguardian.com]

ترجمہ: "ایک بات جو اس تصور کے ثبوت میں کہی جاسکتی ہے کہ مرد، فحش قسم کے پہناوے سے جنسی طور پر متحرک ہونے کے تئیں حساس ہیں، وہ یہ ہے کہ مردوں میں یہ فطری حساسیت عورتوں کے مقابلے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔" [۴]

[حوالہ:- ماہنامہ افکار حصہ 3 صفحہ نمبر 72/75]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!