| عنوان: | طلاق کے احکام و مسائل (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی |
| پیش کش: | شہربانو نعیم قادریہ |
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں ارشاد فرمایا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
ترجمہ: اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے آرام پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔
اس آیتِ کریمہ میں اسلام کے خانگی نظام، زندگی اور اہل و عیال کے ساتھ گزر بسر کے لیے چند باتیں بطورِ اصل کے بیان فرمائی گئی ہیں:
۱- مردوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری بیویاں، تمہاری ہی ہم جنس مخلوق ہیں اور انسانیت میں تمہاری ہی طرح ہیں۔ تمہاری طرح ان کی بھی کچھ خواہشیں، کچھ جذبات اور کچھ احساسات ہیں۔ ان کی حیثیت کوئی لونڈی باندیوں جیسی نہیں ہے۔
۲- عورتوں کی پیدائش کا منشا یہ ہے کہ وہ مردوں کے لیے راحتِ قلبی اور تسکینِ روحانی کا سرمایہ اور دلی سکون کا باعث ہوں۔
۳- مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس اور عورت اپنی فطرت کی مانگ مرد کے پاس پائے، اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہو کر سکون و اطمینان حاصل کریں۔
۴- مرد و عورت کے تعلقات کی بنیاد باہمی محبت، اخلاص اور ہمدردی پر ہونی چاہیے۔ ان کے اندر دوطرفہ ایسی کشش، جذب اور میلان ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ، ہمدرد، غم خوار اور رنج و راحت میں شریک رہیں اور زندگی کی منجدھار میں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہیں۔
۵- مرد و عورت میں ایک دوسرے کے لیے وہ مطالبہ، وہ پیاس اور اضطراب کی وہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ انہیں حقیقی سکون میسر نہیں آسکتا جب تک وہ ایک دوسرے سے جڑ کر اور باہم شیر و شکر ہو کر نہ رہیں۔
الغرض قرآنِ کریم نے اس باب میں سخت تاکید کی ہے کہ جو عہد و پیمان بیوی اور شوہر کے درمیان شرعی طور پر وجود میں آئے ہیں، انہیں حتی الامکان قائم رکھا جائے اور مقدور بھر انہیں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ لیکن دو طرفہ تعلقات میں جب ہمدردی و غم خواری باقی نہ رہے، محبت و اخلاص ناپید ہو جائے، وہ ایک دوسرے کے لیے راحت و تسکین کا سرمایہ نہ بن سکیں، حقوقِ زوجیت تلف ہونے لگیں، غرض نبھاؤ مشکل ہو جائے اور دفعِ شر کے لیے علیحدگی کے سوا کوئی چارۂ کار باقی نہ رہے، تو ایسی صورت میں شریعتِ مطہرہ نے علیحدگی و جدائی کے لیے بھی ایک نظام اور ایک قانون دیا جسے عرفِ شریعت میں "طلاق" کہا جاتا ہے۔
طلاق کے لفظی معنی چھوڑ دینے کے ہیں اور شریعت نے اسے ایک خاص چھوڑنے کے معنی میں استعمال کیا ہے؛ یعنی وہ افتراق یا جدائی جو بیوی شوہر کے درمیان واقع ہو، یا یوں کہہ لیں کہ نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے، اس پابندی کے اٹھا دینے کا نام طلاق ہے۔
شریعت میں طلاق مباح ہے مگر "ابغض المباحات" ہے، یعنی تمام حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ۔ اسی لیے شریعت نے اس نظام پر بھی چند پابندیاں عائد کر دی ہیں جن کی وجہ سے طلاق کی اجازت کا استعمال محض وقتی اور ہنگامی اثرات کا نتیجہ نہ بن سکے۔
طلاق کا وجود خاص دشواریوں کے حل کے لیے ضروری ہے اور اس وقت طلاق کی ضرورت ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسے جسم کے کسی حصے میں زہریلا مادہ پیدا ہو جانے کے باعث اس کا جسمِ انسانی سے بذریعہ قطع و برید (آپریشن) جدا کرنا ضروری ہو جاتا ہے، اگرچہ عضو کا کاٹنا بہرحال ناپسندیدہ ہی سمجھا جاتا ہے۔
طلاق دینے والے کو شریعتِ مطہرہ سمجھاتی ہے کہ اب وہ ایک ایسے خطرناک فعل کا اقدام کرنے لگا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ بھی ہے اور مبغوض بھی۔ لہٰذا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ صرف یہی ایک صورت مرد کی بقا، صحت اور حفاظتِ عزت و ایمان کے لیے رہ گئی ہے، اس وقت تک اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔
قرآنی احکام اور ازدواجی اصلاح کی تدابیر:
قرآنِ کریم نے اس کے لیے چند تفصیلی احکام دیے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱- نبھاؤ کی کوشش اور جلد بازی سے ممانعت:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر وہ عورتیں تمہیں ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر عورت میں کوئی ایسا ظاہری نقص موجود ہو جس کی بنا پر وہ شوہر کو پسند نہ آئے، تو بھی شریعت نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ شوہر فوراً دل برداشتہ ہو کر اسے چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ عورت میں بہت سی ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو ازدواجی زندگی اور انسانی ہستی میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں، اور اس کی برائیوں کے مقابلے میں خوبیاں کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ بات پسندیدہ نہیں کہ آدمی ازدواجی تعلق کو منقطع کرنے میں جلد بازی سے کام لے۔ طلاق بالکل آخری چارۂ کار ہے جس کو بدرجۂ مجبوری کام میں لانا چاہیے۔
۲- باہمی مصالحت اور حقوق کی معافی:
سورۃ النساء میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے، تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح خوب ہے۔ یعنی ایک عورت اگر اپنے شوہر کا رخ پھرا ہوا دیکھے کہ وہ اس سے علیحدہ رہتا ہے، نان و نفقہ میں کمی کرتا ہے، یا مار پیٹ اور بدزبانی سے پیش آتا ہے، تو طلاق و جدائی اختیار کرنے سے یہ بات کہیں بہتر ہے کہ عورت اپنے حقوق کا کچھ حصہ شوہر کے حق میں معاف کر دے یا اسے خوش کرنے کے لیے اپنے حق سے دستبردار ہو جائے۔ مثلاً اپنا مہر معاف کر دے یا اس میں کمی کر دے، اپنی باری کا دن دوسری بیوی کو دے دے، یا اپنے مصارف کا بوجھ ہلکا کر دے اور اس طرح باہمی مصالحت اور میل ملاپ کے بعد عورت اسی شوہر کے ساتھ رہے جس کے ساتھ وہ عمر کا ایک حصہ گزار چکی ہے۔ یہ ازدواجی تعلقات میں تلخی دور کرنے کے لیے ایک ایسا نسخہ ہے جسے شریعتِ مطہرہ نے عورت کے اختیار و تصرف میں دیا ہے۔
۳- نافرمانی کی صورت میں مرد کے لیے تین تدبیریں:
بیویاں اگر ناشائستہ، نافرمان اور حقوقِ شوہر سے لاپروا ہوں، جس کے باعث پرمسرت ازدواجی زندگی کی بجائے آپس میں تصادم شروع ہو جائے، تو ایسی صورت میں اصلاحِ احوال کے لیے قرآنِ کریم نے مردوں کو تین مرحلہ وار تدبیریں بتائی ہیں:
الف) فَعِظُوْھُنَّ (انہیں سمجھاؤ): انہیں پیار و حکمت سے سمجھاؤ اور بتاؤ کہ شوہر کی نافرمانی کرنے اور اس کے حقوق کا لحاظ نہ رکھنے کے نتیجے میں دنیا و آخرت دونوں میں نقصان اور وبال کے سوا کچھ نہیں، اور اللہ تعالیٰ کا عذاب مول لینا کوئی دانشمندی کی بات نہیں۔ اگر عورت شریف طینت ہے تو اس کے لیے اتنا ہی کافی ہو گا۔ اس میں بھی شوہر کو یہ تعلیم ہے کہ فوراً غصے میں آکر کوئی سخت کارروائی نہ کرے۔
ب) وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ (خواب گاہوں میں علیحدگی): اگر فہمائش سے اصلاح نہ ہو تو دوسری منزل یہ ہے کہ مرد کچھ عرصے کے لیے عورت سے (بطورِ ناراضگی) بات چیت ترک کر دے، انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دے اور ہمبستری کے تعلقات منقطع کر لے۔
ج) وَاضْرِبُوْھُنَّ (تادیب): یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہو اور عورت اپنی سرکشی و نافرمانی پر قائم رہے، تو اب تیسرا علاج یہ ہے کہ تادیب کے طور پر ہلکی سی مار ماری جائے۔ ایسی ضرب ہرگز نہ مارے جس سے ہڈی ٹوٹے، زخم آئے یا جلد پر نشان پڑ جائے (اور چہرے پر مارنے کی تو مطلقاً ممانعت ہے)۔ عورت کیسی ہی سخت کیوں نہ ہو، معمولی تنبیہ سے راہِ راست پر آ جاتی ہے۔
تاہم بعض عورتیں ایسی خصلت کی ہوتی ہیں کہ وہ کسی تدبیر سے درست نہیں ہوتیں اور اپنی سرکشی میں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں، تو اب شریکِ زندگی سے نبھاؤ کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اس روز روز کی چیخ و پکار کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر گھر رسوائی ہوتی ہے اور مرد و عورت دونوں کے لیے یہ دنیا جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے۔
ایسی حالت میں شریعتِ مطہرہ پھر دونوں کو ایک اور موقع دیتی ہے اور وہ یہ ہے:
فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا
ترجمہ: تو ایک ثالث مرد کے کنبے سے اور ایک ثالث عورت کے کنبے سے مقرر کرو۔
یعنی جہاں میاں بیوی میں ناموافقت اور ایسی کشمکش پیدا ہو جائے جسے وہ باہم نہ سلجھا سکیں، تو دو خاندانوں سے ثالث مقرر کیے جائیں تاکہ نزاع سے انقطاع (علیحدگی) تک نوبت پہنچنے یا عدالت میں معاملہ جانے سے پہلے، گھر کی گھر میں کوئی اصلاح کی صورت نکل آئے۔ میاں بیوی میں نزاع ہونے کی صورت میں یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ فوراً طلاقم طلاق ہو جائے، بلکہ پہلے مصالحت و مفاہمت کی تمام ممکنہ کوششیں کر لی جائیں۔
(جاری ہے...)
(محرر: علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی)
